دعوتِ اسلامی کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کا دینی کاموں کے سلسلے میں سری لنکا کے سفرِ شیڈول کے متعلق 17 اگست 2023ء بروز جمعرات بذریعہ انٹرنیٹ ایک میٹنگ ہوئی جس میں سری لنکا کی سابقہ و موجودہ ریجن نگران، سری لنکا کی ملک نگران اور عالمی آفس کی اسلامی بہنوں کی شرکت رہی۔

دورانِ میٹنگ عالمی مجلسِ مشاورت کی نگران اسلامی بہن نےدینی کاموں کے حوالے سے ذمہ دار اسلامی بہنوں کی تربیت کی اور انہیں 3 دن پر مشتمل رہائشی کورس کروانے کے متعلق مدنی پھول دیئے۔

اس کے علاوہ نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت نے اسلامی بہنوں کو اپنے شیڈول میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع و محفلِ نعت کے دینی کام شامل کرنے کی ترغیب دلائی جس پرانہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔


بیرونِ ملک کی خواتین میں دینی کام کرنے والی دعوتِ اسلامی کی ذمہ داران کا 16 اگست 2023ء بروز بدھ آن لائن مدنی مشورہ ہوا جس میں ساؤدرن ریجن نگران اور موزمبیق ملک نگران کی اسلامی بہنیں شریک ہوئیں۔

معلومات کے مطابق نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اسلامی بہنوں کے لئے کوئی ایسی جگہ کا انتخاب کرنے کے بارے میں کلام کیا جہاں مبلغۂ دعوتِ اسلامی سنتوں بھرے بیان کے ذریعے اسلامی بہنوں کی دینی و اخلاقی تربیت کر سکیں۔

علاوہ ازیں نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت نے موزمبیق میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے تمام دینی کاموں کے حوالے سے گفتگو کی جس پر ذمہ دار اسلامی بہنوں نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔

شعبہ اصلاحِ اعمال للبنات دعوتِ اسلامی کے تحت 10 اگست 2023ء بروز جمعرات  کراچی کے فیضانِ صحابیات میں مدنی مشورہ ہوا جس میں کراچی کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے براہِ راست جبکہ عالمی سطح کی ذمہ داران سمیت دیگر سطح کی اسلامی بہنیں آن لائن شریک ہوئیں۔

ابتداءً نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے شعبے کے دینی کاموں کا فالو اپ لیتے ہوئے ان میں مزید بہتری لانے کے حوالے سے مدنی پھول دیئے نیز امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہکی اس شعبے کے تحت ہونے والی مختلف دینی خدمات بیان کیں۔

صاحبزادیِ عطار سلمہا الغفار نے امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے کردار کے متعلق اسلامی بہنوں کو بتایا نیز امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہکی وہ ابتدائی تحریرات دکھائیں جو اس شعبے کے حوالے سے تھیں۔

15 اگست 2023ء بروز منگل دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام  گلبرک ٹاؤن ،یوسی 2، ڈویژن 1،ڈسٹرکٹ سینٹرل میں اسلامی بہنوں کے درمیان سیکھنے سکھانے کا حلقہ لگایا گیا جس میں خصوصی طور پر صاحبزادیِ عطار سلمہا الغفار اور نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن کی آمد ہوئی۔

حلقے کی ابتداء تلاوتِ و نعت سے کرنے کے بعد نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے احساسِ ذمہ دار کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے دینی کام کرنے اور دیگر اہم امور کے متعلق شرکا کو مدنی پھول دیئے۔

حلقے کے اختتام پر صاحبزادیِ عطار سلمہا الغفار دعا کروائی جبکہ وہاں موجود شرکا اسلامی بہنوں نے اُن سے ملاقات بھی کی۔

بعدازاں صاحبزادیِ عطار سلمہا الغفار اور نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت نے ذمہ دار اسلامی بہنوں کے ہمراہ رکنِ شوریٰ حاجی سیّد ابراہیم عطاری کی والدہ کے گھر جاکر اُن سے عیادت کی۔

سب سے پہلے تو میں اللہ پاک کا بے حد شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے مسلمان کیا اور پندرہویں صدی کے مجدد قبلہ امیر اہلسنت ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت  برکاتہم العالیہ کا دیدار اور ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا اور سب سے بڑی بات کہ آپ کی طریقت میں بیعت کرنے کی سعادت ملی۔ اب پیر و مرشد کے حقوق کی طرف آتے ہیں :

(1) ان کے حقوق میں سے پہلا حق یہ ہے کہ ان کی بات پر لبیک کہنا۔

(2) ان کے متعلق یہ خیال رکھنا کہ یہ اپنے مرید کے ہر حال اور اس کی دلی کیفیت اور دن کے ہر حال سے باخبر ہیں۔

نفس ہاوی ہوا حال میرا برا

تجھ سے کب ہے چھپا میرے مرشد پیا

(3) ان حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ جب ان کی بارگاہ میں حاضری کا موقع ملے تو اپنی زبان اور اپنا دل دونوں سنبھال کر بیٹھنا چاہئے۔ کہ قول ہے کہ کسی عالم کی بارگاہ میں جاؤ تو اپنی زبان سنبھال کر بیٹھو اور اپنے پیر کی بارگاہ میں جاؤ تو دل اور زبان دونوں سنبھال کر بیٹھو۔

(4) ان کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ یہ جس کام کا حکم فرمائیں وہ کام مرید کو پورا کرنا۔

پس ہم اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں کہ وہ دعوتِ اسلامی کو دن رات ترقیاں دکھائے اور اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے امیر اہلسنت کو درازی عمر بالخیر عطا فرمائے اور ہمیں ان کی غلامی میں موت نصیب فرمائے اور جتنے بھی جامع شرائط پیر ہیں ان کے مریدین کو اپنے پیر صاحب کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


قراٰن مجید میں اللہ پاک کا فرمانِ عالیشان ہے: ﴿اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔(پ11،یونس :62)

اللہ پاک کا امتِ مسلمہ پر یہ خاص کرم ہے کہ وہ ہر دور میں اپنے پیارے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی امت کی اصلاح کے لیے اپنے اولیائے کرام ضرور پیدا فرماتا ہے جو اپنی مؤمنانہ حکمت و فراست کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف مائل کر کے صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور ان کے دلوں میں شمعِ ایمان کے چراغ کو جلا کر تقرب الی اللہ سے نوازتے ہیں۔ اللہ پاک نے پیرو مرشد کو بہت سے ایسے اوصاف عطا کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ جن سے لوگ فیضیاب ہو کر اپنے دامن کو گناہوں سے چھٹکارا دلاکر جنت کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ پیر ومرشد کی فضیلت کے متعلق حضرت جنید بغدادی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک جسے نیکی عطا فرمانا چاہتا ہے اسے اپنے برگزیدہ بندو کی خدمت میں بھیج دیتا ہے۔

پیرو مرشد بنانے کا مقصد: حقیقت میں پیرو مرشد امورِ آخرت کے لیے بنایا جاتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ضمناً ان سے دنیاوی برکتیں، مثلاً بیمار کو شفا یا مشکلوں کا حل ہونا بھی ظاہر ہوتا رہتا ہے مگر بعض لوگ پیرو مرشد کامل کا یہ معیار سمجھتے ہیں کہ پیر تعویذ گنڈے یا عملیات میں ماہر ہو اور دنیاوی مشکلات حل کرے۔ ہر گز ایسا نہیں اور صرف دنیاوی مسائل کے حل کے لیے پیرو مرشد کامل سے مرید نہیں ہوا جاتا۔

پیرو مرشد کیسا ہو؟: مرید کو چاہیے کہ وہ اپنا ہاتھ کسی ایسے بزرگ کے ہاتھ میں دے جو پرہیزگار، متبع سنت ہو جن کی زیارت خدا و مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی یاد دلا دیں جن کی باتیں قراٰن و سنت کا شوق ابھارنے والی ہو جن کی صحبت موت و آخرت کی تیاری کا جذبہ بڑھاتی ہو جو نیکیوں پر استقامت حاصل کرنے کے طریقے بتائے اور بالخصوص گناہوں سے بچنے کے معاملے میں راہ نمائی کریں۔آئیے اب ہم پیر و مرشد کے حقوق ملاحظہ کریں

(1)مرید پر لازم ہے کہ وہ اپنے پیرو مرشد کے چہرے کو ٹکٹکی باندھ کر نہ دیکھے بلکہ اپنی نظریں نیچی رکھے ۔

(2)حضرت سردار علی مرصفی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:مرید کو لائق نہیں کہ وہ اپنے پیرو مرشد کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے وظیفے میں مشغول ہو۔

(3)مرید پر لازم ہے کہ اپنے پیرو مرشد کے کپڑے اور جوتی مبارک کو نہ پہنے اور پیرو مرشد کے بستر پر نہ لیٹے پیرو مرشد کی تسبیح پر وظیفہ نہ پڑھے نہ پیرو مرشد کی موجودگی میں نہ غیر موجودگی میں ہاں! جب پیرو مرشد خد ان چیزوں کے استعمال کی اجازت دے تو درست ہے۔

(4)مرید پر لازم اور واجب ہے کہ جب پیرو مرشد اس سے ناراض ہو جائیں تو فوراً ہی پیرو مرشد کو راضی کرنے کی کوشش میں لگ جائے اگر چہ اسے اپنی خطا کا علم نہ ہو۔

(5)مرید پر لازم ہے کہ وہ اپنے دل کو اپنے پیرو مرشد کے دل کے ساتھ ہمیشہ مضبوط باندھے ہوئے رکھے کہ اللہ پاک نے اپنی تمام امداد کا دروازہ اس کے پیرو مرشد کو بنایا ہے۔

(6)مرید پر لازم ہے کہ وہ اپنے پیرو مرشد کے کمال(کامل ہونے کا)پختہ اعتقاد رکھے تاکہ سوچ و بچار کے مرض سے بچ کر فوراً ترقی کر لے۔

پیارے اسلامی بھائیو! پیرو مرشد کے سابقہ حقوق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں ہر وقت پیرو مرشد کے ادب کی رعایت کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیئے تاکہ ہم سے کسی بھی قسم کی کوئی خطا واقع نہ ہو جو پیرو مرشد کی ناراضگی کا باعث بنے۔ اللہ کریم ہمیں ہمیشہ پیرو مرشد کا پیروکار و فرمانبردار بننا نصیب فرمائے ۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


قراٰن مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:﴿ یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚترجمۂ کنزُالعِرفان: یاد کرو جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔(پ15، بنٓی اسرآءیل: 71) یعنی ،جب اس شخص نے ائمہ ہدی کو اپنا مرشد ،امام نہ مانا تو امام ضلالت یعنی شیطان لعین کا مرید ہوا ،لاجرم روز قیامت اسی کے گروہ میں اٹھے گا۔

من لا شیخ لہ فشیخہ الشیطٰن ترجمہ :جس کا شیخ (مرشد) نہیں اس کا شیخ (مرشد)شیطان ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 26/575)

