تنگدست کو مہلت دینا یا اس سے قرض  کو معاف کر دینا یہ بہت ہی اچھا عمل ہے اور اللہ اس پر بہت ہی زیادہ ثواب عطا فرماتا ہے اور اللہ تبارک و تعالی اس وقت تک اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے ۔

آئیں اب ہم تنگ دست کو مہلت دینے یا اس کو قرض معاف کر دینے کے حوالے سے حدیث مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1) تنگ دستی کو مہلت دینا:حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انہوں نے اپنے ایک مقروض شخص سے تقاضا کیا، تو وہ ان سے غائب ہو گیا پھر وہ ایک دفعہ انہیں ملا تو اس نے کہا میں تنگ دست ہوں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا اللہ تعالی کی قسم ایسی ہی صورتحال ہے؟ اس نے جواب میں کہا: اللہ تعالیٰ کی قسم اسی طرح ہے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے حضور صلی الہ علی وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی اس چیز کو پسند کرتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اسے تکالیف سے محفوظ رکھے تو اسے چاہیے کہ کسی تنگ دست کو ( قرضہ کے حوالے ) مہلت فراہم کرے یا اسے ( قرضہ ) معاف کر دے ۔ (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الصدقات صفحہ نمبر 657 مکتبہ شبیر برادرز)

(2) دنیا اور آخرت میں آسانی :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں جو آدمی کسی مسلمان کی دنیاوی پریشانی دور کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی قیامت والے دن اس کی پریشانی دور کرے گا جو آدمی کسی تنگدست شخص کو دنیا میں آسانی دے گا تو اللہ تعالی اسے دنیا اور آخرت میں آسانی دے گا جو آدمی دنیا میں کسی شخص کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ تعالی دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالی اس وقت تک اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے ۔ (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الصدقات صفحہ نمبر 661 مکتبہ شبیر برادرز)

(3) تنگ دست پر درگزر :حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی سے حساب لیا گیا اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہیں تھی تاہم ایک بات ضرور تھی کہ وہ لوگوں سے لین دین کا معاملہ کرتا تھا وہ خوشحال آدمی تھا وہ اپنے نوکروں سے کہا کرتا تھا تم تنگدست لوگوں سے درگزر کا معاملہ کیا کرو تو اس پر اللہ تعالی نے فرمایا میں اس چیز کا زیادہ حقدار ہوں پھر فرشتوں کو حکم دیا اس سے درگزر کا معاملہ کرو ۔ (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الصدقات صفحہ نمبر 660 مکتبہ شبیر برادرز )

(4) دعا قبول کی جائے :حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے اور اس کی پریشانی ختم کی جائے تو وہ تنگدست کو مہلت فراہم کرے ۔ (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الصدقات صفحہ نمبر 663 مکتبہ شبیر برادرز)

(5) اللہ تعالیٰ سایہ عطا فرمائے گا :حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا قیامت کے دن اللہ تعالی اس آدمی کو اپنا سایہ عطا کرے گا جس دن میں اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا جس آدمی نے کسی تنگدست کو مہلت فراہم کی ہوگی یا مقروض کا قرض معاف کیا ہوگا ۔ (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الصدقات صفحہ نمبر 664 مکتبہ شبیر برادرز)

اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں بھی تنگ دست کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