دعوتِ اسلامی کے شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے تحت 9 فروری 2022ء بروز بدھ ذمہ داراسلامی بھائیوں نےدینی کاموں کے سلسلے میں پنجاب پاکستان کے شہر چونیاں ضلع قصور کا دورہ کیاجہاں انہوں نے مختلف شخصیات (جن میں ڈی ایس پی چونیاں، تحصیل دار چونیاں سردار ظہیر احمد ، لعل محمد کھوکھر، نائب تحصیل دار چونیاں حسن علی، انچارج اراضی ریکارڈ سنٹر چونیاں خالد محمود، اسسٹنٹ کمشنر کے ریڈر سرفراز احمد، ڈی ایس پی ریڈر علی رضا اور ایم ایس کارڈیک سنٹر چونیاں تصور علی بٹ شامل تھے)سے ملاقات کی۔

اس دوران ڈسٹرکٹ ذمہ دار حاجی غلام یاسین قادری نے شخصیات کو دعوتِ اسلامی کی عالمی سطح پر ہونے والی دینی و فلاحی خدمات سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہارکیا۔(رپورٹ:محمد عاصم عطاری شعبہ رابطہ برائے شخصیات، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن ابوماجد حاجی محمد شاہد عطاری مدنی نے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سے بذریعہ انٹر نیٹ شعبہ گلی گلی مدرسۃ المدینہ کا مدنی مشورہ کیا۔

اس دوران رکنِ شوریٰ نے مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے شعبے کی تقرری، کارکردگی اور کورسز کا جائزہ لیا نیز دیگر اہم امور پر کلام کرتے ہوئے مدنی پھولوں سے نوازا۔(کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


اسمائے حسنیٰ کے بے شمار ، فضائل وبرکات ہیں ۔فرمان آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: جس نے اللہ پاک کے ننانوے نام یاد کئے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔(بخاری، کتاب التوحید، ص، 1272، مکتب، دار السلام)

ان ننانوے اسمائے حسنیٰ میں سے دس اسمائے حسنیٰ یہ ہیں :

(1) الرحمٰن (بڑا مہربان) (2) الرحیم(نہایت رحم کرنے والا) (3)القیوم (ہمیشہ رہنے والا ) (4)الواحد (اکیلا) (5)الرشید (سب کی رہنمائی کرنے والا) (6)الوکیل (کارساز) (7)الرافع (بلند کرنے والا) (8)السمیع ( خوب سننے والا) (9)الغفور ( بخشنے والا )

(10)العدل (عدل کرنے والا )

پیارے اسلامی بھائیوں! ہم سب کو اللہ پاک کا ذکر اٹھتے ، بیٹھتے ہر وقت کرنا چاہئے ، اس لئے کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے : اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) ترجَمۂ کنزُالایمان: سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔ (پ 13 ، الرعد: 28)

دلوں کو چین وسکون پہچانے کے لئے ذکر اللہ کو لازم کرلیں۔

اللہ پاک ہمیں اپنا ذکر کرنے کی توفیق بخشے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام آفندی ٹاؤن حیدرآباد میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں میٹنگ منعقد ہوئی جس میں سندھ شعبہ جات کے  صوبائی ذمہ داراسلامی بھائیوں کی شرکت رہی۔

دورانِ مدنی مشورہ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین حاجی قاری ایاز عطاری اور حاجی فاروق جیلانی عطاری نے 12 دینی کاموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اُن کی تربیت و رہنمائی کی۔

بعدازاں اراکینِ شوریٰ نے مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے نئے اہداف طے کئے جس پر ذمہ داران نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


اللہ پاک  کے ناموں کی قرآن و حدیث میں بڑی برکت اور فضیلت آئی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ پاک کو اسماءِ حُسْنیٰ کے ساتھ پکارنے کے متعلق ارشاد ہوتا ہے :

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪ ترجمۂ کنزالایمان : اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے پکارو۔(پ 9، الأعراف، 180)

مفسر قرآن مفتی قاسم عطاری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کے تحت ارشاد فرماتے ہیں :اَحادیث میں اسماءِ حسنیٰ کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ترغیب کے لئے 2 احادیث درج ذیل ہیں :

(1)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ پاک کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو، جس نے انہیں یاد کر لیا وہ جنت میں داخل ہوا۔ (بخاری، کتاب الشروط، باب ما یجوز من الاشتراط والثّنیا فی الاقرار۔۔ الخ، 2 / 229، الحدیث: 2736)

حضرت علامہ یحیٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں ’’علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے الہٰیہ ننانوے میں مُنْحَصِر نہیں ہیں ، حدیث کا مقصود صرف یہ ہے کہ اتنے ناموں کے یاد کرنے سے انسان جنتی ہو جاتا ہے۔ (نووی علی المسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ۔۔۔ الخ، باب فی اسماء اللہ وفضل من احصاہا، 9 / 5، الجزء السابع عشر)

(2)ایک روایت میں ہے کہ اللہ پاک کے ننانوے نام ہیں جس نے ان کے ذریعے دعا مانگی تو اللہ پاک اس کی دعا کوقبول فرمائے گا۔ (جامع صغیر، حرف الہمزۃ، ص:143، الحدیث: 2370)(تفسیر صراط الجنان، 3/ 479، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر نعیمی میں الله پاک کے ننانوے (99) نام شمار کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں : " خیال رہے کہ الله پاک کے یہ ننانوے نام تو وہ ہیں جن کے یاد کرنے وِرْد رکھنے پر جنت کا وعدہ ہے ۔ اس کے علاوہ اللہ پاک کے اور بہت نام ہیں چنانچہ ابوبکر بن عربی بعض صوفیاء سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے کُل نام ایک ہزار ہیں بعض نے فرمایا کہ اس کے نام چار ہزار ہیں بعض نے فرمایا کہ رب کے نام بے شمار ہیں نہ ہماری حاجتوں کی انتہا نہ اس حاجت روا کے ناموں کی حد۔ (تفسیر نعیمی، 9/ 427 ، مطبوعہ مکتبہ رضویہ دہلی)

الله پاک کے مبارک ناموں سے برکت حاصل کرنے کے لئے ہم بھی قرآن مجید سے دس اسماءِ حُسنیٰ ، ساتھ ہی دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب "مدنی پنج سورہ" سے چند وظائف و روحانی علاج ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) اَلْخَالِق پیدا کرنے والا (پ 28، الحشر، 24)۔"یَاخَالِقُ جو 300 بار پڑھے ان شاء اللہ اس کا دشمن مغلوب ہوگا"۔( مدنی پنج سورہ، ص247)

(2) اَلْغَفَّار بہت معاف کرنے والا ( پ 23، صٓ ، 66 )"يَاغَفَّارُ جو اسے ہمیشہ پڑھا کرے گا ان شاء اللہ نفس کی بری خواہشات سے چھٹکارا پائے گا"۔ ( مدنی پنج سورہ، ص248)

(3) اَلرَّزَّاق رزق دینے والا ( پ 27، الذّٰرِيٰت، 58)"یَارَزّاقُ جو فجر کے فرض وسنت کے درمیان 41 دن تک 550 بار پڑھے گا ان شاء اللہ دولت مند ہوگا"۔ (مدنی پنج سورہ، ص248)

(4) اَلْعَلِیْم جاننے والا (پ 1، البقرۃ ، 32)"یَاعَلِیْمُ جو کوئی اس اسم کو بہت پڑھے گا اللہ پاک اس کو دین و دنیا کی معرفت عطافرمائے گا۔ ان شاء اللہ "۔(مدنی پنج سورہ، ص249)

(5) اَلسَّمِیْع سننے والا ( پارہ 1، البقرۃ ، آیت 127)"يَاسَمِيْعُ 100 بار جو روزانہ پڑھے اور اس دوران گفتگو نہ کرے اور پڑھ کر دعامانگے ان شاء اللہ جو مانگے گا پائے گا"۔ ( مدنی پنج سورہ، ص250)

(6) اَلْبَصِیْر دیکھنے والا (پ 15، بنی اسرائیل: 1)۔"یَابَصِیْرُ 7 بار جوکوئی روزانہ بوقت عصر ( یعنی ابتدائے وقت عصر تا غروب آفتاب کسی بھی وقت) پڑھ لیا کرےگا ان شاء اللہ اچانک موت سے محفوظ رہے گا"۔ (مدنی پنج سورہ، ص250)

(7) اَلْخَبِیْر خبر رکھنے والا ( پ: 7، الاَنْعام ، 18)"یَاخَبِیْرُ جو کوئی نفس امارہ کے ہاتھ گرفتار ہو تو ہر روز وظیفہ کر لیا کرے ان شاء اللہ نجات پائے گا"۔(مدنی پنج سورہ، ص250)

(8) اَلْعَظِیْم عظمت و شان والا (پ 3، البقرۃ، 255)

