سید
منٹھارشاہ (درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم کراچی، پاکستان)
ہمارے
معاشرے میں کچھ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالی نے بہت ساری نعمتوں سے نوازا ہے ،اور
کچھ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالی نے پہلے کے مقابلے میں کم نعمتوں سے
نوازا ہے ،بغض اوقات کسی مصیبت میں (مثلا
،بیماری یامال یا مکان وغیرہ) ہلاک ہوجانے کی صورت میں بندہ کسی سے عاریتا کچھ مدت
کے لئے قرض لیتا ہے ،اور بعد میں اس کو ادا کردیتا ہے ،ہماری شریعت ایک ایسی شریعت ہے کہ عبادات کے ساتھ ساتھ مقروض کو مہلت دینے کے سلسلہ میں ہماری بہترین رہنمائی کرتی ہے :آئیے اسی
سلسلہ میں قرآن و حدیث میں دیکھیں ہمیں کیا
حکم دیتے ہیں : مقروض کو مہلت دینے کے بارے میں باری تعالی کا فرمان :
اللہ تعالی
ارشا د فرماتا ہے: وَ اِنْ
كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ
لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنزا لعرفان : اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور
تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل:اس آیت میں فرمایا گیا کہ قرض
داروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ
سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو تم
اسے مہلت دو تنگ دستی دور ہونے تک اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کردینا (یعنی) معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے ،کیوں کہ اس طرح کرنے
سے لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں بڑ ا ثواب ملے گا ۔
(1)قیامت
کے دن کی تکالیف سے نجات:حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
فرماتے ہیں ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے
یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر،
ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)
(2)عرش الہی کا سایہ حاصل ہوگا:حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد
فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت
کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔
(ترمذی،
کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
(3)اللہ
پاک مقروض کو مہلت دینے والے پر رحم فرمائے گا :حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ
اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ
فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
(4)تم بھی
اس سے درگزر کرو:حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں
ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا
کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں
سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت
مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا
۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم
اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار
المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰)
(5)اللہ
پاک مقروض کو مہلت دینے والے پر نرمی
فرماتا ہے :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ
سے روایت ہے ، جو شخص مقروض پر نرمی کرے اللہ تعالی دنیااور آخرت میں اس بندے پر
نرمی فرمائے گا ۔ ( مسند امام اعظم
جلد01(ماخوذ حاشیہ )ص440)
Dawateislami