حضرت علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جو شخص نماز ترک کرتا ہے:
۱ -اسکی عمر سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔
۲-جو شخص نماز ترک کرتا ہے اس کے چہرے سے صالحین کا نور اٹھا لیا
جاتا ہے۔
۳-جو شخص نماز ترک کرتا ہے اسکی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
۴- جو شخص نماز ترک کرتا ہے اسکا نیک لوگوں کی دعاؤں میں حصہ نہیں ہوتا۔
۵- جو شخص نماز ترک کرتا ہے نزع کے وقت وہ
1-بھوکا مرتا ہے
2-پیاسا مرتا ہے
3-ذلیل ہو کر مرتا ہے۔
دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں یورپین ریجن
کے ملک اٹلی(Italy) میں
بذریعہ اسکائپ ماہانہ مدنی مشورہ ہو اجس
میں کابینہ شعبہ ذمہ داران، ڈویژن نگران
اور روم( Rom) ڈویژن کی جملہ ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔
کابینہ نگران اسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی کارکردگی
کاجائزہ لیتے ہوئے تربیت کی اور نکات برائے ماہ رمضان پر کلام کرتے ہوئے ڈونیشن
جمع کروانے کےمعاون نکات سمجھائے نیز
زیادہ سے زیادہ ڈونیشن جمع کرنے کے اہداف بھی دئیے۔ دعوت اسلامی کے مدنی مقصد کے تحت اٹلی (Itlay )میں مقامی زبان میں اجتماع کروانے، اردو زبان پہ عبور نہ
رکھنے والی اسلامی بہنوں میں اٹالین زبان میں ہفتہ وار رسالہ سینڈ کرنے اور اٹالین
اور اردو کلاسز کے کورسز شروع کروانے کا ذہن دیا۔
دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں اسپین (Spain) میں کابینہ سطح پر مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں بارسلونا (Barcelona) اور میڈرڈ (Madrid)ڈویژن کی ذیلی تا کابینہ سطح کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
کابینہ نگران اسلامی بہن نے ماہِ رمضان کے نکات
بیان کرتے ہوئے رمضان المبارک میں اسلامی بہنوں کو خوب ڈونیشن جمع کرنے کی ترغیب
دلائی اور اپنے علاقوں میں مزید دینی کاموں کو بڑھانے کے متعلق اہم نکات پیش کئے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
صریحاً نماز ہی کو مسلمان اور کافر کے درمیان فارق متمیّز قرار دیا ہے:جس نے جان
بوجھ کر نماز ترک کی ، اس نے گویا کفر کیا۔
(ترمذی شریف، باب ماجاءفی ترک الصلوۃ)
ایک اور مقام پر اسی مفہوم کی
توضیح اس طرح فرمائی گئی ہے: ہمارے اور ان کے درمیان جو عہد ہے، وہ نماز ہے جس نے نماز کو ترک کیا گویا اس نے
کفر کیا، (یعنی عہد سے منہ موڑ لیا)۔
(سنن نسائی، جلد 1 ، صفحہ 54 )
نماز اس قدر اہم عمل ہے کہ دنیا
اور آخرت میں دین کا سارا دارومدار اسی پر ہے، اس سلسلے میں کوتاہی کرنے والے کی ہر دو مقامات پر سخت گرفت فرمائی جائے گی۔ نماز ادا نہ
کرنے والوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اللہ پاک نے متعدد انبیاء و رسُل
کی انفرادی خوبیوں کا ذکر کرنے اور ان کی تعریف کرنے کے بعد فرمایا:
فَخَلَفَ
مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ
یَلْقَوْنَ غَیًّا ، ترجَمۂ کنزُالایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں
گنوائیں(ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا
جنگل پائیں گے ۔(پ16،مریم: 59)
نماز ضائع کرنے کی دو صورتیں ہیں، ایک صورت تو یہ ہے کہ انسان نماز کے بارے میں
لاپرواہ ہو جائے، کبھی جی میں آیا تو پڑھ
لی اور جب پڑھ بھی لی تو وقت بے وقت اور
اتنی جلدی کہ جیسے مرغ ٹھونگ مار رہا ہے، نماز کے دوران کپڑوں یاجسم سے کھیلنا شروع کر دیا، اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا دل نماز میں نہیں
بلکہ جسم باندھا ہوا ہے، اللہ پاک نے ایسے
نمازیوں کے لیے اجر و ثواب کے بجائے سخت
وعید سنائی ہے۔
سورۃ الماعون آیت نمبر 4،5 میں ارشادِ باری ہے: فَوَیْلٌ
لِّلْمُصَلِّیْنَۙ(۴)الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ
صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ(۵) ترجَمۂ کنزُالایمان:
تو ان نمازیوں کی خرابی ہےجو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں ۔
(پ30، الماعون:4،5)
نماز ضائع کرنے کی دوسری صورت یہ ہے کہ انسان
بالکل نماز نہ پڑھے، مسلمان کہلانے کے
باوجود اسے نماز کے الفاظ تک نہ آتے ہوں، یہ صورت پہلی صورت سے بھی زیادہ گھمبیر
اور خطرناک ہے۔
نماز نہ پڑھنے کے دنیوی
نقصانات:
(1) اس کی عمر سے برکت اٹھا لی جاتی ہے یعنی اس کی زندگی بے برکت ہوتی ہے۔
(2) نیک
لوگوں کی نشانی اس کے چہرے سے مٹا دی جاتی ہے۔
(3)ایسا شخص جو بھی نیکی کرے گا
اللہ پاک کے ہاں ثواب نہ پائے گا۔
(4) نماز پڑھنے والا شخص جو بھی دعا مانگے قبول
نہ ہو گی۔
(5)اگر اللہ کے نیک بندے اس کے حق میں کوئی دعا
کرتے ہیں تو ان کی دعا بھی بے اثر ہوتی ہے۔
دعوتِ اسلامی کے شعبہ روحانی علاج للبنات کے زیر
ِاہتمام 08 فروری 2021ء کواسپین (Spain)کی ڈویژن بارسلونا (Barcelona) کے علاقےآرتیگاس (Artigues) میں موجود دعوت اسلامی کے مرکز فیضانِ مدینہ میں اسلامی بہنوں کے لئے
روحانی علاج کا بستہ لگانے کا سلسلہ ہوا جس میں دکھیاری امت کی خیر خواہی کرتے
ہوئے اسلامی بہنوں کو مختلف بیماریوں اور پریشانیوں کے حل کے لئے 88 تعویذاتِ عطاریہ
دیئے گئے جبکہ26 اسلامی بہنوں کی کاٹ بھی کی گئی نیز اسلامی بہنوں کو اجتماعات میں
شرکت کرنے اور دعوت اسلامی کے دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی دعوت بھی دی
گئی۔
صدمحترم قارئین! As
a Muslim ہم بچپن سے ہی سنتے
آر ہے ہیں کہ آخرت میں سب سے پہلا سوال نماز کے بارے
میں ہوگا اور اپنے پیارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان بھی
بارہاں ہمارے کانوں سے ٹکرایا ہوگا کہ نماز ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
دیانت داری سے سے ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں تو ہم اس بات کا بخوبی اندازہ لگا
سکتے ہیں کہ اس معاملے میں ہم میں کس قدر کوتاہیاں ہیں۔
امیردعوت اسلامی مولانا الیاس قادری رضوی دامت
برکاتہم العالیہ اپنے محبوبین و متعلقین
کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میری مان لیجئے ورنہ ڈاکٹر کی ماننا پڑے گی ۔ یہ
درست ہے کہ ہم نفسیاتی مریض ہیں، اللہ خاص کرم فرمائے ۔اگر کسی بھی حوالے سے ہمارے
سامنے side effects آئیں تو
ہماری آنکھیں کھل جاتیں اور اس چیز کی اہمیت اجاگر ہو جاتی ہے، آئیے آج نماز نہ
پڑھنے کے دنیوی side effects بھی
نظروں سے گزارتے ہیں شاید اسی بہانے ہم نماز کے پابند بن جائیں۔
بنتے
کاموں کا بگڑ جانا:
اللہ پاک فرماتا ہے : وَ اْمُرْ
اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ لَا نَسْــَئـلُكَ رِزْقًاؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَؕ وَ الْعَاقِبَةُ
لِلتَّقْوٰى ترجَمۂ
کنزُالایمان: اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ کچھ ہم
تجھ سے روزی نہیں مانگتے ہم تجھے روزی دیں گے
اس آیت مبارکہ کی تفسیر
میں آتا ہے:حضرت انس رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جسے
آخرت کی فکر ہواللہ پاک اس کا دل غنی کر دیتا ہے اور اس کے بکھرے ہوئے کاموں
کو جمع کر دیتا ہے اور دنیاا س کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے،ا ور جسے دنیا کی
فکر ہو، اللہ پاک محتاجی اس کی دونوں
آنکھوں کے سامنے اور اس کے جمع شدہ کاموں کو مُنْتَشر کر دیتا
ہے اور دنیا (کامال ) بھی اسے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لئے مقدر ہے۔
(ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ، ۳۰-باب،۴ / ۲۱۱، الحدیث:۲۴۷۳)
ماتحتوں کی نافرمانی:
نماز نہ پڑھنے والے کے ماتحت غیر ارادی طور پر
اس کے نافرمان بن جاتے ہیں خواہ اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ common sense جب آپ اللہ پاک کی فرمانبرداری کرتے ہیں تو ساتھ رہنے والے آپ سے محبت کرنے لگتے ہیں کیونکہ
جب وہ آپ کی اطاعت الہی دیکھتے ہیں تو ہماری عزت و محبت ان کے دل میں اجاگر ہوتی
ہے اور یہ نہ ہو تو پھر اولاد یا ماتحتوں کو الزام کس منہ سے دیا جائے۔
جسم کے اعضاء میں کمزوری :
نماز کے ارکان ادا کرنے
سے انسان کا جسم تندرست و توانا رہتا
ہے ، صحت برقرار رہتی اور بہت سارے جسمانی
فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔
وقت کی بے قاعدگی:
نماز نہ پڑھنے والے کے
اوقات کار میں بے قاعدگی آجاتی ہے جس کی بنا پر بہت سارے کام یا تو رہ جاتے ہیں یا
ان میں بگاڑ آجاتا ہے اور اگر time management ہو تو بہت سے کاموں کے لئے
وقت مل جاتا ہے۔
اعضاء کی خوبصورتی میں کمی:
نماز کی ادائیگی نہ ہونے سے چہرے اور دیگر اعضاء کے حسن و جمال میں بھی درجہ بدرجہ (gradually) کمی آتی رہتی
ہے اور بالخصوص چہرے کی رونق ماند پڑ جاتی ہے کیونکہ جب بندہ اپنے مہربان رب کے
آگے سجدے میں سر جھکاتا ہے تو خون کا دورانیہ چہرے کے گرد بڑھ جاتا ہے جس کی بناء پر چہرے میں نئی خوبصورتی
پیدا ہوتی رہتی ہے جبکہ نماز سے محروم شخص اس دنیوی فائدے سے محروم رہ جاتا ہے۔
یاد رہے کہ نماز کی حالت
کا سجدہ ہی یہ فائدہ دیتا ہے اور اس خوبصورتی سے مراد دنیوی خوبصورتی نہیں بلکہ
چہرے پر رونق و نور کا آنا ہے کہ سیاہ رنگ کا نماز پڑھنے والا مسلمان بھی بارونق
چہرے والا ہوتا ہے ۔اللہ پاک ہمیں بے غرض
اپنا مطیع و فرمانبردار بنائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام فروری 2021ء کے پہلے ہفتے اسپین (Spain) کی ڈویژن بارسلونا (Barcelona) کے کئی علاقوں میں سنتوں بھرے اجتماعات کا
انعقاد کیا گیا جن میں پارالیل (Paralel)، بئیر امات (Virrei Amat)، لا سالوت (La Salut)، آرتیگاس (Artigues)، ترینیتات (Trinitat)، سانتا کلوما (Santa Coloma) ،بیسوس (Besós)، گوتیکو (Gotico) اور کورنییا (Cornellá) وغیرہ علاقے شامل ہیں۔ان اجتماعات میں کم و بیش
231 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
