اسلام کی روشن اور پاکیزہ تعلیمات انسان کو جہاں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف بلاتی ہیں، وہیں معاشرتی زندگی میں حسنِ سلوک، درگزر، مہربانی اور باہمی تعاون کو اختیار کرنے کی ترغیب بھی دیتی ہیں ۔  اسلام کا مزاج ہی نرمی، آسانی اور خیر خواہی ہے ۔ انہی حسین تعلیمات میں سے ایک اہم اور دلوں کو نورانی کرنے والی تعلیم مقروض پر نرمی ہے ۔ یہ وہ خلقِ عالیہ ہے جسے رسولِ کریم ﷺ نے اپنے مبارک ارشادات اور عملی نمونوں کے ذریعے امت میں راسخ فرمایا ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مقروض کے ساتھ نرمی کا واضح حکم دیا ہے ۔

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنزالایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ،280)

اس آیت کی تفسیر میں علماء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے مہلت دینے کا حکم فرمایا، پھر اس سے بھی اعلیٰ درجہ یعنی معاف کرنے کا طریقہ بیان کیا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت مند پر نرمی کرنا اللہ کی بارگاہ میں نہایت محبوب عمل ہے ۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ترجمہ: جس نے کسی مسلمان کی دنیا کی کسی پریشانی کو دور کیا، اللہ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرما دے گا ۔ (صحیح مسلم 2699)

شارحین لکھتے ہیں کہ قرض کے بوجھ سے نجات دلانا بھی پریشانی دور کرنے میں شامل ہے ۔

ایک اور حدیث میں ہے: كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْه ترجمہ: ایک شخص لوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے ملازم سے کہتا: تنگ دست پر نرمی کرنا، شاید اللہ ہم پر نرمی فرمائے ۔ تو اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی ۔ (صحیح بخاری 2078)

اس حدیث کی شرح میں علماء فرماتے ہیں کہ مقروض کے ساتھ نرمی اختیار کرنا اللہ کے ہاں مغفرت کا سبب ہے ۔

علماء حدیث لکھتے ہیں کہ مقروض پر نرمی تین عملی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے:

1 مہلت دینا : جب تک قرضدار آسانی میں نہ آئے ۔

2 نرمی سے گفتگو کرنا : اس کی عزتِ نفس کا مکمل خیال رکھنا ۔

3 معافی کرنا : اگر وہ واقعی مجبور ہو تو پورا یا کچھ حصہ معاف کر دینا ۔

ان تینوں میں سب سے اعلیٰ درجہ معافی کا ہے، جو اللہ کو بہت محبوب ہے ۔

چند عملی تعلیمات:

1، قرض دیتے وقت نرمی، شفقت اور خیرخواہی کی نیت رکھیں ۔

2، اگر قرضدار مشکل میں ہو تو اسے کھلے دل سے مہلت دیں ۔

3 ،وصولی کے وقت سخت لہجہ استعمال نہ کریں عزتِ نفس کا خیال رکھیں ۔

4، ممکن ہو تو کچھ یا پورا قرض معاف کر دیں، یہ عمل آخرت کے درجات بلند کرتا ہے ۔

5 ،لوگوں کے حالات کو سمجھیں، کیونکہ کل ہمیں بھی کسی کی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔

آخر میں یہی حقیقت قائم رہتی ہے کہ دوسروں پر آسانی کرنا دراصل اپنے لیے آسانیاں جمع کرنا ہے ۔ مقروض پر نرمی کی یہ نبوی تعلیمات معاشرے میں محبت، ہمدردی اور بھائی چارے کی فضا قائم کرتی ہیں ۔ جو دل دوسروں کے بوجھ ہلکے کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس دل سے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے ۔