ادب دنیا و آخرت کی کامیابیوں اور سعادتوں کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اس کی تعلیم خود ربِّ کائنات نے اپنے پیارے نبی، مکی مدنی، محمد عربی ﷺ کو ارشاد فرمائی،چنانچہ حضور خاتم النبیین ﷺنے ارشاد فرمایا:اَدَّبَنِيْ رَبِّيْ فَاَحْسَنَ تَاْدِيْبِيْ یعنی مجھے میرے ربّ کریم نے ادب سکھایا اور بہت اچھا ادب سکھایا۔(جامع صغیر، ص25، حدیث:310)

ابو القاسم عبدالکریم بن ہوازن قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ادب کا ایک مفہوم یہ ہے کہ انسان بارگاہِ الٰہی میں حضوری کا خیال رکھے۔ ابو علی دقّاق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:بندہ اطاعت سے جنت تک اور اطاعتِ الٰہی میں ادب کرنے سے اللہ پاک تک پہنچ جاتا ہے۔ (الرسالۃ القشیریۃ، ص 316)

قرآنِ کریم میں ارشادِ باری ہے:

1:وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ0(الاعراف: 56)ترجمہ کنز العرفان:اور اللہ سے دعا کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیتِ مبارکہ میں بارگاہِ الٰہی میں دعا مانگنے کا یہ ادب ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب بھی دعا مانگو تو اللہ پاک کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اس کی رحمت کی طمع کرتے ہوئے دعا کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا اور عبادات میں خوف و امید دونوں ہونے چاہئیں، اس سے ان شاء اللہ الکریم جلد قبول ہوگی۔

2:اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ0 (النور: 51) ترجمہ کنز العرفان: مسلمانوں کی بات تو یہی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تا کہ رسول ان کے درمیان فیصلہ فرمادے تو وہ عرض کریں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

اس آیت میں اللہ پاک نے مسلمانوں کو شریعت کا ادب سکھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ مسلمانوں کو ایسا ہونا چاہئے کہ جب انہیں اللہ پاک اور اس کے رسولِ کریم ﷺ کی طرف بلایا جائے تاکہ رسولِ اکرم ﷺ ان کے درمیان اللہ پاک کے دئیے ہوئے احکامات کے مطابق فیصلہ فرمادیں تو وہ عرض کریں کہ ہم نے بُلاوا سُنا اور اسے قبول کرکے اطاعت کی اور جو ان صفات کے حامل ہیں، وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔( خازن،النور، تحت الآیۃ: 51،3 / 359)

3:حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ-وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ0 (البقرۃ: 238)ترجمہ کنز العرفان: تمام نمازوں کی پابندی کرو اور خصوصاً درمیانی نماز کی اوراللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہوا کرو۔

اس آیتِ مبارکہ میں پنجگانہ فرض نمازوں کو ان کے اوقات پر ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ شریعت کے دیگر معاملات میں حکمِ الٰہی پر عمل اسی صورت میں ہوگا جب دل کی اصلاح ہوگی اوردل کی اصلاح نماز کی پابندی سے ہوتی ہے۔ نیز فرمایا کہ تمام نمازوں کی پابندی و نگہبانی کرو، اس نگہبانی میں ہمیشہ نماز پڑھنا،باجماعت پڑھنا،درست پڑھنا،صحیح وقت پر پڑھنا سب داخل ہیں۔ درمیانی نماز کی بالخصوص تاکید کی گئی ہے، اور درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے۔ نیز اس آیتِ مبارکہ میں بارگاہِ الٰہی میں کھڑا ہونے کا طریقہ یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ ادب سے کھڑا ہوا جائے، لہٰذا کھڑے ہونے کے ایسے طریقے ممنوع ہوں گے جس میں بے ادبی کا پہلو نمایاں ہو۔ (صراط الجنان، البقرۃ، تحت الآیۃ: 238)

4:وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَاؕ-قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًاؕ-اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ0(یونس: 21)ترجمہ کنز العرفان: اور جب ہم لوگوں کو انہیں تکلیف پہنچنے کے بعد رحمت کا مزہ دیتے ہیں تو اسی وقت ان کا کام ہماری آیتوں کے بارے میں سازش کرنا ہوجاتا ہے۔تم فرماؤ:اللہ سب سے جلد خفیہ تدبیرفرمانے والا ہے۔بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکر و فریب کو لکھ رہے ہیں۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ رب العالمین کی بارگاہ کا ادب یہ ہے کہ رحمتوں کو اس کی طرف منسوب کیا جائے اور آفات کو اس کی جانب منسوب نہ کیا جائے اور یہی اللہ پاک کے نیک بندوں کا طرزِ عمل ہے، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کافروں سے کلام کے دوران جب اللہ پاک کی شان بیان فرمائی تو ادب کی وجہ سے بیماری کو اپنی طرف اور شفا کو اللہ پاک کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا: وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ0(الشعراء:80)ترجمہ کنزُالعِرفان:اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔( صراط الجنان، یونس، تحت الآیۃ: 21)

