انسانی معاشرے کی بنیاد باہمی اعتماد اور بھروسے پر قائم ہے اور اس اعتماد کی روح "عہد و پیمان" کی پاسداری میں پوشیدہ ہے۔ جب انسان ایک دوسرے سے کیے گئے وعدوں کو اہمیت دینا چھوڑ دیتا ہے، تو معاشرے کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور عدل و انصاف کی جگہ بے یقینی اور فتنہ و فساد لے لیتے ہیں۔ اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اس معاملے میں نہایت حساس ہے۔ قرآن کریم کی روشنی میں بدعہدی محض ایک اخلاقی عیب نہیں بلکہ ایک سنگین روحانی جرم ہے جو انسان کو اللہ کے غضب اور لعنت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ ایفائے عہد کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے، جبکہ وعدہ خلافی کو منافقت قرار دیا گیا ہے۔

قساوتِ قلبی یعنی دل کا سخت ہو جانا وہ بدترین سزا ہے جس کے بعد انسان ہدایت کی تڑپ سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن کریم کی یہ آیت مبارکہ بدعہدی کے انجام کو واضح کرتی ہے:

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚترجمہ کنز الایمان:تو ان کی کیسی بدعہدیوں پر ہم نے انہیں لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیے۔(سورۃ المائدہ، آیت: 13)

ایک اور مقام پر اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہیں جو دنیاوی مفادات کی خاطر اپنے عہد کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں نہ کوئی حصہ ہے اور نہ ہی اللہ کی رحمت حاصل ہوگی۔ ارشادِ ربانی ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔ (سورۃ اٰل عمران، آیت: 77)

بدعہدی کا ایک ہولناک پہلو یہ ہے کہ اسے زمین پر فساد پھیلانے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق جو لوگ اللہ کے عہد کو مضبوط کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور ان تعلقات کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، وہی لوگ درحقیقت خسارہ پانے والے ہیں۔ یہ خسارہ صرف دنیاوی نہیں بلکہ ابدی ہے۔ وعدہ خلافی کرنے والے کی مثال اس عورت کی سی دی گئی ہے جو خود ہی محنت سے سوت کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے یعنی بدعہدی انسان کی تمام تر نیکیوں اور ساکھ کو برباد کر دیتی ہے۔ قیامت کے دن بدعہدی کرنے والے کی رسوائی کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا جس سے اس کی بے وفائی کا چرچا سرِ عام ہوگا۔ پس قرآنی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ عہد کی پاسداری اللہ کی محبت اور جنت کے حصول کا راستہ ہے، جبکہ بدعہدی ذلت، لعنت اور دائمی ناکامی کا پیش خیمہ ہے۔

اسلام میں عہد کی وفاداری کو دین کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے اور بدعہدی کو ایک مہلک گناہ اور منافقت کی علامت ٹھہرایا گیا ہے۔ قرآن کی رو سے وعدہ خلافی کرنے والا نہ صرف انسانی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ اللہ کی رحمت سے محروم اور سخت ترین اخروی سزا کا حقدار بن جاتا ہے، اس لیے ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے قول و قرار کی لاج رکھے۔

بد عہدی ایک ایسا گناہ ہے جس کی قرآن مجید میں سخت وعید آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے "ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر۔ (سورۃالرعد:25)

بد عہدی کا مطلب ہے کہ کسی سے عہد یا وعدہ کرنا اور پھر اسے توڑ دینا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی شرافت اور اخلاق کو نشانہ بناتا ہے۔ اسلام میں عہد کو پورا کرنا بہت ضروری ہے اور بد عہدی کرنا ایک بڑا جرم ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا :ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔ (سورۃالبقرہ، آیت 27)

بد عہدی کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ یہ انسان کی شرافت اور اخلاق کو نشانہ بناتی ہے اور اس کے نتیجے میں انسان کو دنیا اور آخرت میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسلام میں عہد کو پورا کرنا بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ :ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کا عہد پورا کروجب قول باندھو۔ (سورۃالنحل، آیت 91)

