صبر کے متعلق فرمان: ایک بزرگ فرماتے ہیں مکہ مکرمہ میں تھا کہ میں نے ایک فقیر کو دیکھا وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا میں نے اپنی جیب سے ایک رقعہ نکال کر اسے دیکھا اور چل پڑا دوسرا دن ہوا تو پھر اس نے اسی طرح کیا اور فرماتے ہیں میں اسے کئی دن تک دیکھتا رہا وہ اسی طرح کرتا تھاایک دن اس نے طواف کیا اور ر قعے پر نظر کی اور کچھ دور گیا اور مر گیا اس کی جیب سے رقعہ نکالا اور اس پر لکھا ہوا تھا: وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا ترجمہ کنزالایمان:اور اے محبوب تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہوکہ بیشک تم ہماری نگہداشت میں ہو۔ (پ27، الطور: 48)

صبر کی تعریف : صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز پر روکنا ہے جس پر روکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یہ نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عمل اور شریعت تقاضا کر رہی۔

وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ- ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ اُنہوں نے صبر کیا۔ (پ21، السجدۃ: 24)

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ بِمَا صَبَرُوْاؕ- ترجمہ کنز الایمان:اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا بدلہ ان کے صبر کا۔ (پ9، الاعراف:137)

اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا ترجمہ کنز الایمان : ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا بدلہ ان کے صبر کا۔ (پ 20، القصص: 54)

اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)