حسد انسان کی فطرت میں پایا جاتا ہے۔ حسد بدترین صفت ہے اور یہی سب سے پہلا گناہ ہے جو آسمان میں ابلیس سے سر زد ہوا اور زمین میں قابیل سے۔ حسد ایک ایسی بری عادت ہے جس سے انسان کا جسم تو متاثر ہوتا ہی ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ اس کا دین و ایمان بھی متاثر ہوتا ہے۔ دعوتِ اسلامی کے مکتبۃُ المدینہ کی کتاب احیاء العلوم ، جلد 3 صفحہ 658 پر ہے: حضرت سیدنا زکریا علیہ السّلام نے فرمایا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: حاسد میری نعمت کا دشمن ہے، میرے فیصلے پر ناخوش اور میری اُس تقسیم پرناراض ہوتا ہے جومیں نے اپنے بندوں کے درمیان کی۔

حسد کی تعریف: کسی کی دینی یا دنیاوی نعمت کے زوال (یعنی اس کے چھن جانے) کی تمنا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے، اس کا نام حسد ہے۔ (الحدیقۃ الندیۃ ،الخلق الخامس عشر۔۔۔الخ ،1/600)حسد کا حکم : اگر انسان کے اختیار و ارادے سے دل میں حسد کا خیال آئے اور وہ اس پر عمل بھی کرتا ہے یا بعض اعضاء سے اس کا اظہار کتا ہے تو یہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (الحدیقہ الندیہ، 1/ 601) حسد کرنا بالاتفاق حرام ہے۔ (المرجع السابق)

حسد کی مذمت پر 5 فرامین مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:(1)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: حسد نیکیوں کو اس طرح کھا تا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھاتی ہے اور صدقہ خطا کو بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ ،کتاب الزھد، باب الحسد،4/473،حدیث: 4210) (2)حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: حسد ایمان کو اس طرح تباہ کر دیتا ہے جیسے صَبِر (یعنی ایک درخت کاانتہائی کڑوا نچوڑ) شہد کو تباہ کر دیتا ہے۔(جامع صغیر، حرف الحائ، ص232، حدیث: 3819)

(3)حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی، حسد اور بغض۔ یہ مونڈ دینے والی ہے ،میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، 4/ 228،حدیث: 2518)حسد اور بغض یہ (دونوں) دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ " کہ تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: حسد اور بغض اس طرح کہ دین ایمان کو جڑ سے ختم کر دیتی ہے کبھی انسان بغض و حسد میں اسلام ہی کو چھوڑ دیتا ہے شیطان بھی انہیں دو بیماریوں کا مارا ہوا ہے (مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 6، حدیث: 5039 K)

(4)فرمانِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: ابلیس (اپنے چيلوں سے) کہتا ہے: انسانوں سے ظلم اور حسد کے اعمال کراؤ کیونکہ یہ دونوں عمل اللہ پاک کے نزدیک شرک کے برابر ہیں۔(جامع الاحادیث،3/60، حدیث:7269)

(5)الله پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ پاک کی نعمتوں کے بھی دشمن ہوتے ہیں ۔ عرض کی گئی: وہ کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا: وہ جو لوگوں سے اس لئے حسد کرتے ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے فضل و کرم سے اُن کو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ۔(شعب الایمان ، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد، الحدیث تحت الباب، 5 / 263)

میں حسد کیوں کروں؟ حضرت سیِّدُنا اِمام محمدبن سِیْرِین رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے دنیا کی کسی چیز پر کسی سے حسد نہیں کیا کیونکہ اگر وہ شخص جنتی ہے تو میں دنیا کی وجہ سے کیسے اس سے حسد کر سکتا ہوں جبکہ دنیا تو جنت کے مقابلہ میں بہت حقیر ہے اور اگر وہ جہنمی ہے تو میں دنیا کے کسی معاملے پر کیوں اس سے حسد کروں جبکہ اس کا انجام ہی جہنم ہے۔ (احیاء العلوم (مترجم)، 3/662)

یاد رہے کہ حسد حرام ہے۔ حسد سے محبت، شفقت، صلہ رحمی اور ایثار و قربانی کے بنیادی اسلامی جذبات بھی فنا ہو جاتے ہیں اور حسد انسانیت کے لئے زہر قاتل ہے ۔ حسد ایمان کیلئے تباہ کن ہے۔ معلوم ہو ا جس سے حسد کیا جا رہا ہے وہ مطمئن ہے۔ اور جو انسان اپنے دل میں حسد کر رہا ہے وہ پریشان ہے۔ گویا حاسد اپنے آپ کو خوامخواہ ایک موذی مرض میں مبتلا کر رہا ہے۔ اور اس موذی مرض کا علاج نہ کرنے کی صورت میں انسان دنیا میں اللہ پاک کی ناشکری کی طرف جا نکلتا ہے اور پھر آخرت کا وبال اپنی جگہ۔

حسد کا علاج: حسد بلکہ تمام گناہوں سے توبہ کیجئے۔ حسد کی تباہ کاریوں پر نظر رکھیے ، حسد سے بچنے کے فضائل پر نظر رکھیے، رضائے الہی پر راضی رہیے ، لوگوں کی نعمتوں پر نگاہ نہ رکھیے، اپنی خامیوں کی اصلاح میں لگ جائیے، نفرت کو محبت میں بدلنے کی تدبیریں کیجئے، دوسروں کی خوشی میں خوش رہنے کی عادت بنائیے، روحانی علاج بھی کیجئے۔ ہر وقت بارگاہِ رب العزت میں حسد سے بچنے کیلئے استغفار کرتے رہے، شیطان کے مکر و فریب سے پناہ مانگئے، جب بھی دل میں حسد کا خیال آئے تو اعوذ بالله پڑھ کر اپنے بائیں طرف تین بار تھو تھو کر دیجئے۔ ( باطنی بیماریوں کی معلومات ، ص 50 تا 52، مع ترمیم)

الله پاک ہم سب کو حسد جیسی موذی مرض سے بچائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


ہمارے معاشرے میں کثیر برائیاں عام ہیں اور لوگ ان برائیوں کو برائی بھی نہیں سمجھتے اور کچھ برائیاں جو ہمارے معاشرے میں عام ہے وہ گناہ بھی ہیں۔ جیسے جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، کسی کی دل آزاری کرنا ، امانت میں خیانت کرنا، وعدہ کے خلاف کرنا، جھوٹی قسمیں کھانا وغیرہ وغیرہ برائیاں ہمارے اس معاشر ے میں عام ہیں۔ جن میں سے ایک مہلک بیماری جس کے اندر تقریباً ہر کوئی مبتلا دیکھا جا رہا ہے اور یہ برائی ہمارے معاشرے میں تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے پھر اس سے دیگر برائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ بھائی کا بھائی سے حسد ، رشتہ داروں کا ایک دوسرے سے حسد ( العیاذ بالله )

حسد کی مذمت قراٰن و حدیث دونوں میں بیان ہوئی ہے اللہ پاک قراٰنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ ﴾ترجمۂ کنز الایمان: اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ۔( پ5، النسآء : 32)

حسد کی تعریف: کسی کی دینی یا دنیاوی نعمت کے زوال یعنی چھن جانے کی تمنا کرنا یہ خواہش کرنا کہ فلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے حسد کہلاتا ہے حسد کرنے والے کو حاسد اور جس سے حسد کیا جائے اس محسود کہتے ہیں۔( آئیے فرض علوم سیکھئے ،ص675)

حسد کا حکم: حسد حرام ہے اگر غیر اختیاری طور کسی کے بارے میں حسد آیا اور یہ اس کو برا جانتا ہے تو اس پر گناہ نہیں (جب تک کہ اعضاء سے اس کا اثر ظاہر نہ ہو)۔ (فتاوی رضویہ ،13/648)

حسد کی مثالیں: کسی کو مالی طور پر خوشحال دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ یہ نعمت چھن کر مجھے مل جائے، کسی کا منصب دیکھ کر تمنا کرنا اس سے چھن کر مجھے مل جائے۔اسباب: بغض وکینہ، تکبر، احساس کمتری ، حب جاه

حسد سے بچنے کے طریقے: زیادہ طلبی کی حرص ختم کریں جو ملا ،جتنا ملا اللہ کا شکر ادا کریں۔ اور قناعت اختیار کریں، موت کو کثرت سے یاد کریں۔

آیت کی تفسیر : جب ایک انسان دوسرے کے پاس کوئی ایسی نعمت دیکھتا ہے جو اس کے پا س نہیں تو ا س کا دل تَشویش میں مبتلا ہو جاتا ہے ایسی صورت میں اس کی حالت دو طرح کی ہوتی ہے(1) وہ انسان یہ تمنا کرتا ہے کہ یہ نعمت دوسرے سے چھن جائے اور مجھے حاصل ہو جائے۔ یہ حسد ہے اور حسد مذموم اور حرام ہے۔ (2) دوسرے سے نعمت چھن جانے کی تمنا نہ ہو بلکہ یہ آرزو ہو کہ ا س جیسی مجھے بھی مل جائے، اسے غبطہ کہتے ہیں یہ مذموم نہیں۔ (تفسیر صراط الجنان پ 5، النسآء آیت 32 )حسد کی احادیث میں بھی مذمت بیان کی گئی ہیں چند ایک آپ بھی پڑھئے:

حدیث اول: حضرت زبیر رضی الله عنہ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ اگلی امتوں کی بیماری تمہاری طرف بھی آگئی وہ بیماری حسد و بغض ہے جو مونڈنے والی ہے ۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ بال مونڈتی ہے بلکہ وہ دین کو مونڈتی ہے ۔ (ترمذی، انوار الحديث)

حدیث ثانی: حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ حسد سے اپنے آپ کو بچاؤ اس لیے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو ۔ (ابوداؤد)

اللہ پاک ہم سب کو اس مہلک بیماری سے دور رکھے اور اس سے ہماری اور ہمارے گھر والے و اولاد وغیرہ کی حفاظت فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


دور حاضر میں اسلامی معلومات کی کمی ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی اکثریت باطنی بیماریوں کا شکار ہوتی جاری ہے کوئی بغض و عداوت میں مبتلا نظر آتا ہے تو کوئی تکبر کی آفت میں پڑا ہے۔ انہی باطنی بیماریوں میں ایک بہت ہی مذموم و قبیح باطنی بیماری حسد بھی ہے۔ جی ہاں اس میں بھی ایک بھاری تعداد مبتلا ہے۔ کسی کی دینی یا دنیاوی نعمت کے چھن جانے کی تمنا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ یہ نعمت فلاں کو نہ ملے اس کو حسد کہتے ہیں۔کہا جاتا ہے حسد تمام باطنی بیماریوں کی ماں ہے یعنی انسان کو کسی پر غصہ آنا  ، غصے سے کینہ اور کینے کی بطن سے حسد جنم لیتا۔ احادیث مبارکہ میں حسد کی مذمت بیان ہوئی جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

حدیث(1) پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: آپس میں حسد نہ کرو، آپس میں بغض و عداوت نہ رکھو، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی بیان نہ کرو اور اے اللہ کے بندو!ا بھائی بھائی ہو کر رہو۔(صحیح البخاری ، کتاب الادب ، 4/117، حديث: 4044) وضاحت: مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیث مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: یعنی بدگمانی، حسد، بغض وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن سے محبت ٹوٹتی ہے اور اسلامی بھائی چارہ محبت چاہتا ہے لہذا ہر عیوب چھوڑ دو تا کہ بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مراۃ المناجیح)

حدیث(2) آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حاسد سے اپنی بیزاری کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا : لَیْسَ مِنِّیْ ذُوْحَسَدٍ وَلاَ نَمِیْمَۃٍ وَلاَ کَہَانَۃٍ وَلاَ اَنَا مِنْہُ یعنی حَسَد کرنے والے، چُغلی کھانے والے اور کاہِن کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلُّق نہیں ۔(مجمع الزوائد، کتاب الادب، باب ماجاء فی الغیبۃ والنمیمۃ، 8/172،حدیث : 13126)

ایمان انمول دولت ہے اور مسلمان کے لیے ایمان کی سلامت سے اہم کوئی چیز نہیں مگر حسد میں مبتلا ہو جانے والے کے ایمان کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے: تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی، حسد اور بغض۔ یہ مونڈ دینے والی ہے ،میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، 4/ 228،حدیث: 2518) مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ اس طرح کہ دین ایمان کو جڑ سے ختم کر دیتی ہے کبھی انسان بغض و حسد میں اسلام ہی کو چھوڑ دیتا ہے شیطان بھی انہیں دو بیماریوں کا مارا ہوا ہے۔ (مراة المناصحیح ، 6/615)

حدیث : پیارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: لَا یَجتَمِعُ فِی جَوفِ عَبدٍ مُّؤمِنٍ اَلاِیمانُ وَالحَسَدُ یعنی مؤمن کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوتے۔(شعب الایمان،5/266،حدیث:6609)

حدیث : حسد کا مرض کبھی کبھی تو اتنا بگڑ جاتا ہے کہ حسد کرنے والا محسود یعنی جس سے حسد کیا جاتا ہے اس کو قتل ہی کر ڈالتا۔ ہے چنانچہ دافع رنج و ملال ، صاحب جو دو نوال صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: حسد سے بچتے رہو کیونکہ حضرت آدم (علیہ السّلام) کے دو بیٹوں میں سے ایک نے دوسرے کو حسد ہی کی بنا پر قتل کیا تھا، لہذا حسد ہر خطا کی جڑ ہے۔ (جامع الاحاديث للسيوطى ، 3/390،حديث : 9314، ملخصاً)