مبلغاتِ دعوتِ اسلامی نے ” حضرت صدیق ِاکبر رضی اللہ عنہ کا حُسن ِاخلاق“ کے موضوع پر بیانات کئے اور اجتماعات میں شریک
اسلامی بہنوں کو دعوتِ اسلامی کے دینی
کاموں سے آگاہی فراہم کرتے ہوئے ان میں عملی طور پر شرکت کرنے کی تر غیب دلائی۔
شیخ ِطریقت امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جسم
کے مختلف اعضاء بالخصوص زبان اور نگاہ کو گناہوں اور فضولیات سے بچانے کے عظیم
جذبے کے تحت یومِ قفل مدینہ کی دینی تحریک کا آغاز فرمایاچنانچہ فروری2021ء کی پہلی پیر شریف کو اسپین (Spain) کی ڈویژن
بارسلونا (Barcelona) میں یوم قفل منایا
گیا جس میں اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ!152 اسلامی بہنوں نے رسالہ خاموش شہزادہ کا
مطالعہ کیا اور 40 اسلامی بہنوں نے کم و بیش 25 گھنٹے کا قفل مدینہ لگانے کی سعادت
حاصل کی جبکہ 03 اسلامی بہنوں نے ایامِ
قفل مدینہ منانے کی بھی سعادت حاصل کی۔
دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام فروری 2021ء کے
پہلے ہفتے ہالینڈ( Holland )میں بذریعہ اسکائپ سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا
گیا جس میں تقریباً 22 اسلامی بہنوں
نےشرکت کی۔
مکتبہ المدینہ کی کابینہ ذمہ دار اسلامی بہن
نے ”جھگڑے کے نقصانات“ کے موضوع پر بیان کیا اور اجتماعِ پاک میں شریک
اسلامی بہنوں کو جھگڑے سے بچنے کا ذہن دیا
اور صلح کرنے اور معاف کرنے کے بارے میں قراٰن و حدیث کی روشنی میں مدنی پھول پیش
کئے۔
اسلامی بہنوں کے 8 دینی کاموں میں سے ایک دینی
کام ”گھر درس“ بھی ہے ۔گھر درس دینے والے/والیوں کے لئے امیرِ اہل سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ
الْعَالِیَہ فرماتے
ہیں کہ "یا
اللہ مجھے اور جو جو گھر درس دیتے ہیں یا دیتی ہیں
ان سب کو بلکہ ہم سب کو اپنے پیارے حبیب ﷺکے پڑوس میں جنت الفردوس میں جگہ عطا
فرما۔ اے اللہ جو رہتی دنیا تک دعوت اسلامی سے وابستہ رہتے
ہوئے گھر درس کی ترکیب کرتا رہے گا ان سب کے حق میں بھی میری یہ ٹوٹی پھوٹی دعا
قبول کر لے۔"
چنانچہ اسی سلسلے میں جنوری2021ءمیں اسپین (Spain) کے ڈویژن بارسلونا (Barcelona) کے مختلف علاقوں کی کم و بیش153 اسلامی بہنوں نے گھر درس دینے/سننے
کی سعادت حاصل کی جن میں 35اسلامی بہنوں نےگھر درس دینے کی سعادت حاصل کی۔
جس طرح نماز نہ پڑھنے کے اخروی نقصانات بے
شمار ہیں اسی طرح دنیاوی نقصانات بھی بے شمار ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
1 ۔ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: جو نماز کو سستی کی
وجہ سے چھوڑ دے گا اللہ پاک اسے پندرہ سزائیں دے گا جن میں سے پانچ دنیا
میں ملنے والی ہیں اور وہ یہ ہیں:1 ۔ اس
کی عمر سے برکت ختم کر دی جائے گی 2 ۔اس
کے چہرے سے نیک بندوں کی نشانیاں مٹا دی جائے گی3 ۔اللہ پاک اس کے عمل پر ثواب نہ دے گا 4 ۔اس کی کوئی دعا آسمان تک نہیں پہنچے گی 5 ۔نیک بندوں کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا ۔
(کتاب الکبائر
للامام الحافظ الذہبی صفحہ 24)
2 ۔جس طرح گناہ کا عذاب دنیا و آخرت میں بھگتنا
پڑتا ہے یوں ہی نیکی کا فائدہ دونوں جہاں میں ملتا ہے جو بندہ پانچوں نمازیں
باجماعت ادا کرے اس کے رزق میں برکت، قبر میں فراخی نصیب ہوگی اور پل صراط پر سے
آسانی سے گزرے گا جو جماعت کا پابند نہ ہو گا اس کی کمائی میں برکت نہ ہوگی، چہرے
پر مصلحین کے آثار نہ ہوں گے لوگوں کے دلوں میں اس سے نفرت ہوگی ۔ پیاس اور بھوک کی حالت میں جان کنی اور قبر
میں تنگی میں مبتلا ہو گا اور اس کے حساب میں بھی سختی ہوگی ۔ (صراط الجنان جلد 6 صفحہ 263)
3 ۔
سلطان مدینہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صحابہ
کرام رضوان
اللہ تعالی علیہم اجمعین سے
فرمایا کہ دعا کرواے اللہ کریم ہم میں سے
محروم اور بدبخت شخص کو نہ رہنے دینا ۔
فرمایا :جانتے ہو کہ محروم اور بدبخت شخص کون ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی
علیہم اجمعین نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم! وہ کون ہے؟ نبی کریم
صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
نماز ترک کرنے والا ۔ (الزواجر، جلد 1،
صفحہ 296)
4 ۔
والداعلی حضرت حضرت علامہ مولانا نقی علی خان علیہ رحمۃ اللہ الحنان فرماتے ہیں :کہ نماز کا ترک کرنا اور اپنے
مالک کا حکم ٹال دینا سب گناہوں سے بڑا گناہ اور سب بے حیائیوں سے بڑی بے حیائی ہے
۔( انوار جمال مصطفی، صفحہ 345)
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ
خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ
النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) ترجمۂ
کنز العرفان :"بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں
اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں توبڑے سست ہوکر
لوگوں کے سامنے ریاکاری کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتے ہیں
۔"(سورۃ النساء،آیت 122)
صراط الجنان جلد 2 صفحہ
335 میں اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ نماز میں
سستی کرنا منافقوں کی علامت ہے ، نماز نہ پڑھنایا صرف لوگوں کے سامنے پڑھنا جبکہ
تنہائی میں نہ پڑھنا یالوگوں کے سامنے خشوع و خضوع سے اور تنہائی میں جلدی جلدی
پڑھنایا نماز میں ادھر ادھر خیال لے جانا، دلجمعی کیلئے کوشش نہ کرنا وغیرہ سب سستی
کی علامتیں ہیں۔
جہاں نماز میں سستی کرنا اُخروی نقصان کا موجب ہے وہیں منفعتِ دنیا کے قطع کا بھی سبب ہے، البتہ
اختصار کے پیشِ نظر یہاں صرف 5 دنیاوی نقصانات تحریر کیے جاتے ہیں۔
(1 )حَدَّثَنَا
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي
الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ،
بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلاَةِ ۔حضرت جابر رضی اللہ
عنہ سے مروی
ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بندے اور کفر کے
درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے۔"(رواہ مسلم)
حضرت مفتی احمد یار خان
نعیمی مراة المناجیح، جلد 1 ،صفحہ 322 میں
اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں" کہ بندۂِ مومن اور کافر کے درمیان نماز کی دیوار
حائل ہے، جو اس تک کفر کو نہیں پہنچنے دیتی، جب یہ آڑ ہٹ گئی تو کفر کا اس تک پہنچنا آسان
ہوگیا ، ممکن ہے کہ آئندہ یہ شخص کفر بھی
کر بیٹھے، یاد رہے! کہ بعض آئمہ کرام ترکِ
نماز کو کفر بھی قرار دیتے ہیں، بعض کے
نزدیک بے نمازی لائقِ قتل ہے اگر چہ کافر نہیں ہوتا ، ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ علیہ
الرحمۃ کے نزدیک " بے نمازی کو مار
پیٹ اور قید کیا جائے، جب تک وہ نمازی نہ
بن جائے، ہمارے ہاں اس حدیث کا مطلب یہ ہے
کہ بے نمازی قریبِ کفر ہے یا اس کے کفر پر مرنے کا اندیشہ ہے یا ترکِ نماز سے مراد نماز کا انکار یعنی نماز
کا منکر کافر ہے،
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ
الرحمۃ کی
مذکورہ بالا وضاحت سے معلوم ہوا کہ ترکِ نماز دنیا میں بھی بڑے وبال کا باعث ہے حتیٰ
کہ بعض علماء کے نزدیک اسے قتل کر دیا جائے ۔
( 2 )نماز کی پابندی جہاں
اخروی بے شمار خزینے کا سبب ہے وہیں جسمانی اور طبی طور پر بھی بے
حد فائدہ مند ہے اور نماز کو چھوڑنے والا بد نصیب ان تمام فوائد سے بھی محروم رہتا
ہے، چنانچہ جدید تحقیق کہ مطابق قیام میں
نمازی جس حالت میں ہوتا ہے اگر روزانہ پینتالیس منٹ کھڑا رہے تو دماغ اور اعصاب میں
زبردست قوت اور طاقت پیدا ہوتی ہے، قوت فیصلہ
اور قوت مدافعت میں زیادتی ہوتی ہے۔ (سنتِ مصطفیٰ و جدید سائنس، صفحہ 23)
( 3) نمازی جب سجدہ کرتا
ہے تو اس کے دماغ کی شریانیوں کی طرف خون
زیادہ ہو جاتا ہے، جسم کی کسی بھی پوزیشن
میں خون دماغ کی طرف زیادہ نہیں جاتا، صرف
سجدے کی حالت میں دماغی اعصاب آنکھوں اور سر کے دیگر حصوں کی طرف متوازن ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے دماغ اور نگاہ بہت تیز ہوجاتے ہیں۔
(سنتِ مصطفیٰ و جدید سائنس، صفحہ 24)
(4 )ہر مسلمان کو چاہیے
کہ صرف اللہ کی رضا کے لئے نماز پڑھے، اس کے دنیاوی امور خود ہی درست ہوجائیں گے،
ورنہ دونوں جہاں کی رسوائی و ذلت اس کا مقدر ہوجائے گی، حدیث قدسی میں ہے "کہ اللہ پاک فرماتا ہے جب میں
بندے کے دل میں اپنی عبادت کا شوق دیکھتا ہوں تو اس کے امورِ دنیا کو اپنے ذمّہ
کرم پر لے لیتا ہوں ۔"(مجموعہ ارسال، امام غزالی، منہاج العارفین، ص217)اور
نماز چھوڑ کر معاصی کا ارتکاب کرنا وبالِ کبیر ہے اور علماء فرماتے ہیں کہ معاصی کا ارتکاب کرنا بھی حافظہ کمزور کرنے کے
اسباب میں سے ہے۔ (حافظہ کیسے مضبوط ہو، صفحہ
169)
( 5 )میرے شیخ طریقت امیر
اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت
برکاتھم العالیہ کی عظیم الشان تصنیف فیضان نماز، صفحہ
426 پر ایک حدیث نقل فرماتے ہیں جس میں یہ
بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" جو سستی
کی وجہ سے نماز چھوڑے گا، اللہ پاک اسے 15 سزائیں دے گا، پانچ
دنیا میں، تین موت کے وقت، تین قبر میں
اور تین قبر سے نکلتے وقت ۔
دنیا میں
ملنے والی 5 سزائیں
1۔ اس کی عمر سے برکت ختم
کی جائے گی۔
2۔ اس کے چہرے سے نیک
بندوں کی نشانی مٹادی جائے گی۔
3۔اللہ پاک اسے کسی عمل پر ثواب
نہیں دے گا ۔
4۔اس کی کوئی دعا آسمان
تک نہ پہنچے گی۔
5۔۔ نیک لوگوں کی دعا میں
اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔
حکایت: ایک پاکستانی
ڈاکٹر ماجد فزیو تھراپی میں اعلیٰ ڈگری کے لئے یورپ گئے، وہاں ان کو بالکل نماز کی طرح ورزش کرائی گئی
تو حیران رہ گئے کہ ہم نے تو اس کو دینی فریضہ سمجھا لیکن اس سے تو بڑے بڑے امراض
ختم ہوجاتے ہیں جیسا کہ دماغی بیماری،نفسیاتی امراض، جوڑوں کے امراض، معدہ اور
السر کی شکایت، شوگر ، آنکھوں اور گلے کی بیماری سے انسان محفوظ رہتا ہے ۔
(سنتِ مصطفیٰ و جدید سائنس، صفحہ 23)
Dawateislami