"یَاعَظِیْمُ جو 7 دفعہ پانی پر پڑھ کر دم کر کے پانی پی لے ان شاء اللہ اس کے پیٹ میں درد نہ ہو"۔(مدنی پنج سورہ، ص251)

(9) اَلْکَرِیْم کرم فرمانے والا (پ: 30، الاِنْفِطار ، 6)"یَاکَرِیْمُ اگر اپنے بستر میں اس کو پڑھتے پڑھتے سو جائے تو فرشتے اس کے لئے دعا کریں گے۔ ان شاء اللہ "۔( مدنی پنج سورہ، ص252)

(10) اَلتَّوَّاب توبہ قبول کرنے والا ( پ 1، البقرۃ، 37)۔"یَاتَوَّابُ جو کوئی چاشت کی نماز کے بعد 360 بار اس کو پڑھے گا اللہ پاک اس کو توبۃُ النصوح نصیب فرمائے گا۔ان شاء اللہ"۔( مدنی پنج سورہ، ص257)

الله پاک ہمیں اپنا ذکر کرنے اور ان مبارک ناموں کی برکتیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام سرفراز چاڑی حیدرآباد میں قائم جامع مسجد بابا سرفراز میں سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں اہلِ علاقہ کےکثیر اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

اس اجتماعِ پاک میں نگرانِ صوبۂ سندھ و مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی قاری محمد ایاز عطاری نے ختمِ قراٰن مع تفسیر ِصراطُ الجنان کے سلسلے میں سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے وہاں موجود عاشقانِ رسول کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کی۔

بعدازاں رکنِ شوریٰ نے عاشقانِ رسول کو دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


گزشتہ دنوں مدنی مرکز فیضان مدینہ جی الیون اسلام آباد میں قائم جامعۃ المدینہ بوائز کے دورہ ٔحدیث شریف (Final Year classمیں رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی جنید عطاری مدنی کی آمد ہوئی۔

اس دوران رکنِ شوریٰ نے طلبۂ کرام کی تربیت کرتے ہوئے اُن کی جانب سے ہونے والے مختلف سوالات کے جوابات دیئے اور اُن کی دینی، اخلاقی اور تعلیمی اعتبار سے تربیت کی۔

اسی طرح کنسلٹنٹ کنزالمدارس بورڈ پاکستان پروفیسر جاوید اسلم باجوہ عطاری نے طلبۂ کرام کو کنزالمدارس بورڈ پاکستان کے متعلق بریفنگ دی اور شعبہ جاب پلیسمنٹ کا تعارف کروایا۔

اس موقع پر پاکستان سطح کے ذمہ دار و نگران شعبہ رابطہ برائے اوقاف محمد عمران اسلم عطاری اور جاب پلیسمنٹ کے ذمہ دار حافظ ساجد سلیم عطاری مدنی موجود تھے۔(رپورٹ:حافظ ساجد سلیم عطاری مدنی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


الرَّحمٰنُ ،الرَّحِیمُ ،عٰلِمُ الغَیبِ، الشَّہَادَۃُ، المَلِکُ، القُدُّوسُ،السَّلٰمُ، المُؤمِنُ،المُھَیمِنُ، المُتَکَبِّرُ، سُبحٰنَ اللّٰہِ، الخَالِقُ، البَارِیُٔ، المُصَوِّرُ، العَزِیزُ، الحَکِیمُ،الغَنِیُّ،الحَمِیدُ،الجَبَّارُ،الخَالِقُ۔

احادیث میں اسمائے حسنیٰ کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ ترغیب کے لئے دو احادیث درجہ ذیل ہیں:۔

(1) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ پاک کے ننانوے نام ہیں۔ یعنی ایک کم سو، جس نے انہیں یاد کر لیا وہ جنت میں داخل ہوا۔ (بخاری کتاب الشروط،حدیث:2836)

حضرت علامہ یحییٰ بن شرف نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے اِلٰہیہ ننانوے میں منحصر نہیں ہیں۔ حدیث کا مقصد صرف یہ ہے کہ اتنے ناموں کے یاد کرنے سے انسان جنتی ہو جاتا ہے۔(نووی علی المسلم،کتاب الذکر والدعاء)

(2) ایک روایت میں ہے کہ اللہ پاک کے ننانوے نام ہیں جس نے ان کے ذریعے دعا مانگی تو اللہ پاک اس کی دعا کو قبول فرمائے گا۔ (جامع صغیر، ص 143،حدیث:237)

