عبدالرحمن
عطاری مدنی ( تخصص فی اللغۃ العربیۃ جامعۃ
المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ،پاکستان)
’’صبر كےلغوی معنى ركنے،ٹھہرنے یا باز رہنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر
روکنا ۔ ڈٹ جانا) جس پر رکنے (ڈٹے رہنے کا
عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل
اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے ۔ (مفردات امام
راغب، حرف الصاد، ص474)
زندگی خوشی اور غم، آسانی اور مشکل، نفع اور نقصان کا مجموعہ ہے۔ انسان جب کسی آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے تو اس
کے کردار اور ایمان کا اصل امتحان صبر کے ذریعے ہوتا ہے۔ صبر وہ نور ہے جو دل کو سکون، زبان کو شکر، اور
عمل کو استقامت عطا کرتا ہے۔ قرآن مجید میں صبر کو ایمان کا جزوِ اعظم قرار
دیا گیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لیے بے شمار بشارتیں سنائی ہیں۔ درحقیقت صبر ہی وہ اخلاقی قوت ہے جو انسان کو
مایوسی سے بچا کر اُمید اور یقین کی راہ دکھاتی ہے۔ قرآنِ حکیم میں صبر کا ذکر کئی مقامات پر مقامات پر آیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صبر نہ صرف اخلاقی خوبی ہے بلکہ ایمان کی علامت اور
نجات کا ذریعہ بھی ہے۔ آئیے چند آیات کو ترجمہ اور مختصر
وضاحت کے ساتھ دیکھتے ہیں:
(1) صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت: ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،البقرۃ:
153)
یہ آیت
مومن کو یہ یقین عطا کرتی ہے کہ صبر کی حالت میں وہ تنہا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ
خود اس کے ساتھ ہے۔
حضرت
علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ (اپنے
علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں
کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے
کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر
سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 169)
(2) صبر اور شکر کا توازن: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ
بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ
الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں
کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور
صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ:
155)
یہ آیت
زندگی کی حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ آزمائشیں ایمان کا حصہ ہیں۔ مگر ساتھ ہی بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ فرما کر امید کی شمع روشن کی گئی یعنی
جو ثابت قدم رہے، اس کے لیے ربّ کی بشارت ہے۔
رسول
کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا
ارادہ فرماتا ہے تو اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے(بخاری، کتاب المرضی، باب شدۃ
المرض، 4 / 4، الحدیث: 5646)
(3) صبر اور مغفرت کا تعلق: اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان: مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام
کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
یہاں
صبر کو عملِ صالح کے ساتھ جوڑ کر واضح کیا گیا کہ صبر محض برداشت نہیں بلکہ مثبت
طرزِ عمل ہے جو انسان کو نیکی کی طرف بڑھاتا ہے۔ تاجدارِ
رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر
اس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں پر ظاہر نہ کیا
تو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ اس کی مغفرت فرمادے۔ (معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ
احمد، 1 / 214، الحدیث: 737)
(4) صبر کا اجر بے حساب : اِنَّمَا
یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے
والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
یہ آیت صبر کی عظمت کا بلند ترین مقام بیان کرتی ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ دیگر اعمال کا اجر ایک
خاص پیمانے پر ملتا ہے، مگر صبر کا بدلہ اللہ تعالیٰ خود عطا فرماتا ہے، جس کی
کوئی حد نہیں۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے
علاوہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا کیونکہ صبر کرنے والوں
کوبے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا۔ (خازن،
الزمر، تحت الآیۃ: 10 ، 4 / 51)
قرآنِ کریم صبر کو محض دکھ سہارنے کا عمل نہیں بلکہ ایک اخلاقی تربیت کے
طور پر پیش کرتا ہے۔ صبر انسان کو غصہ، انتقام، حسد
اور مایوسی سے بچاتا ہے۔ یہ کردار میں ٹھہراؤ اور دل میں یقین پیدا کرتا
ہے۔ آج کے معاشرے میں جہاں ہر شخص جلد بازی اور بے
صبری میں مبتلا ہے، وہاں قرآنی تعلیم یہ سبق دیتی ہے کہ صبر ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں صبر، شکر اور رضا کی نعمت عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami