دعوتِ اسلامی کے شعبہ تعلیم(اسلامی بہنیں) کے زیرِ اہتمام20نومبر 2021ء بروز ہفتہ اورنگی ٹاؤن کابینہ ڈویژن بنگلہ بازار کراچی میں ایک اسکول ٹیچر کے گھر پر محفل نعت کا انعقاد ہوا جس میں ان کے گھر کی خواتین سمیت مقامی اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

مبلغہ دعوت اسلامی نے ’’سنت نکاح‘‘ کے موضوع پر سنتوں بھرا کیا اور مدنی چینل دیکھنے،313بار درود پا ک پڑھنےنیز اجتماع پاک میں شرکت کرنے کا ذہن دیا۔ اس پر ٹیچر اور دیگر اسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتیں پیش کیں ۔


دعوت اسلامی کے شعبہ شب وروز(اسلامی بہنیں) کے زیر اہتمام گزشتہ دونوں ساؤتھ افریقہ میں ذمہ دار اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہوا جس میں کابینہ سطح کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مدنی مشورے میں ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شعبہ شب وروز کا تعارف کرواتے ہوئے اس شعبہ کی اہمیت بتائی نیز مدنی خبریں بنانے کا طریقہ اور ماہنامہ فیضان مدینہ کا بھی تعارف پیش کیا ۔


دعوت اسلامی کے شعبہ علاقائی دورہ(اسلامی بہنیں ) کے زیر اہتمام گزشتہ دونوں ساؤتھ افریقہ کے مختلف علاقوں ویلکم، ڈربن، پیٹرمیزبرگ اور جوہانسبرگ میں نیکی کی دعوت کا سلسلہ ہوا۔

ذمہ دار اسلامی بہنوں نے مقامی اسلامی بہنوں کے گھر گھر جا کر نیکی کی دعوت دی جس میں اسلامی بہنوں کو ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کی دعوت دی ۔


دعوت اسلامی کے شعبہ اصلاح اعمال(اسلامی بہنیں) کے زیر اہتمام اکتوبر 2021ء میں ساؤتھ افریقہ میں ہونے والے دینی کاموں کی ماہانہ کارکردگی ملاحظہ فرمائیں :

تقسیم ہونے والے نیک اعمال کے رسائل کی تعداد: 636

وصول ہونے والے نیک اعمال کے رسائل کی تعداد:608

ماہ میں 14،15 روزے رکھنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد: 45

ماہ میں 7،8 روزے رکھنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد: 92

ماہ میں 4،5 روزے رکھنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد: 412

رسالہ خاموش شہزادہ پڑھنے سننے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:824

یوم قفل مدینہ منانے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:262


امت مسلمہ کو علم دین سے مستفید کرنے وعلم دین سکھانے کے آسان ذرائع فراہم کرنے کےلئے ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں امیر اہل سنت دَامَتْ بَرْکَاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کسی ایک مدنی رسالے کےمطالعے کی ترغیب ارشاد فرماتے ہیں اور رسالہ پڑھنے /سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازتے ہیں۔

پچھلے ہفتے امیر اہل سنت دَامَتْ بَرْکَاتُہُمُ الْعَالِیَہْ نے رسالہ” لاکھوں نیکیاں اور لاکھوں گناہ“پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی۔

اسی سلسلے میں ساؤتھ افریقہ میں کم وبیش 2ہزار 875 اسلامی بہنوں نے رسالہ”لاکھوں نیکیاں اور لاکھوں گناہ“ پڑھنے /سننے کی سعادت حاصل کی ۔


دعوت اسلامی کے شعبہ اسلامی بہنوں کے مدرسۃ المدینہ کے زیر اہتمام  یوپین یونین ریجن کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کا آن لائن مدنی مشورہ ہوا جس میں رکن عالمی مجلس شعبہ اسلامی بہنوں کے مدرسۃ المدینہ کی ذمہ دار اسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی عملی جدول و کارکردگی کا فالواپ کیا نیزپاکستان میں ذمہ دار اسلامی بہنوں کا سنتوں بھرا اجتماع برائے شعبہ بین الاقوامی امور اور سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کے حوالے سے بات چیت کی۔ 


