اللہ پاک نے انسان کو پیدا فرمایا پھر اس کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا سب سے آخر میں حضور اکرم کو مبعوث فرمایا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے قول اور فعل کے ذریعے ہماری ہدایت و راہنمائی فرمائی اسی طرح آپ صلى علیہ والہ وسلم نے مقروض پر نرمی کرنے کی بھی ہدایت فرمائی ۔

آئیں اس کے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ۔

(1)قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات:حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسولُ اللہ ﷺ   نے  ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ  تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845، الحدیث: 23(1543))

(2)قیامت اللہ پاک کے عرش کے سایہ نصیب ہو گا : ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم  ﷺ َ نے  ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، 3 / 52، الحدیث:1310)

(3)اللہ تعالی رحم فرمائےگا:حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس  ﷺ َ نے  فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 / 12، الحدیث: 2086)

(4)اللہ تعالٰی معاف فرمائے گا: اور روایت میں ہے کہ اللہ  تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔    (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص844، الحدیث: 29(1540))

(5)حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: تم سے پہلی امتوں کا واقعہ ہے کہ فرشتوں نے ایک شخص کی روح سے ملاقات کی اور پوچھا کیا تم نے کوئی نیک کام کیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں فرشتوں نے کہا یاد کرو، اس نے کہا میں لوگوں کو قرض دیتا تھا اور آپنے نوکروں سے کہتا تھا کہ مفلس کو مہلت دینا اور مالدار سے در گزر کرنا، اللہ عزوجل نے فرمایا اس سے درگذر کرو ۔ (شرح صحیح مسلم مترجم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب؛ فَضْلِ انْظَارِ الْمُعْسِيرِ وَالتَّجَاوُزِ في الْاقْتِضَاءِ مِنَ الْمُوسِرَ وَالْمُعْسِيرِ،صفحہ نمبر285)

اس لیے ہمیں اپنے کریم آقا کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اور ان فضائل کو مد نظر رکھتے ہوئے مقروض پر نرمی کرنی چاہیے اور ممکنہ صورت میں قرض معاف کر دینا چاہیے ۔

اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبین