محمد
مدثر رضوی عطاری(درجۂ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،
پاکستان)
اللہ پاک
نے حضرت انسان کی تخلیق فرمائی پھر اس کی ہدایت کے لیے وقتاً فوقتاً انبیائے کرام
علیہم السلام کو مبعوپ فرمائیں سب سے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کو مبعوث فرمایا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے قول اور عمل کے ذریعے اپنی
امت کو راہ ہدایت پر گامزن کیا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ایک عمل مقروض نرمی
کرنا بھی ہے ۔ آئیے آپ بھی اس کے متعلق
چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے ۔
(1)قیامت میں
تکلیفوں سے نجات کا باعث: حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے
ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا
اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ
والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845، الحدیث: 32)
(2)عرش الٰہی
کا سایہ:حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست
کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، 3/52، الحدیث: 1310)
(3)نیکی
والا کام:اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا
فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز
سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی
چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا
۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
: ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں
گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ
میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘ (فیضان
ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:250 )
(4)قرض
معاف کرنا سنت نبوی ہیں : حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں
، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی
روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا
کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں
سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت
مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا
۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم
اس سے در گزر کرو ۔
(مسند امام
احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، 9/ 97،) الحدیث: 23413)
اعلٰی حضرت
رحمۃ اللہ علیہ کا عمل مقروض کے بارےمیں:اعلیٰ حضرت ، امامِ
اہلسنت ، مجدِّدِدِین وملت ، پروانہ شمع رِسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مذکورہ حدیثِ
مبارکہ کے عامل تھے ، چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی
مطبوعہ 540صفحات پرمشتمل کتاب ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ صفحہ91 سے ایک سوال اور اُس
کے جواب کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا کہ کسی پر قرض ہے اور وہ اب ادائیگی نہیں کرتا تو فرمایا کہ
اِس زمانے میں قرض دینا اور یہ خیال کرنا کہ وُصُول ہوجائے گا ، ایک مشکل خیال ہے
۔ میرے پندرہ سوروپے لوگو ں پر قرض ہیں ۔ جب
قرض دیا تویہ خیال کرلیا کہ دے دے تو خیر
و رنہ طلب نہ کرو ں گا ۔ لیکن جن لوگوں نے قرض لیا ، واپس کرنے کا نام ہی
نہ لیا ۔ اور ہاں! جب قرض دیتا ہوں تو ہبہ
کیوں نہیں کر دیتا یعنی تحفہ کیوں نہیں دے دیتا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث شریف
میں ارشاد فرمایا : ’’جب کسی کا دوسرے پر دَین یعنی قرض ہو اور اُس کی مدت گزر
جائے تو ہر روز اتنے قرض کے برابر روپیہ خیرات کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔ لہٰذا اِس ثوابِ عظیم کو پانے کے لئے میں نے پیسے
قرض دیئے ، ہبہ نہ کئے کیونکہ پندرہ سوروپے روز انہ میں کہا ں سے خیرات کروں گا ۔
اللہ پاک
سے دعا ہیں کہ وہ ہمیں حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرنے کی توفیق عطاء
فرمائے ۔ امین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
Dawateislami