امیراہل سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی جانب سے عطاکردہ

ہفتہ وار رسالہ

عیب چُھپاؤ جنّت پاؤ

اِس رسالے کی چندخصوصیات:

٭دیدہ زیب ودِلکش سرورق (Title) وڈیزائننگ (Designing) ٭عصرحاضرکے تقاضوں کے پیشِ نظرجدید کمپوزنگ وفارمیشن ٭عبارت کے معانی ومفاہیم سمجھنے کیلئے ’’علاماتِ ترقیم‘‘(Punctuation Marks) کا اہتمام ٭اُردو، عربی اور فارسی عبارتوں کو مختلف رسم الخط (Fonts)میں لکھنے کا اہتمام ٭پڑھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کیلئے عنوانات (Headings) کا قیام ٭بعض جگہ عربی عبارات مع ترجمہ کی شمولیت ٭آیات کے ترجمہ میں کنزالایمان کی شمولیت ٭حسب ضرورت مشکل اَلفاظ پر اِعراب اور بعض پیچیدہ اَلفاظ کے تلفظ بیان کرنے کا اہتمام ٭قرآنی آیات مع ترجمہ ودیگر تمام منقولہ عبارات کے اصل کتب سے تقابل(Tally) کا اہتمام ٭آیات، اَحادیث،توضیحی عبارات، فقہی جزئیات کےحوالوں (References) کا خاص اہتمام ٭ اغلاط کوکم سے کم کرنے کےلئے پورے رسالے کی کئی بار لفظ بہ لفظ پروف ریڈنگ۔

17صفحات پر مشتمل یہ رسالہ2021ءمیں اردو زبان کے1st ایڈیشن میں50ہزار کی تعداد میں پرنٹ ہو چکا ہے۔

مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے18روپے ہدیۃ پر حاصل کیجئے اوردوسرو ں کو بھی ترغیب دلائیے۔

اس رسالے کی PDF دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ بھی کی جاسکتی ہے۔

Download Now


ایصال ثواب  ہمارے اطراف میں رائج ایک عمل خیر ہے جو صدیوں سے سے مختلف طریقوں سے چلتا آ رہا ہے یہاں تک کہ زمانہ رسالت میں بھی صحابہ کرام مختلف طریقوں سے ایصال ثواب فرمایا کرتے تھے ۔

ایصال ثواب کا ثبوت مختلف احادیث سے بھی ملتا ہے چنانچہ بخاری شریف کی ایک حدیث پاک میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا اور میرا گمان ہے کہ اگر وہ کچھ کہتی تو صدقے کا کہتی پس اگر میں انکی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انہیں ثواب پہنچے گا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا " ہاں"

(صحیح البخاری، کتاب الجنائز ،باب موت الفجاة البغۃ،1/468، حديث :1388)

ہمارے زمانے میں مختلف طریقوں سے ایصال ثواب رائج ہے۔ چند طریقے حاضر خدمت ہیں:

1) فوت ہونے والے مسلمانوں کے ایصال ثواب کے لئے تیجہ دسواں ،چالیسواں اور برسی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس میں قرآن خوانی، محفل ذکر ونعت وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے اگر یہ انتقال کے تین دن بعد کریں تو تیجہ دس دن بعد ہو تو دسواں، چالیس دن بعد ہو تو چالیسواں اور ایک سال کے بعد ہو تو برسی کہتے ہیں ۔

2) محفل میلاد: یہ بھی مسلمانوں میں رائج ایصال ثواب کا بہترین طریقہ ہے جس میں قرآن خوانی، نعت خوانی، درود خوانی اور بیانات وغیرہ کا اہتمام کرکے اس کا ثواب نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ عالیہ میں ایصال کیا جاتا ہے ۔

3) گیارہویں شریف کی نیاز: 11 ربیع الآخر کو سرکار بغداد حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کے ایصال ثواب کی نیت سے کافی مقدار میں بہترین خانہ پکا کر تقسیم کیا جاتا ہے یہ بھی ایصال ثواب کا ایک اچھا طریقہ ہے جو لوگوں میں رائج ہے جو کہ بزرگان دین سے محبت کی زندہ دلیل ہے۔

4) محرم شریف کی سبیل لگانا :محرم شریف کے مہینے میں اور بعض جگہ پورے سال امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کے ایصال ثواب کی نیت سے پانی کی سبیل لگائی جاتی ہے یہ بھی ہمارے اطراف رائج ایصال کا ایک طریقہ ہے ۔

5) ہمارے اطراف جو طریقہ سب سے زیادہ رائج ہے وہ مختلف مواقع پر کھانے یا دیگر چیزوں پر مختلف آیات وغیرہ پڑھ کر ایصال ثواب کرتے ہیں خصوصاً ایک بار سورہ کافرون تین بار سورہ اخلاص ایک ایک بار سورہ ناس سورہ فلق اور سورہ فاتحہ اور الٰم سے مفلحون تک پڑھ کر پھر مزید کچھ آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کو خصوصاً جس کے نام سے فاتحہ خوانی کر رہے ہیں ان کے لئے اور بالعموم سارے مسلمانوں کو ایصال ثواب کرتے ہیں۔یہ سارے طریقے جائز بلکہ کار ثواب ہیں۔

اللہ پاک ہمیں بھی بزرگانِ دین کے طریقوں پر چلتے ہوئے ایصال ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمین

محمد اکمل کمال (درجہ دورۃ الحدیث جامعۃ المدینہ فیضان عطار، ناگپور)

مذہب اسلام میں عبادت کی بہت اہمیت ہے خواہ وہ بدنی عبادت ہو جیسے نماز روزہ وغیرہ ،یا مالی ہو جیسے کہ صدقات و خیرات، یا پھر ان دونوں کا مجموعہ ہو جیسے حج و عمرہ وغیرہ اور عبادتوں کا ایصال ثواب کرنا اہل سنت والجماعت حنفی مسلک میں جائز ہے ۔

ایصال ثواب کسے کہتے ہیں؟

تو اس کی تعریف یہ ہے کہ اپنے کسی نیک عمل کا ثواب کسی دوسرے مسلمان کو پہنچانا ایصال ثواب کہلاتا ہے۔

ایصال ثواب کے جائز ہونے پر کئی ساری دلیلیں ہیں، حدیث سے دلیل جیسے کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " اقرؤوایسین علی موتاکم"ترجمہ : تم اپنے مردوں کے کے پاس یاسین پڑھو۔

(ابو داؤد شریف ،کتاب الجنائز ،باب قراءۃعند اھل المیت ،حدیث: 3121)

اور درس نظامی میں داخل نصاب کتاب ہدایہ کے مصنف علامہ برہان الدین مرغینانی حنفی کا بھی یہی نظریہ ہے کہ ایصال ثواب جائز ہے ۔ جیسا کہ انہوں نے خود اپنی کتاب ہدایہ میں لکھا ہے : ان الانسان له ان یجعل ثواب عمله لغيره صلاة او صوما او صدقه او غيرها عند اهل السنه والجماعۃ،ترجمہ اہل سنت و الجماعت کے نزدیک انسان کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے عمل نماز روزہ صدقہ وغیرہ کا ثواب دوسرے کو بخش دے۔ (ہدایہ 2/445 باب الحج عن الغیر)

اور علامہ بدر الدین عینی شارح بخاری کا بھی یہی نظریہ ہے ملاحظہ ہو:

فرماتے ہیں کہ انسان اپنے عمل کا ثواب دوسرے کو بخش سکتا ہے خواہ وہ عمل جس کا ثواب دوسرے کو بخشا نمازہو،روزہ ہو ،صدقہ ہو یا ان کے علاوہ ہو جیسے حج ،تلاوت قرآن ، انبیاء، شہداء، اولیا اور صالحین کی قبروں کی زیارت مردوں کو کفن دینا، اور نیکی کی تمام اقسام یعنی ان سب اعمال کا ایصال ثواب کرسکتا ہے۔(بنایہ شرح ہدایہ، 4/466 ،باب الحج عن الغیر)