اسماء حسنیٰ پڑھ کر دعا مانگنے کا بہترین طریقہ صراط الجنان فی تفسیر القرآن کی جلد نمبر 3صفحہ نمبر 480 کا مطالعہ کریں۔

اس آیت میں فرمایا:وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں۔(پ 9،الأعراف 180)

اللہ پاک کے ناموں میں حق واستقامت سے دور ہونا کئی طرح سے ہے:

1) اس کے ناموں کو کچھ بگاڑ کر غیروں پر اطلاق کرنا۔ جیسا کہ مشرکین نے "اِلٰہ" کا "لات "اور "عزیز" کا "عُزّی" اور " منان" کا "منات" کر کے اپنے بتوں کے نام رکھے تھے۔ یہ ناموں میں حق سے تجاوز اور نا جائز ہے۔

2) اللہ پاک کے لئے ایسا نام مقرر کیا جائے جو قرآن و حدیث میں نہ آیا ہو۔ یہ بھی جائز نہیں جیسے کہ اللہ پاک کو سخی کہنا کیونکہ اللہ پاک کے أسماء توقیفی ہیں۔

3) حسن ادب کی رعایت نہ کرنا۔

4) اللہ پاک کے لئے کوئی ایسا نام مقرر کیا جائے جس کے معنی فاسد ہوں یہ بھی بہت سخت ناجائز ہے۔ جیسے کے لفظ رام اور پرماتما وغیرہ۔

5) ایسے اسماء کا اطلاق کرنا جن کے معنی معلوم نہیں اور یہ نہیں جانا جا سکتا کہ وہ جلالِ الٰہی کے لائق ہے یا نہیں۔(خازن،الاعراف 2/164)

الحاد فی الاسماء کہ ایک صورت یہ بھی ہے کہ غیراللہ پراللہ پاک کے ان ناموں کو إطلاق کیا جائے جو اللہ پاک کے ساتھ خاص ہیں۔ جیسے کسی کا نام رحمٰن، قُدُّوس، خالق، قدیر رکھنا یا کہہ کر پکارنا، ہمارے زمانے میں یہ بلا بہت عام ہے کہ عبدالرحمٰن کو رحمٰن، عبدالخالق کو خالق اور عبدالقدیر کو قدیر وغیرہ کہہ کر پکارتے ہیں یہ حرام ہے اس سے بچنا لازم ہے۔(صراط الجنان فی تفسیر القرآن 3/484)


قرآن پاک پارہ 9 سورۃ الاعراف آیت نمبر 180 میں فرمان باری ہے:

ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے پکارو

حدیث مبارکہ میں ہے کہ: اللہ پاک کے 99 اسماء ہیں، جس نے اسے یاد کر لیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے حسنیٰ فقط 99 نہیں ہیں، مگر فقط 99 یاد کر لینے سے بندہ جنت میں داخل ہو جائے گا ۔

قرآن پاک میں مذکور 10 أسماء الحسنیٰ:۔

(1) قریبٌ: صحابہ کرام عرض گزار ہوئے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پاک کہاں ہے؟ تو وحی نازل ہو گئی کہ: جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھے تو( کہدو )میں قریب ہوں۔ حضرت خطابی نے فرمایا: وہ علم کے اعتبار سے بندوں کے قریب ہے،اور جو اسے پکارتے ہیں ان کے قریب ہے۔(نہ کے مکان کے اعتبار سے قریب ہے)(الأسماء الصفات للبیہقی 467، المکتبۃ الازھریہ)

(2) غفورٌ: ایک شخص سے گناہ ہو گیا تو اس نے اللہ پاک سے توبہ کی معافی طلب کی، تو اللہ پاک نے فرمایا: میرے بندے کو معلوم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ پر مؤاخذہ اور نیکی پر ثواب عطا فرماتا ہے۔ اللہ پاک نے اس کے گناہ کو معاف کر دیا دوسری بار گناہ سرزد ہوا تو پھر سے توبہ کی، اللہ پاک نے پھر وہی فرمایا اور معاف بھی کر دیا۔ پھر جب تیسری بار گناہ سرزد ہوا اور اس نے توبہ کی تو اللہ پاک نے فرمایا: میں نے اپنے بندے کو بخش دیا،اب وہ جو چاہے کرے۔

(ایضاً ص 61)

(3) الرقیب: حلیمی نے فرمایا: وہ ذات ہے جو اپنے پیدا کردہ مخلوق سے غافل نہیں ہوتی۔(ایضاً)

(4) الجامع: حلیمی نے فرمایا: موت کے سبب بکھرے ہوئے لوگوں کو جمع کرنے والی ذات جامع ہے۔ جو کہ قیامت کے دن واقع ہو گا۔(ایضاً)

(5) الباعث: حضرت ابو سلیمان نے کہا: مخلوق کے فوت ہونے کے بعد حساب و کتاب کے لئے دوبارہ زندہ کرنے والی ذات اللہ کی ہے۔(ایضاً)

(6) الوالی: حضرت ابو سلیمان نے کہا :والی وہ ذات ہےجو ہر شیء کا مالک اور جس شیء میں جس طرح چاہے اپنا حکم نافذ کرنے والا ہو جو کہ اللہ ہے۔(ایضاً)

(7) الرزاق: حلیمی نے کہا: ہر وہ چیز جس کی بندوں کو ضرورت ہے جس کے وہ محتاج ہیں ان کو عطا فرمانے والا اللہ ہے۔(ایضاً)

(8) القاھر: حلیمی نے کہا: معنی یہ ہے کہ وہ ذات جو اپنی مخلوق میں جس طرح چاہے تدبیر کرے، چاہے ان کو دی ہوئی چیز سے واپس لے لے یا ان کو دے۔(ایضاً)

(9) القاضی: حلیمی نے کہا: جس ذات کا حکم نافذ ہی ہوتا ہو، کبھی رد نہ ہو سکے اور وہ اللہ پاک ہے۔(ایضاً)

(10) الرؤوف: حلیمی نے کہا: یعنی آسانی کرنے والا۔ آسانی اس طرح کرتا ہے کہ اپنے بندوں کو اس چیز کا مکلف (پابند) تو بناتا ہی نہیں جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے اور جس کی وہ طاقت رکھتے ہیں ان میں سے بھی آسان کام کا مکلف (پابند) بناتا ہے۔(ایضاً)


هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ (۲۳)

ھُوَ اللّٰہُ الرَّحیم:جو ہر نماز کے بعد 7 بار پڑھ لیا کرے گا ان شاءاللہ شیطان کے شر سے بچا رہے گا اور اُس کا ایمان پر خاتمہ ہوگا۔

(2)یا قدوس: کا جو کوئی دوران سفر ورد کرتا رہے ان شاءاللہ تھکن سے محفوظ رہے گا۔

(3)یا رحمٰن:جو کوئی صبح کی نماز کے بعد 298 بار پڑے گا خدائے پاک اس پر بہت رحم کرے گا۔

(4) یارحیم: جو کوئی ہر روز 500 بار پڑے گا ان شاء اللہ دولت پائے گا اور مخلوق اس پر مہربان اور شفیق ہوگی۔

(5) یا مالک: کا 90 بار جو غریب و نادار روزانہ پڑھا کرے ان شاء اللہ غربت سے نجات پائے گا۔

(6) یا سلام:111 بار بار کر بیمار پر دم کرنے سے ان شاء اللہ شفاء حاصل ہو گی۔

(7) یا مومن: جو 415 بار پڑھ کر اپنے اوپر دم کرے گا ان شاء اللہ تندرستی پائے گا۔

(8) یا مھیمن: 29 بار روزانہ پڑھنے والا ان شاء اللہ ہر آفت و بلا سے محفوظ رہے گا۔

(9) یا عزیز:41 بارحا کم یاافسر وغیرہ کے پاس جانے سے قبل پڑھ لیجئے ان شاء اللہ وہ حاکم یا افسر مہربان ہو جائےگا۔

(10) یا جبار: جو اس کا مسلسل رد رکھے گا اپنی غیبت سے ان شاء اللہ بچا رہے گا۔


پچھلے دنوں پاکستان کے شہر لاہور میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں مدنی مشورے کا اہتمام کیا گیا جس میں لاہور ڈویژن کے ذمہ داراسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

مدنی مشورے میں رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری نے ذمہ داران سے اہم نکات پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں رجب المرجب، شعبان المعظم میں روزے رکھنے اور سحری اجتماعات کروانے کا ذہن دیا۔

اس کے علاووہ رکنِ شوریٰ نے دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں کو مزید بڑھانے اور شعبہ جات کے اخراجات کو 100 فیصد خودکفیل کرنے کے لئے مدنی عطیات جمع کرنےکے حوالے سے مدنی پھول دیئے۔(رپورٹ:غلام یاسین عطاری دفتر ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-     ترجمہ کنزالایمان : اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے پکارو۔ (پ 9، الأعراف:180)

