میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ چنانچہ اِس ضمن میں تین فرامین مصطفےٰ ملاحظہ کیجئے :

((1نیکی نہ کرنے کی قسم :اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ ر َضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘ آپ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘( فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:250)

(2)مہلت دینا:سرکارِ مدینہ کو فرماتے ہوئے سنا : “ جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتناہی مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کا ثوا ب ملے گا ۔ “ میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ !پہلے تو میں نے آپ کویہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قر ض کی مثل صدقہ کرنے کاثواب ہے پھر آپ نے یہ فرمایاکہ جس نے کسی تنگد ست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قر ض سے دوگنا صدقہ کرنے کا ثواب ہے ۔ ‘‘ آپ نے ارشادفرمایا : “ اُسے روزانہ قر ض کی مقدار کے برابر مال صدقہ کرنے کا ثو اب تو قر ض کی ادا ئیگی کا وقت آنے سے پہلے ملے گااور جب ادائیگی کا وقت ہوگیا پھر اُس نے قرض د ار کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتنا مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کاثوا ب ملے گا ۔ (ریاضالصالحین ،ج،3،ص،369، مکتبہ المدینہ)

(3) تنگدستی پر کشادگی:حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جس نے کسی مسلمان کی دُنیوی تکلیف دُور کی تو قیامت کےدن اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی اُخروی تکلیف کو دُور فرمائے گا ۔ جو کسی تنگدست پر کشادگی کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے دنیا اور آخرت میں کشادگی عطافرمائے گا ۔ جو دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس وقت تک بندے کی مدد فرماتا رہتا ہے ، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتارہتا ہے ۔ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتاہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے لیے جنت کی طرف راستہ آسان فرمادیتاہے ۔ جب کچھ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوکر تلاوتِ قرآنِ مجید اور درس و تدریس کرتے ہیں تو اُن پر سکینہ نازل ہوتاہے ، رحمتِ خداوندی انہیں ڈھانپلیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اوراللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی خاص مجلس میں اُن کا ذکرِ خیر فرماتاہے اور جس کا عمل اُسے پیچھے رکھے تواُس کا نسب اُسے آگے نہیں بڑھا سکتا ۔ ‘‘( فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:245 )

(4) معافی دینا:روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ نے جو چاہے اسےاللہ تعالٰی روز قیامت کی تکالیف سے نجات دے تو چاہیے کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا معافی ۔ ( مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2902)

(5)روز قیامت نجات:روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللہ کو فرماتے سنا کہ جو تنگدست کو مہلت دے یا معافی تواللہ اسے روز قیامت کی تکلیف سے نجات دے گا ۔ (مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2903)