ان ساری تفاصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ایصال ثواب کرنے کے لئے کوئی سا بھی عمل ہو اس کا ایصال ثواب دوسرے مسلمان کو کر سکتے ہیں خواہ نماز کی صورت میں ہو یا پھر روزہ کی صورت میں اور یہ بھی ہے کہ ہم جو بھی نیک عمل کرتے ہیں جیسے کہ شجر کاری، نیکی کی دعوت،برائی سے منع کرنا ،مدنی قافلہ، درس نظامی کرنا الغرض سبھی کا ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے۔اور ایصال ثواب کرنے کا مقصد اللہ پاک کی رضا اور ثواب کا حصول ہو۔

 


ایصال ثواب  ہمارے اطراف میں رائج ایک عمل خیر ہے جو صدیوں سے سے مختلف طریقوں سے چلتا آ رہا ہے یہاں تک کہ زمانہ رسالت میں بھی صحابہ کرام مختلف طریقوں سے ایصال ثواب فرمایا کرتے تھے ۔

ایصال ثواب کا ثبوت مختلف احادیث سے بھی ملتا ہے چنانچہ بخاری شریف کی ایک حدیث پاک میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا اور میرا گمان ہے کہ اگر وہ کچھ کہتی تو صدقے کا کہتی پس اگر میں انکی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انہیں ثواب پہنچے گا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا " ہاں"

(صحیح البخاری، کتاب الجنائز ،باب موت الفجاة البغۃ،1/468، حديث :1388)

ہمارے زمانے میں مختلف طریقوں سے ایصال ثواب رائج ہے۔ چند طریقے حاضر خدمت ہیں:

1) فوت ہونے والے مسلمانوں کے ایصال ثواب کے لئے تیجہ دسواں ،چالیسواں اور برسی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس میں قرآن خوانی، محفل ذکر ونعت وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے اگر یہ انتقال کے تین دن بعد کریں تو تیجہ دس دن بعد ہو تو دسواں، چالیس دن بعد ہو تو چالیسواں اور ایک سال کے بعد ہو تو برسی کہتے ہیں ۔

2) محفل میلاد: یہ بھی مسلمانوں میں رائج ایصال ثواب کا بہترین طریقہ ہے جس میں قرآن خوانی، نعت خوانی، درود خوانی اور بیانات وغیرہ کا اہتمام کرکے اس کا ثواب نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ عالیہ میں ایصال کیا جاتا ہے ۔

3) گیارہویں شریف کی نیاز: 11 ربیع الآخر کو سرکار بغداد حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کے ایصال ثواب کی نیت سے کافی مقدار میں بہترین خانہ پکا کر تقسیم کیا جاتا ہے یہ بھی ایصال ثواب کا ایک اچھا طریقہ ہے جو لوگوں میں رائج ہے جو کہ بزرگان دین سے محبت کی زندہ دلیل ہے۔

4) محرم شریف کی سبیل لگانا :محرم شریف کے مہینے میں اور بعض جگہ پورے سال امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کے ایصال ثواب کی نیت سے پانی کی سبیل لگائی جاتی ہے یہ بھی ہمارے اطراف رائج ایصال کا ایک طریقہ ہے ۔

5) ہمارے اطراف جو طریقہ سب سے زیادہ رائج ہے وہ مختلف مواقع پر کھانے یا دیگر چیزوں پر مختلف آیات وغیرہ پڑھ کر ایصال ثواب کرتے ہیں خصوصاً ایک بار سورہ کافرون تین بار سورہ اخلاص ایک ایک بار سورہ ناس سورہ فلق اور سورہ فاتحہ اور الٰم سے مفلحون تک پڑھ کر پھر مزید کچھ آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کو خصوصاً جس کے نام سے فاتحہ خوانی کر رہے ہیں ان کے لئے اور بالعموم سارے مسلمانوں کو ایصال ثواب کرتے ہیں۔یہ سارے طریقے جائز بلکہ کار ثواب ہیں۔

اللہ پاک ہمیں بھی بزرگانِ دین کے طریقوں پر چلتے ہوئے ایصال ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمین


ایصال ثواب کا معنی ثواب پہنچانا خود عمل کیا اور دوسروں تک ثواب پہنچایا جائے اسی میں ایک بخاری شریف کی احادیث پیش کرتا ہوں۔

