اللہ تبارک و تعالی کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہماری تعلیم و تربیت کے لیے کئی ارشادات بیان فرمائے ہیں ان میں سے ہماری ایک تربیت یہ فرمائی ہے کہ قرض خواہ کو قرض دینے میں مہلت دی جائے اور ان کے ساتھ نرمی اختیار کیجیے ائیے اس کے متعلق چند احادیث مبارکہ عرض کرتا ہوں ملاحظہ فرمائیے:

(1) اللہ عزوجل نرمی کو پسند فرماتاہے:اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِا سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نرمی فرمانے والا ہے، نرمی کو پسند فرماتاہے اور نرمی پر وہ انعامات عطافرماتاہے جوسختی پر عطا نہیں فرماتااور نہ ہی کسی اور چیز پر عطا فرماتاہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:634)

(2)حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، 845، الحدیث: 32(1563))

(3)صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص844، الحدیث: 29(1560)

(4)حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 /12 الحدیث2076)

(5)روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو چاہے اسےاللہ تعالیٰ روز قیامت کی تکالیف سے نجات دے تو چاہیے کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا معافی ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2902)