محمد مسلم عطاری ( جامعۃ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
لوگوں کی
اصلاح کرنے میں وعظ و نصیحت کا اور انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا بڑا اہم
کردار ہے اللہ پاک نے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ لوگوں کی اصلاح کریں
اور انہیں وعظ و نصیحت کریں۔ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ایک حضرت سیدنا عیسیٰ
علیہ السلام بھی ہیں انہوں نے بھی اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کے ذریعے راہ راست پر
لانے کا فریضہ سر انجام دیا۔ ان کی اپنی قوم کو کی جانے والی نصیحتوں کو اللہ پاک
نے قرآن پاک میں بھی ذکر فرمایا : آئیے ہم
بھی ان نصیحتوں والی آیات کو پڑھتے ہیں اور ان پر عمل کرنے کی نیت کرتے ہیں:
(1)وَ
اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ترجمہ
کنز العرفان۔۔ ( سورۃ المریم آیت 36) اور
عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ میرا اور تمہارارب ہے تو اس کی عبادت کرو۔ یہ سیدھا راستہ
ہے۔
(2)
اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ
مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ
اَحْمَدُؕ۔ (سورۃ الصف آیت 6)ترجمہ کنز العرفان : اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے فرمایا:اے بنی
اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق
کرنے والا ہوں اور اس عظیم رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں
گے ان کا نام احمد ہے
(3)
وَ
لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ
لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ
اَطِیْعُوْنِ(63)اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ
مُّسْتَقِیْمٌ (سورۃ الزخرف آیت
63/64 ) ترجمہ کنز العرفان : اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں لایا تواس نے فرمایا: میں
تمہارے پاس حکمت لے کر آیاہوں اور میں اس لئے (آیا ہوں ) تاکہ میں تم سے بعض وہ
باتیں بیان کردوں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔ بیشک
اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تو اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔
(4)اِذْ
قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ
یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ
مُّؤْمِنِیْنَ (سورۃ المائدہ آیت
112)ترجمہ کنز العرفان :یاد کروجب حواریوں
نے کہا: اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک دستر
خوان اُتار دے ؟ فرمایا :اللہ سے ڈرو، اگر ایمان رکھتے ہو۔
آپ علیہ
السلام الله کے مقبول بندے برگزیدہ نبی اور اولوالعزم یعنی عزم و ھمت والے رسول ھیں
آپ کی ولادت الله رب العزت کی قدرت کا ایک حیرت انگیز نمونہ ھے الله نے آپ علیه
السلام کو حضرت مریم رضی الله عنھا سے بغیر باپ کے پیدا فرما کر اپنی عظیم قدرت کی
ایک بہت بڑی نشانی بنا دیا جب یہودیوں نے آپ کے قتل کی سازش کی تو الله نے آپ کو
ان کے شر سے بچا کر زندہ آسمان پر اٹھا لیا قرب قیامت میں دوبارہ زمین پر تشریف
لائیں گے ھمارے آخری نبی حضرت محمد صلی الله علیه وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے
چالیس سال حکومت فرمائیں گے بعد وصال مدینه منورہ حضور علیه السلام کے حجرہ میں
مدفون ھوں گے۔
الله نے آپ کو
اپنی طرف سے ایک خاص روح فرمایا اس بنا پر آپ کو روح الله بھی کہا جاتا ھے ۔
عیسی
علیہ السلام کو رب کی طرف سے اختیار:وَ
مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ
الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ۫-فَاتَّقُوا
اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ(50)اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا
صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(51)(سورۃ آل
عمران 50,51) ترجمه کنز الایمان: اور تصدیق
کرتا آیا ھوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی اور اس لئے که حلال کروں تمہارے لئے کچھ
وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا
ھوں ، تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو بیشک میرا تمہارا سب کا رب الله ھے تو اسی
کو پوجو یہی سیدھا راستہ خدا ایک ھے۔
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُـوْۤا اِنَّ اللّٰهَ
ثَالِثُ ثَلٰثَةٍۘ-وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌؕ-وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا
عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(73)اَفَلَا
یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(74)(سورۃ المائدہ آیت 73،74) ترجمه کنز الایمان: بیشک کافر ھیں وہ جو کہتے ھیں
اللہ تین خداؤں میں کا تیسرا ھے اور خدا تو نہیں مگر ایک خدا اور اگر اپنی بات سے
باز نہ آئے تو جو ان میں کافر مریں گے ان
کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا۔ تو کیوں نہیں رجوع کرتے الله کی طرف اور اس سے بخشش
مانگتے اور الله بخشنے والا بڑا مہربان۔
عیسی
علیہ السلام کا حکمت لانا: وَ
لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ
لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ
اَطِیْعُوْنِ(63)اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ
مُّسْتَقِیْمٌ(64) (سورۃ زخرف آیت
63،64) ترجمه کنز الایمان: اور جب عیسیٰ
روشن نشانیاں لایا اس نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا اور اس لیے میں تم
سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف رکھتے ھو تو الله سے ڈرو اور میرا
حکم مانو۔ بیشک الله میرا رب اور تمہارا رب تو اسے پوجو یہی سیدھی راہ ھے۔
عیسی
علیہ السلام تو الله کے رسول ھیں: یٰۤاَهْلَ
الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا
الْحَقَّؕ-اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ
كَلِمَتُهٗۚ-اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ٘-فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ
وَ رُسُلِهٖ ۚ۫-وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌؕ-اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْؕ-اِنَّمَا
اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌؕ-سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌۘ-لَهٗ مَا فِی
السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا(سورۃ النساء آیت 171)
ترجمۂ کنز الایمان: اے کتاب والو اپنے دین میں
زیادتی نه کرو اور الله پر نه کہو مگر سچ، مَسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا الله کا رسول
ھی ھے اور اس کا ایک کلمہ کہ مریم کی طرف
بھیجا اور اس کے یہاں کی ایک روح تو الله اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور تین
نه کہو باز رھو اپنے بھلے کو الله تو ایک ھی خدا ھے پاکی اُسے اس سے که اس کے کوئی
بچہ ھو اسی کا مال ھے جو آسمانوں میں ھے
اور جو کچھ زمین میں اور الله کافی کارساز ھے۔
ابو کفیل محمد جمیل عطاری (درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور،پاکستان)
حضرت عیسیٰ علیہ
السلام نے اپنی امت کی اصلاح کی بھرپور کوشش فرمائی ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور سیدھی
راہ کی نصحتیں بھی فرمائی آئے آپ کی کچھ نصیحتیں پڑھتے ہیں
1 جب
اللہ تعالٰی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی طرف نبی بنا کر بھیجا تو
آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا:
أَنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِايَةٍ مِنْ رَّبِّكُمُ
انّي اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الدِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَانْفُخُ فِيهِ
فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ وَأُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ
وَأَحْيِ الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ
فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ في ذلِكَ لَا يَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ وَ مُصَدِّقًا
لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلِأُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي
حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَجِئْتُكُمْ بِايَةِ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
إِنَّ الله رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ
ترجمہ کنزالایمان : کہ میں تمہارے رب کی
طرف سے تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں ، وہ یہ کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے جیسی
ایک شکل بناتا ہوں پھر اس میں پھونک ماروں گا تو وہ اللہ کے حکم سے فورا پرندہ بن
جائے گی اور میں پیدا ئشی اندھوں کو اور کوڑھ کے مریضوں کو شفا دیتا ہوں اور میں
اللہ کے حکم سے مُردوں کو زندہ کرتا ہوں اور تمہیں غیب کی خبر دیتا ہوں جو تم
کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو، بیشک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی
نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ اور مجھ سے پہلے جو توریت کتاب ہے اس کی تصدیق
کرنے والا بن کر آیا ہوں اور اس لئے کہ تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں حلال کر دوں جو تم
پر حرام کی گئی تھیں اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں
تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ بیشک اللہ میرا اور تمہارا سب کا رب ہے تو اسی
کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے (پارہ
3،ال عمران: 49-51)
2 ایک
اور موقع پر آپ نے بنی اسرائیل کو یوں نصحیت فرمائی: قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَلا
بَيْنَ لَكُمُ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ
فِيهِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ
فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمُ ترجمہ: میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور میں اس لئے (آیا ہوں) تاکہ
میں تم سے بعض وہ باتیں بیان کر دوں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو اور
میرا حکم مانو۔ بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تو اس کی عبادت
کرو، یہ سیدھا راستہ ہے ۔ (پارہ 25،سورہ
زخرف : آیۃ نمبر 63,64)
3۔ ایک
بار حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے عرض کی : يعِيسَى ابْنَ
مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَنْ يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَا بِدَةً مِّنَ
السَّمَاءِترجمہ : اے عیسیٰ بن مریم!
کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان
سے ایک دستر خوان اُتار دے؟ (پارہ 7 ،المائدۃ ،112)
اس سے ان کی
مراد یہ تھی کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بارے میں آپ کی دعا قبول فرمائے گا؟ یہ مراد نہیں
تھی کہ کیا آپ کا رب عزوجل ایسا کر سکتا ہے یا نہیں ؟ کیونکہ وہ حضرات اللہ تعالیٰ
کی قدرت پر ایمان رکھتے تھے۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:اتَّقُوا
اللَّهَ إِنْ كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ (4) ترجمہ: اللہ سے ڈرو، اگر ایمان رکھتے ہو۔ (پارہ
7 ،المائدۃ ،112)
یعنی اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرو
اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ یہ مراد حاصل ہو جائے۔ بعض
مفسرین نے کہا: اس کے معنیٰ یہ ہے کہ تمام امتوں سے نرالا سوال کرنے میں اللہ سے
ڈرو یا یہ معنی ہے کہ جب اللہ کی قدرت کاملہ پر ایمان رکھتے ہو تو ایسے سوال نہ
کرو جس سے تردد کا شبہ گزر سکتا ہو۔ (خازن ،المائدۃ ،تحت آیۃ ،112،جلد 1 ،صفحہ 539 )
4 حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے سیدھی راہ کی کچھ اس طرح نصیحت فرمائی : وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ
فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(36) ترجمۂ کنز الایمان:
اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو یہ راہ سیدھی
ہے۔
تفسیر صراط الجنان:
{وَ
اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ:اور
بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے۔} اس آیت
میں مذکور کلام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہے، چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نےفرمایا: بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ میرا اور تمہارارب ہے، اس کے
سوا اور کوئی رب نہیں ، تو تم صرف اسی کی عبادت کرو اور اللہ تعالیٰ کے جو اَحکامات میں نے تم تک پہنچائے یہ ایسا سیدھا راستہ ہے جو
جنت کی طرف لے کر جاتا ہے۔(خازن، مریم، تحت الآیۃ: 36، 3 / 235)
5۔ عیسیٰ
علیہ السلام نے اپنی قوم کے کفر پر ان کو یوں نصیحت آموز بات ارشاد فرمائی : فَلَمَّاۤ
اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-قَالَ
الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِۚ-اٰمَنَّا بِاللّٰهِۚ-وَ اشْهَدْ بِاَنَّا
مُسْلِمُوْنَ (52)رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا
الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ(53) ترجمۂ کنز الایمان:
پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفر پایا بولا کون میرے مددگار ہوتے ہیں اللہ کی طرف، حَواریوں
نے کہا ہم دینِ خدا کے مددگار ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے، اور آپ گواہ ہوجائیں کہ
ہم مسلمان ہیں۔ اے رب ہمارے ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے اتارا اور رسول کے تابع
ہوئے تو ہمیں حق پر گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔
تفسیر صراط الجنان:
{فَلَمَّاۤ
اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ:
پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفرپایا ۔} یعنی جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دیکھا کہ یہودی اپنے کفر پر قائم ہیں اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں اور اتنی روشن آیات اور معجزات سے بھی ان
پر کوئی اثر نہیں ہوا اور اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے پہچان لیا تھا کہ آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی وہ مسیح ہیں جن کی توریت میں بشارت دی گئی ہے اور آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے دین کو منسوخ کریں گے، تو جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے نصحیت فرماتے ہوئے دعوت کا اظہار فرمایا تو یہ ان پر
بہت شاق گزرا اور وہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ایذا اورقتل کے درپے
ہوئے اور انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ کفر کیا۔ آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس وقت فرمایا کہ کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف
ہوکر میرا مددگار بنے۔ اس پر حواریوں نے
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مدد کا وعدہ کیا۔ (خازن، اٰل عمران، تحت
الآیۃ: 52، 1 / 253)
حواری وہ مخلصین
ہیں جو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین کے مددگار تھے اور آپ
پر اوّل ایمان لائے، یہ بارہ اَشخاص تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بوقت ِمصیبت اللہ
عَزَّوَجَلَّ کے بندوں سے مدد مانگنا سنت ِپیغمبر ہے۔ حواریوں نے کہا کہ ہم ایمان
لائے اور پھر کہا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہمارے مسلمان ہونے پر
گواہ بن جائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان و اسلام ایک ہی ہیں اور یہ بھی معلوم
ہوتا ہے کہ پہلے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا دین اسلام تھا ، یہودیت
و نصرانیت نہیں۔ اسی لئے ایمان لانے والوں نے اپنے آپ کو مسلمان کہا، عیسائی نہیں۔
حافظ محمد عمران عطاری (درجۂ
سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان بلھے شاہ قصور ، پاکستان)
اللہ پاک نے
لوگوں کی ھدآیت کے لیے کم وبیش 1لاکھ 24
ہزار انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا جن کی یہ ذمہ داری تھی کہ لوگوں کو
اللہ پاک کا پیغام پہنچانا اور اپنی قوم
کو وعظ ونصیحت کرنا ۔ انہی میں سے ایک بہت پیارے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں
جنہوں نے اپنی قوم کو وعظ ونصیحت فرمائیں جن کو قرآن پاک میں ذکر کیا گیا ان میں
سے کچھ درج ذیل ہیں:
1۔حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کی قوم کو تبلیغ ونصیحت کرنا۔ اللہ تعالیٰ
نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر
بھیجاتو آپ نے ان سے فرمایا :اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ
مِّنْ رَّبِّكُمْ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ
فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ اُبْرِئُ الْاَ كْمَهَ
وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا
تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً
لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ()وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ
التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ
جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ۫-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ ترجمۂ
کنز العرفان: اور اللہ اسے کتاب اور حکمت
اور توریت اور انجیل سکھائے گا۔ اور (وہ عیسیٰ) بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا کہ میں
تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں ،وہ یہ کہ میں تمہارے لئے مٹی
سے پرندے جیسی ایک شکل بناتاہوں پھر اس میں پھونک ماروں گا تو وہ اللہ کے حکم سے
فوراً پرندہ بن جائے گی اور میں پیدائشی اندھوں کو اور کوڑھ کے مریضوں کو شفا دیتا
ہوں اور میں اللہ کے حکم سے مُردوں کو زندہ کرتا ہوں اور تمہیں غیب کی خبر دیتا
ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو، بیشک ان باتوں میں تمہارے
لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔اورمجھ سے پہلے جو توریت کتاب ہے اس کی
تصدیق کرنے والا بن کرآیا ہوں اور اس لئے کہ تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں حلال کردوں
جو تم پر حرام کی گئی تھیں اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا
ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
توریت کے کتابُ اللّٰه اور حق ہونے کی تصدیق کیلئے بھی تشریف لائے تھے اور اس کے
بعض احکام کو منسوخ فرمانے بھی چنانچہ بعض وہ چیزیں جو شریعتِ موسیٰ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حرام تھیں جیسے اونٹ کاگوشت اورکچھ پرندے تو آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں حلال فرما دیا۔
2
۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی بشارت : وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ
مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ
اَحْمَدُؕ- ترجمۂ کنز العرفان: اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم
نے فرمایا:اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ، اپنے سے پہلی کتاب
تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اس عظیم رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے
بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے ۔
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ حضورِ انور
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نام آپ کی تشریف آوری
سے پہلے ہی مشہور ہو چکا تھا کیونکہ بنی اسرائیل کو باقاعدہ بتا دیا گیا تھا۔
3.
آسمان سے نزول دستر خوان کی عرض اور جواب عیسی: اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى
ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً
مِّنَ السَّمَآءِؕ- ترجمۂ کنز العرفان:یاد کروجب حواریوں نے کہا:
اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک دستر خوان
اُتار دے ؟ فرمایا :اللہ سے ڈرو، اگر ایمان
رکھتے ہو۔
ان کی مراد یہ
تھی کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بارے میں آپ کی دعا قبول فرمائے گا؟ یہ مراد نہیں تھی
کہ کیا آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ایسا کرسکتا ہے یا نہیں ؟ کیونکہ وہ حضرات اللہ
تعالیٰ کی قدرت پر ایمان رکھتے تھے۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: قالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِین
یعنی اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ یہ مراد حاصل ہو
جائے۔
اللہ پاک کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
مبارک نصیحتوں اور انکے اوصاف وسیرت سے بہت مفید اور جامع علم حاصل ہوتا ہے ۔اللہ
پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین
احمد حسن (درجۂ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
قرآن پاک اپنے
سے پہلے نازل ہونے والی کتب وانبیاء کی تصدیق کرتا ہے بلکہ قرآن مجید میں ان کی
تعلیمات کا ذکر بھی کیاگیا ہے۔ یاد رہے کہ
چار پیغمبر ابھی تک زندہ ہیں ۔دو آسمان میں(1) حضرت ادریس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام (2) حضرت
عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، اوردوزمین پر۔(1)حضرت
خضر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔ (2) حضرت الیاس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔
حضرت سیدنا عیسیٰ
علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیے گئے تھے،عیسیٰ علیہ السلام پر اللہ
تبارک و تعالیٰ کی جانب سے کتاب انجیل نازل کی گئی تھی، جس میں بنی اسرائیل کے لیے
ہدایت تھی۔
اللہ نے
آپ کو بہت سے معجزات بھی عطا کیے تھے جن میں مردہ کو زندہ کرنا، پیدائشی نابینا کو
بینا کرنا، جذامی کو صحیح کرنا، مٹی سے پرندہ بنا کر اس میں پھونک مارنے سے اس کو
زندہ پرندے جیسا کردینا، اور لوگوں نے کیا کھایا؟ کیا خرچ کیا؟ کتنا ذخیرہ کیا؟ یہ
سب بتادینا جیسے معجزات شامل تھے۔ ان پر اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتاب ’’انجیل‘‘
نازل کی تھی۔
حضرت عیسیٰ علیہ
السلام ان عظیم الشان اولوالعزم انبیاء کرام میں سے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے بہ طور خاص کیا ہے
اور جن کی تعلیمات کا بار بار حوالہ دیا ہے، قرآن مجید ایک طرف تو حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کی عظمت ورفعت کو اجاگر کرتا ہے؛ تاکہ ان کے متعلق یہودیوں کی پھیلائی ہوئی
بدگمانیوں کا قلع قمع ہو اور دوسری طرف ان لوگوں کی شدید مذمت کرتا ہے جنھوں نے ان
کو خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیا۔ اس کے برخلاف قرآن مجید سیدنا عیسیٰ علیہ السلام
کی صاف ستھری تعلیمات کا بار بار حوالہ دیتا ہے، جن سے عقیدئہ توحیدورسالت اور
آخرت کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے، کلام پاک نے متعدد مقامات پر عیسیٰ علیہ السلام کی
تعلیمات کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو کیا تعلیم دی تھی۔چنانچہ
قرآن پاک میں حضرت عیسی علیہ السلام کے اقوال کچھ اس طرح ہیں:۔
1:۔”وَإِذْ
قَالَ اللہُ یَا عِیسَیٰ ابْنَ مَرْیَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِیْ
وَأُمِّیَ إِلٰھَیْنِ مِنْ دُونِ اللہِ قَالَ سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِیْ أَنْ
أَقُولَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ إِنْ کُنْتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ
مَا فِی نَفْسِیْ وَلا أَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِکَ إِنَّکَ أَنْتَ عَلامُ الْغُیُوبِ (سورة المائدة 116) ترجمہ: اور جب اللہ تعالیٰ فرمائے
گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تونے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ اللہ جل شانہ کو چھوڑ کر
مجھے اور میری ماں کو تم معبود بنالینا؟ وہ جواب دیں گے کہ تیری ذات پاک ہے، مجھے
جس بات کے کہنے کاحق نہ تھا میں کیسے کہہ دیتا؟ اگر میں نے کہا ہو تو تو خوب اچھی
طرح جانتا ہے، میرے دل کی باتیں تجھ پر بخوبی روشن ہیں، ہاں تیرے جی میں جو ہے وہ
مجھ سے مخفی ہے، تو تو تمام تر غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔
2:۔اللہ تبارک
وتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول کو نقل فرمایا ہے کہ: ”اِنَّ
اللہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہ ھٰذَ صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْم“(آل عمران ،51) ترجمہ:۔ بلا شبہ، اللہ ہی میرا
اور تمہارا پروردگار ہے، تو اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔“
3:۔ لَقَدْ
کَفَرَ الَّذِینَ قَالُوا إِنَّ اللہَ ھُوَ الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَقَالَ
الْمَسِیحُ یَا بَنِی إِسْرَائِیلَ اعْبُدُوا اللہَ رَبِّی وَرَبَّکُمْ إِنَّہُ
مَنْ یُشْرِکْ بِاللہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللہُ عَلَیْہِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاہُ
النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِینَ مِنْ أَنْصَارٍ (سورة المائدة: ۵/۷۲) ترجمہ:
”بے شک وہ لوگ کافر ہوگئے جن کا قول ہے کہ مسیح بن مریم ہی اللہ ہے؛ حالانکہ خود
مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ ہی کی عبادت کرو، جو میرا اور
تمہارا سب کا رب ہے، یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، اللہ اس پر
قطعاً جنت حرام کردیتا ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہے، گنہگاروں کی مدد کرنے والا
کوئی نہیں"
عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بالکل زندہ
سلامت آسمان پر اُٹھالیا اور وہ آسمان میں زندہ ہیں ، اور قربِ قیامت میں دوبارہ
زمین پر حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اُمتی بن کر
نازل ہوں گے، اس زمانہ میں دجال کا ظہور ہوگا، جس کو عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں
گے، اور یاجوج ماجوج کا بھی اسی زمانہ میں ظہور ہوگا اور یہ مسلمانوں کی امامت
سنبھالیں گے اور مسلمان ان کے ساتھ مل کر جہاد کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ
السلامنزول کے بعد چالیس سال رہیں گے اور اس کے بعد ان کا انتقال ہوگا، اور نبی
اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پہلو میں ان
کی تدفین ہوگی۔
محمد یاسر رضا عطاری (درجۂ ثالثہ جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ
لاہور، پاکستان)
پیارے اسلامی
بھائیو اللہ پاک نے انسانیت کو صراط مستقیم پر چلانے کے لیے بہت سے انبیاء علیہم
السلام کو زمین پر اتارا جنہوں نے تبلیغ دین کے لیے بھرپور انداز میں کوششیں کر کے
اپنے فرائض سر انجام دیے ان مقدس ہستیوں کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی نصیحتیں قوم
کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئیں انہی انبیاء علیہم السلام میں سے ایک حضرت عیسی علیہ
السلام بھی ہیں جن کی مبارک نصیحتوں کو یہاں بیان کیا جا رہا ہے:-
•)آسمانی
کتاب تورات کی تصدیق کرنے والے: حضرت عیسی علیہ السلام گزشتہ نازل ہوئی کتاب
تورات کی تصدیق کے لیے تشریف لائے اور اس کے بعض احکام کو منسوخ بھی کیا چنانچہ ایک
موقع پر آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اس طرح نصیحت فرمائی: وَ
لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ
لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ
اَطِیْعُوْنِ•اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ
مُّسْتَقِیْمٌ (پ:25
،الزخرف:63,64) ترجمۂ کنز الایمان: اور
حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا اور اس لیے(کہ) میں
تم سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو اور میرا
حکم مانو۔ بیشک اللہ میرا رب اور تمہارا رب تو اسے پوجو یہ سیدھی راہ ہے۔
نبی
پاک علیہ الصلاۃ والسلام کی بشارت دینے والے: آپ علیہ السلام
نے اپنے بعد تشریف لانے والے رسول خاتم النبیین حضور محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی
اللہ علیہ وسلم کی بشارت اپنی قوم کو دی- ارشاد فرمایا:وَ اِذْ قَالَ
عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ
مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ
مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُؕ-(پ:28,الصف:6)
ترجمۂ کنز الایمان: اور یاد کرو جب عیسیٰ
بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب
توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں
گے اُن کا نام احمد ہے۔
آسمان
سے نزول دسترخوان کی درخواست پر نصیحت: ایک بار آپ علیہ السلام کے حواریوں نے عرض کی: اِذْ قَالَ
الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ
عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِؕ- ترجمۂ کنز الایمان: جب حواریوں
نے کہا اے عیسیٰ بن مریم کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان
اُتارے؟
اس پر آپ علیہ
السلام نے فرمایا: قَالَ
اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(112) ترجمۂ کنز الایمان:
کہا اللہ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
اگر ہم لوگ
غور کریں تو ان نصیحتوں میں ہمیں بہت سے مدنی پھول ملیں گے جن سے ہم اپنی دنیا اور
آخرت بہتر بنا سکتے ہیں۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ ہمیں سمجھنے کی اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
حسنین علی عطاری (درجۂ ثانیہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور،پاکستان)
نصیحت کا عام
معنی خیر خواہی“ ہے خواہ قول کی صورت میں ہو یا عمل کی صورت میں۔ وعظ ، اسی قولی
نصیحت کی ایک صورت ہے جس سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کو پسندیدہ چیز کی طرف بلائے
اور خطرے سے بچائے ، دل میں نرمی پیدا کرے، اچھے عمل کی طرف راغب کرے اور برے عمل
کے انجام سے ڈرائے۔
نصیحت ایسازی
شان کام ہے کہ خود خدائے حکیم و خبیر نے قرآن کریم میں متعدد اور مقامات پر مختلف
انداز میں بندوں کو نصیحتیں فرمائی ہیں ۔ قرآنِ مجید خدا کا کلام ہے جو در کتاب ہدایت ،
صحیفۂ موعظت اور مجموعہ نصیحت ہے۔ ویسے تو قرآن مجید کا ایک ایک لفظ دار نور سے
معمور ہے لیکن بطورِ خاص اس میں اہم نصیحتوں
پر مشتمل کلمات طیبات تو اس قدر خوب صورت
ہے کہ عقل انسانی ان نصائح کے حسن بیان پر قربان ہو جاتی ہے۔
(
1 )دین کے مددگار: فَلَمَّاۤ
اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-قَالَ
الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِۚ-اٰمَنَّا بِاللّٰهِۚ-وَ اشْهَدْ بِاَنَّا
مُسْلِمُوْنَ(52)رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ
فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ(53) ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفر
پایا بولا کون میرے مددگار ہوتے ہیں اللہ کی طرف، حَواریوں نے کہا ہم دینِ خدا کے
مددگار ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے، اور آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اے رب
ہمارے ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے اتارا اور رسول کے تابع ہوئے تو ہمیں حق پر
گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔
(2
) اللہ کو ایک ماننا : ( سورت
مائدہ آیت نمبر 116) وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ
ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ
اللّٰهِؕ-قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْۗ-بِحَقٍّ
ﳳ-اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗؕ-تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ
اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَؕ-اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ(116) ترجمۂ
کنز الایمان: اور جب اللہ فرمائے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں سے کہہ
دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنالو اللہ کے سوا عرض کرے گا پاکی ہے
تجھے مجھے روا نہیں کہ وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہونچتی اگر میں نے ایسا کہا ہو
تو ضرور تجھے معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے
علم میں ہے بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا خوب جاننے والا۔
(
3 ) عبادت کرنا: ( سورت مریم آیت
نمبر 36) وَ
اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(36)
ترجمۂ کنز الایمان: اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ
رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو یہ راہ سیدھی ہے۔
(4)
اللہ سے ڈرو : (سورت المائدہ آیت
نمبر 112) اِذْ
قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ
یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ
مُّؤْمِنِیْنَ(112) ترجمۂ کنز الایمان: جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ
بن مریم کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتارے کہا اللہ سے
ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
(5)
اللہ کی عبادت کرنا: (سورت المائدہ
آیت نمبر 117) مَا
قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ
رَبَّكُمْۚ-وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْۚ-فَلَمَّا
تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْؕ-وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ
شَهِیْدٌ(117) ترجمۂ کنز الایمان: میں نے تو ان سے نہ کہا مگر
وہی جو مجھے تو نے حکم دیا تھا کہ اللہ کو پوجو جو میرا بھی رب اور تمھا را بھی رب
اور میں ان پر مطلع تھا جب تک میں ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تُو ہی
ان پر نگاہ رکھتا تھا اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے۔
ابو منصور محمد تیمور عطّاری
(درجۂ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
نصیحت کا عام
معنی خیر خواہی ہے خواہ قول کی صورت میں ہو یا عمل کی صورت میں۔ وعظ ، اسی قولی نصیحت
کی ایک صورت ہے جس سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کو پسندیدہ چیز کی طرف بلائے اور
خطرے سے بچائے ، دل میں نرمی پیدا کرے، اچھے عمل کی طرف۔
راغب
کرے اور برے عمل کے انجام سے ڈرائے۔ نصیحت
ایسا ذی شان کام ہے کہ خود خدائے حکیم و خبیر نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر
مختلف انداز میں بندوں کو نصیحتیں فرمائی ہیں ۔ قرآن مجید خدا کا کلام ہے جو کتاب ہدایت ،
صحیفۂ موعظت اور مجموعہ نصیحت ہے۔ ویسے تو قرآن مجید کا ایک ایک لفظ نور سے معمور
ہے لیکن بطور خاص اس میں اہم نصیحتوں پر مشتمل کلمات طیبات تو اس قدر خوب صورت ہے
کہ عقل انسانی ان نصائح کے حسن بیان پر قربان ہو جاتی ہے۔
(1)حضرتِ
عیسیٰ علیہ السلام کا حکمت لانا : وَ
لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ
لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ
اَطِیْعُوْنِ ( سورت الزخرف آيت
نبر 63) اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں لایا اس نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا
اور اس لیے میں تم سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ
سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔
(2)
بندگی کرنا : اِنَّ اللّٰهَ
هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ( سورت الزّخرف آيت نبر 64) ترجمۂ کنز الایمان۔ بیشک اللہ میرا رب اور
تمہارا رب تو اسے پوجو یہ سیدھی راہ ہے۔
(3)
اللہ سے ڈرو : اِذْ
قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ
یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ
مُّؤْمِنِیْنَّ ( سورة المائده آيت نبر (112) ترجمۂ کنز الایمان:جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ
بن مریم کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتارے کہا اللہ سے
ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
تفسیر صراط الجنان :حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ
اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ یہ مراد حاصل ہو جائے۔
( 4 )اطاعت کرو: وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ
فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ( سورة مريم آيت نبر36) ترجمۂ کنز الایمان : اور عیسیٰ نے کہا بیشک
اللہ رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو یہ راہ سیدھی ہے۔
(
5 ) دین کے مددگار : یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ
مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ
نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ
كَفَرَتْ طَّآىٕفَةٌۚ-فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ
فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ (سورت
الصف آيت 14) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو دین خدا کے
مددگار ہو جیسے عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کون ہے جو اللہ کی طرف ہو کر
میری مدد کریں حواری بولے ہم دین خدا کے مددگار ہیں تو بنی اسرائیل سے ایک گروہ ایمان
لایا اور ایک گروہ نے کفر کیا تو ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں پر مدد دی تو
غالب ہوگئے۔
محمد
قمر شہزاد عطاری (درجۂ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام مخلوق کی طرف مبعوث
فرمائے اور ان کو علم و حکمت اور نبوّت عطا فرمائی اُنہی میں سے حضرت عیسیٰ علیہ
السلام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم و معرفت اور کثیر معجزات کے ساتھ نوازا حضرت
عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جس کو اللہ پاک نے
قرآن مجید میں ذکر کیا ہے چُنانچہ فرمایا : وَ اِنَّ
اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ترجمہ کنزالعرفان: اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ
رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو یہ راہ سیدھی ہے ۔(سورہ مریم آیت (36) سورت الصف آیت نمبر (14)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا
اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ
اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ
فَاٰمَنَتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآىٕفَةٌۚ-فَاَیَّدْنَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْن ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو دین خدا کے مددگار ہو جیسے عیسیٰ بن مریم نے حواریوں
سے کہا تھا کون ہے جو اللہ کی طرف ہو کر میری مدد کریں حواری بولے ہم دین خدا کے
مددگار ہیں تو بنی اسرائیل سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ نے کفر کیا تو ہم
نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں پر مدد دی تو غالب ہوگئے۔ (سورت المائدہ آیت
نمبر112)
اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ
هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ
اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(112) ترجمۂ کنز الایمان: جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم
کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتارے کہا اللہ سے ڈرو اگر
ایمان رکھتے ہو ۔ (سورت المائدہ آیت نمبر 116)
وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ
ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ
اللّٰهِؕ-قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْۗ-بِحَقٍّ
ﳳ-اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗؕ-تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ
اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَؕ-اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ ترجمۂ
کنز الایمان: اور جب اللہ فرمائے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں سے کہہ
دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنالو اللہ کے سوا عرض کرے گا پاکی ہے
تجھے مجھے روا نہیں کہ وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہونچتی اگر میں نے ایسا کہا ہو
تو ضرور تجھے معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے
علم میں ہے بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا خوب جاننے والا۔ (سورت ال عمران آیت نمبر 51
)
اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا
صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ترجمۂ کنز الایمان: بیشک میرا تمہارا سب کا رب
اللہ ہے تو اسی کو پوجو،یہ ہے سیدھا راستہ۔
جیساکہ ہمیں
معلوم ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور حضرت عیسی علیہ
السلام کا قرب قیامت والے دن نزول ہوگا
آپ علیہ السلام بغیر باپ کے حضرت
مریم علیہ السلام سے پیدا ہوے حضرت عیسی علیہ السلام کی کچھ قرآنی نصیحتیں مذکور
ہے۔ قران پاک میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ
فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ ترجمہ کنزالایمان: اور بیشک عیسیٰ قیامت کی
خبر ہے تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا اور میرے پیرو ہونا یہ سیدھی راہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ آپ فرما دیں : ’’حضرت عیسیٰ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا آسمان سے دوبارہ زمین پر تشریف لانا قیامت کی
علامات میں سے ہے،تو اے لوگو! ہرگز قیامت
کے آنے میں شک نہ کرنا اور میری ہدایت اور شریعت کی پیروی کرنا، یہ سیدھا راستہ ہے جس
کی میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں ۔
حضرت کعب
احباررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی: یَا رُوْحَ اللہ !کیا ہمارے بعد اور کوئی امت بھی ہے؟آپ نے
فرمایا’’ہاں،احمد مجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اُمت ہے ،وہ لوگ حکمت والے ، علم والے، نیکوکار
اور متقی ہوں گے اور فقہ میں انبیاء ِکرام
عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے نائب ہوں گے، اللہ تعالیٰ سے تھوڑے رزق پر
راضی رہنے والے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے تھوڑے عمل پر راضی گا۔ (خازن،
الصف، تحت الآیۃ: 6، 4)
مدثر عطاری (درجۂ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
نصیحت
سے مراد: وہ بات جس پر
عمل کرنا مفید ہو اور صالحین سے ملی ہو یا ان کے واقعات سے اس بات کو اخذ کیا حضرت
عیسی علیہ السلام کی نصیحتیں اور واقعات قران پاک میں کثیر جگہ ہے جن میں سے چند
ملاحظہ فرمائے
(1)
عقائد میں گمان کا اعتبار نہ کرو: ترجمہ کنز العرفان: اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ
بن مریم اللہ کے رسول کو شہید کیا حالانکہ انہوں نے نہ تواسے قتل کیا اور نہ اسے
سولی دی بلکہ ان (یہودیوں ) کے لئے (عیسیٰ سے ) ملتا جلتا (ایک آدمی)بنادیا گیا
اور بیشک یہ (یہودی) جو اس عیسیٰ کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں ضرور اس کی طرف سے
شبہ میں پڑے ہوئے ہیں ( حقیقت یہ ہے کہ) سوائے گمان کی پیروی کے ان کواس کی کچھ بھی
خبر نہیں اور بیشک انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا۔
اس آیت کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں عقائد میں گمان یا ظن کا اعتبار نہیں ہوتا اس میں علم یقینی ہونا چاہیے۔ (پارہ چھ تفسیر نعیمی جلد نمبر چھ سورۃ النساء آیت
نمبر 157)
2 ۔ بزرگوں کی بددعا سے بچو: ترجمہ
کنز العرفان: بنی اسرائیل میں سے کفر کرنے
والوں پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان پرسے لعنت کی گئی۔ یہ لعنت اس وجہ سے تھی
کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ سرکشی کرتے رہتے تھے۔
اس آیت کے
تحت مفتی صاحب فرماتے ہیں بزرگوں کی بددعا بڑی ہی خطرناک ہے اس سے قوم تباہ ہو گئیں
عذاب الہی ہمیشہ اللہ والوں کی بددعا سے آئے۔
3
بدکاروں کے حالات کو ضرور جاننا: اسی آیت کے تحت ہی مفتی صاحب فرماتے ہیں
بدکاروں مجرموں کے تاریخی حالات جاننا یاد رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ ان سے ہم عبرت
حاصل کریں ان کے اعمال سے بچیں ۔ (پارہ چھ تفسیر نعیمی جلد نمبر چھ سورۃ المائدہ آیت نمبر 78)
4 ۔
انبیاء کرام پر جھوٹے الزام لگانے سے بچنا: ترجمہ کنز العرفان : اور جب اللہ فرمائے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا
تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو؟ تووہ
عرض کریں گے: (اے اللہ !) تو پاک ہے۔ میرے لئے ہرگز جائز نہیں کہ میں وہ بات کہوں
جس کا مجھے کوئی حق نہیں ۔اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی توتجھے ضرور معلوم ہوتی۔تو
جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے۔ بیشک تو ہی سب
غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔
اس آیت کے تحت مفتی صاحب فرماتے ہیں انبیاء کرام علیہم
السلام کو جھوٹے الزام لگانا وہ جرم ہے جو کافر انسان کے سوا کوئی مخلوق نہیں کرتی
نہ جن نہ کوئی اور اگر انسان سیدھا رہے تو فرشتوں سے بڑھ کر کام کر لیتا ہے اگر ٹیرھا
جلے تو شیطان سے بدتر حرکات کر لیتا ہے۔ (پارہ سات تفسیر نعیمی جلد نمبر سات سورۃ
المائدہ آیت نمبر 116)
5 ۔
بری صحبت سے بچو : ترجمہ کنز العرفان : یہ ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا۔
سچی بات جس میں یہ شک کررہے ہیں ۔ اس آیت کے تحت مفتی صاحب فرماتے ہیں دنیاوی زندگی میں
سب سے زیادہ خطرناک زہر قاتل صحبت بد اور عیار دشمن ہے کہ یہ دین دنیا تباہ کر دیتے
ہیں ان سے بچنا ہر مسلمان کو ضروری ہے۔ (پارہ
16 تفسیر نعیمی جلد نمبر 16 سورۃ مریم آیت نمبر 34)
پیارے پیارے
اسلامی بھائیو نصیحتوں پر عمل کرنے کے بہت فوائد ہیں اللہ پاک ہمیں نصیحتوں پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اشتیاق احمد عطّاری (درجۂ رابعہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
قرآن مجید
اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر فرمایا ہے اور قرآن مجید میں
ان انبیاء کرام علیہم السلام کی صفات اور واقعات بیان فرمائے ہیں اسی طرح اللہ
تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی قرآن مجید میں ذکر فرمایا اور صفات بیان
فرمائی ہیں آئیے ان میں سے چند آیتیں مبارکہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
(1)۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کی خبر ہونا: وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ
فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(61) ترجمۂ
کنز الایمان: اور بیشک عیسیٰ قیامت کی خبر ہے تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا اور میرے
پیرو ہونا یہ سیدھی راہ ہے۔( حوالہ سورتہ الزخرف آیت نمبر 61)
تفسیر : {وَ
اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ:
اور بیشک عیسیٰ ضرورقیامت کی ایک خبر ہے۔} اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ آپ فرما دیں : ’’حضرت عیسیٰ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا آسمان سے دوبارہ زمین پر تشریف لانا قیامت کی
علامات میں سے ہے،تو اے لوگو! ہرگز قیامت
کے آنے میں شک نہ کرنا اور میری ہدایت اور شریعت کی پیروی کرنا، یہ سیدھا راستہ ہے جس
کی میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں
2۔حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کا کہنا کہ اللہ تعالیٰ میرا اور تیرا رب ہے:وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ
فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(36) ترجمۂ کنز الایمان:اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ رب ہے میرا
اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو یہ راہ سیدھی ہے۔( حوالہ سورتہ مریم آیت نمبر 36)
تفسیر :
{وَ
اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ:اور
بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے۔} اس آیت
میں مذکور کلام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہے، چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نےفرمایا: بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ میرا اور تمہارارب ہے، اس کے
سوا اور کوئی رب نہیں ، تو تم صرف اسی کی عبادت کرو اور اللہ تعالیٰ کے جو اَحکامات میں نے تم تک پہنچائے یہ ایسا سیدھا راستہ ہے جو
جنت کی طرف لے کر جاتا ہے
3۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اگر ایمان لائے ہو تو:اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى
ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً
مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(112) ترجمۂ کنز الایمان: جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ
بن مریم کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتارے کہا اللہ سے
ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔( حوالہ سورتہ المائدہ آیت نمبر 112)
تفسیر :
{ اِذْ
قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ : جب حواریوں
نے کہا۔} حواریوں نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی کہ کیا
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا
رب عَزَّوَجَلَّ ہم پر آسمان سے نعمتوں سے بھرپور دسترخوان اتارے گا۔ ان کی مراد یہ
تھی کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بارے میں آپ کی دعا قبول فرمائے گا؟ یہ مراد نہیں تھی
کہ کیا آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ایسا کرسکتا ہے یا نہیں ؟ کیونکہ وہ حضرات اللہ
تعالیٰ کی قدرت پر ایمان رکھتے تھے۔ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ
عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو
تاکہ یہ مراد حاصل ہو جائے۔ بعض مفسرین نے کہا: اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ تمام اُمتوں
سے نرالا سوال کرنے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو یا یہ معنی ہیں کہ جب اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی کمالِ قدرت پر ایمان رکھتے ہو تو ایسے سوال نہ کرو جن سے تَرَدُّد
کا شبہ گزر سکتا ہو
4۔
فرشتوں کا حضرت مریم رحمۃ اللہ تعالیٰ کو ایک کلمہ کی بشارت دینا :اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ
اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُۙ-اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ
مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ(45) ترجمۂ
کنز الایمان: اور یاد کرو جب فرشتو ں نے مریم سے کہا، اے مریم اللہ تجھے بشارت دیتا
ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی جس کا نام ہے مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا رُو دار ہوگا دنیا
اور آخرت میں اور قرب والا۔ ( حوالہ سورتہ آل عمران آیت نمبر 45)
تفسیر :
{اِنَّ
اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ: بیشک اللہ
تجھے بشارت دیتا ہے۔} حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کلمۃُ اللہ
اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جسم شریف کی پیدائش
کلمہ’’ کُن‘‘ سے ہوئی، باپ اور ماں کے نطفہ سے نہ ہوئی۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ
مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ-خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ
قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(آل
عمران:۵۹) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بےشک عیسیٰ کی مثال اللہ
کے نزدیک آدم کی طرح ہے۔ اُسے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے فرمایا ’’ہوجا‘‘ تو وہ ہوگیا۔
حضرت عیسیٰ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے بارے میں فرمایا کہ وہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ کا کلمہ ہیں ، نام مبارک عیسیٰ
ہے، لقب مسیح ہے کیونکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مَس کرکے یعنی چھو کر شفا دیتے تھے، دنیا و
آخرت میں عزت و وجاہت والے ہیں اور رب کریم عَزَّوَجَلَّ کے مقرب بندے ہیں۔ اس آیت
میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نسبت باپ کی بجائے ماں کی طرف
کی گئی ،اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام بغیر باپ کے صر ف ماں سے پیدا ہوئے ہیں کیونکہ
اگر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کوئی باپ ہوتاتو یہاں آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نسبت ماں کی طرف نہ ہوتی بلکہ باپ کی طرف ہوتی ۔جیسا کہ
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ
اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ
اللّٰهِ(احزاب: ۵) ترجمۂ کنزُالعِرفان:لوگوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک
انصاف کے زیادہ قریب ہے۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ جو کچھ پڑھا اس پر عمل کرنے اور انبیاء کرام علیہم السلام کی صفات پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
Dawateislami