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا :ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ الاسراء، آیت 34)

ان آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں عہد کو پورا کرنا بہت ضروری ہے اور بد عہدی کرنا ایک بڑا جرم ہے۔بد عہدی سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے عہد کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بد عہدی سے بچنے کی توفیق دے اور ہمیں اپنے عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

بدعہدی یعنی وعدہ خلافی ایک نہایت قبیح، مذموم اور معاشرتی اعتبار سے تباہ کن صفت ہے جسے اسلام نے سختی کے ساتھ ناپسند فرمایا ہے۔ انسانی معاشرہ باہمی اعتماد، سچائی اور وعدوں کی پاسداری پر قائم ہوتا ہے۔ جب افراد اپنے عہد و پیمان کو پورا کرتے ہیں تو معاشرے میں امن، سکون اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے، لیکن جب وعدہ خلافی عام ہو جائے تو بداعتمادی، فساد اور انتشار جنم لیتا ہے۔ اسی لیے شریعتِ مطہرہ نے بدعہدی کو نہ صرف اخلاقی برائی قرار دیا بلکہ اسے ایمان کی کمزوری اور نفاق کی علامت بھی بتایا ہے۔

قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر عہد پورا کرنے کی تاکید اور بدعہدی کی مذمت بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ الاسراء: آیت نمبر 34)

اسی طرح فرمایا:وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم

ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کا عہد پورا کروجب قول باندھو۔ (سورۃ النحل: آیت نمبر 91)

مزید ارشاد ہوتا ہے:وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا

ترجمہ کنز الایمان: اور اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا۔(سورۃ النحل: آیت 92)

نیز بدعہدی کرنے والوں کے انجام کے بارے میں فرمایا:

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر۔ (سورۃ الرعد: آیت نمبر 25)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں ۔(سورۃ البقرہ: آیت نمبر 27)

ان آیاتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ وعدہ پورا کرنا اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے اور بدعہدی اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور لعنت کا سبب بنتی ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں بھی بدعہدی کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

آیة المنافق ثلاث: إذا حدّث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان

ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف کرے، اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث: 33؛ صحیح مسلم، حدیث: 59)

ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ارشاد فرمایا:لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد لهترجمہ: جس میں امانت داری نہیں اس کا ایمان نہیں، اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا دین نہیں۔(مسند احمد: 12567؛ شعب الايمان للبیہقی)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ خلافی نہ صرف ایک اخلاقی برائی ہے بلکہ یہ نفاق کی علامت اور ایمان کی کمزوری کا سبب بھی ہے۔ ایک سچا مسلمان کبھی بھی جان بوجھ کر اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔بدعہدی کے معاشرتی نقصانات بھی نہایت سنگین ہیں۔ جب لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کھو دیتے ہیں تو کاروباری معاملات، رشتے اور تعلقات سب متاثر ہوتے ہیں۔ دوستیاں ختم ہو جاتی ہیں، خاندانی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور معاشرہ بدامنی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، وعدہ پورا کرنے والے افراد معاشرے میں عزت و وقار حاصل کرتے ہیں اور لوگ ان پر بھروسہ کرتے ہیں۔

اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہم اپنے ہر وعدے کو پورا کریں، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ حتیٰ کہ معمولی معاملات میں بھی وعدہ خلافی سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہی چھوٹی باتیں انسان کے کردار کی تعمیر کرتی ہیں۔ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے وعدہ پورا نہ ہو سکے تو معذرت کرنا اور وضاحت پیش کرنا بھی اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ بدعہدی ایک ایسی برائی ہے جو انسان کے دین و دنیا دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے عہد و پیمان کا پابند ہو، سچائی، دیانت داری اور وفاداری کو اپنی زندگی کا شعار بنائے اور بدعہدی جیسے قبیح عمل سے مکمل اجتناب کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا، معاشرتی سکون اور حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

عہد وہ وعدہ ہے جو انسان اللہ تبارک و تعالی اور بندوں سے کرتا ہے اور اسے پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بندوں سے کیے گئے وعدوں کا پورا کرنا درحقیقت عہد الہی کا پورا کرنا ہے ۔وعدہ خلافی انسانیت سے گری ہوئی بات ہے لہذا وعدے کی خلاف ورزی کرنا اسلام میں سخت ناپسندیدہ ہے اور عہد شکنی کرنے والا ہر عقلمند کے نزدیک ناپسندیدہ کہلاتا ہے عہد شکنی کرنے والا سب کے نزدیک بے اعتماد ہوتا ہے ۔

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ(۲۰)

ترجمہ کنز الایمان: وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور قول باندھ کر(وعدہ کر کے) پھرتے نہیں۔ (سورۃ الرعد آیت نمبر 20)

یعنی آخرت کا اچھا انجام انہیں  کے لئے ہے جو اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد پورا کرتے ہیں  کہ اس کی ربوبیت کی گواہی دیتے ہیں  اور اس کا حکم مانتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد اور ان معاہدوں  کو توڑتے نہیں  جو انہوں  نے لوگوں  کے ساتھ کئے ہوتے ہیں ۔

عہد شکنی کرنے والے پر اللہ کی لعنت :

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (پارہ نمبر 6 ، سورۃ المائدہ ،آیت نمبر 13)

کوئی پھٹکار ذلت رسوائی اور عذاب بلاو جہ نہیں ہوتا بلکہ انسان کی اپنی نافرمانیوں کوتاہیوں عہد شکنی اور بد عہدی کی وجہ سے ہوتا ہے بد اعمالی اور وعدہ خلافی سے دل سخت ہو جاتے ہیں عہد شکنی پر جو سزائیں آخرت میں ملنی ہیں وہ تو برحق ہیں لیکن مسلسل سرتابی اور عہد شکنی سے جو سزا دنیا میں ملتی ہے وہ کم اہم نہیں۔

عہد شکنی کرنے والے کا محروم ہونا :

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔ (پارہ نمبر 3 ،سورۃ اٰل عمران، آیت نمبر 77)

اسلام نے ایفائے عہد پر بہت زیادہ زور دیا ہے ایفائے عہد سے معاشرے میں اعتماد محبت اور امن پیدا ہوتا ہے جبکہ وعدہ خلافی سے نفرت اور بد اعتمادی جنم لیتی ہے عہد کرنا اور توڑ دینا آج معاشرے کا ایک وطیرہ بن چکا ہے ہمیں ہر حال میں اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے اور عہد شکنی سے بچنا چاہیےتاکہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکیں۔


وعدہ خلافی کی تعریف: وعدہ کرتے وقت ہی نیت یہ ہو کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ نہیں کروں گا یہ وعدہ خلافی ہے۔

وعدہ خلافی کے متعلق احکام: وعدہ خلافی یعنی پورا نہ کرنے کی نیت سے وعدہ کرنا جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہے جو کہ حرام کام ہے، اس نیت سے وعدہ کیا کہ اس کو پورا کروں گا ایسا وعدہ کرنا جائز ہے اور اس کو پورا کرنا مستحب ہے، جب وعدے کو کسی چیز کے حاصل ہونے یا حاصل نہ ہونے کے ساتھ معلق کیا گیا ہو تو جب وہ شرط پائی جائے گی وعدہ پورا کرنا لازم ہوگا، مثلا کسی سے کہا کہ یہ چیز فلاں شخص کو بیچ دو اگر اس نے قیمت ادا نہیں کی تو میں ادا کروں گا پھر خریدار نے قیمت ادا نہیں کی تو اب اس پر قیمت ادا کرنا لازم ہے۔(ظاہری گناہوں کی معلومات، ص 34)

اللہ پاک نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:

(1) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بے شک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (پ 15، بنی اسرائیل: 34)

(2) وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا ترجمہ کنزالایمان:اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔(سورۃالانعام 6آیت 152)

(3) وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ترجمہ کنز الایمان :اور اللہ کا عہد پورا کرو۔(سورۃ النحل16 آیت 91 )

(4) اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ترجمہ کنز العرفان: تمام عہد پورے کیاکرو۔(سورۃ الماہدۃ ۵ آیت1)

اللہ عزوجل سے وعدہ خلافی کرنا منافقین کا طرز عمل ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (پارہ 10، سورۃ التوبۃ: 77)

عہد شکنی کی مذمت پر مشتمل3اَحادیث ذکرکرتے ہیں :

(1)حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: تم میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ذمہ دار ہوتا ہوں ۔ (۱)جب بات کرو سچ بولو۔ (۲) جب وعدہ کرو اسے پورا کرو۔ (۳) جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے اسے ادا کرو ۔ (۴)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔ (۵) اپنی نگاہیں نیچی رکھو ۔ (۶) اپنے ہاتھوں کو روکو۔‘‘(مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث عبادۃ بن الصامت رضی اللّٰہ عنہ، ۸ / ۴۱۲، الحدیث: ۲۲۸۲۱) یعنی ہاتھ سے کسی کو ایذا نہ پہنچاؤ ۔

(2) حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن عہد شکنی کرنے والے کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔‘‘(بخاری، کتاب الادب، باب ما یدعی الناس بآبائہم، ۴ / ۱۴۹، الحدیث: ۶۱۷۷)

(3) حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا ہو گا جس کے ذریعے وہ پہچانا جائے گا۔(بخاری، کتاب الحیل، باب اذا غصب جاریۃ فزعم انّہا ماتت۔۔۔ الخ، ۴ / ۳۹۴، الحدیث: ۶۹۶۶)


اللہ عزوجل نے بنی نوع انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور انہیں دنیا میں بھیج کر کچھ اصول و ضوابط عطا فرمائے۔ ان اصولوں میں سے ایک انتہائی اہم اصول "وعدے کی پاسداری" ہے۔ ایمان اور بد عہدی کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں، کیونکہ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو اپنے ہر وعدے اور معاہدے کو اللہ پاک کا حکم سمجھ کر پورا کرے۔ بد عہدی (وعدہ توڑنا) معاشرتی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب ہے، جس کی وجہ سے باہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور معاشرے میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ اسلام نے جہاں حقوق العباد پر زور دیا ہے، وہیں وعدہ خلافی کرنے والوں کے لیے سخت قرآنی وعیدیں بھی بیان کی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بد عہدی کرنے والوں کی سخت مذمت فرمائی ہے اور وعدہ پورا کرنے کا تاکیدی حکم دیا ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت 34)

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن ہر چھوٹے بڑے وعدے کا حساب لیا جائے گا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔ (پارہ 6، سورۃ المائدہ، آیت 1)

نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیثِ مبارکہ میں بد عہدی کو منافقت کی علامت قرار دیا ہے، جو ایک مسلمان کے لیے انتہائی شرمندگی کا مقام ہے۔

"منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف ورزی کرے اور جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔"(صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب علامات المنافق، حدیث 33، جلد 1، صفحہ 18)

ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا:"جس میں چار خصلتیں ہوں، وہ خالص منافق ہے... اور جب وعدہ کرے تو دغا کرے۔"(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان خصال المنافق، حدیث 106، جلد 1، صفحہ 78)

بد عہدی کرنے والا شخص معاشرے میں اپنی ساکھ اور عزت کھو دیتا ہے۔ سلف صالحین کا یہ معمول تھا کہ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے۔

بد عہدی انسان کے ایمان کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور معاشرے میں بے اعتباری پیدا کرتی ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم وعدہ کرنے سے پہلے خوب سوچیں اور اگر کر لیں تو اسے نبھانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دیں۔ اگر ہم اپنی آخرت سنوارنا چاہتے ہیں تو ہمیں بد عہدی سے توبہ کر کے عہد کی پاسداری کا عملی پیکر بننا ہوگا۔ اللہ پاک ہمیں وعدے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔


عالمی و ملکی سطح کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت اسلام آباد کے بلیو ایریا میں واقع سرسید ڈیف ایسوسی ایشن میں اسپیشل پرسنز (گونگے اور بہرے افراد) کے لیے 15 جولائی 2026ء کو ایک انتہائی اہم حلقے کا انعقاد کیا گیا۔

مذکورہ تاریخ کو منعقدہ اس حلقے کا مقصد معاشرے کے اس اہم طبقے (اسپیشل پرسنز) کو دینی و اصلاحی موضوعات پر رہنمائی فراہم کرنا اور انہیں اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنا تھا۔

حلقے کے دوران اسپیشل پرسنز کو اسلام کے بنیادی اور فرض علوم سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا نیز٭نماز اور طہارت کے بنیادی مسائل٭درست عقائد کی پہچان٭سنتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر عمل پیرا ہونے کے طریقے٭روزمرہ زندگی کو اسلامی شعار کے مطابق ڈھالنے کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کیں۔

اس موقع پر نیکی کی دعوت عام کرنے کی ترغیب دلائی گئی اور اسپیشل پرسنز کو دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے مختلف دینی و فلاحی شعبہ جات کا تعارف کروایا گیا جبکہ حلقے میں ڈیپارٹمنٹ کے صوبائی ذمہ داران کامران عطاری اور بدر شفیق عطاری بھی موجود تھے۔

اسپیشل پرسنز کی آسانی کے لیے صوبائی ذمہ دار بدر شفیق عطاری نے اشاروں کی زبان (Sign Language) کا استعمال کرتے ہوئے ”مختصر زندگی میں نیک اعمال اور اللہ پاک کی رضا “ کے موضوع پر نہایت ہی مؤثر اور جامع انداز میں بیان کیا جسے وہاں موجود حاضرین نے دلی دلچسپی کے ساتھ سنا اور اس سے بھرپور فائدہ حاصل کیا۔(رپورٹ: کامران قدير بن عبد القدير صوبائی ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کےشعبہ روحانی علاج کے زیرِ اہتمام اورنگی ٹاؤن، کراچی کی جامع مسجد سبحانی میں 6 تا 19 جولائی 2026ء کو جزوقتی ”روحانی علاج کورس“ کا انعقاد کیا گیا جس میں کراچی سٹی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

مختلف موضوعات پر تربیت اور رہنمائی:

کورس کے دوران شعبہ روحانی علاج کے معلم مولانا محمد ناصر عطاری مدنی نے عاشقانِ رسول کو روحانی علاج کے حوالے سے اہم نکات سکھائے اور اُن کی رہنمائی کرتے ہوئے درج ذیل اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی:

٭تعویذات لکھنے کا شرعی اور درست طریقہ ٔکار٭مریضوں کو دم کرنے اور کاٹ کرنے کا طریقہ٭روحانی علاج کے دوران کی جانے والی ضروری احتیاطیں٭شعبہ روحانی علاج کے حوالے سے جدید اور نئی اپڈیٹس٭امتِ مسلمہ کی غمخواری کا جذبہ اور اس کی اہمیت٭دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں عملی شمولیت اختیار کرنا۔(رپورٹ: سمیر علی عطاری اسسٹنٹ منیجر شعبہ روحانی علاج ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے  ڈیپارٹمنٹ آف مدنی کورسز گرلز کے تحت 1 ستمبر 2025ء کو ”عقیدہ ختمِ نبوت “ کے حوالے سے ہونے جا رہا ہے آن لائن کڈزسیشن کا انعقاد جس میں 7 تا 12 سال کی بچیاں اور 9 سال سے کم عمر کے بچے شرکت کر سکیں گے۔

معلومات کے مطابق 1 ستمبر 2025ء کو ہونے والے اس کڈزسیشن کا دورانیہ 1 گھنٹہ ہوگا جس میں مختلف موضوعات پر بچوں اور بچیوں کی رہنمائی و تربیت کی جائے گی جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

٭ختمِ نبوت کی اہمیت(آیات و احادیث)٭صحابۂ کرام علیہم الرضوان کا عقیدہ٭یومِ دعوتِ اسلامی کا مختصر ذکر٭دلچسپ ایکٹیویٹیز۔

23 اگست 2025ء بمطابق 29 صفرالمظفر 1447ھ کی شب دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں علمِ دین سے بھرپور مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں کراچی اور دیگر شہروں سے آئے ہوئے کثیر عاشقانِ رسول نے براہِ راست جبکہ بیرونِ ملک کے عاشقانِ رسول نے بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

تلاوتِ قراٰن و نعتِ رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے اور ولادتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بارے میں بتایا۔

بعض سوال و جواب:

سوال: چاندنبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے روشنی لئے ہوئے ہے ،کیا ہم اسی لئے جشنِ ولادت کے موقع پر روشنی(چراغاں) کرتے ہیں؟

جواب:یہ بات تودرست ہے کہ چاندنبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے روشنی لئے ہوئے ہے جیساکہ حضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریرفرمایا ہے۔بہرحال روشنی کرنا ،لائٹیں لگانا یہ سب خوشی کے اظہارکے طریقے ہیں، جشنِ ولادت میں خوشی کرنا جائز اوربزرگوں،علماوصلحا سے ثابت ہے بلکہ حقیقت یہ کے کہ ہمیں اس موقع پر روشنی کرنا علمائے کرام نے ہی سکھایاہے۔اچھی نیت جس میں دکھاوا، رِیا وغیرہ ذاتی مفاد نہ ہو جائز طریقے سے ضرور روشنی (چراغاں) کیجئے۔اپنی عمارت، گھر، صحن اورگلیوں کو لائٹوں سے سجائیں ،اپنے دل کو توبہ ،نمازوں کی پابندی ،سنتوں پر عمل کرکے سجائیں ،چہرے کو نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنت ایک مٹھی داڑھی شریف رکھ کرسجائیں ۔سرکو زلفیں رکھ کر اورعمامہ شریف کا تاج پہن کرسجائیں ،بدن کو سنتوں بھرا لباس پہن کرسجائیں ،بدن کا ظاہربھی سجاناہے اورباطن بھی سجانا ہے ۔اس سال ”1500 واں جشنِ ولادت“ اس دُھوم دھام سے منانا ہے کہ شیطان کو کہیں منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے ۔اس کے لئے دعوتِ اسلامی کے دِینی ماحول سے وابستہ ہوجائیں۔

سوال:مشاہدہ اورخبرمیں کیافرق ہے ؟

جواب:مشاہدہ یعنی دیکھنا ،خبریعنی بات جو ہم سنتے ہیں ،مشاہدہ خبرسے معتبراورزیادہ قابلِ قبول ہے ۔

سوال:سیدی اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلسنت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ اپنے گھروالوں کے ساتھ کیسے تھے ؟

جواب:سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ولی اللہ ،مفتیِ اسلام اورمجتہدفی المسائل تھے۔آپ کروڑوں مسلمانوں کے پیشوا ہیں۔علمائے کرام نے انہیں چودہویں صدی کا مجددلکھا ہے، ظاہرہے ان کا گھر میں کردار بھی اعلیٰ تھا ،اس لئے آپ کے بیٹے اور پوتے بھی بڑے بڑے نامور علما بنے ۔آپ کے دونوں صاحبزادے حجۃ ُالاسلام حضرت علامہ حامدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ اورمفتی اعظم ہند مفتی محمد مصطفی رضا خان رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے عالم اور مفتی تھے ۔ میں اعلیٰ حضرت والا ہوں ،مجھے اعلیٰ حضرت والارہنا اورمرنا ہے ،میں مسلکِ اعلیٰ حضرت سے ہٹنے کے لئے کسی قیمت پر تیارنہیں ۔آپ سب بھی ہمیشہ اعلیٰ حضرت والے رہنا ،ان شاء اللہ الکریم دونوں جہاں میں بیڑا پارہوگا۔

سوال: کیا علم کی تعظیم کا بھی کوئی فائدہ ہے ؟

جواب:جی ہاں!علم کی تعظیم کے بہت فوائدہیں ، علامہ شمس حلوانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مجھے جو مقام ملا ہے وہ علم کی تعظیم کی وجہ سے مِلاہے، میں نے کبھی بھی کسی کاغذکو بے وضو ہاتھ نہیں لگایا ۔

سوال:ربیع الاول شریف میں سیرتِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بارے میں کتابیں پڑھنے کا جذبہ کیسے ملے ؟

جواب: دِل میں نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت اُجاگرکریں ،سُستی اُڑائیں اورباوضوہوکر پڑھا کریں ۔آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت کا مطالعہ کرنے سےمعلومات میں بے حد اضافہ ہوگا ، جتنی معلومات زیادہ ہوں گی تو اتناہی جذبۂ محبتِ رسول بھی بڑھے گا ۔

سوال:سادگی میں عظمت ہے ،سادگی کس کس میں ہے ؟

جواب:سادگی رہن سہن،لباس ،مکان ،کھانے پینےسب میں ہونی چاہیئے ۔سادگی نہ ہونے کی وجہ سے آج مہنگائی ہے ،اس لئے بزرگوں کاقول ہے کہ جوچیز مہنگی ہوجائے اسے خریدناچھوڑدیں ۔اس کے کئی فوائد ہیں مثلاً سادہ غذاکھانے والا کم بیمارہوتاہے اورمُرغَّن یعنی تیل مصالحہ والی غذاکا عادی زیادہ بیمارہوتاہے۔

سوال: 14 اگست اور 31 دسمبر وغیرہ کی راتوں میں کیااحتیاط کی جائے ؟

جواب:ہمارے ملکِ پاکستان میں 14 اگست اور 31 دسمبر کو بالخصوص رات کے وقت چھت اورسڑکوں پر نہیں آنا چاہیئے، ہوائی فائرنگ سے کوئی نقصان ہوسکتاہے۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” اَرْبَعینِ عطاّر (قسط 3) پڑھنے یاسُننے والوں کوامیراہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یا اللہ پاک ! جو کوئی 40 صفحات کا رسالہ ”اَرْبَعینِ عطاّر (قسط 3) پڑھ یا سُن لے، اُسے اپنے پیارے پیارے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا جنّت میں پڑوسی بنا۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کراچی (کورنگی) :

23 اگست 2025ء کو ڈپٹی کمشنر کورنگی، SSP آپریشن اور SSP ٹریفک کے زیرِ نگرانی 12 ربیع الاول 1447ھ کے حوالے سے ایک اہم مشترکہ میٹنگ منعقد ہوئی جس میں شعبہ رابطہ برائے شخصیات دعوتِ اسلامی کے ذمہ داران نے بھی شرکت کی جس کا مقصد اس طرح کے ایونٹس کے پرامن و محفوظ انعقاد کے لئے حکمت عملی اختیار کرنا تھا۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ کورنگی میں 26 اگست 2025ء کو ہونے والے اسلامی بہنوں کے اجتماعات کی کنٹینجینسی، 3 بڑی رات کے میلاد اجتماعات اور 45 جلوسوں کے لئے سول و سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔(رپورٹ: شعبہ رابطہ برائے شخصیات ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


مالاکنڈ ڈویژن، صوبہ خیبرپختونخوا کے ڈسٹرکٹ باجوڑ میں شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے وفاقی وزیر مبارک زیب کے فوکل پرسن میاں حبیب گل سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے انہیں دعوتِ اسلامی کی عالمی سطح پر ہونے والی دینی خدمات بالخصوص FGRF کی فلاحی خدمات کے بارے میں بتایا اور عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی کا وزٹ کرنے کی دعوت دی جس پر انہوں نے دعوتِ اسلامی کی کاوشوں کو سراہا اور اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: شعبہ رابطہ برائے شخصیات ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)