علی
حماد عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان
جمال مصطفی تاجپورہ لاہور ،پاکستان)
زندگی
میں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اللہ پاک کبھی اپنے بندوں کو مرض سے
، کبھی جان و مال کی کمی سے ، کبھی دشمن کے خوف سے اور کبھی مختلف قسم کی پریشانیوں
سے آزماتا ہے خصوصاً دین کی راہ اور تبلیغ دین میں تو کئی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے
، اسی سے تو واضح ہوتا ہے کہ کون فرمانبردا اور کون نافرمان ہے کون محبت کے دعوے میں
سچا اور کون صرف زبانی دعوے کرنے والا ہے ، جو دین میں جتنا بلند مرتبہ ہوگا اس کو
اتنی ہی زیادہ مشکلات پیش آئیں گی اسی لئے تو انبیاء کرام علیہم السلام کو سب سے زیادہ
مشکلات پیش آئیں۔
فی
زمانہ اس حوالے سے بہت ناگزیر حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں بہت سے نادان ایسے ہیں
جو بیماری و پریشانی میں وہ کچھ بول جاتے ہیں کہ اللہ کہ پناہ اور بعض نادان تو
کفریہ کلمات بول کر اپنے ایمان کا سودہ کر بیٹھتے ہیں، ذیل میں قرآن پاک کی کچھ آیات
پیش خدمت ہیں جن میں صبر کے متعلق بہت سے مدنی پھول موجود ہیں جن میں ہمارے سیکھنے
کیلئے بہت کچھ ہے:
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- ترجمۂ
کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان میں ہے : آیت میں نماز اور صبر کا بطور خاص اس لئے ذکر کیاگیا کہ بدن
پر باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے مشکل نمازہے ۔
صبر کی
تعریف : صبر کا
معنی ہے نفس کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو
(مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
اسی
آیت کے اگلے حصے میں اللہ پاک نے صبر کرنے والوں کو ایک عظیم بشارت بھی عطا فرمائی
، چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے : -اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز العرفان: بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اس کے
تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے : حضرت علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر
کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ
ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ ( تفسیر صراط الجنان : البقرہ 2 آیت 153)
(2) - وَ
لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ(۹۶) ترجمہ
کنزالعرفان: اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر
ضرور دیں گے۔ (پ14،
النحل:96)
اس
متعلق حدیث مبارکہ ملاحظہ ہو جس میں صبر کی جزا کا بیان ہے :
حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یَقُوْلُ
اللہُ تَعَالٰی مَا لِعَبْدِی الْمُؤْمِنِ عِنْدِیْ جَزَاء ٌ اِذَا قَبَضْتُ صَفِیَّہُ
مِنْ أَہْلِ الدُّنْیَا ثُمَّ احْتَسَبَہُ اِلَّا الْجَنَّۃُ ترجمہ:’ اللہ عزَّوَجَلَّ فرماتا ہے، جب میں اپنے مومن بندے سے اس کی کوئی دنیوی محبوب چیز لے لوں ،
پھر وہ صبر کرے تو میرے پاس اس کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔ ‘ (بخاری، کتاب الرقاق، باب العمل الذی یبتغی
بہ وجہ اللہ، 225/4 ،حدیث:6424)
(3) -اُولٰٓىٕكَ
عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷) ترجمہ کنزالعرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان
کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ : 157)
اس آیت
مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے :
امام
محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ ’’ احیاء العلوم ‘‘میں فرماتے ہیں : ’’ حضرت فتح موصلی
رحمۃ اللہ علیہ کی زوجہ پھسل گئیں تو ان کا ناخن ٹوٹ گیا،اس پر وہ ہنس پڑیں ،ان سے
پوچھا گیا کہ کیا آپ کو درد نہیں ہو رہا؟ انہوں نے فرمایا: ’’اس کے ثواب کی لذت
نے میرے دل سے درد کی تلخی کو زائل کر دیا ہے۔ (
تفسیر صراط الجنان: پارہ 2 : البقرہ آیت 157 بحوالہ احیاء علوم الدین، کتاب الصبر
والشکر، بیان مظان الحاجۃ الی الصبر۔ ۔ ۔ الخ، 4/ 90)
صبر سے
متعلق چند فضائل ملاحظہ ہوں:
(1)قرآن
پاک میں 70 یا 75 بار صبر کا ذکر ہوا
(2)ساری
عبادتوں کی جزا جنت ہے اور صبر کی جزا خود رب تعالیٰ جیسا کہ اوپر آیت سے معلوم
ہوا
(3)وعدہ
الہی کے اگر تم صبر کرو گے تو ہم پانچ ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد فرمائیں گے
(4)
صبر کرنے والوں پر اللہ پاک کی خاص رحمت ہے
(5)صبر
سے استقلال اور ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے جو کہ کامیابی کا پیش خیمہ ہے بغیر استقلال
کوئی بھی دینی یا دنیوی کام نہیں بن سکتا۔ (
تفسیر نعیمی ،پارہ 2 آیت البقرہ ، آیت نمبر 153 صفحہ )
آخر میں
مصیبت پر صبر کرنے کے چند آداب بیان ملاحظہ ہوں تاکہ جب کبھی ہم پر مصیبت و پریشانی
آئے تو ہمیں معلوم ہو کہ صبر کا طرح کرنا ہے ، مصیبت پر صبر کرنے کے کئی آداب ہیں
، ان میں سے 4آداب یہ ہیں جنہیں علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی
کتاب’’مختصر مِنہاجُ القَاصِدین‘‘ کے صفحہ277 پر ذکر فرمایا ہے:
(1) جب
مصیبت پہنچے تو اسی وقت صبر و اِستِقلال سے کام لیا جائے، جیسا کہ حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ صبر صدمہ کی ابتدا
میں ہوتاہے۔ (بخاری،
کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، 1 / 433، الحدیث: 1283)
(2)مصیبت
کے وقت ’’اِنَّا
لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھا جائے ،جیسا کہ حضرت ام سلمہ رضی
اللہ عنہا کا عمل اوپر گزرا ہے کہ انہوں
نے اپنے شوہر کے انتقال پر ’’ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ
رٰجِعُوْنَ‘‘
پڑھا۔
(3) مصیبت
آنے پرزبان اور دیگر اعضا سے کوئی ایسا کلام یا فعل نہ کیا جائے جو شریعت کے خلاف
ہو جیسے زبان سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکوہ و شک آیت کے کلمات بولنا، سینہ پیٹنا
اورگریبان چاک کر لینا وغیرہ۔
اللہ
پاک ہمیں بھی صبر کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مصیبت پر صبر کرنے والا بنائے
آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami