مختلف شعبوں کے یوسی تا نگرانِ شعبہ (پاکستان سطح کے ذمہ داران) کا ٹریننگ سیشن
دنیا بھر میں اسلامی تعلیمات عام کرنے والی
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد
میں گزشتہ روز ویڈیو اور آڈیو لنک کے ذریعہ ٹریننگ سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں
مختلف شعبوں کے یوسی تا نگرانِ شعبہ (پاکستان سطح کے ذمہ دار) اسلامی بھائی شریک ہوئے ۔
اس ٹریننگ سیشن میں اسلامی بھائیوں کی تربیت کرتے ہوئے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ
پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے ذمہ داران کی تقرری اور مساجد کی معلومات
کے حوالے سے اسلامی بھائیوں کی رہنمائی کی۔
علاوہ ازیں نگرانِ پاکستان مشاورت نے تقرری مہم
اور مساجد کی معلومات جمع کرنے کے متعلق ذمہ دار اسلامی بھائیوں کو مدنی پھولوں سے
نوازا جس پر انہوں نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالو اپ ذمہ دار نگرانِ
پاکستان مشاورت، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
ماہِ
جنوری 2025ء میں مختلف مقامات پر ”دستارِ
فضیلت و تقسیمِ اسناد اجتماعات“ کا انعقاد کیا جائے گا
دعوتِ
اسلامی لوگوں کے عقائد و نظریات کی حفاظت کرنے، انہیں قراٰنِ کریم و حدیثِ
رسول کی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور مختلف
شعبہ ہائے زندگی میں لوگوں کی رہنمائی
کرنے والی عالمی سطح کی دینی تحریک ہے۔
دعوتِ
اسلامی کے تحت دنیا بھر کے لوگوں کو قراٰنِ مجید کی تعلیم دینے کے لئے جامعۃ
المدینہ و مدرسۃ المدینہ (بوائز،
گرلز) قائم
ہے جہاں
طلبہ و طالبات کو تجربہ کار اساتذۂ کرام
و معلمات کے زیرِ نگران قراٰن و حدیث کی
تعلیمات دی جاتی ہے۔
الحمد
للہ دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام جامعۃ
المدینہ و مدرسۃ المدینہ (بوائز،
گرلز) سے تخصصات، درسِ نظامی اور حفظ و ناظرہ قراٰنِ
پاک مکمل کرنے والوں کے لئے پاکستان کے
مختلف شہروں میں ”دستارِ فضیلت و تقسیمِ اسناد اجتماعات“ کا انعقاد ہونے جا رہا ہےجن کی تفصیل درج ذیل ہے:
٭9
جنوری 2025ء کو مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ اسلام آباد G/11 میں، 10جنوری 2025ء کو کمپنی
باغ، شیخوپورہ میں، 12 جنوری 2025ء کو مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کاہنہ، فیروز
پور روڈ، لاہور میں، 16 جنوری 2025ء کو دھوبی گھاٹ گراؤنڈ، فیصل آباد
میں اور 27 جنوری 2025ء کو علامہ اقبال گراؤنڈ ، یونٹ نمبر 2 لطیف آباد، حیدرآباد
میں رکنِ شوریٰ و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری ٭17
جنوری 2025ء کو مرے کالج گراؤنڈ سرکلر روڈ، سیالکوٹ میں اور 22 جنوری 2025ء
کومدنی مرکز فیضانِ مدینہ شاہ رکنِ عالم کالونی نزد انصاری چوک ملتان میں
رکنِ شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری ٭19 جنوری 2025ء کو مِنی اسٹیڈیم
شیخوپورہ روڈ، گوجرانوالہ شہر میں رکنِ شوریٰ حاجی محمد اظہر عطاری ٭20
جنوری 2025ء کو مدنی مرکز فیضانِ مدینہ شاہ جہانگیر روڈ، گجرات میں رکنِ شوریٰ
حاجی قاری محمد سلیم عطاری سنتوں بھرے بیانات فرمائیں گے۔
واضح
رہے سابقہ سال 2024ء میں دعوتِ اسلامی کے تحت 280 طلبہ و طالبات نے تخصصات، 2 ہزار
553 طلبہ و طالبات نے درسِ نظامی (عالم و عالمہ کورس)،15 ہزار 547
طلبہ و طالبات نے حفظِ قراٰن اور 58 ہزار 51 طلبہ و طالبات نے ناظرہ قراٰنِ پاک مکمل
کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔(کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
بزرگانِ
دین اللہ پاک کے بڑے ہی مقبول بندے ہیں ، اللہ عزوجل نے
اپنے ان مقبول بندوں کو علمِ لدُنّی عطا فرماتا ہے نیز ان کی صحبت میں بیٹھنا، اُن کا ذکر کرنا اور ان
کے فرامین پر عمل کرنا دین و دنیا کی بھلائی میں سے ہے۔
بزرگانِ
دین کے فرمان سے نصیحت حاصل کرنے کے لئے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ
دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس
ہفتے40 صفحات کا رسالہ ”بزرگانِ دین کے 40 اقوال“
پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہےاور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے عطار
یااللہ
پاک!جو کوئی 40 صفحات کا رسالہ ”بزرگانِ دین کے 40 اقوال“ پڑھ یا سن لے اُسے اولیائے کرام کی سچی محبت دےاور
اُس کو ماں باپ سمیت جنت الفردوس میں بےحساب داخلہ نصیب فرما۔اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
شعبہ رابطہ برائے شخصیات دعوتِ اسلامی کے تحت
گزشتہ روز نیکی کی دعوت عام کرنے اور علمِ دین پھلانے کے سلسلے میں ذمہ دار اسلامی
بھائیوں نے سیالکوٹ میں مختلف شخصیات اور
آفیسرز سے ملاقات کی۔
ملاقات میں جو شخصیات اور آفیسرز موجود تھے اُن
میں ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مظفر مختار، اسسٹنٹ کمشنر قمر
منج، SP انویسٹی گیشن منیر سیفی، DSP لیگل محمد
صہیب، DSP سمبڑیال سجاد باجوہ، ڈسٹرکٹ سیکیورٹی انچارج حافظ سعید، ڈسٹرکٹ انچارج
فرنٹ ڈیسک خرم جعسر، ڈسٹرکٹ انچارج پراسیکیوٹر میاں عمر، ڈسٹرکٹ انچارج اکاؤنٹ حمزہ
سرور، سپرٹنڈنٹ
ڈسٹرکٹ جیل ملک بابر اور PSO,DPO اعجاز ساہی شامل تھے۔
پاکستان کی تحصیل جلال کوٹ میں ذمہ داران و نگران اسلامی بھائیوں کا ”معلم
کورس“
ساہیوال ڈویژن، ضلع اوکاڑہ کی تحصیل جلال کوٹ میں قائم جامع مسجد الفردوس میں 5 جنوری 2025ء
کو شعبہ مدنی کورسز کے تحت معلم کورس منعقد کیا گیا جس میں نگرانِ تحصیل ، نگرانِ یوسی
اور مختلف شعبہ جات بالخصوص شعبہ مدنی کورسز کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔
اس معلم کورس میں اراکینِ شعبہ مولانا محمداحمدسیالوی
عطاری مدنی اور مولانا حافظ محمدابوبکر
عطاری مدنی نے مختلف موضوعات پر شرکا کی رہنمائی کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
٭معلم کو کیسا ہونا چاہیئے؟٭معلم میں کیا کیا خصوصیات
ہونی چاہیئے؟٭کامیاب معلم کے اوصاف٭کورس تیار کرنے کا طریقہ٭ ڈیٹا انٹری کی اہمیت
و افادیت٭ایپلیکیشن میں ڈیٹا انٹری کرنا٭معلم کورس کے ذریعے 12 دینی کام کو مضبوط
کرنا٭کورس میں کارکردگی جمع کرنے کا طریقہ٭رہائشی کورسز کے لئے اسلامی بھائیوں کو
تیار کرنا٭کورس کے اختتام پر اختتامی نشست کا انعقاد کرنا ٭اختتامی نشست کا شیڈول٭دورانِ
کورس فرض علوم کیسے سکھائے جائیں؟٭فیضانِ نماز کورس کا اجمالی شیڈول٭سبق سننے کا
انداز کیا ہو؟۔
اس موقع پر کورس میں شریک ذمہ دار اور نگران اسلامی بھائیوں نےدعوتِ اسلامی کے
مختلف دینی کاموں میں حصہ لیا جن میں صدائے مدینہ، تفسیر سننے / سنانے کا حلقہ اور
مسجد درس شامل تھا۔
واں بھچراں شہر، میانوالی ڈسٹرکٹ کے علاقے چک میرث میں 1 جنوری 2025ء کو 7 دن کے فیضانِ نماز کورس کا آغاز کیا گیا جس میں قرب و
جوار کے عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
7 جنوری 2025ء کو فیضانِ نماز کورس کی اختتامی
نشست منعقد ہوئی جس میں علمائے کرام، اہلِ علاقہ اور شرکائے کورس سمیت ذمہ دار
اسلامی بھائیوں کی شرکت ہوئی۔
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت
فیضانِ مدینہ فیصل آباد اور پاکستان مشاورت آفس کے کاموں کو بہتر انداز سے مکمل
کرنے کے لئے ایک شعبہ بنام ترقیاتی مجلس فیضانِ مدینہ فیصل آباد بنائی گئی ہے۔
اسی سلسلے میں فیصل آباد، پنجاب میں قائم مدنی
مرکزفیضانِ مدینہ میں ترقیاتی مجلس فیضان
مدینہ فیصل آباد کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کا مدنی مشورہ ہوا جس میں چند اہم نکات
پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل
آباد میں 5 جنوری 2025ء کو رابطہ برائے میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران کا مدنی
مشورہ ہوا جس میں رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ عبد الوہاب عطاری، نگرانِ رابطہ برائے میڈیکل
ڈیپارٹمنٹ شہزاد عطاری، نگرانِ انٹرنیشنل افیئرز ڈیپارٹمنٹ اور صوبائی ذمہ داران
نے بھی شرکت کی۔
مدنی مشورے میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ
شوریٰ کے رکن و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے ڈیپارٹمنٹ سے متعلق
کلام کرتے ہوئے مختلف موضوعات پر مشاورت کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
٭ذمہ داران کی تقرری٭صوبہ وائز اہداف و تقابل (جنوری تا دسمبر 2024ء کی کارکردگی) ٭سافٹ ویئر انٹری رپورٹ٭آئندہ کے اہداف٭فیڈبیک(مسائل و تجاویز) ٭ڈیپارٹمنٹ
میں دینی کاموں کی کارکردگی٭رمضان اعتکاف٭رمضان عطیات
صبیح اسد عطّاری ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ لاہور، پاکستان)
اے عاشقان
رسول اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مذہب کی صورت میں ہمیں دین اسلام عطا فرمایا یہ وہ مذہب ہے جس نے ہمیں
ہر شے کے حقوق سکھائے چاہے وہ انسان ہوں یا حیوان ہوں یہاں تک کہ دین اسلام نے
ہمیں نہ صرف زندہ لوگو ں کے بلکہ قبر والوں کے حقوق بھی بتائے ہیں۔ آئیے حصول برکت کے لیے چند حقوق سنتے ہیں :
(1)
اہل قبر کا احترام:اے عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم! شریعت اسلام ہمیں
اہل قبر کا بھی احترام کرنے کا حکم دیتی ہے لہذا قبر پر بیٹھنا، سونا، چلنا،
پاخانہ، پیشاب کرنا حرام ہے۔ قبرستان میں جو نیا راستہ نکالا گیا اس سے گزرنا ناجائز ہے، خواہ نیا ہونا اسے معلوم ہو
یا اس کا گمان ہو۔ (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج 3 ،
ص 183)
(2)
اپنے پیاروں کی قبر پر جانا: پیارے اسلامی بھائیو ! قبرستان کا ایک حق یہ بھی
ہے کہ اس میں بسنے والے یعنی قبر والوں کے اپنے ان کی قبروں کی زیارت کے لیے آئیں
اور ان کو ایصال ثواب کی صورت میں خوبصورت تحفہ بھی دیں بہار شریعت میں ہے کہ
زیارتِ قبور مستحب ہے ہر ہفتہ میں ایک دن زیارت کرے،جمعہ یا جمعرات یا ہفتہ یا پیر
کے دن مناسب ہے، سب میں افضل روزِ جمعہ وقتِ صبح ہے۔ اولیائے کرام کے مزارات
طیبہ پر سفر کر کے جانا جائز ہے، وہ اپنے زائر کو نفع پہنچاتے ہیں اور اگر وہاں
کوئی منکرِ شرعی ہو مثلاً عورتوں سے اختلاط تو اس کی وجہ سے زیارت ترک
نہ کی جائے کہ ایسی باتوں سے نیک کام ترک نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے
بُرا جانے اور ممکن ہو تو بُری بات زائل کرے۔ (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ
الجنازۃ، مطلب في زیارۃ القبور، ج 3، ص 177)
(3)
عورتوں کا قبرستان جانا : پیارے
اسلامی بھائیو! قبرستان کا یہ بھی حق ہے کہ شریعت نے چونکہ عورتوں کو قبرستان جانا
منع کیا ہے لہٰذا عورتیں قبرستان نہ جائیں ۔فتاوی رضویہ شریف میں میرے امام اہلسنت
اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مسئلہ کچھ یوں بیان فرمایا ہے :
افضل یہ ہے کہ عورتیں مطلقاً منع کی جائیں
کہ اپنوں کی قبور کی زیارت میں تو وہی جزع و فزع ہے اور صالحین
کی قبور پر یا تعظیم میں حد سے گزر جائیں گی یا بے ادبی کریں گی
کہ عورتوں میں یہ دونوں باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ (الفتاوی
الرضویۃ، ج 9 ، ص 538)
(4)
اہل قبور کو سلام کرنا : اے عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کا
یہ بھی حق ہے کہ جب قبرستان جایا جائے تو اہل قبور کو سلام کیا جائے اور قبرستان جانے کی دعا
بھی پڑھی جائے۔ عالم بنانے والی کتاب بہار
شریعت میں قبرستان جانے کی یہ دعا لکھی ہوئی ہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَھْلَ دَارِ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ
اَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَّ اِنَّا اِنْ شَا َٔ اللہ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ نَسْأَلُ
اللہ لَنَا وَلَکُمُ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ یَرْحَمُ اللہ الْمُسْتَـقْدِمِیْنَ
مِنَّا وَالْمُسْتَاْخِرِیْنَ اَللّٰھُمَّ رَبَّ الْاَرْوَاحِ الْفَانِیَۃِ
وَالْاَجْسَادِ الْبَالِیَۃِ وَالْعِظَامِ النَّخِرَۃِ اَدْخِلْ ھٰذِہِ
الْقُبُوْرِ مِنْکَ رَوْحًا وَّرَیْحَانًا وَّمِنَّا تَحِیَّۃً وَّسَلَامًا (بہار شریعت، جلد 1 حصہ چہارم کتاب الجنائز)
اے عاشقان
رسول !یقینا ًمذکورہ چند نکات سے آپ پر قبر والوں کے
چند حقوق واضح ہو چکے ہوں گے۔
محمد فیصل فانی بدایونی
(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ پیراگون سٹی
لاہور ، پاکستان)
دنیا میں رہتے ہوئے بنی نوع انسان ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا خیال رکھتے ہیں
۔تب جا کر کہیں معاشرہ بھلائی اور اچھے راستے پر گامزن ہوتا ہے۔اگر ہم دنیا میں
رہتے ہوئے اپنے اور دوسروں کے حقوق و فرائض کا خیال نہ رکھیں تو معاشرہ برائیوں کا
شکار ہو کر ہمارے ہی گلے پڑ جائے گا۔ اور نظام زیست درہم برہم ہو جائے گا۔ زندگی
میں انسان دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے خواہ وہ کسی ڈر سے ہو یا اپنے مفاد سے
ہو لیکن اہل اللہ صرف اللہ کی رضا کے
لیے یہ فرائض و حقوق سر انجام دیتے ہیں۔
دنیا میں ہر جگہ پر حقوق و فرائض کا تصور قائم ہے لیکن مرنے کے بعد بعض جگہوں پر
یا بعض مذاہب میں یہ تصور نہیں ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں مرنے کے بعد بھی
انسان کے حقوق کا خیال رکھا ہے۔ اور اس کی تعظیم و تکریم کو برقرار رکھا ہے درج
ذیل میں ہم کچھ قبرستان کے حقوق کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ جن کو ہم اپنے عملی زندگی
میں بھی سرانجام دے سکیں۔
(1)
قبروں کی زیارت : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا: قبروں کی زیارت کرنے جایا کرو کیونکہ
یہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ (صحیح
مسلم، حدیث نمبر 976 ,کتاب الجنائز، باب استحباب زیارۃ القبور للرجال)
(2)
سلام پیش کرنا: نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ
دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ (صحیح
مسلم، حدیث نمبر 975 ,کتاب الجنائز، باب ما یقال عند دخول القبور والدعاء لأھلھا)
(3)
دعائے مغفرت: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بقیع الغرقد
(مدینہ کے قبرستان) میں دعا کی اور فرمایا: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ
الْبَقِيعِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر
974 ,کتاب الجنائز، باب ما یقال عند زیارۃ القبور)
(4)
قبر پر بیٹھنے یا چلنے سے اجتناب: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: "کسی کے لیے یہ بات بہتر ہے کہ وہ انگارے پر بیٹھے جو اس کے کپڑے جلا
دے اور اس کے جسم کو پہنچ جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی مسلمان کی قبر پر
بیٹھے"
(صحیح مسلم،
حدیث نمبر 971 ,کتاب الجنائز، باب النھی عن الجلوس علی القبر)
(5) قبر
کی مرمت: فقہاء کے مطابق، قبر کی
مرمت کرنا واجب ہے اگر اس کو نقصان پہنچے، تاکہ اس
کی بے حرمتی نہ ہو۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 234)۔
(7)
پھول یا پودے لگانا:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ایک
تر شاخ کے دو حصے کرکے دو قبروں پر لگائیں
اور فرمایا کہ جب تک یہ خشک نہ ہوں گی، ان کے لیے عذاب میں تخفیف ہوگی۔ (صحیح
بخاری، حدیث نمبر 1361,کتاب الجنائز، باب الجرید علی القبر)
(8)
قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا: حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی وفات سے پانچ دن پہلے یہ کہتے ہوئے سنا:
’’میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی
میرا خلیل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے، جس طرح اس نے
ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا تھا، اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا
خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیل بناتا، خبردار! تم سے پہلے لوگ
اپنے انبیاءعلیهم السلام اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا کرتے تھے،
خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہیں نہ بنانا، میں تم کو اس سے روکتا ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم،
حدیث نمبر 532، کتاب المساجد، باب النھی عن اتخاذ القبور مساجد)
(10) تعلیمات اسلامی کی پیروی:رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا:تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن
نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند
کرتا ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر 13 ،کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحب لأخیہ
ما یحب لنفسہ)
اللہ تعالی سے دعا ہے وہ اپنے
حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے ہمیں زندوں کے ساتھ ساتھ اپنے قبرستان میں
مدفون لوگوں کے حقوق کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ
الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
عبداللطیف
عطّاری ( جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور ، پاکستان)
مسلمانوں کی
تدفین کے لیے باقاعدہ قبرستانوں کا قیام ابتدائے اسلام سے چلا آرہا ہے ، دور نبوی
میں مکہ مکرمہ میں جنت المعلیٰ اور مدینہ منورہ میں جنت البقیع کے قبرستان قائم
کیے گئے تھے، طبقات ابن سعد میں ہے کہ رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مدینہ
تشریف لائے تو اپنے اصحاب کے لیے قبرستان کی تلاش میں تھے، آپ مدینے کے اطراف آئے
اور فرمایا کہ مجھے اس جگہ کا حکم دیا گیا ہے، یعنی بقیع کا، چنانچہ یہ جگہ
قبرستان کے لیے مختص کردی گئی، قبرستان اور قبروں کے آداب اسلام کے اہم احکام میں
شامل ہیں جو مسلمانوں کو موت ،آخرت اور زندگی کی فانی حقیقت کی یاد دلاتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں قبرستان کی زیارت اور قبروں کے احترام پر زور دیا گیا ہے تاکہ
انسان اپنی آخرت کی تیاری کے لیے فکرمند رہے۔ قرآن و حدیث میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ قبرستان کی
حرمت اور احترام کو کس طرح برقرار رکھا جائے، تاکہ اس مقام کااحترام
ہمیشہ قائم رہے۔
(1)
قبروں پر پاؤں نہ رکھو : الاختيار لتعليل المختار میں ". ہے: ویکرہ وطء القبر والجلوس
والنوم عليه لأنه عليه الصلاة والسلام نهى
عن ذلك، وفيه إهانة به یعنی : قبر
پر پاؤں رکھنا ، اس پر بیٹھنا اور سونا مکروہ ہے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے اس سے منع فرمایا اور اس میں اس کی اہانت ہے۔ ( الاختيار لتعليل المختار،
باب الجنائز، جلد 1 ، صفحہ 97، طبعة الحلبی، القاهرة)
(2)
قبروں کی طرف نماز نہ پڑھو:وَعَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ قَالَ: قَالَ
رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ : “لَا تَجْلِسُوا عَلَی القُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا. رَوَاهُ
مُسْلِمٌ روایت ہے حضرت ابو مرثدغنوی
سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قبروں پر نہ بیٹھو
اور نہ ان کی طرف نماز پڑھو۔ (مسلم۔ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 حدیث نمبر:1698)
(3)
قبروں پر نہ چلو : امام اہلسنت
امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن
فرماتے ہیں: قبور مسلمین پر چلنا جائز
نہیں بیٹھنا جائز نہیں ، ان پر پاؤں رکھنا جائز نہیں، یہاں تک کہ آئمہ نے تصریح
فرمائی کہ قبرستان میں نیا راستہ پید اہو اس میں چلنا حرام ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ ، جلد 9، صفحہ 480)
(
4 ) قبر کے اوپر نہ بیٹھو : وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ
اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
: “لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلیٰ جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهٗ فَتَخْلِصَ
إِلٰى جِلْدِهٖ خَيْرٌ لَهٗ مِنْ أَنْ
يجلس عَلیٰ قَبْرٍ”.رَوَاهُ مُسْلِمٌ روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سےکسی کا چنگاری پر بیٹھنا کہ جو کپڑے کو
جلاکر اس کی کھال تک پہنچ جائے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔ (مسلم۔ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 , حدیث نمبر:1699)
(
5 ) قبروں کی زیارت کرنا : عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :
“نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ
الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ
النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلَا
تَشْرَبُوا مُسْكِرًا . رَوَاهُ
مُسْلِمٌ روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب زیارت کیا کرو اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کے
گوشت سے منع کیا تھا اب جب تک چاہو رکھو اور میں نے تمہیں مشکیزوں کے سواء میں
نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب تمام برتنوں میں پیا کرو ہاں نشہ کی چیز نہ پینا۔ ( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ,
حدیث نمبر:1762)
اللہ پاک ہمیں
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ امین
محمد
مبشر عطاری درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
قبروں کی
زیارت دنیا سے بے رغبتی اور فکر آخرت پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ جس طرح
والدین کے حقوق بیان کیے گئے ہیں اور استاتذہ کے حقوق بیان کیے گئے ہیں اسی طرح
قبرستان کے بھی حقوق بیان کیے گئے ہیں چنانچہ فرمان مصطفے صلی
اللہ تعالی علیہ وسلم ہے ، قبروں کی زیادت
کیا کرو کہ وہ دنیا میں بے رغبتی کا سبب ہے اور آخرت یاد دلاتی ہے۔
حافظ قاضی ابو
الفضل رحمۃ الله الوھاب فرماتے ہیں: حضور علیہ السلام
نے قبروں کی زیادت کا حکم اس لیے دیا تا کہ فکر آخرت پیدا ہو اور عبرت حاصل کی
جائے۔ قبر میں شجرہ اور عہد نامہ رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میت کے منہ کے
سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھے ۔ قبرستان میں کسی نے اپنے لیے قبر
کھود رکھی ہے۔ اگر قبرستان میں جگہ موجود ہے تو دوسرے کو اس قبر میں دفن نہ کرنا
چاہیے اور جگہ موجود نہ ہو تو دوسرے لوگ اپنا مردہ اس میں دفن کر سکتے ہیں ۔
قبرستان کے تمام آداب بجا لائے جائیں۔
(1)
قبر پر ٹھہرنا : دفن کے بعد قبر کے پاس اتنی دیر تک ٹھہرنا مستحب
ہے جتنی دیر میں اونٹ ذبح کرکے گوشت تقسیم کر دیا جائے ، کہ ان کے رہنے سے میت کو
انس ہوگا اور نکرین کا جواب دینے میں وحشت نہ ہوگی اور اتنی دیر تک تلاوت قرآن اور
میت کے لیے دعا و استغفار کریں اور یہ دعا کریں کہ سوال نکرین کے جواب میں ثابت
قدم رہے۔
( الجوهرة النيرة ، باب الجنائز ، ص : 141) (یہ
تدفین کےآداب میں سے ہے نہ کہ قبرستان کے
آداب میں سے )
(2)
قبر پر سونا : قبرستان کے حقوق
میں یہ بھی ہے کہ قبر پر نہ بیٹھا جائے ۔ قبر پر بیٹھنا ، سونا ، چلنا ، پاخانہ
کرنا، پیشاپ کرنا حرام ہے۔ (الفتاوى
الهنديہ، كتاب الصلاة ، الباب الحادي والعشرون فی الجنائز، الفصل السادس ، ج:1 ،
ص: 166)
(3)
قبر کی زیارت کرنا : قبرستان کے حقوق میں سے ہے کہ قبرستان کی زیارت
کے لیے جایا جائے۔ زیارت قبور مستحب ہے ہر ہفتہ میں ایک دن زیارت کرے ، جمعہ یا
جمعرات یا ہفتہ یا پیر کے دن مناسب ہے سب میں افضل روز جمعہ وقت صبح ہے۔
(ردالمختار، صلاة الجنازة ، طلب فى زيادة القبور ، ج : 3 ،ص 177 )
(4)
قبر والوں کو سلام کرنا : بُرَیْدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم انہیں تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو
کہیں:’’اےمؤمنو اورمسلمانوں کے گھر والو! تم پر سلامتی ہو،اِنْ شَآءَ اللہ ہم بھی
تم سے ملنے والے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سےاپنے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے
ہیں۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:5 , حدیث
نمبر:583)
Dawateislami