ہمارے معاشرے میں کچھ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالی نے بہت ساری نعمتوں سے نوازا ہے ،اور کچھ ‏وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالی نے پہلے کے مقابلے میں کم نعمتوں سے نوازا ہے ،بغض اوقات کسی مصیبت ‏میں (مثلا ،بیماری یامال یا مکان وغیرہ) ہلاک ہوجانے کی صورت میں بندہ کسی سے عاریتا کچھ مدت کے لئے ‏قرض لیتا ہے ،اور بعد میں اس کو ادا کردیتا ہے ،ہماری شریعت ایک ایسی شریعت ہے کہ عبادات کے ‏ساتھ ساتھ مقروض کو مہلت دینے کے سلسلہ میں ہماری بہترین رہنمائی کرتی ہے :‏آئیے اسی سلسلہ میں قرآن و حدیث میں دیکھیں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں : مقروض کو مہلت دینے کے بارے میں باری تعالی کا فرمان :‏

اللہ تعالی ارشا د فرماتا ہے: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنزا لعرفان : اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)

قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل:‏اس آیت میں فرمایا گیا کہ قرض داروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو تم ‏اسے مہلت دو تنگ دستی دور ہونے تک اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کردینا (یعنی) معاف ‏کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے ،کیوں کہ اس طرح کرنے سے لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں ‏گے اور آخرت میں تمہیں بڑ ا ثواب ملے گا ۔

(1)قیامت کے دن کی تکالیف سے نجات:حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ ‏وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی ‏مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ‏ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)‏

(2)عرش الہی کا سایہ حاصل ہوگا:‏حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم نے ارشاد فرمایا ’’جس ‏نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا ‏جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔

(ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ ‏/ ‏۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰‏)

(3)اللہ پاک مقروض کو مہلت دینے والے پر رحم فرمائے گا :‏حضرت جابر بن عبد اللہ‎ ‎رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی ‏اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ‎ ‎نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو ‏بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب ‏السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ ‏/ ‏۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ ‏)

(4)تم بھی اس سے درگزر کرو:‏حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ ‏زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ‏ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا ‏کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت ‏دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ‏(فرشتے سے‏ ) فرمایا:تم اس سے در ‏گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ ‏/ ‏۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، ‏باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶‏(‏۱۵۶۰‏)

(5)اللہ پاک مقروض کو مہلت دینے والے پر نرمی فرماتا ہے :‏حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ، جو شخص مقروض پر نرمی کرے اللہ تعالی دنیااور آخرت میں ‏اس بندے پر نرمی فرمائے گا ۔ ( مسند امام اعظم جلد01(ماخوذ حاشیہ )ص440‏)