حضرت سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں اللہ کے آخری نبی مکی مدنی محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ایک صحابی حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا : میرے والدہ کا انتقال ہوگیا صحابی سوال کرتے ہیں کیا میں ان کی طرف سے کوئی صدقہ کرو تو انہیں فائدہ پہنچتا ہے؟ تو اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :ہاں انہیں فائدہ ہوگا ۔

حضرت سعد بن عباده رضی اللہ عنہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور سوال عرض کیا میرے امی کا انتقال ہوگیا ہے تو میں کون سا صدقہ کرو تو ان کو زیادہ ثواب ملے گا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :پانی تو آپ رضی اللہ عنہ ہو نے ایک پانی کا کنواں کھدوایا اور اور کہا کہ یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے۔

ایصال ثواب کے 5 طریقے :

(1) ایصال ثواب یعنی ثواب پہنچانے کے لئے دل میں نیت کرنا کافی ہے مثلا آپ نے کسی کو ایک روپیہ خیرات کیا یا کسی پر انفرادی کوشش کی یا درود شریف پڑھا یا سنتوں بھرا بیان کیا یا رضائےالہی والے کام کیا الغرض آپ نے کوئی بھی نیک کام کیا آپ دل ہی دل میں اس طرح نیت کیجئے مثلا میں نے ابھی جو درود پاک پڑھا اس کا ایصال ثواب سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نذر یا تحفہ پیش کرتا ہوں تو ان شاءاللہ ثواب پہنچ جائے گا مزید جن کی بھی نیت کرے ان کو بھی ثواب پہنچے گا لیکن زبان سے کہنا افضل ہے۔

(2) مروجہ فاتحہ کا طریقہ:آج کل مسلمانوں میں خصوصاً کھانے پر ایصال ثواب وہ بہت اچھا ہے جن کھانوں کا ایصال ثواب کرنا ہے ان سب کو سامنے رکھ دے یا ان میں سے کچھ تھوڑا تھوڑا سامنے رکھ دے نیز ایک گلاس پانی بھی سامنے رکھ دے اب اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم پھر ایک بار قل یا ایہا الکافرون پڑھیں پھر تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھےپھر ایک مرتبہ سو رۃ الفلق پڑھیں پھر ایک مرتبہ سورۃ الناس پڑھی پھر ایک مرتبہ سورۃ الفاتحہ پڑھیں پھر ا لٰم سے لیکر المفلحون تک پڑھیں پھر یہ پانچ آیت پڑھیں :

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳) (پ 2،البقرہ :163)

اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)(پ 8،الأعراف:56)

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ 17،الانبیا:107)

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰) (پ 22،الأحزاب:40)

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22،الأحزاب:56)

اب فاتحہ پڑھنے والا بلند آواز سے کہے: الفاتحہ تو تمام لوگ آہستہ یعنی اپنے کانوں کو سنے اتنی آواز میں سورہ فاتحہ پڑھے پھر جو ایصال ثواب کرنے والا ہے وہ کہے کہ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو آپ نے جو کچھ پڑھا میرے ملک کرے ۔اب فاتحہ پڑھنے والا تمام کا ایصال ثواب کریں ۔

(3 ) اعلی حضرت کے فاتحہ کا طریقہ: ایصال ثواب کے الفاظ لکھنے سے قبل اعلی حضرت امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ والرضوان فاتحہ سے پہلے جو سورت پڑھتے تھے وہ یہ ہیں :سورۃ الفاتحہ اور آیۃ الکرسی اور تین مرتبہ سورۃ الاخلاص

(4)ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اور تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے ۔

(5)کوئی بھی نیک عمل رضائے الہی کے لئے کریں اور اس کا ثواب اپنے مرحومین کو کر سکتے ہیں ۔


فرعونیوں کا یہ طریقہ کار تھا کہ اچھائی کو اپنا کمال اور برائی کو بدشگونی کے طور پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے۔ اس پر انھیں طوفان، ٹڈیوں، جوؤں، مینڈکوں، خون وغیرہ کے عذابات میں مبتلا کیا گیا۔ جب بھی وہ عذاب میں مبتلا ہوئے تو موسیٰ علیہ السلام سے کہا ہم سے عذاب ٹل جائے تو ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آزاد کریں گے۔ لیکن موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے عذاب ٹل جانے کے بعد فرعونی اپنے وعدے سے پھر جاتے تو الله پاک نے بھی انھیں سمندر میں غرق فرما دیا۔ الله پاک نے کمزور لوگوں کو مشرق و مغرب کا وارث بنایا اور بنی اسرائیل سے کیا ہوا وعدہ وفا فرمایا۔

1)پانی کا عذاب :اتنی بڑی طوفانی بارش ہوئی کہ کہ فرعونیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا اتنا کہ ان کے گلے گلے جتنا ہوگیا اور جو بھی بیٹھتا وہ ڈوب جاتا درحال کہ بنی اسرائیل والے اس سے محفوظ تھے۔تب فرعون کی قوم نے موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر ایمان لانے کا وعدہ کیا لیکن طوفان ختم ہو جانے کے بعد ایمان نہ لائے۔

2)ٹڈیوں کا عذاب :نافرمانی کے ایک ماہ بعد فرعونیوں پر ٹڈیوں کا عذاب آیا۔ جو فرعونیوں کے کھیت، گھروں کی چھتیں، سامان، کیلیں وغیرہ تک کھا گئیں۔ یہ قوم پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے ایمان لانے کا وعدہ کیا آپ علیہ السلام کی دعا سے یہ عذاب بھی رفع ہو گیا لیکن ایمان نہ لائے۔

3)گھن کا عذاب:ایمان نہ لانے کے ایک ماہ بعد پھر ان پر گھن یا جوں کا عذاب مسلط کیا گیا یہ کیڑے فرعونیوں کے جسم تک چاٹ گئے دس( 10) بوری چکی پر جاتیں تو بمشکل تین (3) کلو آٹا آتا پھر سیدنا موسیٰ کلیم الله علیہ السلام کے پاس نادم ہوکر آئے۔ یہ عذاب بھی رفع گیا۔ لیکن ایمان نہ لائے۔

4)مینڈک کا عذاب :جوؤں کے عذاب کے ماہ بعد مینڈکوں کا عذاب نازل ہوا جہاں بھی فرعونی بیٹھتے وہاں مینڈک ہی مینڈک ہو جاتے کھانوں میں، پانی میں، چولہوں میں، مینڈک ہی مینڈک تھے۔ یہ عذاب بھی ان پر ایک ہفتہ رہا۔ پھر سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام سے وعدہ کیا لیکن وفا نہ کیا اور ایمان نہ لائے۔

5)خون کا عذاب :بعد اس کے ان پر خون کا عذاب آیا کہ کنوئیں، چشمے، سالن،روٹی وغیرہ سب میں تازہ خون پیدا ہوگیا۔ اگر اسرائیلی کے برتن سے پانی قبطیوں کے برتن میں ڈالتے تو خون ہو جاتا۔ (تفسیر نور العرفان صفحہ 263 سورة الأعراف آیت 133 فرید بک ڈپو)

الله پاک سے دعا ہے کہ ہم سب کو انبیاء کرام علیہم السلام کی نافرمانی سے محفوظ فرمائے اور سیدنا خاتم النبيين صلى الله علیہ وسلم کا سچا مطیع اور فرمانبردار بنائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدھا بن کر جادوگروں کے سارے سانپوں کو نگل گیا تو وہ جادوگر تو سجدے میں گر گئے اور اللہ پاک نے انہیں ایمان کی دولت عطا فرمائی لیکن فرعون اور اس کی قوم کفر پر اڑی رہی اور حضرت موسٰی علیہ السلام اور ان کی قوم کو تکلیفیں پہنچانا شروع کردیں جن سے تنگ دل ہو کر موسٰی علیہ السلام نے یوں دعا فرمائی کہ: اے میرے رب! فرعون زمین میں بہت ہی سرکش ہوگیا ہے اور اس کی قوم نے عہد شکنی(وعدہ خلافی) کی ہے لہذا تو انہیں ایسے عذابوں میں گرفتار فرمالےجو ان کے لئے سزاوار ہوں، اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت ہوں۔ (صراط الجنان،جلد 3، صفحہ نمبر 414،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

