اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)ترجمہ کنزالایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ،280)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو ‏مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ یقیناً اسلام وہ دین ہے جس نے انسانیت کو محبت، اخوت، حسنِ سلوک، درگزر اور ‏ایک دوسرے کا سہارا بننے کی تعلیم دی ۔ قرآن کریم نے بارہا فرمایا کہ مسلمان کا دل ‏نرم ہو، ہاتھ کھلا ہو اور رویہ ایسا ہو کہ دوسروں کو سہولت پہنچے ۔ اسی سلسلے میں رسولِ ‏اکرم ﷺ نے معاشی معاملات خصوصاً قرض کے باب میں نہایت حکیمانہ اور رحمت ‏بھری ہدایات عطا فرمائیں ۔ قرض وہ معاملہ ہے جس سے کسی کی حاجت پوری ہوتی ‏ہے، مگر وقتِ ادائیگی تنگی یا پریشانی پیدا ہو سکتی ہے ۔ اسی لیے اسلام نے مقروض کے ‏ساتھ نرمی، مہلت اور معافی کو عظیم نیکی قرار دیا ۔ آئیے نبوی تعلیمات سے چند ‏مثالیں سنتیں ہیں ۔

قرض آسان کرنے والے کے لیے دعائے مصطفی ﷺ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا، إِذَا بَاعَ، ‏وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَىترجمہ: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے ‏اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔

(بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی ‏الشراء والبیع، الحدیث: ‏2076 )‏

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان کا معاملہ ہر موقع پر نرم، سہل اور اخلاقی ‏خوبیوں پر مبنی ہونا چاہیے ۔ مزید یہ حدیث قرضدار پر نرمی کی نبوی تعلیمات کا ‏بنیادی اصول ہے:جو شخص دوسروں پر آسانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ‏اس پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے ۔

تنگدست مقروض کو مہلت دینے کا عظیم اجر:‏ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، طَلَبَ غَرِيمًا لَهُ، فَتَوَارَى عَنْهُ ثُمَّ وَجَدَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُعْسِرٌ، فَقَالَ: آللَّهِ قَالَ: آللَّهِ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ،

ترجمہ:‏عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ ‏نے اپنے ایک قرض دار کو تلاش کیا تو وہ ان سے چھپ گیا، پھر (بعد میں) ‏انہوں نے اسے پا لیا تو اس نے کہا: میں تنگ دست ہوں ۔ انہوں نے کہا: اللہ ‏کی قسم؟ اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم! انہوں نے کہا: میں نے رسول ‏ﷺ سے سنا: ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت ‏کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا ‏قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ ‏والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر،حدیث: 4000‏‎ ‎‏)‏

اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ مقروض کی حالت دیکھ کر اس پر ‏سختی نہ کرنا بلکہ اسے وقت دینا،یہ عمل صرف انسانی ہمدردی نہیں بلکہ ایسا ‏عمل ہے جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ خود اپنے عرش کے سائے کے ساتھ دیتا ہے ۔

قرض معاف کرنے کا عظیم مقام: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْه ،‏ترجمہ:‏نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا ‏کرتا تھا جب وہ کسی تنگدست (غیر قادر شخص) کو دیکھتا تو اپنے ملازموں سے ‏کہتا: اسے چھوڑ دو، اس کے بارے میں نرمی اختیار کرو، شاید اللہ ہم پر بھی ‏نرمی فرمائے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو (قیامت کے دن) معاف فرما دیا ۔ (سنن ‏ابن ماجہ،كتاب الزهد،حدیث: 4216)

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے قرضدار کے ساتھ نرم رویہ ‏رکھنے کے بےمثال اجر کو واضح فرمایا ہے ۔ وہ تاجر کوئی بہت بڑا عابد نہ تھا، مگر ‏اس کا ایک عمل"تنگدست مقروض کو چھوڑ دینا، اس سے نرمی کرنا"‏

اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا محبوب ثابت ہوا کہ اللہ نے اس کی لغزشیں ‏معاف فرما دیں ۔

وعدہ خلافی نہ کرنا مگر سختی بھی نہ کرنا:‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ، وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلاَفَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ ،ترجمہ:‏نبی کریم ﷺنے فرمایا: جو کوئی لوگوں کا مال قرض کے ‏طور پر ادا کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا ‏کرے گا اور جو کوئی نہ دینے کے لیے لے، تو اللہ تعالیٰ اس کو تباہ کر دے ‏گا ۔

(صحيح ‏البخاری،كتاب الاستقراض،حدیث: 2387)‏

اس حدیث میں قرض لینے والوں کے لیے سب سے مضبوط اخلاقی اصول بیان ہوا ‏ہے"نیت درست ہو تو اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے ۔ اسلام کی تعلیمات روشن بھی ہیں اور رحمت سے بھرپور بھی ۔ قرض دینا ‏نیکی ہے، مگر قرضدار پر نرمی کرنا اس سے بھی بڑی نیکی ہے ۔ رسول اللہ ‏ﷺ نے مہلت دینے، آسانی کرنے اور حتیٰ کہ معاف کر دینے تک کی ‏ترغیب دی ۔ یہی اوصاف ایک مضبوط، رحم دل اور باکردار معاشرہ ‏تشکیل دیتے ہیں ۔ ہم سب کو چاہیے کہ مالی معاملات میں سختی کے بجائے سہولت کا راستہ ‏اختیار کریں کیونکہ جس نے دوسروں پر آسانی کی، اللہ اس کے لیے دنیا ‏اور آخرت دونوں میں آسانیاں پیدا کرتا ہے ۔