علی رضا (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
صبر کا
لغوی معنی برداشت کرنا اور روکنا ہے، جبکہ
اصطلاح میں یہ مشکلات اور آزمائشوں میں اللہ کی رضا پر ثابت
قدم رہنا ہے۔ یہ ایمان کی ایک بنیادی صفت ہے، جس میں اطاعت
پر ثابت قدمی، گناہوں سے رُکنا، اور مصیبتوں کو برداشت کرنا شامل ہے۔ اس
پر چند آیات قرآنی ملاحظہ کیجئے:
(1): وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ
اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶) ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور
اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1،
البقرۃ:45، 46)
تفسیر
صراط الجنان: وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ:اور صبر اور نماز سے مددحاصل
کرو۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ
اس سے پہلی آیات میں بنی اسرائیل کوسید المرسَلین ﷺ پر ایمان لانے ،ان کی شریعت
پر عمل کرنے ،سرداری ترک کرنے اور منصب و مال کی محبت دل سے نکال دینے کا حکم دیا
گیا اور ا س آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل! اپنے نفس کو
لذتوں سے روکنے کے لئے صبر سے مدد چاہو اور اگر صبر کے ساتھ ساتھ نماز سے بھی مدد
حاصل کرو تو سرداری اورمنصب و مال کی محبت دل سے نکالنا تمہارے لئے آسان ہو جائے
گا، بیشک نماز ضرور بھاری ہے البتہ ان لوگوں پر بھاری نہیں جو دل سے میری طرف
جھکتے ہیں۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم رضائے الٰہی کے حصول اور اپنی
حاجتوں کی تکمیل میں صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 45، 1
/ 50)
(2): یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان:یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اے ایمان والو۔ اس
سے پہلی آیات میں ذکر اور شکر کا بیان ہوا اور اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا
جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی
ہے ۔ اس
آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی
خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے اور نماز چونکہ تمام عبادات کی اصل
اوراہل ایمان کی معراج ہے اور صبر کرنے میں بہترین معاون ہے اس لئے اس سے بھی مدد
طلب کرنے کا حکم دیاگیا اور ان دونوں کا بطور خاص اس لئے ذکر کیاگیا کہ بدن پر
باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے مشکل نمازہے ۔ (روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ:153,1 /
257، ملخصاً)
حضورسید المرسلین ﷺ بھی نماز سے مدد چاہتے تھے جیساکہ حضرت حذیفہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’ نبی کریم ﷺ کو جب کوئی سخت مہم پیش آتی تو آپ ﷺ نماز میں مشغول ہوجاتے ۔ ( ابو داؤد، کتاب التطوع، باب وقت قیام
النبی ﷺ من اللیل، 2 / 52، الحدیث: 1319)
(3): اَلصّٰبِرِیْنَ
وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ
بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجمۂ
کنز الایمان: صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور
پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
تفسیر صراط الجنان: اَلصّٰبِرِیْنَ: صبر
کرنے والے۔ دنیا کے طالبوں کا ذکر کرنے کے بعد مولیٰ
عَزَّوَجَلَّ کی طلب رکھنے والے مُتَّقین کا بیان کیا گیا تھا۔ یہاں
ان کے کچھ اوصاف بیان کئے جارہے ہیں۔
(1)
متقی لوگ عبادت و ریاضت کے باوجود اپنی اطاعت پر ناز نہیں کرتے بلکہ اپنے مولیٰ
عَزَّوَجَلَّ سے گناہوں کی مغفرت اورعذاب ِ جہنم سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔
(2)
متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز گناہوں سے بچنے پر ڈٹے رہتے ہیں۔
(3)
متقی لوگوں کے قول ،ارادے اورنیّتیں سب سچی ہوتی ہیں۔
(4)
متقی لوگ اللہ تعالیٰ کے سچے فرمانبردار ہوتے ہیں۔
(5)
متقی لوگ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔
(6)
متقی لوگ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں ، نماز
پڑھتے ہیں ، توبہ و استغفار کرتے ہیں ، رب تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری اور مناجات
کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ رات کا آخری پہر نہایت فضیلت
والا ہے، یہ وقت خَلْوَت اور دعاؤں کی قبولیت کا ہے۔ حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے فرزند سے فرمایا تھا کہ’’
مرغ سے کم نہ رہنا کہ وہ تو سَحری کے وقت ندا کرے اور تم سوتے رہو۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 14، 1 / 234)
(4): یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو
اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل
عمران: 200)
تفسیر صراط الجنان: اِصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا:صبر
کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو۔ صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو
شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر
کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا
کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور
مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا
سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے
منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے۔ (خازن،
اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 1 / 340، تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 3/200 /
473، ملتقطاً)
(5): قَالَ
مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِ اللہ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ
لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۱۲۸) ترجمۂ
کنز الایمان:موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو اور صبر کرو بیشک زمین
کا مالک اللہ ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے اور آخر میدان پرہیزگاروں کے
ہاتھ ہے۔ (پ9،الاعراف:
128)
تفسیر صراط الجنان: قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ:موسیٰ
نے اپنی قوم سے فرمایا۔ فرعون
کے اس قول کہ ’’ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے‘‘ کی وجہ سے بنی اسرائیل میں
کچھ پریشانی پیدا ہوگئی اور اُنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کی شکایت کی،
اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کرو، وہ تمہیں کافی ہے اور آنے والی مصیبتوں اور بلاؤں
سے گھبراؤ نہیں بلکہ ان پرصبر کرو، بیشک زمین کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے اور زمینِ
مصر بھی اس میں داخل ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے۔ یہ
فرما کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو تَوَقُّع دلائی کہ فرعون اور اس
کی قوم ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل اُن کی زمینوں اور شہروں کے مالک ہوں گے اور انہیں
بشارت دیتے ہوئے فرمایا ’’ اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: 128، 2 / 129، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ:
128، ص381، ملتقطاً)
Dawateislami