اسلام میں معاشرتی زندگی کے اصول بڑے واضح ہیں۔ مجلس (بیٹھک/نشست) انسان کی زندگی کا اہم حصہ ہے، جہاں لوگ آپس میں گفتگو، مشاورت اور میل جول کرتے ہیں۔ شریعت نے مجالس کے کچھ حقوق و آداب مقرر فرمائے ہیں، تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اور سب کو عزت و سکون میسر آئے۔ ان آداب میں سے:مجلس میں سلام کرنا، مجلس میں وسعت پیدا کرنا، کسی کو حقیر نہ سمجھنا،گفتگو میں عدل و انصاف،اور غیر ضروری باتوں سے اجتناب شامل ہیں.

1. مجلس میں سلام کرنا: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ، فَلْيُسَلِّمْ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ، فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ . ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں آئے تو سلام کرے، اور جب وہاں سے اٹھنے لگے تو بھی سلام کرے۔ پہلی بار کا سلام دوسرے سلام سے زیادہ ضروری نہیں۔" (سنن ابی داود، کتاب الأدب، باب فيمن جلس ثم قام، حدیث: 5208، مکتبہ: دار الرسالة العالمية)

2. مجلس ختم کرتے وقت دعا: عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بِأَخَرَةٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ مِنَ الْمَجْلِسِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ترجمہ: حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ ﷺ جب مجلس سے اٹھنا چاہتے تو یہ دعا پڑھتے:"اے اللہ! تو پاک ہے اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔" (سنن ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما يقول إذا قام من مجلسه، حدیث: 3433، مکتبہ: دار الغرب الاسلامي)

3. مجلس میں فضول باتوں سے اجتناب:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ، تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان باتوں کو چھوڑ دے جو اس کے کام کی نہیں۔"(سنن ترمذی، کتاب الزهد، باب ما جاء فی ترك ما لا يعنيه، حدیث: 2317، مکتبہ: دار الغرب الاسلامي)

5. مجلس ذکر سے خالی نہ ہو: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ، وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نبيهم إلا كان عليهم ترة يوم القيامة، فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں اور نہ اپنے نبی پر درود بھیجیں، تو وہ مجلس ان کے لیے نقصان (وبال) بن جاتی ہے۔ پھر اللہ چاہے تو ان کو سزا دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔"(سنن ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء فی القوم يجلسون ولا يذكرون الله، حدیث: 3380، مکتبہ: دار الغرب الاسلامي)

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین