پیارے اسلامی بھائیو! قرض ہمارے معاشرے میں پایا جانے والا بہت عام معاملہ ہے تقریباً ہر شخص قرض کے لین دین میں مشغول نظر آتا ہے ہر دوسرا شخص قرض لیتا یا دیتا رہتا ہے پھر یہ معاملہ جتنا عام ہے اتنا ہی اہم بھی ہے قرض کی بنیاد پر معاشرے میں فساد لڑائیاں جھگڑے بھی ہوتے رہتے ہیں کہیں عزتِ نفس کو پامال کیا جاتا ہے تو کہیں قتل تک بات جا پہنچتی ہے لہذا قرض کا معاملہ بہت اہم ہے اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے ۔ چونکہ قرض کا معاملہ عام ہے اور حاجت مند آدمی قرض لیتا ہے قرض لینے اور دینے کے آداب قرآن وحدیث میں بیان کیے گئے ہیں ہم یہاں ایک آیت مبارکہ اور چند وہ احادیث کریمہ پیش کرتے ہیں جن میں مقروض پر نرمی کے تعلق سے بیان ہے کہ مقروض کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرنا چاہیے  ۔

پیارے اسلامی بھائیو !قرض دینے کے تعلق سے ایک نیکی یہ بھی ہے کہ قرض لینے والا اگر مجبور ہو بیچارے کے پاس پیسے نہ ہوں تو اسے مہلت دینی چاہیے اور اگر ممکن ہو تو بعض یا پورا قرض معاف کر دینا چاہیے جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ ( پ:3سورہ بقرہ:280)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگدست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت سے فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ اس کےچند فضائل درجِ ذیل ہیں

قیامت کی تکالیف سے نجات کا عمل :

(1)عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ ترجمہ: حضرت ابوقتادہ سے روآیت ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو چاہے اسےاللہ تعالٰی روز قیامت کی تکالیف سے نجات دے تو چاہیے کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا معافی ۔ (صحیح مسلم کتاب البیوع باب فضل انظار المعسر الخ جلد 2 ص26 )

تنگدست کو مہلت دینے کے سبب بخشش :

(2)وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا تَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللهَ أَن يَتَجَاوَزَ عَنَّا قَالَ: فَلَقِيَ اللّٰهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگو ں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا سے معاف کردے ہوسکتا ہے کہ اللہ ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ اللہ سے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ۔

(صحیح مسلم کتاب البیوع باب فضل انظار المعسر الخ جلد 2 ص26 )

(3)عن حذیفۃ قال:قال رسول اللہ ﷺ : تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَقَالُوا : أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَالَ : لَا، قَالُوا : تَذَكَّرْ، قَالَ : كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَآمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ، وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : تَجَوَّزُوا عَنْهُ ،

ترجمہ :حضرت حذیفہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرشتوں نے تم سے پہلے ایک شخص کی روح سے ملاقات کی اور فرمایا کہ کیا تو نے کوئی نیک کام کیا ہے؟کہا نہیں!فرمایا:یاد کر ۔ کہا میں لوگوں کو قرض دیتا تھا تو اپنے خادموں کو تنگدست کو مہلت دینے کا حکم دیتا تھا اس شخص نے کہا تو اللہ تعالیٰ نے (فرشتوں سے)فرمایا:اس سے در گذر کرو (صحیح مسلم کتاب البیوع باب فضل انظار المعسر الخ جلد 2 ص25 )

مذکورہ بالا فرامین سے معلوم ہوا کہ تنگدست مقروض کو مہلت دینا بخشش کا سبب ہے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی ممکنہ صورت میں تنگدست کو مہلت دیں ان شاءاللہ اس کی برکتیں نصیب ہوں گی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