محمد عمر فاروق عطاری ( درجہ رابعہ
جامعۃ المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ،پاکستان)
صبر کا
معنی ہے: نفس
کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز
سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
بنیادی
طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1) بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان
پر ثابت قدم رہنا (2) طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو تو قابلِ
تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، 4 / 82) (تفسیر صراط الجنان : پارہ 2 البقرہ : 153)
قرآن
پاک میں صبر کے بےشمار فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ ترغیب کے طور پر چند ملاحظہ ہوں:
(1) اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے : اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَ
اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو بیشک اللہ
صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10،
الانفال: 46)
(2) آزمائش سے کیا مراد ہے؟ اللہ تعالی قرآن مجید میں ایک اور مقام پر فرماتا ہے: وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
اس آیت
میں لفظ بِشَیْءٍ کی
تفسیر میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ پاک نے اس لفظ سے مسلمانوں کو تسکین دی ہے
کہ زیادہ گھبراو مت، تھوڑا سا خوف اور کچھ بھوک میں مبتلا کر کے آزمایا جائے گا۔ وَ
نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- سے مراد جانوں کے نقصان مثلاً دوست اور قرابت
داروں یعنی رشتے داروں کا وبائی امراض میں مبتلا ہو کر مر جانا جبکہ پھلوں کی کمی سے
مراد باغات اور کھیتوں کا آسمانی آفات مثلاً اولے پڑنا یا ٹڈی وغیرہ کا مسلط ہو جانا کہ جن کے سبب اناج برباد
ہو جائیں۔ (تفسیرِ نعیمی: پارہ 2 البقرہ تحت الآیۃ)(صبر
کے فضائل، ص 5)
(3)
حاجتوں کی تکمیل کا ذریعہ سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)
یعنی
اے مسلمانو! تم رضائے الٰہی کے حصول اور اپنی حاجتوں کی تکمیل میں صبر اور نماز سے
مدد چاہو۔
(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ)(صراط الجنان: البقرہ آیت 45)
صبر سے اور نمازوں سے چاہو مدد
پوری کروائے ہر ایک حاجت نماز(وسائل فردوس)
(4) بخشش اور بڑا ثواب : اللہ تعالی سورہ ہود میں ارشاد فرماتا ہے: اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالایمان:مگر
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
اس آیت
سے معلوم ہوا کہ نعمت چھن جانے پر صبر کرنا اور راحت ملنے پر شکر کرنا اور بہر
صورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہنا مومن کی شان ہے۔ (صراط الجنان ہود : آیت 11 تحت الآیۃ)
ہے صبر تو خزانۂ فِردوس بھائیو!
عاشق کے لب پہ شکوہ کبھی بھی نہ آسکے(وسائل فردوس)
(5) ظلم پر صبر : سورہ
شوریٰ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ
لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور
بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ:
43)
یعنی جس نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا
اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے
کاموں میں سے ہے کہ اس میں نفس سے مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس
تقاضا کرتاہے لہٰذا اسے مغلوب کرنا بہادری ہے۔ (صراط الجنان: سورہ شوریٰ: آیت 42 تحت الآیۃ)
میاں
محمد بخش صاحب کیا خوب فرماتے ہیں:
چپ رِہ سیں تاں
موتی مل سَن ، صبر کرِیں تاں ہیرے
پاگلاں وانگوں رولا پاویں نہ موتی نہ ہیرے
چُپ
رَہو گے تو موتی ملیں گے ، صبر کرو گے تو ہیرے ملیں گے اور اگر پاگلوں کی طرح
شَوْر مچاتے رہو گے تو مصیبت سے چھٹکارا ملے نہ ملے ، موتی اور ہیروں (یعنی ثوابِ
آخرت سے ضرور) محروم ہو جاؤ گے۔
اللہ تعالی ہمیں پیارے آقا ﷺ کے صدقے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
بجاہ خاتم الانبیاء و المرسلین ﷺ
Dawateislami