انسان
کی زندگی کبھی خوشی اور سکون سے بھری ہوتی ہے اور کبھی غم اور پریشانیوں سے۔ یہ
دنیا دراصل ایک امتحان ہے، جہاں ہر انسان کو مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی دولت کی کمی، کبھی بیماری، کبھی دکھ اور صدمات، تو کبھی خواہشات کی
آزمائش۔ ایسے وقت میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی
ہے وہ ہے صبر صبر کا مطلب صرف چپ چاپ برداشت کرنا نہیں بلکہ
اپنے دل کو مطمئن رکھنا، اللہ کی رضا پر راضی رہنا اور مشکل وقت میں بھی نیکی اور
ہمت کا دامن نہ چھوڑنا ہے۔ قرآن
پاک نے صبر کرنے والوں کو خوشخبریاں دیں، ان کے لیے اجر عظیم کا وعدہ کیا اور انہیں
اللہ کی خاص مدد اور رحمت کا مستحق قرار دیا۔ اسی
لیے صبر ہر مسلمان کی زندگی میں روشنی اور کامیابی کا راستہ ہے۔ سب
سے پہلے تو صبر کی تعریف جانتے ہیں۔
صبر کی
تعریف : صبر کا
معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا
نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
قرآن مجید میں کئی مقامات پر صبر کے بارے میں بیان
کیا گیا ہے ۔ ان میں سے چند ایک آیات ذیل میں مذکور ہیں :
(1) صبر
سے مدد چاہو: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز
العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ
صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،
البقرۃ: 153)
اس آیت
مبارکہ کی تفسیر میں تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ حضرت علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن
یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ
اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر
سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 169)
(2)صبر
کرنے کا حکم: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز العرفان : اے ایمان والو!صبر کرو
اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواوراسلامی سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے
رہو ا س امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ (پ4،
آل عمران: 200)
تفسیر صراط الجنان : مُصَابَرہ کا معنی ہے
دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر
کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا
کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور
مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا
سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے
منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے ۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 1 / 340، تفسیر
کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 3 / 473، ملتقطاً)
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں صبر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
Dawateislami