حدیث : حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں ہر شخص کو راضی کر سکتا ہوں سوائے اس شخص کے جو میری کسی نعمت سے حسد کرتا ہے کیونکہ وہ اسی وقت راضی ہوگا جب وہ نعمت مجھ سے چھن جائے گی۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر، 1/116)

حسد کی مذمت پر اور بھی کئی احادیثِ مبارکہ موجود ہے اور یہ بہت ہی مذموم ہے۔ اور ہلاکت میں ڈالنے والی باطنی بیماری ہے الله پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حسد جیسی باطنی بیماری سے محفوظ فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کریں نہ تنگ خیالاتِ بد کبھی ، کردے

شعور و فکر کو پاکیزگی عطا یا رب


دینِ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ محمدِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہماری مکمل راہ نمائی کرتے ہیں۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ اگر ہم جناب رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت پر عمل کرتے ہیں تو ہم آخرت میں کامیابی سے ہم کنار ہو سکتے ہیں۔ اب موجودہ زمانے کے اعتبار حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت کا اپنانا بہت ضروری ہے تاکہ ہم کل قیامت کے دن کامیاب ہو سکے۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے گناہ عمام ہوتے جا رہے ہیں جن میں سے ایک "حسد" بھی ہیں۔ آئیے حسد کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرتے ہیں۔

حسد کی تعریف : دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 96 صفحات پر مشتمل رسالے ’’حسد‘‘ صفحہ 7 پر ہے: کسی کی دینی یا دنیاوی نعمت کے زوال (یعنی اس کے چھن جانے) کی تمنا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے، اس کا نام حسد ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، ص43)آیت مبارکہ: الله پاک قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے : ﴿اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ-فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا(۵۴) ترجمۂ کنزالایمان: یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جواللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا تو ہم نے ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا۔ (پ5، النسآء : 54)

حسد کا حکم : اگر اپنے اختیار و ارادے سے بندے کے دل میں حسد کا خیال آئے اور یہ اس پر عمل بھی کرتا ہے یا بعض اعضاء سے اس کا اظہار کرتا ہے تو یہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات ، ص 44)

(1)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: آدمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوتے ۔(سنن نسائی، کتاب الجہاد، فضل من عمل فی سبیل اللہ ۔۔۔ الخ، ص505 ،حديث : 3610)

(2)حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: حسد ایمان کو اس طرح تباہ کر دیتا ہے جیسے صَبِر (یعنی ایک درخت کاانتہائی کڑوا نچوڑ) شہد کو تباہ کر دیتا ہے۔(جامع صغیر، حرف الحائ، ص232، حدیث: 3819)

(3)حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے: حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: حسد سے دور رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات ،ص44)

(4) قطع تعلق نہ کرنا: حضرت انس بن مالک کا بیان ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ایک دوسرے سے بعض نہ رکھو اور نہ حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو کر رہو اور کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ جدا رہے ۔ (صبح مسلم ، حدیث : 2029)

(5) حسد دو باتوں میں: شہاب بن عباد، ابراہیم بن حمید، اسماعیل ، قیس، عبد الله سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : کہ حسد دو ہی باتوں میں ہے ایک تو وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور راہ حق میں خرچ کرنے کی قدرت دی اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت دی وہ اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث : 2011 )

حسد کے اسباب : دین سے دوری اور مذہب کی مکمل تعلیمات نہ ہونا، حسد کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ ہر اچھی تقدیر الله کی طرف سے ہے جو تمام جہانوں کا مالک ہے۔ اگر پختہ ایمان رکھتے ہیں تو ہمیں اللہ کی تقسیم سے خوش رہنا چاہیے کیونکہ رب کائنات نے ہر انسان کو اپنی مرضی کے مطابق مخصوص انداز میں نوازا ہے۔ مصلحت کے تحت کسی کے پاس نعمتیں زیادہ اور کسی کے پاس کم ہیں۔ اپنی نعمتوں کا کسی اور کی نعمتوں کے ساتھ موازنہ کرنا ایمان کی کمزوری کو ظاہر کرنا ہے۔

(1) بغض و عناد اور عداوت ہے۔ کیونکہ یہ غیر ممکن ہے کہ ایک شخص کے نزدیک دشمن کی بھلائی و برائی دونوں برابر ہیں اس لیے دشمن اور مخالفت کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے دشمن پر بلا اور مصیبت آئے۔ اور جب یہ مصیبت آتی ہے تو وہ خوش ہوتا ہے، اس کے بجائے جب خدا اس پر کوئی احسان کرتا ہے تو وہ اس کو پسند نہیں کرتا ، اس کا نام حسد ہے ۔

(2)حسد کا دوسرا سب ایک شخص دوسرے شخص کو اپنا مطیع و منقاد بنانا چاہتا ہے۔ جب کوئی کسی شرف و امتیاز کی وجہ سے اس کے حلقۂ اطاعت سے نکل جاتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کا یہ شرف جاتا ر ہے تاکہ وہ اس کا مطیع و منقاد نہ ہو سکے۔ کفارِ قریش اسی بنا پر مسلمانوں کی جماعت کو دیکھ کر کہتے تھے: اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَاؕ (پ7،الانعام : 53)

مدنی مشورہ : حسد کے بارے میں مزید معلومات کیلئے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ 96 صفحات پر مشتمل رسالہ "حسد" کا مطالعہ کیجئے۔


آیتِ مبارک: ﴿اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ-فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا(۵۴) ترجمۂ کنزالایمان: یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا تو ہم نے ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا۔ (پ5، النسآء : 54)

حسد کا حکم : اگر انسان کے اختیار و ارادے سے دل میں حسد کا خیال آئے اور وہ اس پر عمل بھی کرتا ہے یا بعض اعضاء سے اس کا اظہار کتا ہے تو یہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (الحدیقہ الندیہ، 1/ 601) حسد ایمان کے لیے تباہ کن ہے۔حسد کی تعریف : کہ کسی مسلمان بھائی کو ملنے والی نعمت چھن جانے کی آرزو کی جائے، اور ایسی آرزو کی برائی محتاج بیان نہیں۔

حسد کی مذمت پر حدیث پاک ملاحظہ ہو :(1) حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: آدمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوتے۔ (سنن نسائی، کتاب الجہاد، فضل من عمل فی سبیل اللہ۔۔۔ الخ، ص505، حدیث: 3610)

(2) حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: حسد ایمان کو اس طرح تباہ کر دیتا ہے جیسے صَبِر (یعنی ایک درخت کاانتہائی کڑوا نچوڑ) شہد کو تباہ کر دیتا ہے۔(جامع صغیر، حرف الحائ، ص232، حدیث: 3819) یاد رہے کہ حسد حرام ہے اور اس باطنی مرض کے بارے میں علم حاصل کرنا فرض ہے۔اس سے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لئے امام غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ کی مشہور کتاب ’’احیاء علوم الدین ‘‘ کی تیسری جلد میں موجود حسد سے متعلق بیان مطالعہ فرمائیں۔

(3) حضرت وہب بن منبہ رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :حسد سے بچو، کیونکہ یہ پہلا گناہ ہے جس کے ذریعے آسمان میں اللہ پاک کی نافرمانی کی گئی اور یہی پہلا گناہ ہے جس کے ذریعے زمین میں اللہ پاک کی نافرمانی کی گئی ۔(تنبیہ المغترین، الباب الثالث فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم رضی اللہ عنہم عدم الحسد لاحد من المسلمین۔۔۔ الخ، ص188)

یاد رہے کہ حسد حرام ہے البتہ اگر کوئی شخص اپنے مال و دولت یا اثر و وجاہت سے گمراہی اور بے دینی پھیلاتا ہو تو اس کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لیے اس کی نعمت کے زوال کی تمنا حسد میں داخل نہیں اور حرام بھی نہیں۔(خازن،1/80، البقرۃ، تحت الآیۃ: 109)(حَسَدًا: حسد کی وجہ سے۔) اسلام کی حقانیت جاننے کے بعد یہودیوں کا مسلمانوں کے کفر و ارتداد کی تمنا کرنا اور یہ چاہنا کہ وہ ایمان سے محروم ہو جائیں حسد کی وجہ سے تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حسد بہت بڑا عیب ہے اور اس کی وجہ سے انسان نہ صرف خود بھلائی سے رک جاتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی بھلائی سے روکنے کی کوشش میں مصروف ہو جاتا ہے لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس سے بچنے کی خوب کوشش کرے۔

(4) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ حسد سے دور رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑیوں کو‘‘ یا فرمایا: گھاس کو کھا جاتی ہے۔(ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی الحسد، 4 / 361، حدیث: 4903)

(5) رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حسد، اس کے اسباب اور نتائج سے روکتے ہوئے ارشاد فرمایا: آپس میں حسد نہ کرو، قطع تعلقی نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض و عداوت نہ رکھو، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی نہ کرو اوراے اللہ پاک کے بندو! بھائی بھائی ہو کر رہو۔(احیاء العلوم)

(6) حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سرور عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی، حسد اور بغض۔ یہ مونڈ دینے والی ہے ،میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، 4/ 228،حدیث: 2518)

(7) طبرانی نے عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ حسد اور چغلی اور کہانت نہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان سے ہوں۔ یعنی مسلمان کو ان چیزوں سے بالکل تعلق نہ ہونا چاہیے۔


ایک انسان کا ظاہری امراض (نزلہ، بخار، کھانسی، دل کے امراض وغیرہ کے ساتھ ساتھ ، باطنی امراض (جھوٹ، غیبت، چغلی، بہتان وغیرہ) سے بھی محفوظ و سالم رہنا ضروری ہے، تاکہ امراض ظاہریہ سے سلامتی کی بدولت ، زندگی تندرستی کے ساتھ گزاری جا سکے، اور امراض باطنیہ سے سلامتی کی بدولت، دنیا اور آخرت دونوں میں امن و سکون کے ساتھ رہا جا سکے، انہی امراض باطنیہ میں سے ایک مرض، حسد ہے، جو دنیا میں پہلا گناہ ہوا، جس کے سبب شیطان، بارگاہ الٰہی سے دھتکارا گیا اور آسمان میں سب سے پہلے ابلیس سے، جبکہ زمین میں قابیل سے سرزد ہوا ۔

حسد کا معنی اور حکم : یہ ہے کہ انسان یہ تمنا کرے کہ جو نعمت فلاں کے پاس ہے، وہ بعینھا (ویسی ہی) مجھے مل جائے، یہ حسد ہے، اور یہ حرام ہے۔ (بہار شریعت، 3/ 542) احادیث میں حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کی بہت مذمت بیان فرمائی ہے:

(1) حسد اور ایمان کا اجتماع : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : آدمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔ (سنن نسائی، حدیث:3610 )

(2) حسد ایمان کے لیے تباہی: حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: حسد ایمان کو اس طرح تباہ کر دیتا ہے جیسے صَبِر (یعنی ایک درخت کاانتہائی کڑوا نچوڑ) شہد کو تباہ کر دیتا ہے۔(جامع صغیر، حرف الحائ، ص232، حدیث: 3819)

(3) حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی، حسد اور بغض۔ یہ مونڈ دینے والی ہے ،میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، 4/ 228،حدیث: 2518)

(4)حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے : حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: حسد سے بچو وہ نیکیوں کو اس طرح کھاتا ہے جیسے آگ خشک لکڑی کو۔(سنن ابی داؤد،4/320،حدیث:4903)

(5)حسد نیکیوں کا نور بجھاتا ہے : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بیشک حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے اور سرکشی اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی الحمد، حدیث : 4904)ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حسد، ایمان کے لیے اور نیکیوں کے لیے زہر قاتل ہے اور یہ بہت ہی بری صفت ہے، جبھی حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کا ذکر ایمان و طاعت کے مقابلے میں کیا۔

حسد کا مقابل:حسد چونکہ ممنوع و حرام ہے، مگر یہ فطری امر ہے، جو انسان کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے، لہذا اس سے بچنے کے لیے شریعت نے اس کی کے عوض ایک صورت بیان کی، جسے رشک اور غبطہ کہا جاتا ہے۔غبطہ : یہ آرزو کہ اس کی مثل مجھے بھی ملے یہ غبطہ ہے۔ اور یہ جائز ہے۔(بہار شریعت ، 3/542)

غبطہ دو چیزوں میں : حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: دو کے سوا کسی میں رسک جائز نہیں :(1) ایک وہ شخص جسے اللہ مال دے تو اسے اچھی جگہ پر لگا دے، (2) دوسرا وہ شخص جسے الله علم دے تو وہ اس سے فیصلے کرے اور لوگوں کو سکھائے۔ (مشكوة، کتاب العلم ، حدیث :202) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : دوسروں کی سی (جیسی) نعمت اپنے لیے بھی چاہنا غبطہ (رشک) ہے، حسد مطلقاً حرام ہے، غبطہ دو جگہ جائز ہے۔ (مراۃ المناجیح، ج 1،تحت الحديث)

الله پاک ہمیں حسد اور باطنی بیماریوں سے محفوظ فرمائے ۔ اٰمین بجاہ نبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

حسد ایسا باطنی مرض ہے جسے ہر خطا کی جڑ اور برائیوں کی ماں کہا جاتا ہے جو شیطان کا مضبوط ترین ہتھیار  ہے ۔ حسد پہلا گناہ ہے جو آسمان میں ابلیس نے ،اور زمین میں قابیل نے کیا ۔بہت سی باطنی بیماریاں جیسے دشمنی ، بغض و عداوت ، تکبر ، احساس کمتری ، حب جاہ ، قلبی خباثت وغیرہ حسد کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں سب سے پہلے حسد کی تعریف پھر قراٰن و حدیث سے اس کی مذمت بیان کرتا ہوں۔

تعریف: کسی شخص کی دینی یا دنیاوی نعمت دیکھ کر تمنا کرنا کہ یہ نعمت اس سے زائل ہو کر میرے پاس آ جائے حسد کہلاتا ہے ۔ جو کہ حرام ہے ۔حسد کے بارے میں اللہ پاک قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠(۵)﴾ ترجَمۂ کنزُالایمان: اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے ۔(پ30، الفلق: 5)

آقائے کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی ہمیں حسد سے بچنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اپنی امت کے مشرک ہو جانے کا اتنا خوف نہ تھا جتنا حسد میں مبتلا ہونے کا ہوا ۔چنانچہ(1) حضرت عُقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک دن گھر سے باہر تشریف لے گئے اور’’شہداء ِاُحُد‘‘کی قبروں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر نماز پڑھی جاتی ہے، پھر پلٹ کر منبر پر رونق اَفروز ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ میں تمہارا پیش رو اور تمہارا گواہ ہوں ، اور میں خدا کی قسم! اپنے حوض کو اس وقت دیکھ رہا ہوں اور بے شک مجھ کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں دے دی گئی ہیں اور میں بخدا یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ مجھ کو تم لوگوں کے بارے میں ذرا بھی یہ ڈر نہیں ہے کہ تم لوگ میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے ۔لیکن مجھے یہ خوف ہے کہ تم لوگ دنیا میں رغبت اور ایک دوسرے پر حسد کروگے۔(منتخب حدیثیں ،حدیث:31)

(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،فرمایا رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے: اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے ، اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو، اور نہ بخش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہو جاؤ ۔ اور ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو۔(مشکوٰۃ المصابیح ،حدیث: 5028)حسد اور بغض ایسی بیماری ہے جو ایمان کو جڑ سے ختم کر دیتی ہیں۔ چنانچہ

(3) حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ،حدیث: 5039)

(4)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :حسد سے بچو کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو ۔(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 5040)

(5) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسولِ اکرم الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :فقیری قریب ہے کہ کفر ہوجاوے اور حسد قریب ہے کہ تقدیر پر غالب آجاوے۔ (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 5051)

(6) حضرت عبداللہ ابن عمرو سے روایت ہے رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عرض کیا گیا کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟ فرمایا ہر سلامت دل والا سچی زبان والا، لوگوں نے عرض کیا کہ سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں تو سلامت دل والا کیا ہے ؟ فرمایا وہ ایسا ستھرا ہے جس پر نہ گناہ ہو نہ بغاوت نہ کینہ اور نہ حسد۔ (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 5221)

( 7) طبرانی نے عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ ’’حسد اور چغلی اور کہانت نہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان سے ہوں یعنی مسلمان کا ان چیزوں سے بالکل تعلق نہیں ہونا چاہیے۔(مجمع الزوائد ،حدیث: 13126)

(8) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی، کہ میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ ’’حسد نہیں ہے مگر دو پر، ایک وہ شخص جسے خدا نے کتاب دی یعنی قراٰن کا علم عطا فرمایا وہ اس کے ساتھ رات میں قیام کرتا ہے اور دوسرا وہ کہ خدا نے اسے مال دیا وہ دن اور رات کے اوقات میں صدقہ کرتا ہے۔(صحیح بخاری حدیث 5025)

( 9) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ’’حسد نہیں ہے مگر دو شخصوں پر ایک وہ شخص جسے خدا نے قراٰن سکھایا وہ رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتا ہے، اس کے پڑوسی نے سنا تو کہنے لگا، کاش! مجھے بھی ویسا ہی دیا جاتا جو فلاں شخص کو دیا گیا تو میں بھی اُس کی طرح عمل کرتا۔ دوسرا وہ شخص کہ خدا نے اسے مال دیا وہ (راہ) حق میں مال کو خرچ کرتا ہے، کسی نے کہا، کاش! مجھے بھی ویسا ہی دیا جاتا جیسا فلاں شخص کو دیا گیا تو میں بھی اسی کی طرح عمل کرتا۔(المرجع السابق، حدیث: 5026)ان دونوں حدیثوں میں حسد سے مراد غبطہ ہے جس کو لوگ رشک کہتے ہیں ۔

ہمیں بھی چاہیے کہ اگر کسی کو دنیاوی نعمتوں میں خوش دیکھیں تو حسد کی آگ میں جل کر اپنا سکون برباد کرنے کی بجائے نیک لوگوں کو دیکھ کر ان جیسی نیک عادتوں اور اچھی خصلتوں کو اپنانے کی کوشش کریں۔ اللہ پاک ہمیں حسد اور دیگر باطنی بیماریوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین

پیارے اسلامی بھائیو !حسد ایک بہت بڑا گناہ ہے۔اللہ پاک نے نہ صرف حسد بلکہ اس کی طرف لے جانے والے اسباب سے بھی بچنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔اللہ پاک قراٰنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:﴿اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا۔ (پ5، النسآء : 54)

حسد کی تعریف: کسی کی دینی یا دنیاوی نعمت کے زوال (یعنی اس کے چھن جانے) کی تمنا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے، اس کا نام حسد ہے۔ (الحدیقۃ الندیۃ ،الخلق الخامس عشر۔۔۔الخ ،1/600)حسد کا حکم: اگر اپنے اختیار و ارادے سے بندے کے دل میں حسد کا خیال آئے اور یہ اس پر عمل بھی کرتا ہے یا بعض اعضاء سے اس کا اظہار کرتا ہے تو یہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (الحدیقۃ الندیۃ، الخلق الخامس عشر۔۔۔الخ، 1/601)

آئیے !اس سلسلے میں احادیث مبارکہ میں بیان کردہ حسد کے متعلق چند وعیدیں پڑھیے اور خوف خدا سے لرزیئے:(1)حسد سے دور رہو :حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: حسد سے دور رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو۔(ابو داود، کتاب الادب، باب في الحسد، 4/360، حدیث: 4903)

(2)ایک دوسرے سے حسد نہ کرو : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرو، نہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھو، اور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے سے قطع تعلق کرو، اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ۔(صحیح مسلم،4/1983)

(3)حسد نیکیوں کو کھا جاتی ہے: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: حسد نیکیوں کو کھا لیتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے اور صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے اور نماز نور ہے مؤمن کا اور روزہ ڈھال ہے دوزخ سے ۔ (سنن ابن ماجہ، جلد 4 ،حدیث:1091)

(4)دنیا کے مزوں کے لیے حسد نہ کرو :عقبہ بن عامر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : مجھے اس کا ڈر بالکل نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے البتہ میں اس بات کا اندیشہ کرتا ہوں کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے دنیا کے مزوں میں پڑ کر حسد نہ کرنے لگو ۔ (صحیح بخاری، جلد 2،حدیث:1218)

(5)ہمیشہ بھلائی سے رہیں گے : ضمرہ بن ثعلبہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ بھلائی سے رہیں گے جب تک وہ حسد سے بچتے رہیں گے۔ (طبرانی فی الکبیر،حدیث:7157)

حسد کے 3 نقصانات : (1) حسد نیکیوں کو اسی طرح کھا جاتی ہے جس طرح آگ سکھی لکڑی کو فوری طور پر جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔(2) حسد ہی کی وجہ سے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کا قتل کیا تھا۔(3) حسد کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ حاسد انسان اللہ سے بدگمان ہوجاتا ہے اس کی سوچ غلط رخ پر کام کرنے لگتی ہے اور اس کے قول و عمل اور شب و روز کی سرگرمیوں سے خدا کے بارے میں بدگمانی اور ناانصافی کا اظہار ہونے لگتا ہے۔

حسد کے 3 علاج:(1) ’’توبہ کرلیجئے۔‘‘ حسد بلکہ تمام گناہوں سے توبہ کیجئے کہ یا اللہ پاک میں تیرے سامنے اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے فلاں بھائی سے حسد کرتا تھا تو میرے تمام گناہوں کو معاف فرمادے۔ اٰمین (2) ’’دعا کیجئے۔‘‘ کہ یا اللہ پاک ! میں تیری رضا کے لیے حسد سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہوں ، تو مجھے اس باطنی بیماری سے شفا دے اور مجھے حسد سے بچنے میں استقامت عطا فرما۔ اٰمین (3) ’’دوسروں کی خوشی میں خوش رہنے کی عادت بنائیے۔‘‘ کیونکہ یہ ربّ کی مشیت اور نظامِ قدرت ہے کہ اس نے تمام لوگوں کے رہن سہن، ان کی دی جانے والی نعمتوں کو یکساں نہیں رکھا تو یقیناً اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ کسی کی نعمت چھن جانے سے وہ آپ کو ضرور مل جائے گی، لہٰذا حسد کے بجائے اپنے بھائی کی نعمت پر خوش رہیں۔

محترم قارئین !آپ نے حسد کی تباہ کاریاں ملاحظہ کیں کہ حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے، حسد ہی کی وجہ سے دنیا میں پہلا قتل ہوا اور حاسد انسان اللہ سے بدگمان ہوجاتا ہے اور شب و روز خدا باری تعالی کے بارے میں بدگمانی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں دیگر گناہوں کے ساتھ ساتھ حسد جیسے بڑے گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


مہلک کا معنی ہے "ہلاکت میں ڈالنے والا عمل"۔ اس کے بارے میں ضروری احکامات کا جاننا مسلمان کے لئے لازم ہے کیونکہ جو شخص مہلکات کے بارے میں ضروری علم حاصل نہیں کرے گا تو وہ ان گناہوں سے خود کو کس طرح بچا پائے گا؟ مہلکات سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جب کسی مہلک کے درپیش ہونے کا اندیشہ ہو تو اس کے دنیوی نقصانات اور اخروی عذابات پر خوب غور کرے تاکہ اس کے اندر اس مہلک سے بچنے کا جذبہ پیدا ہو ۔ علمائے کرام نے اپنی کتب میں اس طرح کے کئی مہلکات کو بیان فرمایا ہے جن میں سے ایک حسد بھی ہے ۔

حسد کی تعریف: کسی کی دینی یا دنیاوی نعمت کے زوال (یعنی اس کے چھن جانے) کی تمنا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے ۔اس کا نام حسد ہے ۔

حسد کی مذمّت میں 5 احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں:

(1) حضرت عبد اللہ ابن عمرو سے روایت ہے کہ رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عرض کیا گیا کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟ فرمایا ہر سلامت دل والا، سچی زبان والا، لوگوں نے عرض کیا کہ سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں تو سلامت دل والا کیا ہے ؟ فرمایا: وہ ایسا ستھرا ہے جس پر نہ گناہ ہو نہ بغاوت نہ کینہ اور نہ حسد۔ (ابن ماجہ، حدیث: 4216)

(2)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی کی باتیں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں، لوگوں کے عیوب تلاش کرنے کے پیچھے نہ پڑو، آپس میں حسد نہ کرو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو، بغض نہ رکھو، بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ (صحیح البخاری ، حدیث: 6064)

(3)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: حسد سے بچو کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ (ابوداؤد ، حدیث: 4903)

(4) حضرت عُقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک دن گھر سے باہر تشریف لے گئے اور’’شہداء ِاُحُد‘‘کی قبروں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر نماز پڑھی جاتی ہے پھر پلٹ کر منبر پر رونق اَفروز ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ میں تمہارا پیش رو اور تمہارا گواہ ہوں اور میں خدا کی قسم! اپنے حوض کو اس وقت دیکھ رہا ہوں اور بے شک مجھ کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں دے دی گئی ہیں یا یہ فرمایا کہ زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور میں بخدا یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ مجھ کو تم لوگوں کے بارے میں ذرا بھی یہ ڈر نہیں ہے کہ تم لوگ میرے بعد مشرک ہوجاؤ گے لیکن مجھے یہ خوف ہے کہ تم لوگ دنیا میں رغبت اور ایک دوسرے پر حسد کروگے۔(صحیح بخاری ، حدیث:: 6590)

(5) حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی، حسد اور بغض۔ یہ مونڈ دینے والی ہے ،میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، 4/ 228،حدیث: 2518)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! حسد ایک ایسا مرض ہے کہ جس کے خاتمے کے لیے باقاعدہ علاج کی ضرورت ہے ۔ لہٰذا حسد کے چند علاج پیش خدمت ہیں ۔(1)اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ کیجئے اور دعا کیجئے کہ دل ہمیشہ حسد سے پاک رہے (2)اللہ پاک نے جتنا عطا کیا اسی پر راضی رہئے اور اس کا شکر ادا کیجئے (3)حسد کے نقصانات کو ہر دم پیش نظر رکھئے، کیونکہ کوئی بھی عقلمند شخص اس کام میں ہاتھ نہیں ڈالتا جس میں نقصان ہو ۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! حسد کا ایک علاج اچھی صحبت بھی ہے ۔ الحمدللہ عاشقان رسول کی مدنی تحریک دعوت اسلامی کا مدنی ماحول اچھی صحبت پانے کا بہترین ذریعہ ہے لہٰذا آپ حسد سے خود کو بچانے کے لیے عملی طور پر دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جایئے ان شاء اللہ آپ حسد اور معاشرے میں پائے جانے والے دیگر گناہوں سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ اللہ پاک ہمیں حسد اور دیگر باطنی گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


