صبر ایک
عظیم صفت ہے جو اسلام میں نہایت بلند مقام
رکھتا ہے۔ قرآن مجید میں صبر کو بار بار ذکر کیا گیا ہے،
اور صابرین کی تعریف اور ان کے لیے انعامات کی بشارت دی گئی ہے۔ صبر کا مفہوم محض برداشت تک محدود نہیں، بلکہ یہ ثابت قدمی، استقلال، ضبط
نفس، اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا ایک وسیع مفہوم اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
قرآن مجید میں صبر کا تصور: قرآن مجید میں تقریباً 90 سے زائد مقامات پر صبر
کا ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صبر کو مومن کی ایک بنیادی صفت
قرار دیا ہے۔ صبر ہر حالت میں مطلوب ہے ،خوشی ہو یا غم، تکلیف
ہو یا نعمت، مصیبت ہو یا فتنہ، مومن ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ البقرہ میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ
الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ
ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اس آیت
میں صبر کو ایک طاقت، ایک ذریعہ مدد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یعنی
جب انسان کسی مشکل میں مبتلا ہو تو وہ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کرے۔
صبر کی
اقسام: علماء
نے قرآن کی روشنی میں صبر کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے:
طاعت
پر صبر: اللہ کے احکامات پر عمل کرنے میں صبر کرنا، جیسے نماز کی پابندی، روزہ
رکھنا، صدقہ دینا وغیرہ۔
معصیت
سے بچنے پر صبر: گناہوں سے بچنے کے لیے نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھنا۔
مصیبت
پر صبر: دکھ، بیماری، موت، نقصان یا کسی اور آزمائش پر جزع و فزع کیے بغیر اللہ کی
رضا میں راضی رہنا۔
صبر
کرنے والوں کا مقام: اللہ تعالیٰ نے صابرین کے لیے عظیم اجر اور درجات کا
وعدہ کیا ہے۔ سورہ الزمر میں فرمایا:
اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے
والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
یعنی
صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اتنا اجر عطا فرمائے گا جس کی کوئی حد نہیں ہوگی۔ ان
کے لیے نہ صرف دنیا میں کامیابی ہے بلکہ آخرت میں بھی بلند مقام ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا:
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ
مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ
الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم
ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے
آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ آزمائش زندگی کا حصہ ہے، لیکن کامیاب وہی ہے جو صبر کرے اور اللہ
پر بھروسا رکھے۔
انبیاء
کرام کی زندگی میں صبر: قرآن میں مختلف انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں
سے ہمیں صبر کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔
حضرت ایوب
علیہ السلام: جنہوں نے شدید بیماری، مال و اولاد کے نقصان پر صبر کیا۔ اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا:وَ
خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْؕ-اِنَّا وَجَدْنٰهُ
صَابِرًاؕ-نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴) ترجمۂ کنز العرفان:اور (فرمایا) اپنے ہاتھ
میں ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دو اور قسم نہ توڑو۔ بے شک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا ۔ وہ کیا
ہی اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔ (پ23،
صٓ: 44)
حضرت یوسف
علیہ السلام: جنہوں نے بھائیوں کی زیادتی، غلامی، قید، اور جھوٹے الزام پر صبر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا و آخرت میں بلند مقام عطا فرمایا۔
حضرت
محمد ﷺ: جنہوں نے کفارِ مکہ کی طرف سے ظلم و ستم، تکذیب، اور طعن و تشنیع پر صبر کیا
اور کبھی بدلہ نہ لیا، بلکہ معاف کر دیا۔
صبر کا
نتیجہ اور اجر: صبر کا سب سے بڑا اجر اللہ کی قربت ہے۔ قرآن کریم میں ہے: اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:بیشک اللہ صابروں کے
ساتھ ہے۔ (پ2،البقرۃ:
153)
یہ سب
سے بڑی خوشخبری ہے، کیونکہ اگر اللہ ساتھ ہو، تو کوئی مصیبت بڑی نہیں رہتی۔
قرآن مجید کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صبر
ایک مومن کی پہچان ہے۔ یہ نہ صرف مشکلات میں ڈٹے رہنے کا نام ہے بلکہ
اللہ کی رضا پر راضی رہنے، اس کی طرف رجوع کرنے اور اپنی نفسانی خواہشات پر قابو
پانے کا نام ہے۔ جو شخص صبر کرتا ہے، وہ دراصل اللہ سے اپنے
تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔
لہٰذا،
ہمیں قرآن سے یہ سبق لینا چاہیے کہ ہر حال میں صبر کا دامن تھامے رکھیں، کیونکہ یہی
کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
اللہ
پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami