دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران نے دینی کاموں کے سلسلے
میں پاکستان کے شہر چونیاں ضلع قصور کا
دورہ کیا جہاں انہوں نے نگرانِ پھول نگر کے والد کی وفات پر اُن سے تعزیت کرتے
ہوئے فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا۔
بعدازاں ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے مختلف
ایکٹیوٹیز ( جن میں سیکھنے سکھانے کا حلقہ، انفرادی
کوشش، ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں
شرکت کرنے کی دعوت اور شعبے کے دینی کاموں
کے حوالے سے میٹنگ شامل تھی)میں
شرکت کی۔(رپورٹ: محمد سمیر ہاشمی عطاری اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ،
کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ تعلیم(اسلامی
بہنیں)
کےتحت 7 فروری 2022ء کو Thanks
giving سیشن کا سلسلہ ہوا جس میں شعبہ تعلیم کی ذمہ داراسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
گزشتہ سال اسلامی بہنوں نے دینی
کام کئے تھے اس پر ان کی حوصلہ افزائی کے
لئے یہ ایونٹ رکھا گیا۔ پروفیشنل اسلامی بہنوں کو ان کی خدمات پر سرٹیفکیٹ دیئے
گئے ۔ نگران عالمی مجلس مشاورت ، نگرا ن پاکستان اور شعبہ تعلیم کی عالمی سطح کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے مختلف
امور مثلاً دینی کام ایک سعادت ہے ، اپنی اصلاح پر مدنی پھول دیئے۔
پچھلے دنوں مدنی مرکزفیضانِ مدینہ مظفر آبادآزاد
کشمیر میں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوت
اسلامی کے زیرِ اہتمام 12دن پر مشتمل اشاروں کی زبان کا کورس منعقد ہوا جس میں
شرکائےکورس کو اشاروں کی زبان میں نعت، بیان، ذکر، دعا، صلوۃ و سلام اور اسپیشل پرسنز میں
نیکی کی دعوت دینے کا طریقہ سکھایا گیا۔
اس کورس کے اختتام پر نگرانِ اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ محمد حنیف عطاری نے شرکا کے درمیان سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ میں دینی
کام کرنے کے حوالے سے تربیت کی۔
بعدازاں نگرانِ اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ نے معلم کورس بدر شفیق عطاری کی حوصلہ افزائی کی اور
شرکا کے درمیان میں اسناد تقسیم کیں۔اس
موقع پر نگرانِ مظفر آباد، رکن ِکشمیر مشاورت اسپیشل پرسنز محمد سلیمان عطاری اور مظفر آباد ڈویژن ذمہ دار عبدالرزاق عطاری موجود
تھے۔(رپورٹ:محمد سمیر ہاشمی عطاری اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
غلام
محمد عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضانِ عثمانِ غنی ،کراچی،پاکستان)
اس ذات عالی کا کروڑہا
کروڑ احسان کہ جس کا قول كُن تقدیر کو ایک آن میں بدل کر رکھ دیتا ہے، وہ کہ جس نے
تخلیق خلق فرمایا، اپنی تمام مخلوق میں انسان کو ہی اشرف المخلوقات فرمایا۔ پھر ان
کی راہنمائی کے لئے اپنے برگزيره بندوں کو اپنے کلام و احکام کے ساتھ مبعوث فرمایا،
سب سے آخر میں خاتم المرسلین، خاتم الانبیاء ،امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو
اس دارِ فانی میں بھیجا، اور ایسا بھیجا کہ تمام نبیوں کا امام بناکررحمت
اللعٰلمین بنا کر ، مالک کل جہاں بنا کر۔جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام
انبیاء سے افضل بنایا اسی طرح آپ کی امت کو بھی تمام امتوں پر فضیلت دی ۔اسی ذاتِ
پاک ذوالجلال نے اپنے اس کریم نبی کی امت کی نجات کے لئے احکام بھی نازل
فرمائے۔نماز کا حکم دیا، روزے فرض فرمائے، صاحبِ نصاب پر زکوٰۃ فرض فرمائی، صاحبِ
استطاعت پر حج فرض فرمایا۔
آج ہم ذکر کریں گے سب سے پہلے
رکن (نماز) کا، اللہ پاک نے امتِ محمدیہ پر دن میں پانچ نمازیں فرض فرمائیں، پھر
ہر نماز کی ادائیگی پر الگ الگ فضائل و انعامات بیان فرمائے، اور اس کے ترک پر
وعیدیں بھی فرمائیں۔
اب ہم یہاں پر دن کی سب سے
پہلی نماز کا ذکر کرتے ہیں، جس کو نمازِ فجر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، اس کی
ادائیگی کے بے شمار فضائل ہیں اور اس کے ترک پر وعیدیں بھی۔
اس کے بارے میں پانچ
فرامینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ذکر کرتے ہیں۔
(1):عَنْ عُثْمَانَ رضي الله
عنه ، قالَ : قَال رسولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم: مَن
صلَّی الْعِشاءَ فِي جماعةٍ؛ فَكَأَنَّما قامَ نِصفَ الليلِ، ومَن صلَّى الصُّبْحَ
في جماعةٍ ؛ فَكَأَنَّمَا صلَّی اللَّيلَ كُلَّهٗ.
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے نماز
عشاء باجماعت ادا کی تو گویا کہ اس نے آدھی رات قیام کیا، اور جس نے نماز فجر
جماعت کے ساتھ پڑھی تو گویا کہ اس نے پوری رات نماز پڑھی۔ (مسلم ،
1/ 454 ،حديث : (260) 656)
(2) عن عُمارَةَ بن رُوَیْبَةَ، قال : سَمِعْتُ رسولَ اللّٰهِ
صلی اللہ علیہ وسلم يقول: «لن
يَّلجَ النارَ أحدٌ صلّى قبلَ طلوعِ الشّمسِ، وقبلَ غُروبِها»، يعني الفجرَ والعصرَ.
حضرت عمارہ بن رویبہ رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو فرماتے سنا: وہ شخص ہرگز جہنم میں داخل نہ ہو گا جس نے طلوعِ
آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے والی نماز پر مداومت اختیار کی، یعنی فجر اور عصر کی
نماز۔(مشکاۃ المصابیح ،حدیث: 624)
(3) وعن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ ، قال : قال رسول الله صلی
اللہ علیہ وسلم: «ليس صلاةٌ أثقلَ عَلَى
الْمُنَافِقِينَ مِن الْفَجرِ وَالْعشَاء، وَلَو يَعْلَمُوْنَ مَا فِيهِما،
لَأَتَوْهُما ولَو حَبْوًا».
متفق عليه.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافقوں پر
فجراورعشاءسے زیادہ کوئی نمازبھاری نہیں، اور اگرجانتے کہ ان دونوں میں کیا ثواب
ہے تو گھسٹ کربھی ان میں پہنچتے۔(مشکاۃ المصابیح حدیث 629) و(مسلم،بخاری)
(4) وعن أبي هريرة، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم في قوله تعالى
: (اِنَّ قُرْاٰنَ
الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا)، قال : تشهدُه ملائكةُ الليل وملائكةُ النهار». رواه الترمذي .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں راوی کہ (فجرکی
نماز حاضری کا وقت ہے) فرمایا، اس میں رات اوردن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔( الترمذي في
السنن 5/ 282، حدیث : 3135، وقال حديث حسن صحيح)
(5) وعن أبي موسى، قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: (مَن صلّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الجنّةَ». متفق عليه . حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ :جودوٹھنڈی نمازیں پڑھا کرے وہ جنت میں جائے
گا۔(صحیح بخاري 2/52، صحیح مسلم 1/440 )
اراکین
عالمی مجلس مشاورت اور اراکین مجلس بین
الاقوامی امور کی اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ
دعوتِ
اسلامی کے زیر اہتمام4 فروری 2022ء کو عالمی
مجلس مشاورت کی نگران اسلامی بہن نے اراکین عالمی مجلس مشاورت اور اراکین مجلس بین الاقوامی امور کی
اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ لیا جس میں اس
بات کی وضاحت کی گئی کہ کارکردگیاں وقت پر جمع کروانا، کارکردگی شیڈول چیک کرنا ۔ما
تحتوں کے ماہانہ مشوروں کا نظام مضبوط کرنا اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔
اللہ پاک نے اپنے پیارے
محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر بے شمار نعمتیں نازل فرمائیں ہیں جن میں نماز
پنج گانہ اللہ پاک کی وہ نعمتِ عظمیٰ ہے کہ اس نے اپنے کرم عظیم سے خاص ہم کو عطا فرمائی ہم سے پہلے کسی اورامت کو
نہ ملی۔ (فتاویٰ رضویہ ،5/73) بعض انبیاء کرام علیہم السلام نے مختلف اوقات کی
نمازیں جدا جدا وقت پر ادا فرمائیں۔ اللہ
پاک نے اپنے ان محبوبان بارگاہ کی ان حَسین اداؤں کو ہم غلامانِ مصطفیٰ صلی اللہ
علیہ وسلم پر فرض کی ہے ان میں سب سے پہلی نمازفجر ہے۔ نماز فجر سب سے پہلے حضرت
سیدنا آدم علیہ السلام نے صبح ہونے کے شکر میں دو رکعتیں ادا کیں تو یہ نماز فجر
ہوگئی۔ (درالمختار ،2/14)
حدیث مبارکہ کی روشنی میں
نماز فجر کے چند فضائل:
(1)صحابی ابن صحابی حضرت
سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار مکہ مکرّمہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "جو صبح کی نماز پڑھتا ہے وہ شام تک الله پاک کے
ذِمّے میں ہے"۔(معجم الکبیر ،12/410، حدیث :1321)
(2) حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ میرے آقا تاجدارِمدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عبرت نشان ہے:
"جوصبح کی نماز کوگیاوہ ایمان کے جھنڈے کے ساتھ گیا اور جو صبح بازار کو گیا
ابلیس (یعنی شیطان)کے جھنڈے کے ساتھ گیا۔(ابن ماجہ ،3/53،حدیث:2237)
مفتی احمد یار خان رحمۃ
اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں
کہ انسانوں کے دو ٹولے ہیں : (1)حزبُ اللہ (یعنی اللہ کا گروہ )۔ (2) حزبُ الشیطان
(یعنی شیطان کا گروہ ) ان کی پہچان یہ ہے کہ رحمانی ٹولے والے دن کی ابتداء نماز
اور االله کے ذکر سے کرتے ہیں اور شیطانی ٹولے والے بازار ودنیاوی کاروبار سے
۔خیال رہے کہ دنیوی کاروبار منع نہیں مگر سویرے اٹھتے ہی نہ خدا کا نام نہ اس کی
عبادت بلکہ دنیوی کاموں میں لگ جانا یہ شیطانی کام ہے۔
(3)حضرت سیدنا عثمان غنی
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو نماز عشاء جماعت سے پڑھے گویا اس نے
آدھی رات قیام کیا اور جو فجر جماعت سے پڑھے گویا اس نے پوری رات قیام کیا
"۔(مسلم ص:258،حدیث:1491)
(4) جو خوش نصیب مسلسل چالیس دن تک فجر و عشاء با
جماعت ادا کرتا ہے وہ جہنّم اور منافقت سے آزاد کردیا جاتا ہے جیسا کہ خادم رسول
صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اللہ پاک کے آخری نبی صلی
اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ "جس نے چالیس دن فجر و عشاء با جماعت
پڑھی اس کو اللہ پاک دو آزادیاں عطا فرمائے گا۔ایک نار(یعنی آگ)سے ۔دوسری نفاق
(منافقت )سے ۔
(5)حضرت سیدنا عبدالله بن
مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک
شخص کے متعلق ذکر کیا گیا کہ یہ صبح تک سوتا رہا اور نماز کے لئے نہ اٹھا تو آپ
صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشار فرمایا: "اس شخص کے کان میں شیطان نے پیشاب
کردیا ہے " ۔
اے عاشقان رسول صلی اللہ
علیہ وسلم ہمیں غوروفکر کرنی چاہیئے کہ ہم پنج گانہ نماز ادا کرتے ہیں یا نہیں اکثر
لوگ چار نمازوں میں نظر آتے ہیں مگر نماز فجر میں سوئے پڑے ہوتے ہیں ۔ نیت کریں کہ
دن کا آغاز نماز فجر سے کریں گے اگر اللہ پاک کی توفیق سے نماز تہجد ادا کرنے کی
بھی نیت کریں۔
اللہ پاک ہم کو روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھنے
کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمین
7
فروری 2022ء کو اسلامی بہنوں کے مرکز فیضان صحابیات کراچی میں عالمی مجلس اور مجلس
بین الاقوامی امور کی اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہوا۔ بیرون ملک سےساوتھ افریقہ
۔موریشش۔امریکہ کینیڈا اور یورپ کے علاوہ دوسرے ممالک سےاور بیرون شھر میں مقیم۔ دیگر
اراکین نے بذریعہ انٹر نیٹ شرکت کی ۔
عالمی
مجلس کی نگران اسلامی بہن نےاسلامی بہنوں کی تربیت کرتے ہوئےکہا کہ اپنے ملک کی نوعیت، تہذیب
و تمدن اور ملکی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے دینی کام کیا جائے۔ مزید ذمہ داران کا
تقررکرنے کے بارے میں یہ مدنی پھول دیا کہ اچھا بولنا یعنی قادری الکلام ہونا اہلیت
جانچنے کے لیے کافی نہیں بلکہ جس کو ذمہ داری دی ہے اس کی صلاحیتوں کی جانچ کریں
پھر ذمہ داری دیں۔ بعد ازاں شعبہ جات میں درپیش مسائل کے
باہمی مشاورت سے حل نکالے گئے۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! سر کادو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز فجر
پر کثیر احادیث مبارکہ ہے جن میں سے 5 احادیث
بیان کردیتا ہوں :۔
سید نا ابو عبیدہ بن جراح
رضی الله عنہ فرماتے ہے کہ رسول اکرم، رحمت عالم صلى الله علیہ و الہ وسلم نے
ارشادفرمایا: ’جمعہ کے دن پڑھی جانے والی فجر کی نماز با جماعت سے افضل کوئی نماز
نہیں ہے ، میرا گمان ،( خیال ) ہے تم میں
سے جو اس میں شریک ہوگا اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔(معجم کبیر ، 1 / 106،
حدیث :399)
اے عاشقان رسول! اس
حدیث پاک میں کہا گیا ہے۔ میرا گمان (یعنی خیال )۔ اس کی شرح یہ ہے کہ نبی کا گمان یعنی ( خیال )یقین کے برابر ہوتا ہے۔ لہذا مطلب یہ ہوا کہ واقعی
جمعہ کی نماز فجر با جماعت پڑھنے والے کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔ احادیث
مبارکہ میں جہاں گناہ معاف ہو جانے کا تذکرہ ہوتا وہاں اس سے مرادصغیر ہ یعنی چھوٹے گناہوں کی معافی مراد ہوتا ہے کیوں کہ
کبیرہ یعنی بڑے گناہ توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔( نزہۃ القاری ، 1/ 175)
صحابی ابن صحابی حضرت سید نا عبدالله ابن عمر رضی الله
عنہما سے روایت ہےسردار مکہ مکرمہ، سرکار مدینہ منور صلى الله علیہ و الہ وسلم
ارشاد فر ماتے ہیں : جو صبح کی نماز پڑھتا ہے وہ شام تک اللہ پاک کے ذِمّے
میں ہے۔(معجم کبیر ، 12 / 40 ،حدیث :13210)
حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میرے آقا تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فر ماتے ہیں :جو صبح کی نماز کو
گیا ایمان کے جھنڈے کے ساتھ گیا اور جو صبح کو بازار کو گیا ابلیس یعنی شیطان کے جھنڈے کے ساتھ گیا۔(ابن ماجہ ،3/53، حدیث: 2234 )
حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت
لکھتے ہیں یعنی انسانوں کے دو ٹولے یعنی ( گروپ )ہی ہیں نمبر 1 حزب اللہ یعنی اللہ گروہ اور نمبر 2 حزب الشیطان( یعنی شیطان کا گروہ
ان کی شناخت یعنی پہچان یہ ہے کہ رحمانی ٹولے والے دن کی ابتدا نماز اور اللہ پاک
کے ذکر سے کرتے ہیں اور شیطانی ٹولے والے
بازار اور دنیاوی کاروبار سے ۔ خیال رہے کہ دنیاوی کاروبار منع نہیں مگر صبح سویرے اٹھتے ہی نہ
خدا کا نام نہ اس کی عبادت بلکہ ان (یعنی دنیاوی کاموں )لگ جانا یہ شیطانی کام ہے ۔(مراةالماجیح ،1/399)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ فرمایا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ: منافقین پر فجر اور عشاء سے زیادہ کوئی نماز
بھاری نہیں اور اگر جانتے کہ ان دونوں میں کیا ثواب ہے تو گھسٹ کر بھی ان میں
پہنچے۔ (مراةالمناجیح ،1/389،حدیث:629)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ
فرمایا رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے کہ: جو دو ٹھنڈی نمازیں پڑھا کرے جنت میں جائے
گا یعنی ٹھنڈی نمازوں سے مراد فجر و عشاء
ہے ۔(مراة المنا جىح ،1 / 384، حدیث: 626)
دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ جوہر
ٹاؤن لاہور میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں ڈسٹرکٹ قصور کے نگرانِ کابینہ اور تمام شعبہ
جات کے ڈسٹرکٹ ذمہ داران نے شرکت کی۔
اس میٹنگ میں نگران ضلع قصور حاجی نعیم عطاری نے
12 دینی کاموں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے
27 رجب المرجب 1443ھ کو ہونے والے شبِ
معراج اجتماع کے بارے میں کلام کیا۔
اسی طرح 28 فروری 2022ء کو شعبہ اسلامی بھائیوں
کے مدرسۃ المدینہ دعوتِ اسلامی کے تحت منعقد ہونے والے اسناد اجتماع کے حوالے سے
بھی مشاورت کا سلسلہ رہا جس میں قراٰنِ پاک ناظرہ مکمل کرنے والے عاشقانِ رسول کو
اسناد تقسیم کی جائیں گی۔
واضح رہے یہ دونوں اجتماعات پنجاب پاکستان کے
علاقے کھڈیاں خاص ضلع قصور میں منعقد کئے جائیں گے۔(رپورٹ:صغیر عطاری، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
پانچوں نمازوں میں افضل نماز فجر کی ہے کہ جس کو مسلمان ادا
کرکے اپنے دن کا آغاز کرتا ہے۔نماز فرض ہے ہم سب جانتے ہیں اور نمازوں کے اپنے
اپنے فضائل بھی ہے۔اس میں بطور خاص جو نمازِ فجر ہے اس کے بارے میں کچھ عرض کروں
گا کیونکہ اس کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔نماز فجر وہ ہے کہ جس کے بارے میں قرآن پاک
میں ارشاد فرمایا گیا کہ والفجر یعنی نماز فجر کی قسم اور اس کے علاوہ بھی حدیث شریف میں
اس کے بہت سارے فضائل ہیں۔
( 1 )لہذا ترمذی رافع بن
خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
فجر کی نماز اجالے میں پڑھو کہ اس میں عظیم ثواب ہے ۔ (جامع ترمذی ،ابواب الصلاۃ
باب ما جاء فی السفار بالفجر ،1/204،الحدیث: 154)
اور دیلمی کی روایت ہے کہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس سے تمہاری مغفرت ہو جائے گی۔(کنز
العمال ،کتاب الصلاۃ ،7 / 148،الحدیث: 19279 )
( 2)صحابی ابن صحابی حضرت
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ :جو صبح کی نماز پڑھتا ہے وہ شام تک اللہ پاک کے
ذِمّے میں ہے۔(معجم کبیر ، 12 / 230 ،حدیث :1321)
( 3)شیطان کا جھنڈا : حضرت سیدنا
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایاکہ: جو صبح کی نماز کو گیا وہ ایمان کے جھنڈے کے ساتھ گیا اور جو صبح بازار کو گیا وہ شیطان کے جھنڈے کے ساتھ
گیا۔(ابن ماجہ، 3/ 53 حدیث: 2234)
مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ اس
سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کے دو گروہ ہیں
ایک گروہ کہ (حزب اللہ) یعنی اللہ کا گروہ اور ایک( حزب الشیطان) یعنی شیطان کا
گروہ ۔ان کی پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ رحمانی گروہ والے نماز اور اللہ کے ذکر سے
اپنے دن کی ابتدا کرتے ہیں اور شیطانی
گروہ بازاری اور دنیاوی معاملات سے۔خیال رہے کہ جو دنیاوی کاروبار ہیں یہ منع تو
نہیں مگر صبح ہوتی ہی نہ خدا کا نام اور نہ ہی اس کی عبادت بلکہ ان میں لگ جانا یہ
شیطانی کام ہے۔
( 4 )حضرت سیدنا عبداللہ
بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک شخص کے
متعلق ذکر کیا گیاکہ وہ صبح تک سوتا رہا ہے اور نماز فجر میں نہ اٹھا تو نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے اس شخص کے کان میں پیشاب کردیا ہے۔(بخاری
، 1 / 288 ،حدیث: 1133)
( 5)خادم نبی حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا:کہ جس نے چالیس دن فجر اور عشاء جماعت سے پڑھی تو اللہ پاک اس کو دو
آزادیاں عطا فرمائے گا ۔ایک نار یعنی آگ سے اور دوسری نفاق یعنی منافقت سے۔(ابن
عساکر ،52 / 338)
لہذا ہم سب کو چاہے کہ نماز کے ذریعے اپنے دلوں کو سکون دیں
اور فجر اور عشاء میں بالخصوص اپنے آپ کو پابند کریں کیونکہ یہ دو نمازیں منافق پر
گرا ہے اس لئے کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو نمازوں کے متعلق فرمایا
کہ یہ نمازیں منافق پر گرا ہے ۔
اللہ پاک ہم سب کو نمازوں کا پابند بنائے۔ اٰمین
دعوت اسلامی کے شعبہ ایف جی آر ایف کے زیر ِاہتمام
تھیلیسیمیا اور دیگر مریضوں کے لئے پاکستان کے مختلف شہروں
میں وقتاً فوقتاً بلڈ کیمپ کا انعقاد کیا جاتا رہتا ہےجس میں عاشقانِ رسول اپنے
خون کے عطیات جمع کرواتے ہیں۔
اسی
سلسلے میں 9 فروری 2022ء بروز بدھ کالیکی منڈی میں بلڈ
کیمپ لگایا گیا جہاں علاقہ مکینوں، سیاسی و
سماجی شخصیات اور اطراف کے اسلامی بھائیوں نے خون کا عطیہ جمع کروایا۔ خون کے
عطیات جمع کروانے والے عاشقان رسول نے دعوت اسلامی کی اس کاوش کو خوب سراہتے
ہوئے مدنی چینل کو اپنے تاثرات دیئے۔(رپورٹ: اعظم عطاری رکن ِکابینہ شعبہ اسلامی بھائیوں کے
مدرسۃ المدینہ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
نماز اللہ پاک کی
ایک اعلیٰ عبادت ہے کہ اس کے بارے میں سُوال جواب ہونا ہے اور پانچ وقت کی نماز
اللہ پاک کی وہ نعمتِ عظمیٰ ہے جو ہمارے پیارے اور آخری نبی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کو تحفے میں ملی ہے اور یہ تحفہ بھی ایسا کمال کا ہے کہ رہتی دنیا
بلکہ تا قیامت نہ کسی کو ملا ہے نہ ہی کسی کو ملے گا کیونکہ یہ خاص ہمارے آقا و
مولیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ہی ملا ہے۔
یاد رکھئے! نماز
ادا کرنا ہر مسلمان، عاقل، بالغ مرد و عورت پر فرض ہے۔(ردالمحتار علی درالمختار،
2/6ملخصاً) اور جو کوئی جان بوجھ کر ایک نماز قضا کرے گا اس کا نام جہنم کے اس کے
دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔(حلیۃُ الاولیاء، 7/299،
حدیث: 10590) لہٰذا نماز کی پابندی کریں۔نماز کے بہت سے دینی فوائد ہیں جیسے
شفاعتِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، جنّت کا حصول اور دنیاوی بھی کافی
فوائد ہیں جیسے ایکسرسائز ہوتی ہے، موٹاپا کم ہوتا ہے اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔
اکثر یہ دیکھا
گیا ہے کہ باقی چار نمازوں یعنی ظہر، عصر، مغرب اور عشا میں مسجد میں اچھی تعداد
ہوتی ہے لیکن فجر میں ایک تعداد ہوتی ہے جو بستر پر ہوتے ہیں۔اَلْاَمَان وَالْحَفِیظ
آئیے نمازِ فجر
پر ابھارنے کے متعلق پانچ فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پڑھتے
ہیں:
(1)حضرت
سیّدنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطفیٰ جانِ رحمت، شمعِ
بَزم ِہدایت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا: جس نے سورج کے طلوع و
غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی
نماز پڑھی) وہ ہر گز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔(مسلم، ص250، حدیث: 1436)
(2)حضرت
سیّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ ہمارے پیارے اور آخری نبی
حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جو صبح کی نماز
پڑھتا ہے وہ شام تک اللہ پاک کے ذمے میں ہے۔(معجم کبیر، 12/240، حدیث13210) ایک
دوسری روایت میں ہے: تم اللہ پاک کا ذمہ نہ توڑو جو اللہ پاک کا ذمہ توڑے گا اللہ
پاک اسے اوندھا (یعنی الٹا) کرکے دوزخ میں ڈال دے گا۔(مسندِ امام احمد بن حنبل،
2/445، حدیث: 5905)
(3)حضرت
سیّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن پڑھی جانے والی فجر کی نمازِ
باجماعت سے افضل کوئی نماز نہیں ہے، میرا گمان (یعنی خیال) ہے تم میں سے جو اُس
میں شریک ہوگا اُس کے گناہ مُعاف کر دیے جائیں گے۔(معجم کبیر، 1/156، حدیث366)
(4)حضرت
سیّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی مکی مدنی
محمدِ عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: جو نمازِ عشا جماعت سے
پڑھے گویا (یعنی جیسے) اُس نے آدھی رات قِیام کیا اور جو فجر جماعت سے پڑھے گویا
(یعنی جیسے) اس نے پوری رات قیام کیا۔(مسلم، ص258، حدیث:1491)
(5)حضرت
سیّدُنا ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں رات اور دن کے فرشتے باری باری آتے ہیں اور
فجر و عصر کی نمازوں میں جمع ہوجاتے ہیں پھر وہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری
ہے وہ چلے جاتے ہیں، اللہ پاک باخبر ہونے کے باوجود ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے
بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں:ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب
ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔(بخاری، 1/203، حدیث:555)
اللہ پاک ہمیں
استقامت کے ساتھ فجر کی نماز سمیت تمام نمازیں باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami