میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نمازِ پنجگانہ اللہ عزّوجل کی وہ نعمتِ عظمٰی ہے کہ اس نے اپنے کرمِ عظیم سے خاص ہم کو عطا فرمائی ہم سے پہلے کسی امت کو نہ ملی۔ ([1])

صد کروڑ افسوس! آج مسلمانوں کی اکثریت نماز کی بالکل پروا نہیں کررہی۔نماز نہ پڑھنے کے جہاں اُخروی عذابات ہیں تو وہیں دنیوی نقصانات بھی کچھ کم نہیں ۔آیئے ہم ان دنیوی نقصانات میں سے چند کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں ۔

بد بختی اور محرومی:

سلطانِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک دن صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ارشاد فرمایا:دعا کرو! اے اللہ ہم میں بد بخت اور محروم شخص کو نہ رہنے دینا، پھر ارشاد فرمایا :کیا تم جانتے ہو محروم و بد بخت کون ہے؟ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی یارسولَ اللہ وہ کون ہے ؟ تو فرمایا: نماز ترک کرنے والا۔ ([2])

بے برکتی کا سبب:

مفتی سیّد عبد الفتاح حسینی قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جماعت ترک کرنے نیز بالکل نماز نہ پڑھنے سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔ ([3])

اہل و عیال اور مال کی بربادی:

حضرت سیّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کی نماز ِ

عصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نماز ِ عصر چھوڑے) گویا اس کے اہل وعیال وتر ہو گئے (یعنی چھین لئے گئے)۔ ([4])

مخلوق کی نفرت اور عمر کی بے برکتی:

ایک طویل حدیثِ پاک میں سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نماز نہ پڑھنے کی سزائیں بیان فرمائیں ان میں سے یہ ہے کہ جو سستی کی وجہ سے نماز چھوڑے گا اس کی عمر سے برکت ختم کر دی جائے گی اور دنیا میں اس سے مخلوق نفرت کرے گئی۔ ([5])

کاموں کی بے اعتدالی:

پانچوں نمازیں اپنے مخصوص اور مقرر کردہ اوقات میں ادا کی جاتی ہیں جس سے وقت کی پابندی نصیب ہوتی ہے۔ اگر بندہ نماز نہ پڑھے تو اس بندے سے وقت کی پابندی کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے معاملات میں بے ترتیبی اور کاموں میں بے اعتدالی پیدا ہوجاتی ہے۔

اللہ کریم نماز کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

احمر عارف عطّاری

(درجۂ رابعہ ، جامعۃُ المدینہ فیضانِ مشکل کُشا ، منڈی بہاؤالدین )

([1])فتاویٰ رضویہ،5/43، فیضان نماز،ص8ملخصاً (2) الزواجر،1/296 (3)دولت بے زوال، ص20، فیضان نماز، ص 443ملخصاً (4)بخاری، 1/202، حدیث: 552، فیضان نماز، ص106 (5)کتاب الکبائر،ص24، فیضان نماز،ص 426، 427 ملخصاً۔



([1])فتاویٰ رضویہ، 5/43،فیضان نماز، ص 8 ملخصاً

([3])دولت بے زوال، ص20، فیضان نماز، ص 443ملخصاً

([4])بخاری، 1/202، حدیث: 552، فیضان نماز، ص106

([5])کتاب الکبائر،ص24، فیضان نماز،ص 426، 427 ملخصاً