صبر‘‘ كےلغوی معنى ركنے،ٹھہرنے یا باز رہنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر روکنا (یعنی ڈٹ جانا) جس پر رکنے (ڈٹے رہنے کا)کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے۔ (نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ 44 ، 45 ) قرآن میں صبر کی بہت اہمیت ہے اور اس کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں، جن میں مصیبت پر صبر، اللہ کی اطاعت پر صبر، اور گناہوں سے بچنے کے لیے صبر شامل ہیں۔ صبر کرنے والوں کو اللہ کی مدد اور کامیابی کا یقین دلایا گیا ہے، اور اسے نصف ایمان بھی قرار دیا گیا ہے۔

آیئے اب ہم صبر کا بیان قرآن مجید فرقان حمید میں ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے: وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَۙ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ کنز العرفان : اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )

(2) مدد حاصل کرنا : وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶) ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)

(3) رب کی رضا چاہنا : وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ(۲۲) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر کیا اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کیا اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالتے ہیں انہیں کے لئے آخرت کا اچھا انجام ہے۔ ( پ 13 ، الرعد : 22)

(4) اللہ تبارک وتعالی ساتھ ہوتا ہے : وَ اَطِیْعُوا اللہ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنز العرفان: اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں بے اتفاقی نہ کرو ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا (قوت) اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بیشک اللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ 10 ، الانفال: 46)

(5) بخشش اور بڑا ثواب ہے : اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

( 6 ) مکرو فریب تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا : اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ٘-وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَاؕ-وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْ۔ ۔ ٴً۔ اؕ-اِنَّ اللہ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠(۱۲۰) ترجمہ کنز العرفان: اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبرکرو اورتقویٰ اختیار کرو تو ان کا مکروفریب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ بیشک اللہ ان کے تمام کاموں کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ ( پ 4 ، آل عمران: 120)

مذکورہ بالا تمام آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہم پر جتنی بھی مصیبتیں آئیں ہمیں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ، صبر رضا الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے ۔

دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالی زندگی کے تمام معاملات صبر وتحمل کے ساتھ سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