عبد
الرحمن مدنی عطاری (تخصص فی اللغۃ العربیہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور، پاکستان)
اللہ پاک قرآن
پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)ترجمہ
کنزالایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر
بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ،280)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا
نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم
کا سبب ہے ۔ یقیناً اسلام وہ دین ہے جس نے انسانیت کو محبت، اخوت، حسنِ سلوک،
درگزر اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی تعلیم دی ۔ قرآن کریم نے بارہا فرمایا کہ مسلمان کا دل
نرم ہو، ہاتھ کھلا ہو اور رویہ ایسا ہو کہ دوسروں کو سہولت پہنچے ۔ اسی سلسلے میں رسولِ اکرم ﷺ نے معاشی معاملات
خصوصاً قرض کے باب میں نہایت حکیمانہ اور رحمت بھری ہدایات عطا فرمائیں ۔ قرض وہ
معاملہ ہے جس سے کسی کی حاجت پوری ہوتی ہے، مگر وقتِ ادائیگی تنگی یا پریشانی پیدا
ہو سکتی ہے ۔ اسی لیے اسلام نے مقروض کے
ساتھ نرمی، مہلت اور معافی کو عظیم نیکی قرار دیا ۔ آئیے نبوی تعلیمات سے چند مثالیں سنتیں ہیں ۔
قرض آسان
کرنے والے کے لیے دعائے مصطفی ﷺ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا، إِذَا
بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَىترجمہ: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے
اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔
(بخاری،
کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، الحدیث: 2076 )
اس حدیث سے
معلوم ہوا کہ مسلمان کا معاملہ ہر موقع پر نرم، سہل اور اخلاقی خوبیوں پر مبنی
ہونا چاہیے ۔ مزید یہ حدیث قرضدار پر نرمی کی نبوی تعلیمات کا بنیادی اصول ہے:جو شخص دوسروں پر آسانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رحمت نازل فرماتا
ہے ۔
تنگدست
مقروض کو مہلت دینے کا عظیم اجر: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، طَلَبَ
غَرِيمًا لَهُ، فَتَوَارَى عَنْهُ ثُمَّ وَجَدَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُعْسِرٌ،
فَقَالَ: آللَّهِ قَالَ: آللَّهِ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ
الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ،
ترجمہ:عبداللہ
بن ابی قتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ نے اپنے ایک قرض دار کو تلاش کیا تو
وہ ان سے چھپ گیا، پھر (بعد میں) انہوں نے اسے پا لیا تو اس نے کہا: میں تنگ دست
ہوں ۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم؟ اس نے
جواب دیا: اللہ کی قسم! انہوں نے کہا: میں نے رسول ﷺ سے سنا: ارشاد فرمایا’’جو
شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت
کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔
(مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر،حدیث: 4000 )
اس حدیث
پاک سے معلوم ہوا کہ مقروض کی حالت دیکھ کر اس پر سختی نہ کرنا بلکہ اسے وقت دینا،یہ
عمل صرف انسانی ہمدردی نہیں بلکہ ایسا عمل ہے جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ خود اپنے
عرش کے سائے کے ساتھ دیتا ہے ۔
قرض معاف
کرنے کا عظیم مقام: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ
بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا
رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ
يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْه ،ترجمہ:نبی
کریم ﷺ نے فرمایا، ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب وہ کسی تنگدست (غیر
قادر شخص) کو دیکھتا تو اپنے ملازموں سے کہتا: اسے چھوڑ دو، اس کے بارے میں نرمی
اختیار کرو، شاید اللہ ہم پر بھی نرمی فرمائے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو (قیامت کے دن) معاف فرما دیا ۔ (سنن ابن ماجہ،كتاب الزهد،حدیث: 4216)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے قرضدار کے ساتھ نرم رویہ
رکھنے کے بےمثال اجر کو واضح فرمایا ہے ۔
وہ تاجر کوئی بہت بڑا عابد نہ تھا، مگر اس کا ایک عمل"تنگدست مقروض کو چھوڑ
دینا، اس سے نرمی کرنا"
اللہ تعالیٰ
کے ہاں اتنا محبوب ثابت ہوا کہ اللہ نے اس کی لغزشیں معاف فرما دیں ۔
وعدہ خلافی
نہ کرنا مگر سختی بھی نہ کرنا: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى
اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا
أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ، وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلاَفَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ ،ترجمہ:نبی کریم ﷺنے فرمایا: جو کوئی لوگوں کا مال قرض کے طور پر ادا کرنے
کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا کرے گا اور جو کوئی نہ دینے
کے لیے لے، تو اللہ تعالیٰ اس کو تباہ کر
دے گا ۔
(صحيح
البخاری،كتاب الاستقراض،حدیث: 2387)
اس حدیث میں
قرض لینے والوں کے لیے سب سے مضبوط اخلاقی اصول بیان ہوا ہے"نیت درست ہو تو
اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے ۔ اسلام کی
تعلیمات روشن بھی ہیں اور رحمت سے بھرپور بھی ۔ قرض دینا نیکی ہے، مگر قرضدار پر نرمی کرنا اس سے بھی بڑی نیکی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے مہلت دینے، آسانی کرنے اور حتیٰ
کہ معاف کر دینے تک کی ترغیب دی ۔ یہی
اوصاف ایک مضبوط، رحم دل اور باکردار معاشرہ تشکیل دیتے ہیں ۔ ہم سب کو چاہیے کہ
مالی معاملات میں سختی کے بجائے سہولت کا راستہ اختیار کریں کیونکہ جس نے دوسروں
پر آسانی کی، اللہ اس کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں آسانیاں پیدا کرتا ہے ۔
Dawateislami