یقیناً جب اصل رہنما کا ساتھ نہ ہوگا تو شیطان کیلئے آسان ہوجائے گا کہ وہ راستے سے ناواقف انسان کو بھٹکادے ۔

مرشد کامل ہی اس راہ میں سالک کا طبیب بھی ہے جو اس کی باطنی بیماریوں (حسد،تکبر،غیبت،کینہ،بغض،خود پسندی وغیرہ )کا علاج کرکے اس کی روح کو تندرست وتوانا بناتا ہے تاکہ اس کیلئے سفر طے کرنا مشکل نہ رہے۔

حضرت ذوالنون مصری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی مرید ادب کا خیال نہیں رکھتا ،تو وہ لوٹ کر وہی پہنچ جاتا ہے جہاں سے وہ چلا تھا ۔(الرسالہ القشیریہ، ص،498)

مرید مرشد کے ہاتھ میں ایسا ہو جیسا مردہ بدستِ زندہ ہوتا ہے ۔

شیخ طریقت امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت عظیم البرکت حضرت علامہ مولانا الحاج الحافظ القاری شاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:مرشِدکے حقوق مرید پر شمار سے اَفزوں (یعنی بڑھ کر)ہیں، خُلاصہ یہ ہے:

(1) اُس کی رِضا کو اللہ پاک کی رِضا جانے

(2)ان کے حضور بات نہ کرے

(3) اُس کی ناخوشی کو اللہ پاک کی نا خوشی جانے

(4) اُسے اپنے حق میں تمام اولیائے زمانہ سے بہتر سمجھے

(5) اگر کوئی نِعمت دوسرے سے ملے تو بھی اُسے مُرشد ہی کی عطا اور اُنہیں کی نظر کی توجہ کا صَدْقہ جانے

(6) مال ، اولاد ، جان سب اُن پر تَصَدُّق کرنے کو تیار رہے

(7) اُنکی جو بات اپنی نظر میں خلافِ شرعی بلکہ معاذاللہ کبیرہ معلوم ہو اُس پر بھی نہ اعتراض کرے، نہ دل میں بدگمانی کو جگہ دے بلکہ یقین جانے کہ میری سمجھ کی غلطی ہے

(8) ان کے کپڑوں ، اِنکے بیٹھنے کی جگہ ، اِنکی اولاد ، اِنکے، مکان، اِنکے محلہ ، اِنکے شہر کی تعظیم کرے

(9) ہنسنا تو بڑی چیز ہے اِن کے سامنے آنکھ ، کان، دِل ، ہمہ تَن اِنہیں کی طرف مصروف رکھے

(10) جو وہ پوچھے نہایت نرم آواز سے بکمال ادب بتا کر جلد خاموش ہو جائے

(11)جو وہ حکم دیں ’’کیوں ‘‘ نہ کہے دیر نہ کرے، سب کاموں پر اِسے تقدیم (اوّلیت) دے

(12) اِنکی غَیْبت(غیر موجودگی ) میں بھی اِنکے بیٹھنے کی جگہ پر نہ بیٹھے

(13) روزانہ اگر زندہ ہیں اِن کی سلامتی و عافیت کی دُعا، باکثرت کرتا رہے اور اگر انتقال ہوگیا ہو تو روزانہ اِنکے نام پر فاتحہ و دُرود کا ثواب پہنچائے

(14) اِنکے دوست کا دوست، اِنکے دشمن کا دشمن رہے

(15) جب ایسا ہوگا تو ہر وقت اللہ پاک وسَیِّدِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم و مشائخِ کِرام کی مدد زندگی میں ، نزع میں ، قبر میں ، حشر میں ، میزان پر، پل صراط پر حوضِ کوثر پر ہر جگہ اس کے ساتھ رہے گی۔ اِس کے پیر اگر خود کچھ نہیں تو اِن کے پیر تو کچھ ہیں یا پیر کے پیر یہاں تک کہ صاحبِ سلسلہ حضورِ پُر نور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ پھر یہ سلسلہ مولیٰ علی رضی اللہ عنہ اور اُن سے سَیِّدُ المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور اُن سے رَبُّ العالمین ٗ تک مسلسل چلا گیا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مرشد چاروں شرائطِ بیعت( علم دین رکھتا ہو، فاسق نہ ہو، سنی صحیح العقیدہ ہو، اس کا سلسلہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تک متصل ہو) کا جامع ہو۔ پھر اِن کا حسنِ اعتقاد سب کچھ پَھل لا سکتا ہے۔ ان شآء اللہ (فیضان مرشد ،ص30)

ایسے شخص سے بیعت کا حکم ہے جو کم از کم مذکورہ چاروں شرائط رکھتا ہوں ، الحمد اللہ شیخ طریقت ،امیر اہلسنت ،عظیم البرکت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ ان چاروں شرائط بیعت کے جامع ہیں۔

مطیع اپنے مرشد کا مجھ کو بنادے

میں ہو جاؤ ان پر فدا یا الٰہی

بنادے مجھے ایک در کا بنادے

میں ہر دم رہوں باوفا یا الہٰی


ویسے تو مرشد کریم کے درجنوں حقوق ہیں جن میں سے فقط دو آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں: پہلا :(مرشد کے آداب)   دوسرا : ( مرشد سے محبت )

(1) مرشد کے آداب : کے دس حروف کی نسبت سے مرشد کے دس آداب ملاحظہ ہو ۔

آئمہ دین فرماتے ہیں کہ مرشد کے حق باپ کے حق سے زائد ہیں۔ اور فرمایا کہ(1)باپ مٹی کے جسم کا باپ ہے اور پیر روح کا باپ ہے اور فرمایا کہ(2) کوئی کام اس کے خلافِ مرضی کرنا مرید کو جائز نہیں۔(3) اس کے سامنے ہنسنا منع ہے(4) اس کی بغیر اجازت بات کرنا منع ہے(5) اس کی مجلس میں دوسرے کی طرف متوجہ ہونا منع ہے(6) اس کی غیبت (یعنی عدم موجودگی) میں اس کے بیٹھنے کی جگہ بیٹھنا منع ہے۔(7) اس کی اولاد کی تعظیم فرض ہے اگر چہ بے جا حال پر ہوں (8) اس کے کپڑوں کی تعظیم فرض ہے۔(10) اس کی چوکھٹ کی تعظیم فرض ہے۔(فتاوی رضویہ ، 12/153 ، مطبوعہ شبير برادرز ، لاهور)

باطنی آداب : باطنی آداب میں سے ہے کہ مرشد کی مجلس میں دل کو تمام خیالات سے خالی رکھا جائے۔

(2)مرشد سے محبّت : کامل مرشد کی محبت کا پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ دل دنیا سے دور اور حق کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔

مرشد سے محبت رکھنے والوں کے اوصاف: شیخ حضرت محی الدین ابن عربی قدس سرہ العزیز نے مرشد کی محبت رکھنے والوں کے اوصاف اس طرح بیان فرمائے کہ: (1) مرید اپنے محبوب یعنی مرشد کی خدمت گزاری میں بے ادبی سے ڈرنے والا ہو۔ (2) اپنی طرف سے محبوب کے حق میں جو کچھ بھی کرے اس کو تھوڑا سمجھنے والا ہو۔(3)محبوب کے تھوڑے کو بہت سمجھنے والا ہو۔(4) محبوب کی اطاعت سے چمٹنے والا ہو۔(5) اس(محبوب)کی مخالفت سے بھاگنے والا ہو۔(6) محبوب کی محبت میں دائمی جنون والا ہو ۔(7)اس (محبوب) کی رضا کو پانے (کی کوشش کرنے)والا ہو۔(8) نفس کے تمام مطالب پر (مرشد کے احکام کو ) ترجیح دینے والا ہو۔

اللہ والوں کے بھی مرشد سے محبت کے انداز نرالے ہوا کرتے تھے چنانچہ :

میرے مُرشد برحق: مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ جب بھی اپنے پیر و مرشد کا تذکرہ کرتے تو فرماتے "میرے مُرشد برحق" سید نعیم الدین مرادآبادی رحمۃُ اللہ علیہ نے یہ فرمایا۔

مفتی صاحب کے اس عمل سے یہ ثابت ہوا کہ مرید پر لازم ہے اپنے مرشد کو کامل اور برحق جانے ،اس کے متعلق ذرا بھی شک و شبہ کی گنجائش نہ رکھے اور اپنے خیالات و افکار کو مرشد ہادی کے ہاتھ میں تھما دے اسی میں عافیت ہے۔

الحمد للہ میرے مرشد امیر اہلسنت حضرت الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کامل و برحق ہیں ۔

با با فرید رحمۃُ اللہِ علیہ کا عشق مرشد: ایک مرتبہ خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللہِ علیہ اپنے محبوب خلیفہ حضرت بختیار کاکی رحمۃُ اللہِ علیہ کے یہاں تشریف لائے ۔ آپ نے اپنے مرید (بابا فرید رحمۃُ اللہِ علیہ) جو آپ کے عشق میں گھائل تھے ان کو بلا کر ارشاد فرمایا، اپنے دادا پیر (یعنی خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللہِ علیہ) کے قدموں کو بوسہ دو بابا فرید رحمۃُ اللہِ علیہ حکمِ مرشد بجالانے کیلئے دادا پیر کے قدم چومنے جھکے مگر قریب ہی تشریف فرما اپنے ہی پیر ومرشد (بختیار کاکی رحمۃُ اللہِ علیہ) کے قدم چوم لئے۔ بختیار کاکی رحمۃُ اللہِ علیہ نے دوبارہ ارشاد فرمایا، فرید سنا نہیں دادا پیر کے قدم چومو بابا فرید جو مرشد کی حقیقی محبت میں گم تھے فوراً حکم بجا لائے اور دوبارہ دادا پیر کے قدم چومنے جھکے مگر پھر اپنے پیر بختیار کاکی رحمۃُ اللہِ علیہ کے قدم چوم لئے۔ بختیار کاکی رحمۃُ اللہِ علیہ نے دوبارہ ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں دادا پیر کے قدم چومنے کا کہتا ہوں مگر تم میرے قدموں کو کیوں چوم لیتے ہو؟ بابا فرید رحمۃُ اللہِ علیہ نے ادب سے سر جھکا کر بڑے ہی مؤدبانہ اور عشق و مستی کے عالم میں حقیقت حال بیان فرمائی۔ حضور میں آپ کے حکم پر دادا پیر غریب نواز رحمۃُ اللہِ علیہ کے قدم چومنے ہی جھکتا ہوں ، مگر وہاں مجھے آپ کے قدموں کے سوا اور کوئی قدم نظر ہی نہیں آتے ۔ لہذا میں انہیں قدموں میں جا پڑتا ہوں۔ خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللہِ علیہ نے ارشاد فرمایا، بختیار (رحمۃُ اللہِ علیہ ) فرید (رحمۃُ اللہِ علیہ) ٹھیک کہتا ہے ۔ یہ منزل کے اس دروازے تک پہنچ گیا ہے جہاں دوسرا کوئی نظر نہیں آتا۔ (مقامات اولیاء ص 180)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! واقعی اگر کوئی مرید حقیقی عشق مرشد کی لازوال دولت پالے اس کے لئے نہ صرف نیکیاں کرنا آسان بلکہ گناہوں سے بھی یکسر جان چھوٹ سکتی ہے۔

مولانا جامی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: اگر تجھے مرشد کی ذات کا عشق نصیب ہو جائے تو اسے اپنی خوش نصیبی جان کیونکہ یہ عشقِ حقیقی تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے مرشد کریم امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے دامن سے مرتے دم تک وابستہ رکھے۔

جہیری مہندی رنگ نہ دیوے کی ہے اس دا لانرا

سوہنرے ملن ہزاراں پر اساں نہیں او یار وٹاراں


پیر و مرشد سے محبت کرنے سے خدا و عشقِ مصطفےٰ اُجاگر ہوتا ہے ۔ دنیا و آخرت سنور جاتی ہے، الغرض پیر و مُرشد کے اپنے مُریدین پر بے شمار اِحْسانات ہوتے  ہیں، لہٰذا اگر کوئی خوش نصیب مرشِدِ کامل کے دامنِ کرم سے وابستہ ہو کر مُرید ہونے کی سعادت پالے، تو اُسے چاہیے کہ اپنے مرشِد سے فیض پانے کیلئے پیکرِ اَدَب بنا رہے ۔ جو مُریدین دل و جان سے اپنے پیر و مرشد کا ادب كرتے ہیں ، ان کے آداب و حُقُوق میں کوتاہی نہیں کرتے تو ایسے سعادت مند مُریدین ہی ترقی کی منازل طے کرتے اور پیر و مرشد کے پیارے، محبوب اور منظورِ نظر بن کر اُبھرتے ہیں، پیر و مرشد کے احسانات و حقوق کس قدر زیادہ ہیں اور ان کا ادب و احترام کتنا ضروری ہے، اس کا اندازہ بزرگانِ دین کے ان ارشادات سے لگائیے ،چنانچہ حضرت ذُوالنُّون مِصری رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ ،جب کوئی مُرید اَدَب کا خیال نہیں رکھتا ، تو وہ لوٹ کر وہیں پہنچ جاتا ہے، جہاں سے چَلا تھا۔(رسالہ قشیریہ،باب الادب،ص319)

حضرت خواجہ قُطبُ الدِّین بختیار کاکی رحمۃُ اللہِ علیہ سے جب یہ عرض کی گئی کہ پیر کا مرید پر کس قدر حق ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی مُرید عمر بھر حج کی راہ میں پِیر کو سر پر اُٹھائے رکھے تو بھی پیر کا حق اَدا نہیں ہو سکتا۔(ہشت بہشت،ص397)

حضرت سَیِّدُنا امام عبدُ الوہاب شعرانی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: مُریدکی شان یہ ہے کہ کبھی اس کے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ اس نے اپنے مُرشِد کے احسانات کا بدلہ چُکا دیا ہے ۔اگرچہ اپنے مرشِدکی ہزار برس خدمت کرے اور اس پر لاکھوں روپے بھی خرچ کرے کیونکہ جس مُرید کے دل میں اتنی خدمت اور اتنے خرچ کے بعد یہ خیال آیا کہ اس نے مُرشِد کا کچھ حق اَدا کردیا ہے تو وہ راہِ طریقت سے نکل جائے گا یعنی پیر کے فیض سے اس کا کوئی تعلق باقی نہ رہے گا۔(الانوارالقدسیۃ،الجزءالثانی،ص27)

مُرشِد کے حقوق: مرشِدکے حقوق بے شمار ہیں چند پیش خدمت ہیں:۔

(1) اُس کی رِضا کو اللہ پاک کی رِضا جانے

(2) اُس کی ناخوشی کو اللہ پاک کی نا خوشی جانے،

(3)اُسے اپنے حق میں تمام اولیائے زمانہ سے بہتر سمجھے ۔

(4) اگر کوئی نِعمت دوسرے سے ملے تو بھی اُسے مُرشد ہی کی عطا اور اُنہیں کی نظر کی توجہ کا صَدْقہ جانے۔

(5) مال ، اولاد ، جان سب اُن پر تَصَدُّق کرنے کو تیار رہے۔

(6) اُنکی جو بات اپنی نظر میں خلافِ شرعی، اُس پر اعتراض کرے نہ دل میں بدگمانی کو جگہ دے بلکہ یقین جانے کہ میری سمجھ کی غلطی ہے۔

(7) دوسرے کو اگر آسمان پر اُڑتا دیکھے جب بھی مُرشِد کے سوا دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کو آگ جانے۔

(8)ان کے حضور بات نہ کرے۔

(9) ہنسنا تو بڑی چیز ہے اِن کے سامنے آنکھ ، کان، دِل ، ہمہ تَن اِنہیں کی طرف مصروف رکھے۔

(10) جو وہ پوچھے نہایت نرم آواز سے بکمال ادب بتا کر جلد خاموش ہو جائے۔


پیارے پیارے اسلامی بھائیو! کسی پیرِ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت ہونے سے پیرِکامل سے نسبت  حاصل ہو جاتی ہے جس کی بدولت باطِن کی اِصلاح کے ساتھ ساتھ نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ پیرِکامل کی صحبت اور اس کے فَوائد بیان کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا فقیہ عبدُالواحد بن عا شر رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: عارفِ کامل کی صحبت اِختیار کرو۔ وہ تمہیں ہلاکت کے راستے سے بچائے گا۔ اس کا دیکھنا تمہیں اللہ پاک کی یاد دِلائے گا اور وہ بڑے نفیس طریقے سے نَفْس کا مُحاسَبہ کراتے ہوئے اور”خَطَراتِ قلْب“(یعنی دل میں پیدا ہونے والے شیطانی وَساوس)سے مَحفوظ فرماتے ہوئے تمہیں اللہ پاک سے ملا دےگا۔ اس کی صحبت کے سبب تمہارے فرائض و نوافل محفوظ ہو جائیں گے۔”تصفیۂ قلب“(یعنی دل کی صفائی) کے ساتھ ”ذکرِ کثیر“کی دولت میسر آئے گی اور وہ اللہ پاک سے متعلقہ سارے اُمور میں تمہاری مدد فرمائے گا۔ (حقائق عن التصوف الباب الثانی ، ص57)

اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ کی بارگاہ میں سُوال ہوا کہ”مُرید ہونا واجب ہے یاسنَّت؟ نیز مُرید کیوں ہوا کرتے ہیں؟ مُرشِد کی کیوں ضرورت ہے اور اس سے کیا کیا فَوائد حاصل ہوتے ہیں؟“ تو آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے جواباً اِرشاد فرمایا: مُرید ہونا سنَّت ہے اور اس سے فائدہ حضورسیِّدِعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اِتصالِ مسلسل۔ (صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰ) ترجمۂ کنزالایمان: راستہ اُن کا جن پر تُو نے احسان کیا ۔(پ1،الفاتحہ :6) میں اس کی طرف ہدایت ہے، یہاں تک فرمایا گیا: مَن لَّا شَیْخَ لَہٗ فَشَیْخُہُ الشَّیْطٰن جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے۔ صحتِ عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیحہ متصلہ میں اگر اِنتساب باقی رہا تو نظر والے تو اس کے بَرکات ابھی دیکھتے ہیں جنہیں نظر نہیں وہ نزع میں، قبر میں، حشر میں اس کے فوائد دیکھیں گے۔ (فتاویٰ رضویہ ،26/570، ملتقطا )

شیخ (مرشد) کی تعریف: حضرت سید نا عبد الغنی نابلس حنفی علیہ رحمۃُ اللہ القوی حدیقہ ندیہ میں شیخ یعنی پیر و مرشد کی تعریف کرتے ہوئے نقل فرماتے ہیں کہ شیخ سے مراد وہ بزرگ ہے جس سے اس کے بیان کردہ احکام شرع کی پیروی پر عہد کیا جائے اور وہ اپنے اقوال و افعال کے ذریعے مریدوں کے حالات اور ظاہری تقاضوں کے مطابق ان کی تربیت کرے اور اس کا دل ہمیشہ مراتب کمال کی طرف متوجہ رہے۔(الحدیقۃ الندیۃ، الباب الأول، فمرجع الاحكام ومثبتها الكتاب والسنۃ الخ، 1/159)

پیر و مرشد کے حقوق: اعلی حضرت امام اہل سنت مجدد دین وملت مولینا شاہ احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پیر واجبی پیر ہو، چاروں شرائط کا جامع ہو۔ وہ حضور سید المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نائب ہے۔ اس کے حقوق حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حقوق کے پر تو (یعنی عکس ) ہیں ۔ جس سے پورے طور پر عہدہ برآ ہونا محال ہے۔ مگر اتنا فرض و لازم ہے کہ اپنی حد قدرت تک ان کے ادا کرنے میں عمر بھر ساعی (کوش کرتا) رہے ۔ پیر کی جو تقصیر ( یعنی باوجود کوشش کے حقوق پورے کرنے میں جو کمی) رہے گی اللہ و رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم معاف فرماتے ہیں۔ پیر صادق کہ اُن کا نائب ہے، یہ بھی معاف کر دیگا یہ تو ان کی رحمت کے ساتھ ہے۔ ائمہ دین نے تصریح فرمائی ہے کہ

(1)مرشد کے حق باپ کے حق سے زائد ہیں۔

(2) اور فرمایا کہ کا باپ مٹی کے جسم کا باپ ہے اور پیر روح کا باپ ہے ۔

(3)اور فرمایا کہ کوئی کام اس کے خلاف مرضی کرنا مرید کو جائز نہیں۔

(4) اس کے سامنے ہنسنا منع ہے۔

(5) اس کی غیر اجازت بات کرنا منع ہے۔

(6) اس کی مجلس میں دوسرے کی طرف متوجہ ہونا منع ہے۔

(7) اس کی غیبت (یعنی عدم موجودگی) میں اس کے بیٹھنے کی جگہ بیٹھنا منع ہے ۔

(8) اس کی اولاد کی تعظیم فرض ہے اگرچہ بے جا حال پر ہوں۔

(9) اس کے کپڑوں کی تعظیم فرض ہے ۔

(10) اس کے بچھونے کی تعظیم فرض ہے۔

(11) اس کی چوکھٹ کی تعظیم فرض ہے۔

(12) اس سے اپنا کوئی حال چھپانے کی اجازت نہیں، اپنے جان و مال کو اس کا سمجھے۔ (فتاوی رضویہ ، 12/152 ، مطبوعہ شبير برادرز لاهور)

اللہ پاک ہمیں اپنے پیر و مرشد کا ادب و احترام کرنے اور ان کے حقوق کو پورا کرنے والا بنائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


مرشد کا لفظی معنیٰ ہے راہنما، سیدھے راستے پر چلانے والا، حضرت مجدّدِ الف ثانی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:پیر وہ ہوتا ہے جو مرید کے مردہ قلب اور روح کو زندہ کرتا ہے اور اسے مکاشفہ اور مشاہدہ تک پہنچاتا ہے۔ (تصوف کا مکمل انسائیکلو پیڈیا،ص 95 ) مرشد کی ذات وہ ذات ہوتی ہے جو ہمیں اللہ اور رسول کے راستے پر چلاتی ہے، سنتوں پر عمل کرنے کا طریقہ بتاتی اور جذبہ دیتی ہے، ہمارے ظاہر وباطن کو پاک کرتی ہے اور شریعت کی روشنیوں سے سجاتی ہے۔

ضرورتِ مرشد: اللہ پاک کا قرب حاصل کرنا تو ہر بندہ ٔ مؤمن کے لئے عین سعادت ہے کیونکہ اللہ پاک کی طرف سے مؤمنوں کو قربِ الٰہی حاصل کرنے کا حکم ہے۔ قرب ِ الٰہی اور روحانی منازل طے کرنے کے لئے کسی ماہر استاد یا قربِ ِالٰہی کے حامل شخص کی راہنمائی ضروری ہے ولی اور شیخ کی حیثیت تو صرف روحانی راہنما اور نگران کی ہے جب اولیا کے دامن سے طالبینِ حق وابستہ ہوتے ہیں تو وہ ان کو محفوظ راستوں سے قربِ الٰہی کی منازل طے کرواتے ہیں۔

یہاں پیر و مرشد کے متعلق کچھ حقوق لکھے گئے ہیں، ملاحظہ کیجئے!

ادبِ مرشد : مرید پرلازم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اپنے پیر کا ادب کرے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:ان (یعنی مرشدِ کریم) کے کپڑوں ، ان کے بیٹھنے کی جگہ ، ان کی اولاد، ان کے مکان ، ان کے محلے اور ان کے شہر کی تعظیم کرے ۔ (فتاویٰ رضویہ،24/369 ملخصاً)

مرشِد کے حکم کی بجاآوری کرنا : مرید کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریعت کے حکم میں اپنے پیر کے سامنے عقل کے گھوڑے نہ دوڑائے بلکہ اپنے پیر کے حکم پر سر تسلیمِ خم کر دے ۔ سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: جو وہ ( یعنی پیر صاحب ) حکم دیں کیوں نہ کہے (اور بجالانے میں) دیر نہ کرے (بلکہ) سب کاموں پر اسے تقدیم (یعنی اولیت، ترجیح) دے۔(فتاویٰ رضویہ،24/369 )

پیر کی بارگاہ کا لحاظ رکھنا: مرید جب بھی پیر کی بارگاہ میں حاضر ہو تو اسے چاہئے کہ خوب توجہ سے، زبان و دل کو اپنے قابو میں رکھے ۔ بعض بزرگ فرماتے ہیں: جب کسی دنیا دار کے پاس بیٹھو تو زبان سنبھال کر بیٹھو اور جب وَلیُّ اللہ کی بارگاہ میں بیٹھو تو دل سنبھال کر بیٹھو۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے: ( پیر کی بارگاہ میں) ہنسنا تو بڑی چیز ہے ان کے سامنے آنکھ، کان، دل ہمہ تن (ایک ساتھ مکمل طور پر) انہی کی طرف مصروف رکھے۔ (فتاویٰ رضویہ،24/369 )

پیر پر اعتراض نہ کرے : مرید پر ہر صورت میں لازم ہے کہ پیر پر اعتراض نہ کرے ۔ اسی ضمن میں سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہفرماتے ہیں: پیروں پر اعتراض سے بچے کہ یہ مریدوں کے لئے زہرِ قاتل ہے، کم کوئی مرید ہوگا جو اپنے دل میں شیخ پر کوئی اعتراض کرے پھر فلاح پائے۔ (فتاویٰ رضویہ، 21/510)

پیر کےحق کو سمجھنا: مرید کو چاہئے کہ اپنے پیر کے حقوق کو سمجھے، اسے اپنے حق میں تمام اولیائے زمانہ سے افضل جانے، مال جان، اولاد، سب ان پر تصدق کرنے کو تیار رہے ۔ ان کے ہاتھ میں ایسے رہے جیسے زندہ کے ہاتھ میں مردہ، ان کے دوست کا دوست اور ان کے دشمن کا دشمن رہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، 24/369ملتقطاً)

ہم اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں حقِ مرشد کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطافرما اور ہمارے مرشد، شیخِ کامل، امیرِ اہلِ سنت مولانا الیاس قادری رضوی ضیائی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کو ہم سے راضی فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 


مرشد كا لغوی معنی راہنمائی کرنے والا، طریقہ بتانے والا ہے۔  مرشد اپنے مریدین کو گناہ سے توبہ کرا کر انہیں نیکی کا راستہ بتاتا ہے مرشد بروز قیامت اپنے مریدین کی شفاعت کرے گا جب مرید کی روح نکلتی ہے اس وقت مرشد مدد کرتے ہیں جب قبر میں منکیر نکیر سوال کرتے ہیں، جب حشر میں نامۂ اعمال کھلتے ہیں، جب اس سے حساب لیا جا تا ہے ، یا جب اس کے اعمال تولے جاتے ہیں اور جب وہ پل صراط پر چلتا ہے ان تمام مراحل میں مرشد اپنے مریدین کی نگہبانی کرتے اور ان سے کسی جگہ بھی غفلت نہیں برتتے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پیر و مرشد کا اتصال سلسلہ حضور غوث الاعظم سے ہوتے ہوئے آقائے دو جہاں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ملتا ہے اور حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اتصال رب العالمین سے ہیں مرشد سے رابطہ گویا رب سے رابطہ ہے۔

پیر پیرِ واجبی ہو چاروں شرائط کا جامع ہو تو سید المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نائب ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 26/562)

پیر و مرشد کے حقوق:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ نمبر 563 پر ارشاد فرماتے ہیں کہ : ائمہ دین نے تصریح فرمائی ہے کہ مرشد کے حقوق باپ کے حقوق سے زائد ہے اور فرمایا کہ باپ مٹی کے جسم کا باپ ہے اور پیر روح کا باپ ہے۔

(1) یہ اعتقاد کرے کہ مطلب میرے مرشد سے حاصل ہوگا اور اگر دوسری طرف توجہ کرے گا تو پیر و مرشد کے فیض و برکات سے محروم رہے گا۔

(2) ہر طرح سے مرشد کا مطیع ہو جان و مال سے اس کی خدمت کرے کیونکہ بغیر محبتِ پیر کچھ نہیں ہوتا اور محبت کہ پہچان یہی(خدمت کرنا) ہے۔

(3) مرشد جو کچھ کہے اس کو فوراً بجا لائے بغیر اجازت اس کے فعل کی اقتدا نہ کرے کیونکہ بعض اوقات وہ اپنے حال و مقام کے مناسب ایک کام کرتا ہے کہ مرید وہ کرنا زہر قاتل ہوتا ہے۔

(4) جو وِرد و وظیفہ مرشد تعلیم کرے اس کو پڑھے اور تمام وظائف چھوڑ دے خواہ اس نے اپنی طرف سے پڑھنا شروع کیا ہو یا کسی دوسرے نے بتایا ہو۔

(5) مرشد کی موجودگی میں ہمہ تن اسی کی طرف متوجہ رہنا چاہیے یہاں تک کہ سوائے فرض و سنت کے نماز نفل اور کوئی وظیفہ اس کی اجازت بغیر نہ پڑھیں۔

(6) حتی الامکان ایسی جگہ کھڑا نہ ہو کہ اس کا سایہ مرشد کے سایہ پر یا اس کے کپڑے پر پڑے۔

(7) مرشد کے مصلے پر پَیر نہ رکھے۔

(8) مرشد کی طہارت اور وضو کی جگہ طہارت و وضو نہ کرے۔

(9) مرشد کے برتنوں کو استعمال میں نہ لائے۔

(10) مرشد کے سامنے نہ کھانا کھائے نہ پانی پیئے اور نہ وضو کرے ہاں اجازت کے بعد مضائقہ نہیں ۔

(11) اس کے روبرو کسی سے بات نہ کرے بلکہ کسی طرف متوجہ بھی نہ ہو۔

(12) جس جگہ مرشد بیٹھتے ہوں اس طرف پَیر نہ پھیلائے اگر چہ سامنے نہ ہو۔

(13) اور اس کی طرف تھوکے بھی نہیں۔

(14) جو کچھ مرشد کہے اور کرے اس پر اعتراض نہ کرے کیونکہ جو کچھ وہ کرتا ہے کہتا ہے اگر سمجھ میں نہ آئے تو حضرت موسی و خضر علیہما الصلوۃ والسّلام کا قصہ یاد کرے۔

(15) اپنے مرشد سے کرامت کی خواہش نہ کرے۔

(16) اگر کوئی شک وشبہ دل میں گزرے تو فوراً عرض کرے اگر وہ شبہ حل نہ ہو تو اپنے فہم کا نقصان سمجھے اگر مرشد اس کا کچھ جواب نہ دے تو یہ جان لے کہ میں اس کے جواب کے لائق نہ تھا ۔

(17) بے ضرورت اور بغیر اجازت مرشد سے علیحدہ نہ ہو۔

(18) مرشد کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرے بآواز گفتگو بھی نہ کرے بقدرِ ضرورت مختصر کلام کرے اور نہایت ہی توجہ سے جواب کے منتظر رہے۔

(19) جو کچھ اس کا حال ہو برا یا بھلا اسے مرشد سے عرض کرے کیونکہ مرشد طبیب قلبی ہے اطلاع کے بعد اس کی اصلاح کرے گا مرشد کے کشف پر اعتماد کر کے سکوت نہ کرے ۔

(20) جو کچھ فیض باطنی مرید کو پہنچے اسے مرشد کا طفیل سمجھے اگر چہ خواب میں یا مراقبہ میں دیکھے کہ دوسرے بزرگ سے پہنچا ہے تب بھی یہ جانے کہ مرشد کا کوئی لطیفہ اس بزرگ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔

یہ سارے حقوق اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان سے سائل نے یہ تحریر فرما کر تصحیح کروائی تو اعلی حضرت نے ارشاد فرمایا کہ یہ تمام حقوق صحیح ہے ان میں بعض قراٰن عظیم اور احادیث کریمہ اور بعض کلمات علما اور بعض ارشادات اولیا سے ثابت ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 26/571تا572)

پیارے اسلامی بھائیو! ابھی ہم نے پیر مرشد کے حقوق پڑھے اگر ہم ان حقوق پر عمل پیرا ہو جائے تو ہمارا مقدر چمک اٹھے گا ۔

ہمیں مرشد کے واسطے سے رب کی معرفت حاصل ہوتی ہے مرشد ہمارے محسن ہے جو ہماری غیر موجودگی میں ہماری لئے دعائیں کرتے ہیں ہمیں نیکی کا راستہ دکھاتے ہیں گناہوں سے بچنے کا جذبہ دیتے ہیں پیر و مرشد کی قدر و منزلت کو اللہ نے بلند فرمایا ، لہذا ہر مرید کو چاہیے کہ وہ اپنے محسن پیر و مرشد کے حقوق کی پاسداری کرے۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنے پیر و مرشد کے حقوق کی پابندی کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم