محمد عمر عظیم قادری (درجۂ رابعہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ
راولپنڈی ، پاکستان)
حضرت سیدنا
امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد
فرماتے ہیں : "وأما الموعظة فهي الكلام الذي
يفيد الزجر عما لا ينبغي في طريق الدين. یعنی نصیحت وہ کلام ہےجو راہ راست میں ناروا اور نامناسب باتوں سے
روکے"(1)"۔(تفسیر کبیر،سورہ آل عمران تحت الآیہ 138 ج 3 ص 37)
وعظ و نصیحت کی اہمیت و افادیت ایک مسلّمہ حقیقت ہے ۔ہر دور میں اس کی ضرورت پیش
آئی ہے ۔اس کے فوائد و ثمرات بے شمار ہیں۔ رب العالمین قرآن پاک میں ارشاد فرماتا
ہے:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ
الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ (سورہ نخل آیت نمبر 125) ترجمۂ کنز الایمان:
اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر
بحث کرو جو سب سے بہتر ہو "
وعظ و نصیحت
حضرات انبیاء کرام ومرسلین عظام(على نبينا وعليهم الصلاة والسلام) کی عظیم سنت ہے
۔ان برگزیدہ ہستیوں کو اللہ پاک نے انسانیت
کی ھدایت کے لئے بھیجا۔ حضرت عیسیٰ علیہ
السلام بھی ان میں سے ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔آپ نے اس سنت کو کمال کی بلندیوں تک
پہنچایا۔کیوں نہ ہو کہ اللہ پاک نے آپ کو
جوامع الکلم عطا فرمائے یعنی ایسے کلمات جو عبارت کے لحاظ سے مختصر اور معانی و
مطالب کے لحاظ سے جامع ہوں۔قرآن کریم کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی
قوم کو کی جانے والی چند نصیحتیں پیش کرتا ہوں آئیے پڑھیئے اور آپ بھی نصیحت حاصل
کیجئے۔
1.میں
اللہ کا بندہ ہوں: حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت کے بعد حضرت مریم رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہا انہیں اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں ، جب
لوگوں نے حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کو دیکھا
کہ ان کی گود میں بچہ ہے تو وہ روئے اور غمگین ہوئے ، کیونکہ وہ صالحین کے
گھرانے کے لوگ تھے اور کہنے لگے : اے مریم! بیشک تم بہت ہی عجیب و غریب چیز لائی
ہو۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ عمران کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری
ماں حنہ بدکار عورت تھی تو پھر تیرے ہاں یہ بچہ کہاں سے ہو گیا۔(خازن،
مریم، تحت الآیۃ: 27،28)
اس وقت حضرت عیسیٰ
علیہ السلام نے اپنی ماں کی برأت کی گواہی دی اور فرمایا جسے اللہ پاک نے قرآن مجید
میں یوں بیان فرمایا:قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ﳴ اٰتٰىنِیَ
الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّا۔
وَّ
جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ۪-وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ
الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا(سورہ
مریم،آیت نمبر 31،30) ترجمۂ کنز الایمان:"بچہ نے فرمایا میں ہوں اللہ کا
بندہ اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی) کیا۔اور اس نے
مجھے مبارک کیا میں کہیں ہوں اور مجھے نماز و زکوٰۃ کی تاکید فرمائی جب تک جیوں"
۔
2.میں
اللہ کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں: اللہ پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قوم بنی
اسرائیل کی طرف بھیجا۔ انہوں نے بنی اسرائیل کی طرف اپنی نبوت اور معجزات کا اعلان
کرتے ہوئے فرمایا جسے قرآن پاک میں کچھ اس طرح ذکر کیا گیا: وَ رَسُوْلًا
اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ
اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ
فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ اُبْرِئُ الْاَ كْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ
اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَۙ-فِیْ
بُیُوْتِكُمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(سورہ آل عمران ،آیت نمبر 49)
ترجمۂ کنز
الایمان:اور رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف یہ فرماتا ہوا کہ میں تمہارے پاس ایک
نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت
بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے
اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سپید داغ والے کو اور میں مُردے جِلاتا
ہوں اللہ کے حکم سے اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر
رکھتے ہو بیشک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو"۔
3.میں
اپنے بعد تمہیں ایک نبی کی خوشخبری سناتا ہوں: حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو نبئ کریم صلی
اللہ علیہِ وآلہ وسلم کے آنے کی بشارت دی۔قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ
اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ
اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ
مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُؕ-فَلَمَّا جَآءَهُمْ
بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(سورہ صف، آیت نمبر 6) ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو
جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے
پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد
تشریف لائیں گے اُن کا نام احمد ہے پھر جب احمد ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف
لائے بولے یہ کھلا جادو ہے"۔
4. ایک
رب کی عبادت کرو اور شرک نہ کرو: حضرت
عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو ایک رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور اس
کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے سے بھی منع فرمایا ۔قرآن مجید میں ہے: لَقَدْ
كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَؕ-وَ
قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ
رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ
الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُؕ-وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ(سورۃالمآئدہ،آیت نمبر72)
ترجمۂ کنز
الایمان:"بیشک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ اللہ وہی مسیح مریم کا بیٹا ہے اور
مسیح نے تو یہ کہا تھا اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب اور تمہارا رب
بیشک جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا
دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں"۔
5.صراط
مستقیم:ایک اور مقام پر حضرت عیسیٰ
علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کر کے فرمایا جسے اللہ تبارک وتعالیٰ نےاس
طرح نقل فرمایا ہے کہ: ”اِنَّ اللہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ
فَاعْبُدُوْہ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْم“(سورہ آل عمران ،آیت نمبر 51) ترجمۂ کنز الایمان: بلا شبہ، اللہ ہی میرا
اور تمہارا پروردگار ہے، تو اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔“
حضرت عیسیٰ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ فرمانا اپنی عَبْدِیَّت یعنی بندہ ہونے کا
اقرار اور اپنی ربوبیت یعنی رب ہونے کا انکار ہے اس میں عیسائیوں کا رد ہے۔ گویا
فرمایا کہ میں اتنی قدرتوں اور علم کے باوجودبھی خدا نہیں بلکہ خدا کا بندہ
ہوں۔
اللہ پاک ہمیں بھی ان تعلیمات پر عمل کرنے کی
توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم ۔
محمد مدثر رضوی عطّاری (درجۂ سادسہ جامعۃ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
اللہ پاک نے
اپنی مخلوق کو تخلیق فرمایا اور پھر انکو مختلف قوموں میں تقسیم فرمایا اور انکی ہدایت اور تربیت کیلئے مختلف انبیاء کرام علیہم السلام
کو بھیجا تاکہ انکو نصیحت فرمائیں اور انکی تربیت فرمائیں ان نصیحتوں کو اللہ پاک