حدیث پاک میں ہے:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ پاک کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو، جس نے انہیں یاد کر لیا وہ جنت میں داخل ہوا۔ (بخاری، کتاب الشروط، باب: ما يجوز من الاشتراط والثنيا في الإقرار، والشروط التي يتعارفها الناس بينهم، الحدیث:2585)

صراط الجنان میں ہے کہ حضرت علامہ یحیٰ بن شرف نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے الہٰیہ ننانوے میں مُنْحَصِر نہیں ہیں ، حدیث کا مقصود صرف یہ ہے کہ اتنے ناموں کے یاد کرنے سے انسان جنتی ہو جاتا ہے۔ (صراط الجنان3/479)

ہمارا عقیدہ ہے کہ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ (الاخلاص :۱) وہ اللہ ایک ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں۔ ہمیں ہر وقت اس کے بتائے ہوئےطریقے کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے کیونکہ وہ الْخَالِقُ (الحشر: 24) ہے اسی نے ہمیں پیدا کیا ہے وہی الْمَلِكُ(المؤمنون: 116)یعنی سچابادشاہ ہے ہر چیز اُس کے فرمان کے تابع ہے کیوں کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ہمیں اللہ پاک کے سب احکام ماننے چاہیئے اگر ہم اللہ پاک کے تمام احکام مانیں تو وہ الْفَتَّاحُ (سبا: 26) بھی ہے وہ ہمارے لئے کامیابیوں کے دروازے کھول دے گا ۔علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اَلْفَتَّاحُ‘‘ اسمِ مبارک کا خاصہ یہ ہے کہ اس کی برکت سے مشکلات آسان ہوجاتی ہیں،دل روشن ہو جاتا ہے اور کامیابی کے اسباب حاصل ہوجاتے ہیں ۔جس نے نمازِ فجر کے بعد اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر71مرتبہ اس اسم کو پڑھا تو اس کا دل پاک اور منور ہوجائے گا،اس کا کام آسان ہو جائے گا اوراس کی برکت سے رزق میں بھی وسعت ہو گی۔( روح البیان، سبأ، تحت الآیۃ: 24،)۔اور وہ الرَّزَّاقُ (الذاریات:58) یعنی بڑا رزق دینے والا ہے ۔ جو اس کے احکامات پر عمل کرے گا اس پراپنے رزق کے دروازے کھول دے گا ۔وہ اپنے بندوں کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سےاُسے گمان بھی نہ ہو۔ اسی طرح وہ حَفِیْظٌ (سبا:21) ہے یعنی تیرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔ اس شخص کو پریشانیوں، بیماریوں، دیگر آفات سے اپنی حفاظت میں بھی لےلے گا ۔اور ہماراایک اور فرض بھی ہے کہ ہر حال میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتے رہیں کیونکہ وہ ذات شَكُوْرٌ (الفاطر: 30) ہے یعنی اللہ پاک کی شان یہ ہے کہ وہ شکر گزار مسلمانوں کی قدر کرنے والاہے۔وہ اپنے بندوں کا شکر قبول فرمانے والا ہے سورہ ابراہیم آیت نمبر 7 میں ہے لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ یعنی اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا لیکن اگر ہم اللہ پاک کا شکر نہ ادا کریں بلکہ اللہ پاک کی ناشکری کرنے لگ جائیں تو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ پاک سےکوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں وہ الْعَلِیْمُ (البقرہ :127) جاننے والا ہے کہ کون اس کی فرمابرداری کرتا ہے اور کون نافرمانی و ناشکری کرتا ہے۔ وہ الْقَهَّارُ (الرعد:16) یعنی سب پر غالب ہے ہمیں ہر وقت اس کے غضب سے ڈرتے رہنا چاہیےہم میں اس کا عذاب برداشت کرنے کی بالکل بھی طاقت نہیں ہےہاں اگر ہم غلطی سے گناہ کر بیٹھیں تو ہمیں چاہیے کہ اس کی بارگاہ میں سچی توبہ کریں کہ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ (التوبہ: 118) بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔حدیث پاک میں ہے:التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ:

گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔(ابنِ ماجہ، کتاب الزھد،باب ذکر التوبہ الحدیث: 4250)

اگر ہم سچے دل سے توبہ کریں تو وہ اپنےکرم سے ہماری مغفرت فرمائےگا۔ ان شاءاللہ