یاد رہے!اچھے بُرے تمام افعال جیسے ایمان،کفر،اطاعت اور معصیت وغیرہ کا خالق اللہ پاک ہے اور ان افعال کو پیدا کرنے میں اللہ پاک کا کوئی شریک نہیں، بُرے افعال کو بھی اگرچہ اللہ پاک نے پیدا فرمایا ہے، لیکن اس کے ادب اور تعظیم کا تقاضا یہ ہے کہ کلام میں ان افعال کی نسبت اللہ پاک کی طرف نہ کی جائے۔ (تفسیر قرطبی،صٓ،تحت الآیۃ:41، 8/155)

اسی ادب کی وجہ سے حضرت ایوب علیہ السلام نے تکلیف اور ایذا پہنچانے کی نسبت شیطان کی طرف فرمائی ہے۔ ( صراط الجنان،صٓ،تحت الآیۃ: 41) جیساکہ قرآنِ مجید میں ہے:وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَۘ-اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍ0(صٓ: 41)ترجمہ کنز العرفان: اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کروجب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذا پہنچائی ہے۔

5:تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ0 (المائدۃ: 116)

ترجمہ کنز العرفان:تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے۔بیشک تو ہی سب غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔

یہاں علم کو اللہ پاک کی طرف نسبت کرنا اور معاملہ اس کے سپرد کردینا اور عظمتِ الٰہی کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرنا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شانِ ادب ہے۔ اللہ پاک ہمیں باادب بنائے اور بےادبی و بے ادبوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

محفوظ سدا رکھنا شہا بےادبوں سے اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بےادبی ہو


ادب انسان کے لئے انتہائی ضروری چیز ہے، اس کے ہوتے ہوئے کسی اور شرف کی ضرورت نہیں رہتی۔ادب یہ ہے کہ انسان کے گفتار اور کردار میں تقویٰ نظر آئے،بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کریں،نیز ادب کو محض فصاحت و بلاغت میں محصور کر دینا مناسب نہیں ہے۔ کتب احادیث میں خصوصی طور پر ادب کے عنوان کے تحت احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔ ادب کا صلہ اور بدلہ بہت عظیم ہوتا ہے، چنانچہ با ادب شخص کے لئے نبی کریم ﷺنے جنت میں محلات کی ضمانت دی ہے۔مسلمانو! تقویٰ اختیار کرو کیونکہ متقی کامیاب ہوں گے اور حد سے تجاوز کرنے والے بدبخت تباہ و برباد ہوں گے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا  وَ  اَنْتُمْ  مُّسْلِمُوْنَ0 اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان۔ (اٰل عمران: 102 )

ادب انسان کا شرف ہے، ادب پر مبنی شرف کی وجہ سے حسب و نسب کے شرف کی ضرورت نہیں رہتی۔ شرف بلند ہمتی سے حاصل ہوتا ہے۔بوسیدہ ہونے والی ہڈیوں سے نہیں۔

بارگاہِ خداوندی کے آداب: بندے کو چاہیے کہ بارگاہِ الٰہی میں اپنی نگاہیں نیچی رکھے،اپنے غموں اور پریشانیوں کو اللہ پاک کی بارگاہ میں پیش کرے، خاموشی کی عادت بنائے، اعضاء کو پر سکون رکھے،جن کاموں کا حکم دیا گیا ہے ان کی بجا آوری میں جلدی کرے اور جن سے منع کیا گیا ہے ان سے اور اُن پر اعتراض کرنے سے بچے، اچھے اخلاق اپنائے، ہر وقت ذکر ِالہٰی کی عادت بنائے، اپنی سوچ کو پاکیزہ بنائے،اعضا ءکو قابو میں رکھے، دل پر سکون ہو،اللہ پاک کی تعظیم بجالائے،غیض و غضب نہ کرے،محبتِ الہٰی کو لوگوں سے چھپائے، اخلاص اپنانے کی کوشش کرے،لوگوں کے پاس موجود مال و دولت کی طرف نظر کرنے سے بچے، صحیح و درست بات کو ترجیح دے، مخلوق سے اُمید نہ رکھے، عمل میں اخلاص پیدا کرے، سچ بولے اور گناہوں نیکیوں کو زندہ کرے( نیکیوں پر عمل پیرا ہو)لوگوں کی طرف اِشارے نہ کرے اور مفید باتیں نہ چھپائے ہمیشہ باوقار و پیر جلال رہے، حیا کو اپنا شعار بنانے، خوف وڈر کی کیفیت پیدا کرے، تو کل اپنائے، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرے، ذکر کرتے وقت دل میں خوفِ خداوندی پیدا کرے،فقر و فاقہ کے وقت تو کل کو اپنا شعار بنائے اور جہاں تک ہو سکے قبولیت کی امید رکھتے ہوئے صدقہ کرے۔

قرآن ِکریم میں بارگاہِ الٰہی کے آداب: جس طرح اللہ پاک کے حضور نماز ادا کرنا فرض ہے۔اسی طرح ہر نمازی پر یہ بھی فرض ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی کے دوران قرآن و سنت کے احکام کی پابندی کرے۔ صلوۃ:(نماز) کے معنی ہیں کسی کے قریب ہو جانا اور دعا کرنا۔ لہٰذا نماز کی لفظی و معنوی حقیقت تین نکات پر مشتمل ہے۔ یہ کہ الله پاک کے دربار میں شعوری طور پر بڑھ کر حاضر ہو جانا۔ الله پاک کے حضور ہمہ تن متوجہ ہو جانا، اللہ پاک سے ہم کلام ہو جانا، نماز کے ان تینوں بنیادی لوازمات کے ساتھ نماز میں اللہ پاک سے ہم کلامی کے طریقے کے لیے قرآن و سنت کے احکام کی پابندی بھی لازم و واجب ہے۔

نماز سے متعلق اولین حکم یہ ہے کہ نمازی پورے شعور کے ساتھ اپنا رخ الله پاک کے لیے اس کعبۃ اللہ کی جانب کر لے جو دنیا میں انسانوں کے لیے بنایا گیا،قرآن مجید میں ارشاد ہے: اِنَّ  اَوَّلَ  بَیْتٍ  وُّضِعَ  لِلنَّاسِ   لَلَّذِیْ  بِبَكَّةَ  مُبٰرَكًا  وَّ  هُدًى  لِّلْعٰلَمِیْنَ0 بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا ہے وہ جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہانوں کا رہنما۔ (اٰل عمران:96) ایک اور جگہ ارشاد ہے:وَحَیۡثُ مَا کُنۡتُمْ فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَکُمْ شَطْرَہٗؕ اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو۔( مسجد حرام) (البقرۃ:15)


بات کا حقیقت کے خلاف ہونا جھوٹ کہلاتا ہے ۔ جھوٹ بہت ساری برائیوں کی جڑ ہے ۔ اس سے چغلی، چغلی سے بغض اور بعض سے دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے پورے معاشرے کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کی بڑی مذمت بیان کی ہے۔ اس تعلق سے میں 5 فرامینِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیان کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں:۔

(1) حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہُ عنہما بيان کرتے ہیں کہ حضورنبیّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: چا ر عادتیں جس شخص میں ہوں وہ منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک ہو اس میں نِفاق کی ایک عادت ہے حتّٰی کہ اسے چھوڑدے: (1) بات کرے تو جھوٹ بولے ۔ (2) وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔ (3) عہد کرے تو عہد شکنی کرے۔ (4) جھگڑا کرے تو گالم گلوچ کرے۔( سنن النسائی، کتاب الایمان و شرائعہ ، باب علامة المنافق، ص 804، حدیث :5030)

(2) حضرت سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہُ عنہ بيان كرتے ہیں کہ سرکارِابدِقرار،دوعالَم کے مالک ومختار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تین عادتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں ہوں وہ منافِق ہے اگرچہ روزہ ركھے، نماز پڑھے اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے:(1)…بات كرے تو جھوٹ بولے(2)…وعدہ کرے تو پورا نہ کرےاور(3)…امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے ۔( الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الایمان ، باب ماجاء فی الشرک والنفاق،1/ 237، حدیث : 257)

حديث كا مصداق: حدیث میں وعدہ خلافی کا مصداق وہ شخص ہے جس كا عَزْم یہ ہو کہ وہ وعدہ پورا نہیں کرے گا یا وہ جو بغیرکسی عذر کے وعدہ پورا نہ کرے۔ رہا وہ شخص جس کا وعدہ پورا کرنے کا عزم ہو پھر اسے کو ئی ایساعذر پیش آجائے جو اسے وعدہ پورا کرنے سے روک دے تو وہ منافق نہیں ہو گا اگر چہ یہ بھی صورتاً نفاق ہے جس سے ایسے ہی بچنا چاہئے جیسے حقیقی نفاق سے بچا جا تا ہے اور معقول عذرکے بغیر خود کو معذور نہیں سمجھنا چاہئے۔ (احیاء العلوم، 3/ 405 )

(3) بیہقی نے ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بندہ بات کرتا ہے اور محض اس لیے کرتا ہے کہ لوگوں کو ہنسائے اس کی وجہ سے جہنم کی اتنی گہرائی میں گرتا ہے جو آسمان و زمین کے درمیان کے فاصلہ سے زیادہ ہے اور زبان کی وجہ سے جتنی لغزش ہوتی ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی قدم سے لغز ش ہوتی ہے۔(شعب الإیمان، باب في حفظ اللسان،4/213،حدیث:4832)

(4) ابو داؤد نے سفیان بن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہتے ہیں میں نے رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ بڑی خیانت کی یہ بات ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے اور وہ تجھے اس بات میں سچا جان رہا ہے اور تو اس سے جھوٹ بول رہا ہے۔(ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی المعاریض، 4 / 381، حدیث: 4971)

(5) بیہقی نے ابو برزہ رضی اللہُ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جھوٹ سے منھ کالا ہوتا ہے اور چغلی سے قبر کا عذاب ہے۔(شعب الایمان،باب فی حفظ اللسان، 4/ 208، حدیث : 4813 )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں معلوم چلا کہ جھوٹ بولنا گناہ اور بدترین برائی ہے ۔ ہمیں ہر جھوٹی بات سے بچنا چاہیے ۔ جھوٹ بولنے والوں پر اللہ پاک کی لعنت ہے اور جھوٹ بولنے والوں کو اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ناپسند فرمایا ہے ۔ ہمیں ہر وقت سچ بولنا چاہیے ۔ الله پاک ہمیں اور آپ کو ہر جھوٹی بات سے بچائے اور ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


جھوٹ اخلاقی برائیوں میں سے ایک بدترین برائی ہے ۔ جھوٹ حقیقت کے بر عکس بات کرنے کو کہتے ہیں۔ سارے مذاہب کے ماننے والے اس کی مذمت کرتے ہیں ، ہمارے مذہب مذہبِ اسلام میں بھی جھوٹ بولنے کو بہت سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں جھوٹ بولنے والوں پر اللہ پاک کی لعنت کی گئی ہے اور اسے گناہِ کبیرہ میں شمار کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے جھوٹ کس نے بولا ہے؟ سب سے پہلے جھوٹ شیطان نے بولا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں پہلا تقیہ پہلا جھوٹ شیطان کا کام تھا۔ (مرآۃ المناجیح )

آئیے ہم آپ کے سامنے جھوٹ کی مذمت پر 5 فرامین مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پیش کرتے ہیں :۔

(1) ترمذی نے ابن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے، اس کی بدبو سے فرشتہ ایک میل دور ہوجاتا ہے۔(سنن الترمذی،کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء في المراء،3/392،حدیث:1979)

(2)حضرت سیدنا نَواس بن سَمعان کِلابی رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آقائے نامدار،دوعالم کے مالک و مختار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں جھوٹ پر اس طرح گرتے دیکھتا ہوں جس طرح پروانے آگ( یعنی روشنی)میں گرتے ہیں؟آدمی کا ہر جھوٹ یقینی طور پر لکھا جاتا ہے سوائے یہ کہ آدمی جنگ میں جھوٹ بولے کیونکہ جنگ میں فریب ہی ہوتا ہے یادو شخصوں کے درمِیان بُغْض وعداوت ہواور وہ ان کے درمِیان صُلْح کرائے یا اپنی زوجہ کو خوش کرنے کے لئے کوئی بات کہے۔( شعب الایمان ، باب فی حفظ اللسان،4/ 204،حدیث :4798)

(3) حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : تمام عادتیں مومن کی فطرت میں ہو سکتی ہیں سوائے خیانت اور جھوٹ کے( مسند امام احمد ، 34/554 ، حدیث: 22170)

(4) حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جھوٹ اللہ پاک کی نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے اور اللہ پاک کی نافرمانی جہنم کی آگ کی طرف لے جاتی ہے ۔ بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ پاک کے نزدیک بہت بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا۔ (صحیح بخاری ،4/125، حدیث: 6094 ) حکیم الامت، حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : جو شخص سچ بولنے کا عادی ہوجائے، اللہ پاک اسے نیک کار بنادے گا، اس کی عادت اچھے کام کی ہوجائے گی، اس کی برکت سے وہ مرتے وقت تک نیک رہے گا، برائیوں سے بچے گا۔ (مراۃ المناجیح،6/344)

(5) سرکار دو عالم نور مجسم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرْشاد فرمایا: خَواب میں ایک شَخْص میرے پاس آیا اور بولا: چلئے! میں اُس کے ساتھ چَل دِیا، میں نے دو(2)آدَمی دیکھے، ان میں ایک کھڑا اور دُوسرا بیٹھا تھا ، کھڑے ہوئے شَخْص کے ہاتھ میں لَوہے کا زَنْبُورتھا، جسے وہ بیٹھے شَخْص کے ایک جَبْڑے میں ڈال کر اُسے گُدّی تک چِیر دیتا، پھر زَنْبُورنکال کر دُوسرے جَبْڑے میں ڈال کر چِیْرتا، اِتنے میں پہلے والاجَبْڑا اپنی اَصْلی حالت پر لَوٹ آتا، میں نے لانے والے شَخْص سے پُوچھا: یہ کیا ہے؟اُس نے کہا: یہ جُھوٹا شَخْص ہے، اِسے قِیامت تک قَبْر میں یہی عذاب دیا جا تا رہے گا۔ (مساویٔ الاخلاق للخرائطی، ص: 76،حدیث : 131)

معلوم ہیں کہ جھوٹ بولنا بہت سنگین جرم اور گناہ کبیرہ ہے،جھوٹ بولنے سے انسان اللہ پاک کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ جھوٹ بولنے والوں پر اللہ پاک کی لعنت کی گئی ہے۔ جھوٹ معاشرے میں نفاق کو جنم دیتا ہے ۔ الله پاکی سے دعا ہے کہ ہمیں جھوٹ بولنے سے بچائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


جھوٹ ایسی بری خصلت ہے جسے سارے مذہب کے ماننے والے اسے برا سمجھتے ہیں ہمارے دین اسلام میں تو اس کی بڑی سختی کے ساتھ مذمت بیان کی گئی ہے۔ آیئے ہم سب سے پہلے اس کی تعریف پھر جھوٹ کی مذمت پر 5احادیث بیان کرتے ہیں ۔

جھوٹ کی تعریف: کسی کے بارے میں خلاف حقیقت خبر دینا۔ قائل گنہگار اس وقت ہو گا جبکہ بلاضرورت جان بوجھ کر جھوٹ بولے۔ (الحديقۃ النديہ، القسم الثاني، المبحث الاول، 4/ 10)

حدیث (1) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: (1) جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے (2) جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے (3) اور جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔(صحیح بخاری، ص: 1458،حدیث: 6095)

حدیث میں وعدہ خلافی کا مصداق وہ شخص ہے جس كا عَزْم یہ ہو کہ وہ وعدہ پورا نہیں کرے گا یا وہ جو بغیرکسی عذر کے وعدہ پورا نہ کرے۔رہا وہ شخص جس کا وعدہ پورا کرنے کا عزم ہو پھر اسے کو ئی ایساعذر پیش آجائے جو اسے وعدہ پورا کرنے سے روک دے تو وہ منافق نہیں ہو گا اگر چہ یہ بھی صورتاً نفاق ہے جس سے ایسے ہی بچنا چاہئے جیسے حقیقی نفاق سے بچا جا تا ہے اور معقول عذرکے بغیر خود کو معذور نہیں سمجھنا چاہئے۔ (احیاء العلوم، 3/ 405، المدینۃ العلمیہ )

حدیث (2) امام مالک و بیہقی نے صفوان بن سلیم سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا گیا، کیا مومن بزدل ہوتا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ پھر عرض کی گئی، کیا مومن بخیل ہوتا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ پھر کہا گیا، کیا مومن کذاب ہوتا ہے؟ فرمایا: نہیں۔ (الموطأ،کتاب الکلام،باب ماجاء في الصدق والکذب،2/468،حدیث:1913)

حدیث (3) ترمذی نے ابن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے، اس کی بدبو سے فرشتہ ایک میل دور ہوجاتا ہے۔(سنن الترمذی،کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء في المراء،3/392،حدیث:1979)

حدیث (4) امام احمد نے حضرت ابوبکر رضی اللہُ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ ایمان سے مخالف ہے۔(المسند للإمام أحمد بن حنبل،مسند أبي بکر الصدیق،1/22،حدیث:1913)

حدیث (5) نُورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرْشاد فرمایا: خَواب میں ایک شَخْص میرے پاس آیا اور بولا: چلئے! میں اُس کے ساتھ چَل دِیا، میں نے دو(2)آدَمی دیکھے، ان میں ایک کھڑا اور دُوسرا بیٹھا تھا ، کھڑے ہوئے شَخْص کے ہاتھ میں لَوہے کا زَنْبُورتھا، جسے وہ بیٹھے شَخْص کے ایک جَبْڑے میں ڈال کر اُسے گُدّی تک چِیر دیتا، پھر زَنْبُورنکال کر دُوسرے جَبْڑے میں ڈال کر چِیْرتا، اِتنے میں پہلے والاجَبْڑا اپنی اَصْلی حالت پر لَوٹ آتا، میں نے لانے والے شَخْص سے پُوچھا: یہ کیا ہے؟اُس نے کہا: یہ جُھوٹا شَخْص ہے، اِسے قِیامت تک قَبْر میں یہی عذاب دیا جا تا رہے گا۔ (مساویٔ الاخلاق للخرائطی، ص: 76،حدیث : 131)

خلاصہ گفتگو یہ کہ جھوٹ بہت بڑی نحوست و آفت ہے ، اللہ پاک کو ناراض کرنے کا ذریعہ ہے ۔ اللہ پاک ہمیں اس کی آفت سے محفوظ رکھے اور ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


(1) ترمذی نے ابن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے، اس کی بدبو سے فرشتہ ایک میل دور ہوجاتا ہے۔

(2) امام احمد نے حضرت ابوبکر رضی اللہُ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ ایمان سے مخالف ہے۔

(3 ) امام احمد نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : بندہ پورا مومن نہیں ہوتا جب تک مذاق میں جھوٹ کو نہ چھوڑ دے اور جھگڑنا‌ نہ چھوڑ دے اگرچہ سچا ہو ۔

(4 ) امام مالک و بیہقی نے صفوان بن سلیم سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا گیا، کیا مومن بزدل ہوتا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ پھر عرض کی گئی، کیا مومن بخیل ہوتا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ پھر کہا گیا، کیا مومن کذاب ہوتا ہے؟ فرمایا: نہیں۔

( 5)بیہقی نے ابو برزہ رضی اللہُ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جھوٹ سے منھ کالا ہوتا ہے اور چغلی سے قبر کا عذاب ہے۔


جھوٹ ایسی بری چیز ہے کہ ہر مذہب والے اس کی برائی کرتے ہیں۔ تمام مذہب میں یہ حرام ہے۔ اسلام نے اس سے بچنے کی بہت تاکید کی۔ قرآن مجید میں بہت مواقع پر اس کی مذمت فرمائی اور جھوٹ بولنے والوں پر خدا کی لعنت آئی۔ حدیثوں میں بھی اس کی برائی ذکر کی گئی۔ اس کے متعلق پانچ فرامین مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ذکر کی جاتی ہیں۔

(1) عبداللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ سے مروی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: صدق کو لازم کرلو، کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ پاک کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ پاک کے نزدیک کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ (بہار شریعت ،3/516)

(2) ترمذی نے ابن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے، اس کی بدبو سے فرشتہ ایک میل دور ہوجاتا ہے۔( بہار شریعت ، 3 / 518)

(3) امام احمد نے حضرت ابوبکر رضی اللہُ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ ایمان سے مخالف ہے۔(بہار شریعت ،3/519)

(4) بیہقی نے ابو برزہ رضی اللہُ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جھوٹ سے منھ کالا ہوتا ہے اور چغلی سے قبر کا عذاب ہے۔(بہار شریعت، 3/ 520)

(5) امام احمد نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ‌رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بندہ پورا مومن نہیں ہوتا جب تک مذاق میں بھی جھوٹ کونہ چھوڑ دے اور جھگڑاکرنا نہ چھوڑدے اگرچہ سچا ہو ۔ ( بہار شریعت، 3/516 )

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں ! ہمیں معلوم ہوا کہ جھوٹ بولنے کے کتنے نقصانات ہے لہذا ہم کو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے کیونکہ جھوٹ بولنے سے اللہ پاک ناراض ہوتا ہے اور جہنم میں لے جانے والا عمل بھی ہے ۔


پیارے اسلامی بھائیوں !آج کا ہمارا مضمون جھوٹ کے بارے میں ہے آئیے پہلے جھوٹ کی تعریف جانتے ہیں : خلاف واقع بات کرنے کو جھوٹ کہتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں سب سے پہلے جھوٹ کس نے بولا ؟ سب سے پہلے جھوٹ شیطان نے بولا ۔ پیارے اسلامی بھائیوں جھوٹ بولنا بہت بڑا گناہ ہے اللہ پاک نے قرآن میں جھوٹ بولنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور جھوٹ سے نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔ آئے جھوٹ کی مذمت پر فرامین مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سنتے ہیں ۔

مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد گرامی ہے : ہلاکت ہے اس کے لئے جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ جو بندہ محض اس لئے بات کرتا ہے کہ لوگوں کو ہنسائے تو اس کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان موجود فاصلے سے بھی زیادہ دور ( جہنم) میں جا گرتا ہے ۔

ہمارے پیارے آقا کو خواب میں جھوٹ بولنے والے کی یہ سزا دکھائی گئی کہ اس کو گدی کے لٹایا ہوا تھا اور ایک شخص لوہے کا چمٹا لیے اس پر کھڑا تھا اور وہ ایک طرف سے اس کی بانچھ چمٹے سے پکڑ کر گدی تک چیرتا ہوا لے جاتا، اس طرح آنکھ اور ناک کے نتھنے میں چمٹا گھونپ کر چیرتا ہوا گدی تک لے جاتا۔

جھوٹ بولنے والوں کو اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بالکل بھی پسند نہیں فرماتے ہیں۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں ! الله پاک ہمیں جھوٹ کے گناہ سے محفوظ و مامون فرمائے، ہمیں ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔


عن عبدالله بن مسعود قال قال رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم إنَّ الصِّدْقَ برٌّ، وإنَّ البِرَّ يَهْدِي إلى الجَنَّةِ، وإنَّ العَبْدَ لَيَتَحَرّى الصِّدْقَ، حتّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّيقًا، وإنَّ الكَذِبَ فُجُورٌ، وإنَّ الفُجُورَ يَهْدِي إلى النّارِ ترجمہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور جھوٹ بولنا فسق و فجور ہے اور فسق و فجور دوزخ میں لے جاتی ہے۔ (مسلم شریف، مشکوٰة شریف )

حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سرکار اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح پیدا کرتا ہے ،اچھی بات کہتا ہے اور اچھی بات پہنچاتا ہے۔

حضرت صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے پوچھا گیا کیا مومن بزدل ہوتا ہے ؟ حضور نے فرمایا ہاں(ہو سکتا ہے ) پھر عرض کیا گیا کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے ؟ فرمایا ہاں(ہو سکتاہے )پھر پوچھا گیا کیا مومن کذّاب یعنی جھوٹا ہوتا ہے ؟ فرمایا نہیں ۔ (بیہقی، مشکوۃ)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ مسلمان تو بزدل ہو سکتا ہے، بخیل تو ہو سکتا ہے لیکن یاد رکھے جھوٹا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ الغرض مسلمان یعنی مومن جھوٹ بول نہیں سکتا۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے اس کی بدبو سے فرشتہ ایک میل دور ہٹ جاتا ہے۔ (ترمذی شریف)

نوٹ:جھوٹ کی نحوست یہ ہے کہ جب کوئی جھوٹ بولنا ہے۔ تو جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے رحمت کا فرشتہ ایک میل دور چلا جاتا ہے ۔ اور جھوٹ سے بچو کیوں کہ چھوٹ بولنے والا بدکار کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دونوں دوزخ میں ہوں گے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ تم ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتے یہاں تک کہ تم مزاح میں بھی جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔


الحمد لله، الله پاک کی بے شمار نعمتوں میں سے زبان بھی ایک عظیم نعمت ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پاک کی اس عظیم نعمت کو اس کی اطاعت میں استعمال کریں اور اسے جھوٹ وغیرہ بڑے گنا ہوں سے بچائیں۔ جھوٹ ایک ایسی بری چیز ہے کہ ہر مذہب والے سے اس کی برائی کرتے ہیں۔ تمام ادیان ( دین کی جمع) میں یہ حرام ہے۔ جھوٹے شخص پر سے لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ اسلام نے جھوٹ سے بچنے کی بہت تاکید کی۔ قراٰن مجید میں بہت مواقع پر اس کی مذمت فرمائی گئی اور جھوٹ بولنے والوں پر خدا کی لعنت آئی۔ نیز احادیث میں بھی جگہ بجگہ جھوٹ کی مذمت اور اس کی برائی کی گئی ہے۔ جھوٹ سے بچنے اور سچ کا جذبہ پانے کیلئے جھوٹ کی تعریف اور چند حدیثیں ذکر کی جاتی ہے تاکہ مسلمان انہیں پڑھے اور اس کی توفیق سے ان پر عمل کریں ۔

جھوٹ کی تعریف: کسی کے بارے میں خلاف حقیقت خبر دینا۔ قائل جھوٹا اس وقت ہوگا جبکہ (بلا ضرورت ) جان بوجھ کر جھوٹ بولے ۔ (76 کبیرہ گناہ ،ص99 )

غیبوں کی خبر دینے والے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور وہ باطل چیز ہے اس کیلئے جنت کے کنارے میں مکان بنایا جائے گا اور جس نے جھگڑا کرنا چھوڑا اور وہ حق پر ہے اس کیلئے وسط جنت میں مکان بنایا جائے گا اور جس نے اپنے اخلاق اچھے کیے اس کیلئے جنت کے اعلی درجۂ میں مکان بنایا جائے گا۔( مشکاة شریف، باب حفظ اللسان، ص 412 ) یعنی جنت کا ادنی درجۂ کیونکہ کنارہ ادنی ہوتا ہے ، درمیاں اعلی مگر کنارے سے مراد جنت کا اندرونی کنارہ ہے نہ کے بیرونی جنت اور یہاں حق سے مراد دنیاوی حقوق ہیں نہ کہ دینی حقوق ، جو دین حق کو برباد کرنا چاہے اس کا مقابلہ بقدر طاقت زبان قلم تلوار سے ضرور کریں۔( مراة المناجيح، 6/ 364 )

(2) خاتم النبین رحمۃُ اللعالمین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں: صدق کو لازم کرلو، کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے ۱؎ اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے ۔آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ پاک کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ فُجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کا راستہ دکھاتا ہے۳؎ اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ پاک کے نزدیک کذّاب لکھ دیا جاتا ہے۔ ۔( مشکوٰۃ شریف، باب حفظ اللسان،ص 412 ) مراۃ المناجیح میں ہے : یعنی جو شخص سچ بولنے کا عادی ہو جاوے اللہ پاک اسے نیک کار بنادے گا اس کی عادت اچھے کام کرنے کی ہوجاوے گی، اس کی برکت سے وہ مرتے وقت تک نیک رہے گا برائیوں سے بچے گا۔ اور جو اللہ کے نزدیک صدیق ہو جاوے اس کا خاتمہ اچھا ہوتا ہے اور وہ ہر قسم کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے ہر قسم کا ثواب پاتا ہے اور دنیا بھی اسے سچا کہنے اچھا سمجھنے لگتی ہے، اس کی عزت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے۔جھوٹا آدمی آگے چل کر پکا فاسق و فاجر بن جاتا ہے جھوٹ ہزار ہا گناہوں تک پہنچا دیتا ہے، تجربہ بھی اسی پر شاہد ہے۔ سب سے پہلے جھوٹ شیطان نے بولا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں پہلا تقیہ پہلا جھوٹ شیطان کا کام تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر یہ شخص ہر قسم کے گناہوں میں پھنس جاتا ہے اور قدرتی طور پر لوگوں کو اس کا اعتبار نہیں رہتا لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ( مرآۃ المناجیح، 6/358 )

(3) نور والے آقا محمد مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: خرابی ہے اس کے لئے جو بات کرے تو جھوٹ بولے تاکہ اس سے قوم کو ہنسائے ،اس کے لئے خرابی ہے اس کے لئے خرابی ہے ۔(مشکوٰة شریف، باب حفظ اللسان، ص412)

(4) دونوں عالم کے مالک و مختار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا گیا: کیا مومن بزدل ہوتا ہے؟ فرمایا: ہاں پھر عرض کی گئی کیا مومن بخیل ہوتا ہے ؟ فرمایا: ہاں۱؎ پھر کہا گیا کیا مومن کذاب ہوتا ہے؟ فرمایا :نہیں ۔۲؎( مشکوة شریف ،باب حفظ اللسان، ص414 )۱؎ یعنی مسلمان میں بزدلی یا کنجوسی فطری طور پر ہوسکتی ہے کہ یہ عیوب ایمان کے خلاف نہیں لہذا مؤمن میں ہوسکتی ہیں۔ ۲؎ کذاب فرماکر اس طرف اشارہ ہے کہ مؤمن گاہے بہ گاہے جھوٹ بول لے تو ہوسکتا ہے مگر بڑا جھوٹا ہمیشہ کا جھوٹا ہونا جھوٹ کا عادی ہونا مؤمن ہونے کی شان کے خلاف ہے،یہاں بھی وہ ہی مراد جو ابھی پہلی حدیث میں عرض کیا گیا یا مؤمن سے مراد کامل الایمان لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہت مسلمان جھوٹے ہوتے ہیں۔(مرآۃ المناجیح ، 6 / 376 )

(5) ہم غریبوں کی مدد کرنے والے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس سے ایک میل دور ہو جاتا ہے ۱؎۔ اس بدبو کی وجہ سے جو آتی ہے۲؎ ۔( مشكوٰة باب حفظ اللسان ،ص 413 ) ۱؎ فرشتے سے مراد یا تو نیکیاں لکھنے والا فرشتہ ہے یا حفاظت کرنے والا فرشتہ یا کوئی خاص رحمت کا فرشتہ، گناہ لکھنے والا فرشتہ دور نہیں ہوتا فرشتوں کے مزاج مختلف ہیں۔ میل سے مراد یا تو یہ ہی شرعی میل ہے یعنی فرسخ کا تہائی حصہ یا مراد ہے تاحد نظر زمین۔ ۲؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھی بری باتوں نیک و بد اعمال میں خوشبو اور بدبو ہے بلکہ ان میں اچھی بری لذتیں بھی ہیں مگر یہ صاف دماغ والوں کو صاف طبیعت والوں کو ہی محسوس ہوتی ہیں۔( مرآۃ المناجیح ، 6/ 369 )


پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی کے تحت گوجرانوالہ میں آن لائن مدنی مشورہ ہواجس میں شفٹ تعلیمی ذمہ داران و معاونین نے شرکت کی۔

مدنی مشورے میں خالد محمود عطاری مدنی نے تعلیمی امور اور اس میں انداز تدریس کے متعلق نکات بتائے اورطلبہ کے نصاب بالخصوص فنون پر توجہ دینے کے بارے میں مدنی پھول دیئے ۔ مزید تفتیش میں مزید نکھار پیدا کرنے کا ذہن دیا اور منصب کے مطابق ذمہ دار کو ذمہ داری کے تقاضوں پر پورا اُترنے کی کوشش کرنے کی ترغیب دلائی ۔ (رپورٹ : محمد وقار یعقوب مدنی برانچ ناظم فیضان آن لائن ، کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)


دعوتِ اسلامی  کے زیرِ اہتمام 10نومبر2022ء کو بہاولنگر میں قائم فیضان آن لائن اکیڈمی کی نیو برانچ میں تعمیراتی کاموں کے سلسلے میں ذمہ داران نے دورہ کیا۔

اس موقع پر رکنِ شعبہ مولانا عمران عطاری اورڈویژن ذمہ دار مولانا نعیم رضا عطاری مدنی نے تعمیری کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے مقامی ذمہ دار ناصر عطاری، کنسٹریکشن ڈیپارٹمنٹ کے وسیم عطاری اور حاجی محمد افضل، فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ دار تیمور عطاری کے ساتھ میٹنگ کی اور انہیں مزید کاموں کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ (رپورٹ : محمد وقار یعقوب مدنی برانچ ناظم فیضان آن لائن اکیڈمی ، کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)