حسد کی تعریف : کسی بندے کے پاس کوئی چیز دیکھ کر اس بات کی تمنا کرنا اس سے چھن کر مجھے مل جائے اور یہ اس سے محروم ہوجائے یہ حسد کہلاتا ہے اور حسد کرنے والا ایسا ہے گویا کہ وہ اللہ پاک کی تقسیم پر راضی نہیں معاذ اللہ۔ کسی کو اللہ پاک نے کوئی نعمت دی یہ اللہ پاک کا فضل ہے حسد کرنے والا بندہ کہتا ہے فلاں کو یہ بھی مل چکا یہ بھی فلاں کو مل گیا یہ تو اس قابل ہی نہیں اب یہ اللہ پاک کی مرضی وہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے شہرت دے طاقت دے حسن دے ہمیں کوئی حق نہیں بنتا ہم اپنے دل میں اس کے لیے حسد پیدا کریں ہم یہ دیکھے کہ جس کو جو بھی ملا یہ میرے کریم مالک ربِ کائنات کی مرضی سے ملا منقول ہے کہ تین برائیاں ایسی ہیں وہ جس میں ہوں وہ اپنی زندگی سے لذت (مزہ) نہیں اٹھا سکتا (1) کینہ (2) حسد (3) بداخلاقی ۔ پیارے محترم بھائیو! حسد کی مذمّت پر کئی احادیث مبارکہ موجود ہیں ان میں سے 5 احادیث ملاحظہ فرمائیں :۔

(1) اپنی نیکیاں بچاؤ : نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے : اِیَّاکُمْ وَ الْحَسَدَ فَاِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاْتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ ترجمہ: حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ خشک لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ ( سنن ابی داؤد ،4/360، الحدیث:4903 )

(2) حسد ہر خطا کی جڑ ہے: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: حسد سے بچتے رہو کیونکہ حضرت آدم علیہ السّلام کے دو بیٹوں میں سے ایک نے دوسرے کو حسد کی ہی بنا قتل کیا تھا لہذا حسد ہر خطا کی جڑ ہے۔ ( جامع الا احادیث للسیوطی،3/390، حدیث:9314)

(3) حسد اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے : نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: لَا یَجْتَمِعُ فِیْ جَوْفِ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ اَلْاِیْمَانُ وَ الْحَسَدُ یعنی مؤمن کے دل میں حسد اور ایمان جمع نہیں ہوتے ۔( شعب الایمان ،5/266، حدیث:6609)

(4)آپس میں حسد نہ کرو : نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: آپس میں حسد نہ کرو آپس میں بغض عداوت نہ رکھو پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی بیان نہ کرو اور اے اللہ پاک کے بندو بھائی بھائی ہو کر رہو ۔( صحیح بخاری کتاب الادب ،4/117،حدیث:6066)

(5)۹ حاسد کا حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کوئی تعلق نہیں : نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: لَیْسَ مِنِّیْ ذُوْ حَسَدٍ وَلَا نَمِیْمَةٍ وَلَا کَھَانَةٍ وَلَا اَنَا مِنْهُ یعنی حسد کرنے والا چغلی کھانے والا اور کاہن کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ ( مجمع الزوائد کتاب الادب باب ما جاء فی الغیبۃ والنمیمۃ ، 8/172،حدیث:13126)

حسد کے اسباب: پیارے محترم اسلامی بھائیو!اتنے سارے دنیوی و اخروی نقصانات کا سبب بننے والا حسد یونہی بیٹھے بیٹھاے پیدا نہیں ہوتا اس کے بہت سارے اسباب ہوتے ہیں بنیادی طور پر سات چیزوں سے حسد ہوتا ہے۔(1) بغض وعداوت (2)خود ساختہ عزت (3)احساس کمتری (4)من پسند کے مقاصد کے فوت ہونے کا خوف (5) حبِّ جاہ (6) قلبی خباثت (7) تکبّر۔ ( احیاء العلوم، 3/237 )

حسد کا علاج : دعا کیجیے ۔ رضائے الہی پر راضی رہیں ۔ اپنی موت کو یاد کیجیے ۔ لوگوں کی نعمتوں پر نگاہ مت کیجیے ۔ دوسروں کی خوشی میں خوش رہنے کی عادت بنا لیجیے ۔ مدنی انعامات پر عمل کیجیے ۔ان کی تفصیلی معلومات جاننے کے لیے مکتبۃُ المدینہ کی کتاب حسد ص 54 تا 63 کا مطالعہ کیجیے۔

اللہ پاک ہم سب کو حسد کرنے سے بچائے اور حاسدوں کے حسد بھی سے بچائے۔ اٰمین بجاہ النبی الکریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


حسد: کسی کی دینی یا دنیاوی نعمت کے زوال (اس کے چھن جانے) کی تمنا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے اس کا نام حسد ہے۔ حسد ایک باطنی بیماری ہے۔حسد کی مذمت بیان کرنے سے پہلے یہ بیان کرنا اشد ضروری ہے کہ باطنی بیماری کسے کہتے ہیں۔

باطنی بیماری: باطنی بیماریاں وہ مہلکات (ہلاک کرنے والی) ہیں جن کا تعلق باطنی عضو دل کے ساتھ ہوتا ہے۔

حسد ایک ایسی باطنی بیماری ہے جس میں آج کل اکثریت گرفتار نظر آتی ہے۔اس بیماری کو دور کرنا انتہائی ضروری ہے۔ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس بیماری کی مذمت کئی مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان فرمائی ہے۔

(1) حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: حسد سے دور رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو۔ (ابو داود ،کتاب الادب،باب فی الحسد ج 4،حدیث: 4903)اس حدیث کی شرح میں محدثین لکھتے ہیں کہ حسد نیکیوں کو برباد کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے یعنی حاسد ایسے کام کر بیٹھتا ہے جس سے نیکیاں ضبط ہو جائیں۔

2: دین کو مونڈنے والی: حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں پچھلی امتوں کی بیماریاں سرایت کر گئیں (1) حسد (2) بغض، یہ مونڈ دینے والی ہیں میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہیں لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔ ( مشکوۃ المصابیح حدیث: 5039)مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ یہ (حسد) دین و ایمان کو جڑ سے ختم کر دیتی ہے کبھی انسان بغض و حسد میں اسلام ہی چھوڑ دیتا ہے۔ شیطان بھی انہیں دو بیماریوں کا مارا ہوا ہے۔

(3) حسد کفر تک پہنچا دیتا ہے:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: فقیری قریب ہے کہ کفر ہو جائے اور حسد قریب ہے کہ تقدیر پر غالب آ جائے۔( مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 6،حدیث 5051)مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حسد تقدیر کو اس طرح بدلتا ہے کہ حاسد (حسد کرنے والا) خود محسود (جس سے حسد کر رہا ہے) کی تقدیر بدلنا چاہتا ہے اس کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اس کا (یعنی محسود) کا تو کچھ نہیں بگڑتا لیکن حاسد کی نعمتیں زائل ہو جاتیں ہیں چونکہ کبھی حسد بھی کفر تک پہنچا دیتا ہے اس لیے حسد کو فقیر کے ساتھ بیان کیا۔

اگر انسان کے اختیار و ارادے سے دل میں حسد کا خیال آئے اور وہ اس پر عمل بھی کرتا ہے یا بعض اعضاء سے اس کا اظہار کتا ہے تو یہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (الحدیقہ الندیہ، 1/ 601)ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ظاہر و باطن کو اس بیماری سے محفوظ رکھیں۔ باطنی بیماریوں کی معلومات حاصل کرنے کے لیے المدینۃُ العلمیہ کی کتاب ” باطنی بیماریوں کی معلومات“ کا مطالعہ کریں اور باطنی بیمار یوں سے بچنے کی کوشش کریں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں حسد جیسی بری خصلت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


حسد  : کسی کی دینی و دنیوی نعمت کے زوال(یعنی چھن جانے) کی تمنّا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے، حَسَد ہے۔ (گناہوں کے عذابات، ص30) حکم : حسد حرام ہے۔ (بہارِ شریعت، 3/542)

حسد ایک ایسا باطنی مرض ہے جو کہ سب سے پہلا گناہ ہے۔ ابلیس لعین نے حضرت آدم علیہ السّلام کے بلند رتبے پر ان سے حسد کیا تھا۔ اس بیماری نے ہی اسے اللہ پاک کی نافرمانی پر ابھارا تھا اور سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا۔ (احیاء العلوم مترجم، 3/575)حسد کی وجوہات کئی ہیں جیسا کہ بغض و کینہ، حبِ جاہ، دوسرے کی برتری پر عدم برداشت، تکبر، دشمنی۔ اگر انسان ان باطنی امراض سے اپنے آپ کو پاک رکھے گا تو کسی کی نعمت کی طرف برے نظر سے نہیں دیکھے گا اور اللہ پاک کی تقسیم پر رضا مند رہے گا، وگرنہ جس جس کو ناپسند کرے گا تو اس کی نعمتوں پر حسد کرے گا جس سے محسود(جس سے حسد کیا جائے) اس کا تو کچھ نہیں بگڑتا لیکن حاسد(حسد کرنے والا) اپنا نقصان کروا لیتا ہے۔

قراٰن و حدیث میں بندے کا اللہ پاک کی تقسیم سے رضا مند نہ ہونے پر سختی سے ممانعت ہے، جیسا کہ فرمانِ باری ہے: ﴿وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ-لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْاؕ-وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَؕ-وَ سْــٴَـلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا(۳۲)﴾ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم ا س چیز کی تمنا نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پرفضیلت دی ہے ۔ مردوں کے لئے ان کے اعمال سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کے اعمال سے حصہ ہے اور اللہ سے اس کا فضل مانگو ۔ بیشک اللہ ہر شے کو جاننے والا ہے۔(پ5، النسآء : 32) احادیث میں بھی حسد کی مذمت بیان ہوئی ہے:

(1) ایک مرتبہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : اللہ پاک کی نعمتوں کے بھی دشمن ہوتے ہیں۔ عرض کی گئی: وہ کون ہیں؟ ارشاد فرمایا: جو لوگوں سے اس لئے حسد کرتے ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے فضل و کرم سے اُن کو نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ (احیاء العلوم مترجم، 3/574)

(2)روئے زمین پر سب سے پہلا قتل جو قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کا کیا اس کی وجہ بھی حسد تھا۔ جیسا کہ فرمانِ مصطفٰی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : حسد سے بچتے رہو کیونکہ حضرت آدم (علیہ الصلوۃ والسلام ) کے دو بیٹوں میں سے ایک نے دوسرے کو حسد ہی کی بنا پر قتل کیا تھا۔لہذا حسد ہر خطا کی جڑ ہے۔ (حسد،ص42)

(3)فرمانِ مصطفٰی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے :حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ (مرأةالمناجیح، ج6،حدیث:5040)

(4)حضور نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مجھے اپنی اُمت پر سب سے زیادہ اس بات کا خوف ہے کہ ان میں مال کی کثرت ہو جائے گی تو آپس میں حسد کرنے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے۔ (احیاء العلوم مترجم، 3/574)

(5)حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی، حسد اور بغض، یہ مونڈ دینے(ختم کرنے) والی ہے، میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔ (مراةالمناجیح، ج6،حدیث:5039)

لہذا ہمیں دوسروں کی نعمتوں اور کامیابیوں پر اپنے آپ کو اندر سے جلانے کے بجائے انہیں دعا دینی چاہیے، اور اگر کسی کی کوئی نعمت اچھی لگے تو حسد کرنے کے بجائے غِبطہ(یعنی رشک) کرنا چاہیے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ اللہ پاک کی تقسیم پر رضامند رہتے ہوئے دوسروں کو ملنے والی نعمت پر انہیں مبارکباد دے اور اس نعمت کے لیے اپنے حق میں بھی دعا کرے، جیسا کہ، اے اللہ! جو نعمت تو نے اپنے فلاں بندے کو دی ہے، یہ نعمت مجھے بھی عطا کر اور دونوں کے لیے اس میں برکت ڈال۔ اور اگر کوئی کسی سے حسد کرتا ہو یا ایسا محسوس ہو کہ شاید کسی سے حسد کرتا ہے تو اپنے دل کو صاف کرنے کے لیے اس شخص کے لیے دل سے دعا کرے، جب وہ ملے تو خود آگے بڑھ کر مسکراتے ہوئے مصافحہ کرے اور ممکن ہو تو اپنی طرف سے دعوت یا تحفہ بھی پیش کرے۔ اس سے اگر کسی سے حسد ہوگا یا دل میں شک بھی ہوگا تو حسد اور شک دونوں دور ہوجائیں گے۔ ان شاء اللہ، حسد کے بارے میں مزید جاننے کے لیے مکتبۃ المدینہ کا شائع کردہ رسالہ بنام ” حسد “ کا مطالعہ کیجیے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں حسد اور اس جیسی تمام باطنی بیماریوں سے شفا عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


عاشقانِ رسول  کی دینی تحریک دعوت اسلامی کے شعبہ مدنی کورسز کے تحت فار ایسٹ کے ملک ہانگ کانگ کے مختلف شہروں میں قائم مدنی مراکز بنام فیضانِ مدینہ اور اسلامک سینٹر میں فیضانِ قرآن و حدیث کورسز کا سلسلہ ہوا جن میں مختلف اسکولز و تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے اسٹوڈنٹس اور عاشقانِ رسول کی شرکت ہوئی ۔

مبلغین دعوت ِاسلامی نے شرکائے کورس کو مختلف سنتیں و آداب سکھائیں اور دعائے یاد کروائیں نیز فرض علوم سے متعلق آگاہی دیتے ہوئے انہیں علم دینِ سیکھتے رہنے کا ذہن دیا اور مختلف امور پر رہنمائی کی۔

مزید کورس کے دوران ذمہ داران نے اسٹوڈنٹس کو دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں حصہ لینےاور ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کی ترغیب بھی دلائی جس پر انہوں اچھے تاثرات کا اظہار کیا۔اختتام پر طلبائے کرام میں تحائف بھی تقسیم کئے گئے ۔)کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)