نے قرآن پاک میں ذکر فرمایا چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو نصیحتیں
فرمائی۔آئیے حضرت عیسی علیہ السلام کی قرآنی نصیحتیں پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
(1)اللہ
سے ڈرو : اِذْ
قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ
یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ
مُّؤْمِنِیْنَ(المائدہ112) ترجمۂ کنز العرفان : یاد کروجب حواریوں نے کہا:
اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک دستر خوان
اُتار دے ؟ فرمایا :اللہ سے ڈرو، اگر ایمان رکھتے ہو۔
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ
اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ یہ مراد حاصل ہو جائے۔ بعض مفسرین نے کہا: اس کے
معنیٰ یہ ہیں کہ تمام اُمتوں سے نرالہ سوال کرنے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو یا یہ
معنی ہیں کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کمالِ قدرت پر ایمان رکھتے ہو تو ایسے سوال
نہ کرو جن سے تَرَدُّد کا شبہ گزر سکتا ہوے۔
(2)یہ
سیدھا راستہ ہے: وَ
اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(مریم36)
ترجمۂ کنز العرفان: اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ
میرا اور تمہارارب ہے تو اس کی عبادت کرو۔ یہ سیدھا راستہ ہے۔ تفسیر صراط الجنان: {وَ اِنَّ
اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ:اور
بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے۔} اس آیت
میں مذکور کلام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہے، چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نےفرمایا: بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ میرا اور تمہارارب ہے، اس کے
سوا اور کوئی رب نہیں ، تو تم صرف اسی کی عبادت کرو اور اللہ تعالیٰ کے جو اَحکامات میں نے تم تک پہنچائے یہ ایسا سیدھا راستہ ہے جو
جنت کی طرف لے کر جاتا ہے۔(خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳ / ۲۳۵)
(3)میرا
حکم مانو: وَ
لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ
لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ
اَطِیْعُوْنِ(63)اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ
مُّسْتَقِیْمٌ(64)زخرف ترجمۂ کنز العرفان: اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں لایا تواس نے فرمایا:
میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیاہوں اور میں اس لئے (آیا ہوں ) تاکہ میں تم سے بعض
وہ باتیں بیان کردوں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔
بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تو اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا
راستہ ہے۔
تفسیر صراط الجنان: {وَ لَمَّا
جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ: اور
جب عیسیٰ روشن نشانیاں لایا۔} اس آیت اور
ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام معجزات لے کر آئے تو انہوں نے فرمایا: ’’میں تمہارے پاس نبوت
اور انجیل کے احکام لے کر آیا ہوں تاکہ
تم ان احکام پر عمل کرو اور میں اس لئے آیا ہوں تاکہ میں تم سے توریت کے احکام میں سے وہ تمام باتیں بیان کردوں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو،لہٰذا تم میری مخالفت کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو اَحکام تمہیں پہنچا رہا ہوں ان میں میرا حکم مانو کیونکہ میری
اطاعت حق کی اطاعت ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تو
تم صرف اسی کی عبادت کرو اورا س کی وحدانیّت کا اقرار کرو، یہ سیدھا راستہ ہے کہ
اس پر چلنے والا گمراہ نہیں ہو سکتا۔(جلالین
، الزّخرف ، تحت الآیۃ : ۶۳ - ۶۴ ، ص۴۰۹ ، روح البیان، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۶۳-۶۴، ۸ / ۳۸۵-۳۸۶،
ملتقطاً)
(4)تصدیق
کرنے والا ہوں: وَ
اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ
اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ
مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُؕ-فَلَمَّا جَآءَهُمْ
بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(الصف6) ترجمۂ
کنز العرفان: اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے فرمایا:اے بنی اسرائیل! میں تمہاری
طرف اللہ کا رسول ہوں ، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اس عظیم
رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے پھر جب
وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے توانہوں نے کہا: یہ کھلا جادوہے۔
(5)ہرگز
قیامت میں شک نہ کرنا: وَ
اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِؕ-هٰذَا صِرَاطٌ
مُّسْتَقِیْمٌ (61) ترجمۂ کنز العرفان: اور بیشک عیسیٰ ضرورقیامت کی
ایک خبر ہے تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا اور میری پیروی کرنا۔ یہ سیدھا راستہ ہے۔
تفسیر صراط الجنان: {وَ اِنَّهٗ
لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ: اور بیشک عیسیٰ
ضرورقیامت کی ایک خبر ہے۔} اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ آپ فرما دیں : ’’حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا آسمان سے دوبارہ زمین پر تشریف لانا قیامت کی علامات میں سے ہے،تو اے لوگو! ہرگز قیامت کے آنے میں شک نہ کرنا اور میری ہدایت اور شریعت کی پیروی کرنا، یہ سیدھا راستہ ہے جس
کی میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں ۔(مدارک، الزّخرف، تحت الآیۃ:
۶۱، ص۱۱۰۴،
ملخصاً)
اللہ پاک ہمیں
انبیاء کرام علیھم السلام کی نصیحتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں امین
فخر الحبیب عطار ى (درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
قرآن حکیم
اللہ رب العزت کی طرف سے نازل کردہ فرمودہ ایسی عدیم المثال کتاب مبین ہے جس میں انسان کی دنیاوی
اور اخروی کامیابی کے اصول و ضوابط بیان فرمائے گئے ہیں اس لاریب کتاب کے ذریعے
لوگوں کو صراط مستقیم دکھانے کے لیے اللہ تعالی نے انبیاء صالحین متقین اور اولیاء
کے اوصاف ان کے واقعات ان کی دلفریب نصیحتیں بیان فرمائی انبیاء کی نصیحتوں میں
جناب عیسی کی نصیحتیں بھی شامل ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
1: اللہ تبارک و تعالی سے ڈرنے کے بارے میں نصیحت: آىت مبارکہ ؛ اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى
ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً
مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (112) ترجمۂ کنز الایمان: جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم
کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتارے کہا اللہ سے ڈرو اگر
ایمان رکھتے ہو۔
(2)
اللہ رب العزت کی اطاعت کے بارے میں نصیحت:آىت مبارکہ:وَ
اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(36)
ترجمہ کنزالایمان:اور عیسیٰ نے کہا بیشک
اللہ رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو یہ راہ سیدھی ہے
(3)
حضرت عیسی علیہ السلام کا لوگوں کو اپنی اطاعت کرنے کے بارے میں نصیحت: وَ
لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ
لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ
اَطِیْعُوْنِ(63)اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ
مُّسْتَقِیْمٌ(64) ترجمۂ
کنز الایمان: اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں لایا اس نے فرمایا میں
تمہارے پاس حکمت لے کر آیا اور اس لیے میں تم سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں
تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔ بیشک اللہ میرا رب اور
تمہارا رب تو اسے پوجو یہ سیدھی راہ ہے.
(4)
حواریوں کو مدد کرنے کے بارے مىں نصیحت: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا
اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ
اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ
فَاٰمَنَتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآىٕفَةٌۚ-فَاَیَّدْنَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ(14) ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو دین خدا کے مددگار ہو جیسے عیسیٰ
بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کون ہے جو اللہ کی طرف ہو کر میری مدد کریں حواری
بولے ہم دین خدا کے مددگار ہیں تو بنی اسرائیل سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک
گروہ نے کفر کیا تو ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں پر مدد دی تو غالب ہوگئے۔
اللہ عزوجل کی پاک بارگاہ میں دعا ہے کہ خالق رب
العزت ہمیں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی نصیحتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق
عطا فرمائے۔ امین
ذوالفقار یوسف (درجۂ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
اللہ تعالی نے
مخلوق کی اصلاح کے لیے نبی اولیاء اور رسول بھیجے اور نبیوں کو معجزات اور اولیاء
کرام کو کرامات بھی عطا کی اور نبیوں نے اپنی اپنی قوموں کو نصیحتیں بھی کی ہیں
انبیاء کرام میں سے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام ہیں انہوں نے اپنی قوم کو کئی
جگہ قرآن میں نصیحتیں کی ہیں :
(1)دین
خدا کے مددگار:یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ
مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ
نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ
كَفَرَتْ طَّآىٕفَةٌۚ-فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ
فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْن ترجمۂ کنز الایمان :اے ایمان والو دین خدا کے
مددگار ہو جیسے عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کون ہے جو اللہ کی طرف ہو کر
میری مدد کریں حواری بولے ہم دین خدا کے مددگار ہیں تو بنی اسرائیل سے ایک گروہ ایمان
لایا اور ایک گروہ نے کفر کیا تو ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں پر مدد دی تو
غالب ہوگئ۔ (سورۃ الصف آیت نمبر14)
(2)
سیدھا رستہ:اِنَّ اللّٰهَ
رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ترجمۂ
کنز الایمان :بیشک میرا تمہارا سب کا رب اللہ ہے تو اسی کو پوجو،یہ ہے سیدھا
راستہ۔ (سورۃ مریم آیت نمبر 36)
(3)رزق
دے؛قَالَ
عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ
السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَۚ-وَ
ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(114) ترجمۂ کنز العرفان:عیسیٰ بن مریم نے عرض کی: اے اللہ !
اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اُتار دے جو ہمارے لئے اور ہمارے بعد میں
آنے والوں کے لئے عید اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے اور ہمیں رزق عطا فرما
اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔(سورۃ مائدہ آیت نمبر 114)
(4)غیبوں
کو خوب جاننے والا :وَ
اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ
اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ
لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْۗ-بِحَقٍّ ﳳ-اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ
عَلِمْتَهٗؕ-تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَؕ-اِنَّكَ
اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ
ترجمۂ کنز الایمان: اور جب اللہ فرمائے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں
سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنالو اللہ کے سوا عرض کرے گا پاکی
ہے تجھے مجھے روا نہیں کہ وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہونچتی اگر میں نے ایسا کہا
ہو تو ضرور تجھے معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو
تیرے علم میں ہے بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا خوب جاننے والا۔(سورۃ مائدہ آیت نمبر
116)
(5)
اللہ سے ڈرو:اِذْ قَالَ
الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ
عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ترجمۂ
کنز العرفان:یاد کروجب حواریوں نے کہا: اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے
گا کہ ہم پر آسمان سے ایک دستر خوان اُتار دے ؟ فرمایا :اللہ سے ڈرو، اگر ایمان
رکھتے ہو۔ (سورۃ مائدہ آیت نمبر 112)
محمد مبشر عطاری (درجۂ ثانیہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور،پاکستان)
اللہ تعالی نے
بندوں کی اصلاح کے لیے دنیا میں انبیاء کرام بھیجے اور انبیاء کرام کو صفات اور
معجزات بھی عطا فرمائے اور القاب بھی عطا فرمائے کسی نبی کو کلیم اللہ کا لقب کسی
کا روح اللہ کا لقب عطا فرمایا اور انبیاء کے ذریعے لوگوں نصیحتیں بھی فرمائی ان
انبیاء میں سے حضرت عیسی علیہ السلام بھی ہیں ان کی نصیحتیں قران پاک میں بھی
موجود ہیں۔ آئیے ان کی نصیحتیں پڑھتے ہیں:
(1)
وَ
لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ
لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ
اَطِیْعُوْنِ۔ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ
وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ (سورت الزخرف آیت نمبر 63..64) ترجمۂ کنز الایمان اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں
لایا اس نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا اور اس لیے میں تم سے بیان کردوں
بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔ بیشک
اللہ میرا رب اور تمہارا رب تو اسے پوجو یہ سیدھی راہ ہے۔
(2)
وَ
اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ (سورت مریم آیت نمبر 36) ترجمۂ کنز الایمان اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ
رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو یہ راہ سیدھی ہے۔
(3)
اِذْ
قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ
یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ
مُّؤْمِنِیْنَ (سورت المائدہ آیت
نمبر 112 ) ترجمۂ کنز الایمان جب حواریوں
نے کہا اے عیسیٰ بن مریم کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان
اُتارے کہا اللہ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
(4)
اِنَّ
اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ (سورت آل عمران آیت نمبر 51) ترجمۂ کنز الایمان:
بیشک میرا تمہارا سب کا رب اللہ ہے تو اسی کو پوجو،یہ ہے سیدھا راستہ۔
(5)
فَلَمَّاۤ
اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-قَالَ
الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِۚ-اٰمَنَّا بِاللّٰهِۚ-وَ اشْهَدْ بِاَنَّا
مُسْلِمُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ
وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ (سورت آل عمران آیت نمبر 52.53) ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفر
پایا بولا کون میرے مددگار ہوتے ہیں اللہ کی طرف، حَواریوں نے کہا ہم دینِ خدا کے
مددگار ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے، اور آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اے رب
ہمارے ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے اتارا اور رسول کے تابع ہوئے تو ہمیں حق پر
گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔
اللہ تعالیٰ
سے دعا ہے کہ وہ ہمیں انبیاء کرام علیھم السّلام کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے آمین
محمد شاہ زیب سلیم عطاری (درجۂ
خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
انبیائے کرام
علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ ، ان کے احوال واقعات کا بیان قرآن مجید فرقان حمید
کا اہم ترین حصہ ہے۔ اللہ عز و جل نے اپنے حبیب لبیب کو بھی انبیائے کرام علیہ
اسلام کا ذکر فرمانے کا حکم دیا تا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر حضور صلی
اللہ علیہ وسلم کی سنت ہو جائے اور یہ ذکر سن کر لوگ ان نفوس قدسیہ کی پاک خصلتوں
سے نیکیوں کا ذوق وشوق حاصل کریں۔ قرآن کریم میں انبیائے کرام علیہم السلام کے
تصرف و اختیار اور معجزات و کمالات کا بیان ہے جس سے کفار کے باطل نظریات کار د
ہوتا ہے نیز ثابت ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام بے مثل بحر میں ان کی طاقت
و قدرت اور شان و عظمت عام انسانوں سے کہیں بلند و بالا ہے۔ اور ان انبیاء کرام علیہم
السلام میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ہیں۔ اللہ عزوجل نے حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کا ذکر قرآن مجید میں کئی مقامات پر فرمایا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام
کی نصیحتوں کا ذکر فرمایا ہے
(1)
بندگی کرنا :اللہ عزوجل قرآن پاک میں
ارشاد فرماتا ہے :وَ
اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌترجمہ کنز الایمان:اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ
رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو یہ راہ سیدھی ہے۔
وَ إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَ رَبُّكُمْ اور بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے۔ اس آیت میں
مذکور کلام حضرت عیسیٰ عَلَيْہ الصَّلوةُ وَالسَّلَام کا ہے، چنانچہ آپ عَلَيْهِ
الصَّلُوةُ وَالسَّلَام نے فرمایا: بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ میرا اور تمہارا رب ہے،
اس کے سوا اور کوئی رب نہیں ، تو تم صرف اسی کی عبادت کرو اور اللہ تعالیٰ کے جو
احکامات میں نے تم تک پہنچائے یہ ایسا سیدھا راستہ ہے جو جنت کی طرف لے کر
جاتا ہے۔(پاره 16 سورت مریم آیت 36 تفسير صراط الجنان )
2)سیدھی
راہ:اللہ عزوجل قرآن کریم میں
ارشاد فرماتا ہے :وَ
لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ
لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ
اَطِیْعُوْنِ(63)اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ
مُّسْتَقِیْمٌ
ترجمۂ کنز
الایمان:اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں لایا اس نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا
اور اس لیے میں تم سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ
سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔ بیشک اللہ میرا رب اور تمہارا رب تو اسے پوجو یہ سیدھی
راہ ہے۔(پارہ 25 سورت الزخرف آیت 63 64 )
3)اللہ
عزوجل سے ڈرو :اِذْ
قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ
یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ
كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ترجمۂ کنز
الایمان:جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر
آسمان سے ایک خوان اُتارے کہا اللہ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
بعض مفسرین نے
کہا: اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ تمام اُمتوں سے نرالا سوال کرنے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ
سے ڈرو یا یہ معنی ہیں کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کمالِ قدرت پر ایمان رکھتے ہو
تو ایسے سوال نہ کرو جن سے تَرَدُّد کا شبہ گزر سکتا ہو۔(پارہ 7 سورت المائدہ آیت
112 تفسیر صراط الجنان )
حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کی نصیحت اور توریت کی تصدیق :اَنِّیْ قَدْ
جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ۔ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ
كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ
اُبْرِئُ الْاَ كْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ اُنَبِّئُكُمْ
بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَۙ-فِیْ بُیُوْتِكُمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ
لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ. وَ مُصَدِّقًا لِّمَا
بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ
عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ۫-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ
ترجمہ کنزالایمان
:میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے
پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے
اللہ کے حکم سے اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سپید داغ والے کو اور میں
مُردے جِلاتا ہوں اللہ کے حکم سے اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے
گھروں میں جمع کر رکھتے ہو بیشک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان
رکھتے ہو۔اور تصدیق کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی اور اس لئے کہ حلال
کروں تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی
طرف سے نشانی لایا ہوں ، تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔(پارہ 3 سورت آل عمران
آیت 49 تا 50)
اللہ
عزوجل کو پوجو :اللہ عزوجل قرآن کریم
میں ارشاد فرماتا ہے :اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا
صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ترجمۂ کنز
الایمان:بیشک میرا تمہارا سب کا رب اللہ ہے تو اسی کو پوجو،یہ ہے سیدھا راستہ۔
{اِنَّ
اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ: بیشک
اللہ میرااور تمہارا سب کا رب ہے۔} حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا
یہ فرمانا اپنی عَبْدِیَّت یعنی بندہ ہونے کا اقرار اور اپنی ربوبیت یعنی رب ہونے
کا انکار ہے اس میں عیسائیوں کا رد ہے۔ گویا فرمایا کہ میں اتنی قدرتوں اور
علم کے باوجودبھی خدا نہیں بلکہ خدا کا بندہ ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء واولیاء
کے معجزات یا کرامات ماننا شرک نہیں اوراس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم نے انہیں رب
مان لیا۔ اس سے مسلمانوں کو مشرک کہنے والوں کو عبرت پکڑنی چاہیے۔(پارہ 3 سورت آل
عمران آیت 51 تفسیر صراط الجنان)
ذیشان علی (درجۂ رابعہ مرکزی جامعۃُ المدینہ
فیضانِ مدینہ راولپنڈی ، پاکستان)
لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَ قَفَّیۡنَا
مِنۡۢ بَعۡدِہٖ بِالرُّسُلِ ۫ وَ اٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ
وَ اَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ اَفَکُلَّمَا جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا
تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُکُمُ اسۡتَکۡبَرۡتُمۡ ۚ فَفَرِیۡقًا
کَذَّبۡتُمۡ ۫ وَ فَرِیۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴿۸۷﴾بقرہ ترجمۂ
کنز الایمان:اور بے شک ہم نے موسٰی کو کتاب عطا کی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے
اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھلی نشانیاں عطا فرمائیں اور پاک روح سے اس کی مدد کی
تو کیا جب تمہارے پاس کوئی رسول وہ لے کر آئے جو تمہارے نفس کی خواہش نہیں تکبر
کرتے ہوتو ان میں ایک گروہ کو تم جھٹلاتے اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہو۔
وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ
وَ لِاُحِلَّ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ حُرِّمَ عَلَیۡکُمۡ وَ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ
مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ
اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۵۰﴾آل عمران اور تصدیق کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت
کی اور اس لئے کہ حلال کروں تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں اور میں
تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں ، تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم
مانو۔
اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ
ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۵۱﴾آل عمران
بیشک میرا تمہارا سب کا رب اللہ ہے تو اسی کو پوجو،یہ ہے سیدھا راستہ۔
اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ
﴿۶۰﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اے سننے
والے یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو شک والوں میں نہ ہونا۔
قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ
یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ہَلۡ یَسۡتَطِیۡعُ
رَبُّکَ اَنۡ یُّنَزِّلَ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ ؕ قَالَ اتَّقُوا
اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾مائده۔ ترجمۂ
کنز الایمان:جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم
پر آسمان سے ایک خوان اُتارے کہا اللہ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
قَالَ اللّٰہُ اِنِّیۡ مُنَزِّلُہَا عَلَیۡکُمۡ ۚ فَمَنۡ
یَّکۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡکُمۡ فَاِنِّیۡۤ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُہٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۱۵﴾ مائده ترجمۂ کنز الایمان:اللہ
نے فرمایا کہ میں اسے تم پر اُتارتا ہوں پھر اب جو تم میں کفر کرے گا تو بیشک میں
اسے وہ عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں کسی پر نہ کروں گا۔
قَالَ الله: اللہ نے فرمایا۔ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی درخواست کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ میں وہ دسترخوان
اتارتا ہوں لیکن اس کے نازل ہونے کے بعدجو کفر کرے گا تو بیشک میں اسے وہ عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں
کسی کو نہ دوں گا،چنانچہ آسمان سے خوان نازل ہوا ،اس کے بعد جنہوں نے ان میں سے
کفر کیا وہ صورتیں مَسخ کرکے خنزیر بنادیئے گئے اور تین روز میں سب ہلاک ہوگئے۔(
تفسیر بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ۲ / ۶۶)
حضرت سیدنا عیسی
علیہ السلام فرماتے ہیں احسان وہ نہیں کہ تو بھلائی کے عوض بھلائی کر دے یہ تو
بدلہ چکانا ہے احسان یہ ہے کہ جو تیرے ساتھ برائی کریں تو ان کے ساتھ بھلائی کر۔
(تفسیر کبیر سورہ آل عمرآن تحت آیت134)
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ
تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْؕ-فَلَمَّا
زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ
الْفٰسِقِیْنَ(5سورة الصف) ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی
قوم سے کہا اے میری قوم مجھے کیوں ستاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف
اللہ کا رسول ہوں پھر جب وہ ٹیڑھے ہوئے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردئیے اور فاسق
لوگوں کو اللہ راہ نہیں دیتا۔
یعنی اے حبیب
! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اپنی قوم کے سامنے وہ
واقعہ بیان کریں جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا، اے میری قوم! آیات کا انکار
کرکے اور میرے اوپر جھوٹی تہمتیں لگا کر
مجھے کیوں ستاتے ہو حالانکہ تم یقین کے
ساتھ جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور رسول کی تعظیم واجب ، ان کی توقیر اور
احترام لازم ہے اور انہیں ایذا دینا سخت
حرام اور انتہا درجہ کی بدنصیبی ہے۔ پھر جب وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ایذا دے کر راہ ِحق
سے مُنْحَرِف اورٹیڑھے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اِتّباعِ حق کی توفیق سے محروم کرکے ان کے دل ٹیڑھے
کردئیے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
جو اس کے علم میں نافرمان ہیں ( تفسير
صراط الجنان تحت الآيۃ)
وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ
مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ
اَحْمَدُؕ-فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(سورة الصف6) ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو جب
عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی
کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف
لائیں گے اُن کا نام احمد ہے پھر جب احمد ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے
بولے یہ کھلا جادو ہے۔
امیر حمزہ (درجۂ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ
مدینہ سیالکوٹ ، پاکستان)
آپ علیہ
السّلام کا مبارک نام "عیسٰی" اور آپ کا نسب حضرت داؤد علیہ السّلام سے
جا ملتا ہے حضرت عیسٰی علیہ السّلام الله تعالی کے مقبول بندے،برگزیدہ نبی اور
اولوالعزم یعنی عزت ہمت والے رسول ہیں آپ علیہ السّلام نے خیرخواہی کا جزبہ رکھتے
ہوئے اپنی قوم کو مختلف نصیحتیں فرمائیں
جن میں سے کچھ پڑھتے ہیں۔
1.2..خوفِ
خُدا اختیار کرنے اور اپنی اطاعت کرنے کی نصیحت:حضرت عیسٰی علیہ السّلام نے لوگوں کو الله پاک سے ڈرنے کی
نصیحت فرمائ اور بحیثیت نبی اپنی اطاعت کی نصیحت فرمائ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے فَاتَّقُوا
اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ (پ3،آل
عمران50)ترجمۂ کنزالعرفان: اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
3....الله
پاک کی عبادت کرو اور یہی سیدھا رستہ ہے۔حضرتِ عیسٰی علیہ السّلام نے اپنی قوم کو معبودِ برحق، الله ربُّ العزت کی
عبادت کرنے کی نصیحت فرمائی اور سمجھایا کہ یہی سیدھا راستہ ہے اس پر چلنے سے تم
گراہ نہیں ہو سکتے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:-اِنَّ اللّٰهَ
رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ[پ3،آل عمران51]ترجمۂ کنز العرفان:- بیشک اللہ
میرااور تمہارا سب کا رب ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔
4....الله
جلّ شانہ سب کا ربّ ہے۔آپ علیہ
السّلام نے شرک کی جڑ کاٹتے ہوئے اپنی قوم
کو صریح الفاظ کیساتھ نصیحت فرمائی کہ ربوبیت
صرف اللّٰه پاک کیساتھ متّصف ہے الله پاک ہی سب کا ربّ ہے جیسا کہ قرآن پاک میں اِنَّ
اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ[پ3،آل
عمران51]ترجمۂ کنز العرفان: بیشک اللہ میرااور تمہارا سب کا رب ہےالله پاک ہمیں
انبیاء کرام علیھم السّلام کے مبارک احوالِ زندگی پڑھنے اور ان کی تعلیمات پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النّبیّین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
محمد عارف خان عطاری (درجۂ خامسہ جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ
لاہور، پاکستان)
اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ
اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُۙ-اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ
وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ(45) ترجمۂ
کنز الایمان :اور یاد کرو جب فرشتو ں نے مریم سے کہا، اے مریم اللہ تجھے بشارت دیتا
ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی جس کا نام ہے مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا رُو دار ہوگا دنیا
اور آخرت میں اور قرب والا۔
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ
السَّلَام کے بارے میں فرمایا کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلمہ ہیں ، نام مبارک عیسیٰ ہے، لقب مسیح ہے
کیونکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مَس کرکے یعنی چھو کر شفا دیتے تھے، دنیا و آخرت میں عزت و وجاہت والے ہیں
اور رب کریم عَزَّوَجَلَّ کے مقرب بندے ہیں۔ اس آیت میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نسبت باپ کی بجائے ماں کی طرف کی گئی ،اس سے معلوم ہوا
کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ
السَّلَام بغیر باپ کے صر ف ماں سے پیدا ہوئے ہیں کیونکہ اگر آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کوئی باپ ہوتاتو یہاں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی نسبت ماں کی طرف نہ ہوتی بلکہ باپ کی طرف ہوتی ۔جیسا کہ قرآن مجید
میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ
اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ
اللّٰهِ(احزاب: ۵)ترجمۂ کنزُالعِرفان:لوگوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک
انصاف کے زیادہ قریب ہے۔
وَ قَفَّیْنَا
عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ
مِنَ التَّوْرٰىةِ۪-وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌۙ-وَّ مُصَدِّقًا
لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ(46)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم ان نبیوں کے پیچھے ان
کے نشانِ قدم پر عیسیٰ بن مریم کو لائے تصدیق کرتا ہوا توریت کی جو اس سے پہلے تھی
اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور
ہے اور تصدیق فرماتی ہے توریت کی کہ اس سے پہلی تھی اور ہدایت اور نصیحت پرہیزگاروں کو۔
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام توریت کی تصدیق فرمانے والے تھے کہ تورات اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نازل
کردہ کتاب ہے اور توریت کے منسوخ ہونے سے پہلے اس پر عمل واجب تھا، حضرت عیسیٰ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت میں توریت کے بعض احکام منسوخ کردئیے
گئے۔ اس کے بعد انجیل کی شان بیان فرمائی گئی کہ اس میں ہدایت اور نور تھا اور ہدایت اور نصیحت تھی ۔ پہلی جگہ ہدایت سے مراد ضلالت و جہالت سے بچانے کے لیے رہنمائی
کرنا ہے اور دوسری جگہ ہدایت سے سیدُ
الانبیاء، حبیب کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف
آوری کی بشارت مراد ہے جو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
کی نبوت کی طرف لوگوں کی رہنمائی کا سبب ہے۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۶، ۱ / ۵۰۰)
اِذْ
قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ
یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ
مُّؤْمِنِیْنَ(112) ترجمۂ کنز الایمان:جب
حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک
خوان اُتارے کہا اللہ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
حواریوں نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام سے عرض کی کہ کیا آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا رب عَزَّوَجَلَّ ہم پر آسمان سے نعمتوں سے بھرپور
دسترخوان اتارے گا۔ ان کی مراد یہ تھی کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بارے میں آپ کی دعا
قبول فرمائے گا؟ یہ مراد نہیں تھی کہ کیا آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ایسا کرسکتا ہے یا
نہیں ؟ کیونکہ وہ حضرات اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان رکھتے تھے۔ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ
اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ یہ مراد حاصل ہو جائے۔ بعض مفسرین نے کہا: اس کے
معنیٰ یہ ہیں کہ تمام اُمتوں سے نرالا سوال کرنے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو یا یہ
معنی ہیں کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کمالِ قدرت پر ایمان رکھتے ہو تو ایسے سوال
نہ کرو جن سے تَرَدُّد کا شبہ گزر سکتا ہو۔( تفسیر قرطبی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۳ / ۲۲۶،
الجزء السادس، خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲،
۱ / ۵۳۹، ملتقطاً)
وَ
اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(36) ترجمۂ کنز الایمان:اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ
رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو یہ راہ سیدھی ہے۔
چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نےفرمایا: بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ میرا اور تمہارارب ہے، اس کے
سوا اور کوئی رب نہیں ، تو تم صرف اسی کی عبادت کرو اور اللہ تعالیٰ کے جو اَحکامات میں نے تم تک پہنچائے یہ ایسا سیدھا راستہ ہے جو
جنت کی طرف لے کر جاتا ہے۔(خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳ / ۲۳۵) وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ
فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(61) ترجمۂ کنز الایمان:اور بیشک عیسیٰ قیامت کی
خبر ہے تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا اور میرے پیرو ہونا یہ سیدھی راہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ آپ فرما دیں : ’’حضرت عیسیٰ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا آسمان سے دوبارہ زمین پر تشریف لانا قیامت کی
علامات میں سے ہے،تو اے لوگو! ہرگز قیامت
کے آنے میں شک نہ کرنا اور میری ہدایت اور شریعت کی پیروی کرنا، یہ سیدھا راستہ ہے جس
کی میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں ۔(مدارک، الزّخرف، تحت الآیۃ:
۶۱، ص۱۱۰۴،
ملخصاً)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قیامت کے قریب آسمان سے زمین پر تشریف لانا برحق ہے کیونکہ
ان کا آنا قیامت کی علامت ہے، لیکن یہ یاد رہے آپ کا وہ آناسیّد المرسَلین
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کا نبی بن کر نہیں بلکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے امتی ہونے کی حیثیت سے ہو گا۔
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اس ذات کی قسم !جس کے قبضے میں میری جان ہے،قریب ہے کہ تم میں حضرت ابنِ مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نازل ہوں گے جو انصاف پسند
ہوں گے ،صلیب کو توڑیں گے،خنزیر کو قتل کریں گے،جِزیَہ مَوقوف کر دیں گے اور مال اتنا بڑھ جائے گا کہ لینے والا کوئی
نہ ہو گا۔( بخاری، کتاب البیوع، باب قتل الخنزیر، ۲ / ۵۰، الحدیث: ۲۲۲۲)
علی زین (دورۂ حدیث مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن
لاہور، پاکستان)
حضرت عیسی روح
اللہ علی نبینا علیہ السلام اللہ تبارک تعالیٰ کے پیارے نبی اور رسول ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مرتبہ آپ کا ذکر خیر فرمایا ۔اللہ
تبارک تعالیٰ نے آپ کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا آپ بنی اسرائیل پر مبعوث ہونے والے
آخری نبی ہیں آپ نے اپنی قوم کو بہت ساری نصیحتیں فرمائی نیکی کا حکم دیا اور برائی
سے منع کیا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کا درس دیا جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی بہت
سی جگہوں پر آیا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ
السلام نے اللہ تعالیٰ کی بندگی کا حکم دیتے تھے جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تبارک
تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
" وَ
اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(سورہ مریم آیت نمبر 36) ترجمہ کنز الایمان: اور
عیسیٰ نے کہا بے شک اللہ رب ہے میرا اور تمہارا اس کی بندگی کرو یہ راہ سیدھی ہے۔
اس کے علاوہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے
اپنی قوم کو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آمد کی خبر
دی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نےقرآن مجید میں اسطرح فرمایا ہے: وَ اِذْ قَالَ
عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ
مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ
مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُؕ-فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا
هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(پارہ نمبر
28سورہ الصف آیت نمبر 6) ترجمہ کنزالعرفان: اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا
اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق
کرتا ہوا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے اُن کا نام
احمد ہے پھر جب احمد ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے بولے یہ کھلا جادو
ہے۔
اس مذکورہ آیت
مبارکہ میں حضور علیہ السلام کی تشریف آوری کی خبر دینے کے ساتھ ساتھ اپنے نبی
ہونے کی بھی تصدیق فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی آسمانی کتاب کی بھی تصدیق فرمائی ۔ اور
اس آیت مبارکہ میں ایک اور اہم بات واضح ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے
اپنے بعد فقط حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی خبر دی اس سے یہ بھی
معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی اللہ عزوجل کے آخری نبی اور رسول ہیں
قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کا اپنی قوم کو نصیحت کرنے کے بارے میں ذکر آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ
السلام نے اپنی قوم کو اللہ تبارک و تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا جیسا کہ اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں
ارشاد فرمایا:
وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ
جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ
فِیْهِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ(پارہ نمبر 25 سورہ زخرف آیت نمبر 63) ترجمہ کنزالعرفان:
اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں لایا اس نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا اور
اس لیے میں تم سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ سے
ڈرو اور میرا حکم مانو۔
اور حضرت عیسیٰ
علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیا جیسا کہ قرآن کریم میں
ارشاد ہوتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ
هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(پارہ نمبر25 سورہ زخرف آیت نمبر 64) ترجمہ
کنزالعرفان: بیشک اللہ میرا رب اور تمہارا
رب تو اسے پوجو یہ سیدھی راہ ہے۔
اللہ تبارک تعالیٰ ہمیں انبیاء کی تعظیم
کرنے اور ان کے تمام احکامات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطافرمائے۔
شہاب الدین عطّاری (درجۂ رابعہ جامعۃُ المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ، پاکستان)
دنیائے عالم میں
انسانوں کی تربیت ان کی رشد و ہدایت کے لیے
، کفر و ضلالت سے نکالنے کے لیے اللہ عزوجل اپنے محبوب بندوں کو بھیجتا ہے روش
نشانیوں کے ساتھ ۔ ان روشن نشانیوں میں سے
ایک روشن نشانی وعظ و نصیحت بھی ہوتی ہے ۔ نصیحت کے معنی ہیں " خیر خواہی
" کے ہیں ۔ چونکہ انبیاء کرام علیہم السلام سب سے بڑھ کر لوگوں کے خیر خواہ
ہوتے ہیں یہ قول و فعل اور اپنی ہر محبوب ادا سے لوگوں کو نصحیت فرماتے ہیں ان کی
خیر خواہی کا سامان مہیا کرتے ہیں ۔ ان کی مبارک نصیحتوں سے جوکہ پر مغز ،دل سوز ،
دل نظیر و دل پذیر ہوتی ہیں ،اللہ عزوجل لوگوں کی اصلاح فرماتا ہے تاکہ لوگ ابطالِ
باطل شیطانی رستوں سے نکل کر راہِ خدا کی جانب سفر کرتے ہوئے منزلِ مقصود تک پہنچ
جائیں۔ ( امیر اہلسنت کی 786 نصیحتیں، صفحہ نمبر 5 )
اللہ عزوجل کے
محبوب اور اولو العزم انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ
والسلام بھی ہیں جن کو اللہ عزوجل نے بے شمار انعامات و اوصاف و کمالات سے نوازا ۔
آپ کو روشن نشانیاں عطا فرمائیں اور آپ کو کلمتہ اللہ ، روح اللہ جیسے مبارک نام
سے قرآن پاک میں یاد فرمایا ۔ آپ کی قوم افراط و تفریط کا شکار تھی ناجانے کیسے
غلط ملط عقائد کے حامل لوگ تھے ۔ آپ نے اللہ عزوجل کی عطا کردہ روشن نشانیوں سے
انہیں راہے حق پر لانے کی کوشش کی جیسے انہیں معجزات دیکھانا اور انہیں کتاب اللہ
کے احکامات بتانا وغیرہا ۔ انہی میں سے ایک کڑی وعظ و نصیحت کی بھی ہے جو آپ نے
مختلف مقامات میں اپنی قوم کو نصحیت کرتے ہوئے فرمایا ۔ آئیے قرآن مجید فرقان حمید
کی روشنی میں آپ کی قرآنی نصیحتوں کو جانتے ہیں ۔
حضرت عیسیٰ علیہ
الصلٰوۃ والسلام کی قرآنی نصیحتیں :
1:
قوم میں موجود اختلاف کو ختم کرتے ہوئے آپ کا نصیحت فرمانا: ایک موقع پر آپ نے بنی اسرائیل کو یوں نصیحت فرمائی کہ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ
قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ
تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْن ترجمہ کنزالایمان: اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں لایا اس نے فرمایا میں
تمہارے پاس حکمت لے کر آیا اور اس لیے میں تم سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں
تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔ ( پارہ 25 ، سورہ الزخرف ،
آیت نمبر 63)
2،3:
اللہ عزوجل میرا رب ہے اسی کی عبادت کرو: اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ
رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ترجمہ کنزالایمان: بیشک اللہ میرا رب اور تمہارا رب تو اسے پوجو یہ سیدھی راہ ہے۔ ( پارہ 25 ،
سورہ الزخرف ، آیت نمبر 64)
اسی طرح ایک
موقع پر آپ نے اپنی عبدیت کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : اِنَّ اللّٰهَ
رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ترجمۂ کنز الایمان: بیشک میرا تمہارا سب کا رب
اللہ ہے تو اسی کو پوجو،یہ ہے سیدھا راستہ۔ ( سورہ ال عمران ، آیت نمبر 51)
تفسیر صراط
الجنان میں اسی آیت کریمہ کے تحت مفتی اہل سنت فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ فرمانا اپنی عَبْدِیَّت یعنی بندہ ہونے کا اقرار اور
اپنی ربوبیت یعنی رب ہونے کا انکار ہے اس میں عیسائیوں کا رد ہے۔ گویا فرمایا
کہ میں اتنی قدرتوں اور علم کے باوجودبھی
خدا نہیں بلکہ خدا کا بندہ ہوں۔
4
:اللہ عزوجل سے ڈرو : خوفِ خدا ایک
ایسی نعمت ہے جو دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے ۔ آپ نے اپنی قوم کو ایمان کی
دعوت دیتے ہوئے ، ان کے عقائد باطلہ کا رد کرتے ہوئے کئی مقامات پر تنبیہ کرتے
ہوئے ، ڈراتے ہوئے فرمایا اے بنی اسرائیل اللہ تبارک و تعالیٰ سے ڈرو ۔ خوف خدا کی
نعمت سے ہی کامیاب ہوتا ہے چنانچہ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا : فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْن ترجمہ کنزالایمان: تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو (سورہ ال
عمران ، آیت نمبر 50)
آپ کی مبارک
اس ادا سے واضح، اظہر من الشمس ہے کہ آپ نے ان کی خیر خواہی کا ہر طرح سے سامان مہیا
کیا ۔ اپنے قول و فعل اور دیگر روشن نشانیوں سے ۔ انہیں حق کی جانب لانے میں وعظ و
نصیحت بھی فرمائی۔ جن میں سے چند خوش نصیب
ایمان بھی لائے جنہیں حواری کہا جاتا ہے ۔ معلوم ہوا مہ وعظ و نصیحت ایک ایسا موثر
طریقہ ہے جس سے بندا ایمان جیسی لازوال دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے ۔ ہمیں بھی
چاہیے کہ خوب علم دین حاصل کریں عالِم دین بنیں ، صحیح العقیدہ سنی یعنی عقائدِ
اہلسنت کا علم حاصل کریں جس سے بندہ صحیح العقیدہ سنی مسلمان بنتا ہے ۔ انبیاء
کرام علیہم السلام کی مبارک سیرت کا مطالعہ کریں ۔ قرآن مجید فرقان حمید کی آسان
فہم تفسیر صراط الجنان کا مطالعہ کریں تاکہ قرآن پاک میں جو نصیحتوں اور قصص کے نایاب
گوہر موتی ہیں، ان سے فائدہ حاصل کیا جا سکے ۔ فطرتی طور پر اپنے سے بڑے اور نیک سیرت
شخص سے بندہ کہتا ہے کہ مجھے نصیحت کر دیجیے ۔
تو آئیے ہم قرآن مجید میں جو نصیحتیں کی گئی ہیں
ان کا مطالعہ کرتے ہیں جیسے انبیا کرام علیہم السلام کی نصیحتیں اپنی قوموں کو اور
سورہ لقمان میں حضرت لقمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنے بیٹے کو نصیحت ۔ ان
شاءاللہ عزوجل ان کے مطالعہ سے اور پھر عمل سے کامیابیاں حاصل ہوں گئیں ۔
دعا ہے کہ
اللہ عزوجل ہمیں دین کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے اور خوب نصیحتوں پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے ۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔
محمد عرفان عطّاری (درجۂ رابعہ جامعۃُ المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ، پاکستان)
نصیحت کا عام معنی خیر خواہی ہے
خواہ قول کی صورت میں ہو یا عمل کی صورت میں وعظ ، اسی قولی نصیحت کی ایک صورت ہے
جس سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کو پسندیدہ چین کی طرف بلائے اور خطرے سے بچائے ،
اچھے عمل کی طرف راغب کرے اور برے عمل کے انجام سے ڈرائے۔ جسمانی صحت کی خرابی میں
جیسے دوا کی ضرورت ہوتی ہے ، اسی طرح دینی، اخلاقی، روحانی اور معاشرتی زندگی کی
خرابی سے نجات یا حفاظت کے لئے نصیحت کی حاجت ہوتی ہے۔ نصیحت کی تاثیر کے لئے ناصح
(یعنی جس کو نصیت کی جائے) کے دل میں شفقت اور ہمدردی کا ہونا ضروری ہے پھر نصیحت
کی نوعیت فایدہ دے گی ۔ اب آئیے سب سے
پہلے حضرت عیسی کا مختصر تعارف بیان کیا جاتا ہے۔ حضرت عیسی کا نسب حضرت داود علیہ السلام سے جا ملتا ہے ۔ آپکی کنیت ابن مریم اور مسیح، کلمة اللہ اور روح
الله ہیں۔ آپ علیہ سلام کا رنگ سرخ ، بال گھنگھرالے تھے اور آپ کا سینہ چوڑا
تھا۔ (سیرت الانبیاء 1793-14)
اب قرآن پاک کی
روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چند نصیحتیں بیان کی جاتی ہیں جو آپ نے نے
اپنی قوم کو کی :
سیدھا
راستہ : اِنَّ اللّٰهَ
رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ترجمۂ
کنز الایمان: بیشک میرا تمہارا سب کا رب اللہ ہے تو اسی کو پوجو،یہ ہے سیدھا
راستہ۔( سورہ ال عمران ، آیت نمبر 51)
اللہ
تعالیٰ سے ڈرو: قَالَ
اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ترجمۂ کنز الایمان:
کہا اللہ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔ (
سورہ مائدہ آیت نمبر 112)
اس میں ہمارے لیے نصیحت کا پہلو یہ ہے کہ ہم وتعالی کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں
ایمان جیسی دولت سے مالا مال فرمایا ۔ دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں نصحیت پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
۔
Dawateislami