آپ علیہ السلام مستجاب الدعوات تھے، دعا قبول ہوئی اور اللہ پاک نے فرعونیوں پر لگاتار پانچ عذابوں کو مسلّط فرمادیا۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ- فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ(۱۳۳)ترجمہ کنزالعرفان: تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اورپِسُو(یا جوئیں ) اور مینڈک اور خون کی جدا جدا نشانیاں بھیجیں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی۔

(پ 9،الاعراف:133)

(1)طوفان: ناگہاں(اچانک)ایک اَبَر(بادل) اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا پھر انتہائی زوردار بارش ہونے لگی یہاں تک کہ طوفان آگیا اور فرعونیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا اور وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی ان کی گردنوں تک آ گیا ان میں سے جو بھی بیٹھا وہ ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔

(2) ٹڈیاں: پھر اللہ پاک نے اپنے قہروعذاب کو ٹڈیوں کی شکل میں بھیجا کہ چاروں طرف سے ٹڈیوں کے جُھنڈ(گروہ) کے جُھنڈ آئے جو ان کی کھیتوں اور باغوں یہاں تک کہ ان کے مکانوں کی لکڑیوں تک کو کھا گئیں اور فرعونیوں کے گھروں میں ٹڈیاں بھر گئیں جس سے ان کا سانس لینا مشکل ہو گیا۔

(3) گھن: ٹڈیوں کے بعد قُمّل کا عذاب مسلّط کیا گیا یہ ایک چھوٹا سا کیڑا تھا، جو کھیتوں کی تیار فصلوں کو چٹ کر گیا اور ان کے کپڑوں میں گھس کر ان کے چمڑوں کو کاٹ کاٹ کر انہیں تڑپانے لگا، یہاں تک کہ ان کے سر کے بالوں، داڑھی، مونچھوں، بھنوؤں، پلکوں کو چاٹ چاٹ کر اور چہروں کو کاٹ کاٹ کر انہیں چیچک کی طرح بنادیا۔

(4) مینڈک: اب مینڈکوں کی باری آئی، فرعونیوں کی بستیوں اور گھروں میں اچانک بے شمار مینڈک پیدا ہو گئے ان ظالموں کا حال یہ ہو گیا تھا کہ جو آدمی جہاں بھی بیٹھتا اس کی مجلس میں ہزاروں مینڈک بھر جاتے، کوئی آدمی بات کرنے یا کھانے کے لئے منہ کھولتا تو اس کے منہ میں مینڈک کود کر گھس جاتے، ہانڈیوں میں مینڈک، ان کے جسموں پر سینکڑوں مینڈک سوار رہتے۔

(5) خون: اتنے سخت عذابات کے باوجود بھی جب فرعون اور اس کی قوم نے توبہ نہ کی اور اسلام نہ لاۓ اور کفر پر ڈٹے رہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ان لوگوں کے کے تمام کنوؤں، نہروں کا پانی خون ہو گیا تو ان لوگوں نے فرعون سے فریاد کی، تو اس نے حکم دیا کہ تم لوگ مومنین کے ساتھ ایک ہی برتن سے پانی نکالو! مگر خدا کی شان کہ مومنین اسی برتن سے پانی نکالتے تو نہایت ہی صاف، شفاف اور شیریں پانی نکلتا اور فرعونی جب اسی برتن سے پانی نکالتے تو تازہ خون نکلتا یہاں تک کہ اگر ایک ہی برتن سے منہ لگا کر پانی پیا جاتا تو جو مومنین کے منہ میں جاتا وہ پانی ہوتا اور جو فرعونیوں کے منہ میں جاتا وہ خون ہوتا اور اگر فرعونی درختوں کی جڑیں اور چھالیں چبا چبا کر چوستے تو اس کی رطوبت بھی ان کے منہ میں جاکر خون ہو جاتی تھی۔

(عجائب القرآن مع غرائب القرآن، صفحہ 100-97،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)