محمد
فیضان علی عطاری (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدينہ فیضان مدینہ فیصل آباد، پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں عدل ،احسان اور حسن سلوک کی تعلیم دیتا
ہے ۔ شریعت مطہرہ نے معاشی معاملات میں سے
خصوصا قرض کے بارے میں بھی عفو و درگزر اور حسن سلوک اپنانے کو اہمیت دی ہے ۔ جہاں اپنے مسلمان بھائی کو قرض دینا ثواب کا باعث
ہے، وہیں قرض دار کو اس کی ادائیگی میں مہلت دینا یا معاف کر دینا بھی اللہ اور اس
کے رسول ﷺ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے ۔ حضور ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں اپنے اقوال اور
اعمال سے مقروض پر نرمی کرنے کی روشن تعلیمات ارشاد فرمائیں ۔ آئیے ! احادیث کی روشنی میں مقروض پر نرمی کی
نبوی تعلیمات ملاحظہ کیجئے ۔
قرض معاف
کرنے والے کی مغفرت :پیارے آقا جان عالم ﷺ کا ارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص تھا جس
کے پاس اس کی روح قبض کرنے فرشتہ آیا تو اُس سے کہا گیا کہ کیا تو نے کوئی نیکی کی
ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا
گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا
اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا
تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ ( بخاری،کتاب احادیث الانبیاء ،باب ما ذُکر عن
بنی اسرائیل ، ص886 ،حدیث:3451)
قرضدار کے
ساتھ نرمی کرنا :تمام مسلمانوں کی پیاری امی جان حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺنے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی
جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ
رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا :
’’کون ہے جو اللہ پاک کی قسم کھاکر کہتا
ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ!
وہ میں ہوں، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘ (بخاری، کتاب الصلح ، باب ھل یشیر الامام
بالصلح ،ص698،حدیث:2705)
علامہ
ابوالحسن ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی
برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے ۔ (شرح بخاری لابن بطال، کتاب الصلح ، باب ھل یشیر
الامام بالصلح، 98/8)
لیکن آج کل
لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں،اس کے ساتھ
نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے،وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کر کے
رکھ دیتے ہیں،آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے، دروازہ بجاتے،گھر کے باہر کھڑے ہوکر
اُسے باتیں سناتے،بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ،
لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ مزید کئی احادیث مبارکہ میں تنگدست و مجبور قرض دار کے
ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ چنانچہ اِس ضمن میں تین فرامین مصطفیٰ ﷺ ملاحظہ کیجئے :
(1) جو دنیامیں
تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا اللہ پاک َدنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا
فرمائے گا ۔ (مسلم، کتاب الذکر والدعا ،باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن، ص1039،
حدیث :2699)
(2) جس نے
تنگدست کو مہلت دی یا اُس کے قرض میں کمی کی ، اللہ پاک قیامت کے دن اُسے اپنے عرش
کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اُس سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی، کتاب
البیوع ،با ب ماجاء فی انظار المعسر والرفق بہ، ص338 ،حدیث :1306)
(3) جس نے
کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُس کے لئے ہر روز اُس قرض کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ہے
۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سرکارِ مدینہ
ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتناہی مال
دو مرتبہ صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ۔ “ میں
نے عرض کی : ’’یا رسولَ اللہ ﷺ پہلے تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس
نے کسی تنگدست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قرض کی مثل صدقہ کرنے کاثواب ہے پھر آپ ﷺ نے یہ فرمایا:
کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قرض سے دو گنا صدقہ کرنے کا
ثواب ہے ۔ ‘‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : “
اُسے روزانہ قرض کی مقدار کے برابر مال صدقہ کرنے کا ثواب تو قر ض کی ادائیگی کا
وقت آنے سے پہلے ملے گا اور جب ادائیگی کا وقت ہوگیا پھر اُس نے قرض دار کو مہلت دی
تو اُسے روزانہ اتنا مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ۔ (مسند احمد ،حدیث بریدۃ الاسلمی ،430/9 ،حدیث: 23692)
حدیث
مبارکہ سے حاصل ہونے والے مدنی پھول :
1:حتی
المقدور تنگدست اور مجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے ۔
2: قرض
خواہ اگر بہت ضرورت مند نہیں تو اُسے قرض دار کے قرض میں کمی بھی کرنی چاہیے ۔
3:قرض خواہ
اگر مال دار ہے اور قرض دار بہت نادار ہےتو اُس مال دار کو چاہیے کہ قرض معاف کر
دے کہ یہ نہایت ہی اجر وثواب کا باعث ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین ، 370/3)
پیارے
اسلامی بھائیو! پس ہمیں چاہیے کہ نبی کریم ﷺ کی ان تعلیمات کو اپنائیں، اپنے دلوں
میں نرمی پیدا کریں، اور لوگوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں جیسا ہم الله سے اپنے لیے
چاہتے ہیں، جیسا کہ رحمت، معافی اور آسانی ۔ الله پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی
الله علیہ وآلہ وسلم!
Dawateislami