قرآن کریم اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے، قرآن کریم سب سے افضل کتاب ہے جو سب سے افضل رسول، حضور پر نور، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفی  ﷺ پر نازل ہوئی۔(بہار شریعت، جلد1/29، حصہ اول)

قرآن کریم وہ مقدس کتاب ہے، جس میں تمام مسائل کا حل موجود ہے، یہ وہ مقدس کتاب ہے، جو ہمیں نیکیوں کی طرف ابھارتی ہے، یہی ہمیں اطاعتِ الٰہی ، اتباعِ رسول ﷺ کا حکم دیتی ہے، جس کو پڑھنا عبادت ہے، جس کو دیکھنا عبادت ہے، جس کی تعلیمات پر عمل کرنا عبادت ہے،یہی وہ کتاب ہے، جس میں ہمارے لئے دینی و دنیاوی، معاشی وسماجی، معاشرتی و فلاحی، الغرض تمام پہلوؤں کے بارے میں رہنمائی موجود ہے، آئیے ترغیب کے لئے کچھ قرآن پاک کی تلاوت کے فضائل سنتے ہیں۔

قرآن مجید فرقانِ حمید اللہ ربّ العزت کا مبارک کلام ہے، اس کا پڑھنا پڑھانا، سننا سنانا، سب ثواب ہے، آخری نبی، محمد عربی ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے:جو شخص کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھے گا، اس کو ایک نیکی ملے گی، جو دس نیکیوں کے برابر ہوگی، میں یہ نہیں کہتا الم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف، اور میم ایک حرف۔(ترمذی، ج4، صفحہ 417، ح2919)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ،(یعنی اپنے گھروں میں عبادت کیا کرو) تو شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے، جس میں سورہ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔(مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین و قصرما باب استحباب صلاۃ الناضکۃ، ص306، حدیث 864) قرآن کریم کے مطابق، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: فضل القرآن علی سائرالکلام کفضل الرحمن علی۔۔۔قرآن کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسی ہے، جیسی اللہ عزوجل کی اس کی مخلوق پر۔(شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 501)

قرآن کریم عقائد کی رہنمائی کرتا ہے، قرآن کریم نور ہے، قرآن کریم قیامت میں پل صراط کا نور ہے، قرآن کریم کو ایسی مضبوطی سے تھامنا ہے کہ زندگی اس کے سائے میں گزرے، موت اس کے سایہ میں آئے، تو ہمیں بھی قرآن کریم سے مضبوط تعلق رکھنا چاہئے، اس کے لئے ہمیں تلاوتِ قرآن کی عادت بنانی ہوگی، روزانہ کی بنیاد پر وقت مقرر کرکے اسے پڑھنا ہوگا، یوں اس کی لذت و شیرینی بھی ملے گی۔

تلاوتِ قرآن کی عادت کے لئے اس کے فضائل و برکات کو مدِّنظر رکھنا ہوگا، یوں عادت پختہ ہوتی چلی جائے گی، پھر تو یہ عالم ہوگا کہ ہمارا کوئی دن تلاوت ِقرآن کے بغیر نہیں گزرے گا۔

تلاوت کروں ہر گھڑی یا الٰہی

بکوں نہ کبھی بھی میں واہی تباہی


10 نومبر  2022ء کودعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد امین عطاری نے کراچی سٹی شعبہ مدرسۃ ُالمدینہ سے وابستہ ذمہ داران کا بذریعہ آڈیو لنک مدنی مشورہ فرمایا جس میں 600سے زائد اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

رکنِ شوریٰ نے ’’صدقے کے فوائد‘‘ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا اور مدرسۃُ المدینہ کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے شرکا کو دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے بارے میں معلومات دیں نیز انہیں ٹیلی تھون مہم میں حصہ لینے اور 12 دینی کاموں کرنے کا ذہن دیا ۔ (کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری )


قرآن کریم ایسی عظیم کتاب ہے، جو اپنی فصاحت و بلاغت اور اپنی مثالوں میں یکتا ہے کہ اس جیسی کتاب کوئی بھی پیش نہیں کرسکے گا، الغرض ہر شعبہ زندگی کے مسائل کا حل اس میں موجود ہے، قرآن کریم کے فوائد حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ اس کی تلاوت ہے اور تلاوت قرآن کے کثیر فضائل و فوائد ہیں۔

اللہ اور اس کے رسول سے محبت کا ذریعہ:نبی پاک ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: جسے یہ پسند ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرے تو اسے چاہئے کہ قرآن کی تلاوت کرے۔(جامع صغیر، صفحہ 529، حدیث8744)

آسمان و زمین پر فائدے کا باعث: اللہ کے رسول ﷺ کا فرمانِ راحت نشان ہے:اللہ کا ذکر اور تلاوتِ قرآن کرتے رہو، کیونکہ یہ تمہارے لئے آسمان پر راحت اور زمین میں خیر کا ذریعہ ہے۔(جامع صغیر، ص166)

ایک حرف پر دس نیکیاں: ترمذی و دارمی نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص کلام اللہ کا ایک حرف پڑھے گا، اس کو ایک نیکی ملے گی، جو دس کے برابر ہوگی، میں یہ نہیں کہتا الم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف، لام دوسرا حرف، اور میم تیسرا حرف۔(بہار شریعت، حصہ 16، صفحہ 128)

دلوں کے اطمینان کا ذریعہ:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ کنزالایمان:جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو اللہ کی یاد ہی دلوں کا چین ہے۔(پ 13الرعد:28)

امام خازن فرماتے ہیں کہ مقاتل نے فرمایا: ذکر سے مراد قرآن کریم ہے، کیونکہ یہ مؤمنوں کے دلوں کے لئے اطمینان کا ذریعہ ہے۔(تفسیر خازن3/65)

نزولِ رحمت کا ذریعہ:

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ایک شخص سورہ کہف پڑھ رہا تھا تو ان پر ایک بادل چھا گیا، وہ جھکنے لگا اور ان کا گھوڑا بدکنے لگا، پھر صبح ہوئی تو وہ صاحب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ ماجرا عرض کیا، فرمایا:یہ سکینہ اور رحمت ہے، جو قرآن کی وجہ سے اتری۔(بخاری،3/406)

ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے قارئین!مذکورہ فرامین سے واضح ہوا کہ تلاوت کے کتنے فضائل ہیں تو ہمیں بھی چاہئے، روزانہ کچھ نہ کچھ وقت ہمیں تلاوت قرآن کے لئے ضرور مختص کرنا چاہئے، کیونکہ یہ دلوں کے اطمینان اور سکون کا باعث ہے، زہے نصیب! مفتی محمد قاسم صاحب کی تفسیر القرآن صراط الجنان کے ساتھ تلاوت کی سعادت ملے۔

یہی ہے آرزو تعلیمِ قرآں عام ہوجائے

تلاوت شوق سے کرنا ہمارا کام ہو جائے


تلاوتِ قرآن کے فضائل و فوائد مع تلاوت قرآن کا معمول کیسے بنائیں   اللہ پاک کا بڑا بابرکت کلام قرآنِ پاک،جو اللہ پاک کے محبوب ،آخری نبی ﷺ پر نازل ہوا۔ اس کو پڑھنا،پڑھانا،سننا سنانا ثواب کاکام ہے۔قرآن پاک روشن نور ہے۔ یہ آقا کریم ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ یہ بڑی عظمت والی کتاب ہے۔ اس پاک کلام کی تلاوت سے لذت و سرور ملتا ہے۔اس کا ایک حرف پڑھنے پر 10 نیکیاں ملتی ہیں۔

آخری نبی ﷺ نے فرمایا:جو شخص کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھے گا،اس کو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہو گی۔میں یہ نہیں کہتا الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ،لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔ (سنن الترمذی ج 4،ص 417،حدیث 2919) (تلاوت کی فضیلت* ص 4)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا:اے بیٹے!صبح و شام تلاوتِ قرآن سے غافل نہ ہونا کیوں کہ قرآن مرده دل کو زندہ کرتا ہے اور بے حیائی اور برے کاموں سے روکتا ہے۔( مسند الفردوس ،368/5،حدیث 8459)( دین و دنیا کی انوکھی باتیں* ص 60،61)

آقا کریم ﷺ نے فرمایا:بے شک دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسا کہ لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے۔عرض کی،یارسول اللہ ﷺ! اس کی صفائی کس چیز سے ہو گی؟فرمایا:تلاوتِ قرآن اور موت کو بکثرت یاد کرنے سے۔ (شعب الایمان باب فی تعظیم القرآن، فصل فی ارمان تلاوته 353/2،حدیث 2014) ( دین و دنیا کی انوکھی باتیں ج 1ص62)

حضرت عمرو بن میمون رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:جو نماز فجر پڑھ کر قرآنِ پاک کھولے اور اس کی 100 آیتیں تلاوت کرے تو اسے تمام دنیا والوں کے عمل کے برابر ثواب ملے گا۔ ( دین و دنیا کی انوکھی باتیں ج1 ص62) امیرُالمؤمِنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فرمان کے مطابق نماز میں کھڑے ہو کر تلاوتِ قرآن کرنے سے ہر حرف کے بدلے 100 نیکیاں اور نماز میں بیٹھ کر تلاوت کرنے سے 50 نیکیاں ملتی ہیں۔نماز کے علاوہ باوضو قرآن پڑھنے سے ہر حرف کے بدلے 25 نیکیاں جبکہ(چھوئے بغیر) بے وضو پڑھنے سے 10 نیکیاں ملتی ہیں۔ ( دین و دنیا کی انوکھی باتیں ج1 ص62)

پیاری بہنو!قرآنِ پاک دیکھ کر پڑھنا زبانی پڑھنے سے افضل ہے کہ اس میں پڑھنا،دیکھنا اور ہاتھ سے چھونا عبادت ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے اخلاص کے ساتھ،باادب تلاوت کریں۔باوضو،قبلہ رو،اچھے کپڑےپہن کر تلاوت کرنا مستحب ہے۔تلاوت کے آغاز میں تعوذ پڑھنا مستحب ہےاور ابتدائے سورت میں بسم اللہ سنت ورنہ مستحب۔ (بہار شریعت* ج 1 حصہ 3 ص 550،تلاوت کی فضیلت ص 12، 11) دورانِ تلاوت یہ کیفیت بنائیں کہ اللہ کودیکھ رہی ہوں یا یہ کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔خشوع وخضوع اور غوروفکر کرتے ہوئے تلاوت کریں۔بعض بزرگانِ دین ایک آیت تلاوت فرماتے اسی پر غوروفکر کرتے رہتے حتی کہ رات گزر جاتی۔قرآن پاک کو اچھی آواز سے پڑھیں لیکن گانے والا انداز اختیار نہ کریں۔قواعدِ تجوید سے پڑھیں۔قرآن پاک بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے۔بشرطیکہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔تلاوت کرتے وقت رونا یا رونے جیسے شکل بنا لینا مستحب عمل ہے۔تلاوت کے دوران رونا عارفین اور اللہ کے نیک بندوں کی صفت ہے۔ (دین و دنیا کی انوکھی باتیں ج 1 ص 65،66 ) 8- (دین و دنیا کی انوکھی باتیں ج 1 ص66)

قرآن پاک کی تلاوت نماز میں سب سے افضل ہے،دن میں فجر کے بعد کا وقت سب سے افضل،رات میں نصف آخر میں تلاوت نصف اول وقت سے افضل،مغرب وعشاءکے درمیان تلاوت کرنا بھی افضل ہے۔ اوقاتِ مکروہ میں قرآنِ پاک کی تلاوت بہتر نہیں،بہتر یہ ہے کہ ذکرو درود شریف میں مشغول رہے۔(بہار شریعت حصہ 3) (455/1) دعا ہے اللہ پاک ہمیں اخلاص کے ساتھ غوروفکر کرتے ہوئے تلاوت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین بجاہ خاتم النبیین 


دعوتِ اسلامی کے ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت پچھلے دنوں خالد بن ولید روڈ پر واقع جینی موٹرز میں سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں ٹرانسپورٹ اور شورومز سے تعلق رکھنے والے عاشقانِ رسول سمیت دیگر اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

اجتماع کا آغاز تلاوت و نعت سے کیا گیا جبکہ مبلغِ دعوتِ اسلامی نے ”دعا کی فضیلت“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے شرکا کو ٹیلی تھون میں اپنا حصہ ملانے کا ذہن دیا۔

مزید مبلغِ دعوتِ اسلامی نے اپنے شورومز میں بڑی عمر کے اسلامی بھائیوں کے لئے مدرسۃالمدینہ بالغان شروع کروانے کے متعلق عاشقانِ رسول کی ذہن سازی کی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔

اس موقع پر سٹی ذمہ دار محمد ذیشان عطاری مدنی، ڈسٹرکٹ ذمہ دار محمد شعیب عطاری اور ڈسٹرکٹ سینٹرل ذمہ دار عبدالوہاب عطاری موجود تھے۔(رپورٹ:عبدالوہاب عطاری زون ذمہ دار ساوتھ سینٹرل، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


ادب اور اخلاق کسی بھی قوم کا طرہ امتیاز ہے، جو کہ دیگر اقوام یا مذاہب نے اخلاق و کردار اور ادب و آداب کو فروغ دینے میں بھی اہمیت سمجھی، مگر اس کا تمام تر سہرا اسلام کے سر جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں، زبان یعنی اخلاق سے پھیلا۔

اور اسلام اپنے جاننے والوں کو بھی ادب و احترام کی تعلیم دیتا ہے کہ اسلام محبت و بھائی چارے کا نام ہے، پھر جہاں محبت ہواور ادب نہ ہو تو کسی نے بہت ہی پیارا شعر کہا ہےادب پہلا قرینہ ہے، محبت کے قرینوں میں۔

پیاری پیاری اسلامی بہنو! ادب و احترام کرنے میں جو کردار ہمارے سلف و صالحین نے ادا کیا اور کیسے ولایت کے مرتبے پر فائز ہوئے، اس کی نظیر نہیں ملتی، اسلام قدم قدم پر ہمیں ادب کی تعلیم دیتا ہے، بیٹھ رہے ہیں تو ادب کو ملحوظِ خاطر رکھیں، چل رہے ہیں تو راستے کا ادب کریں، کھانا کھاتے وقت ادب کا مظاہرہ کریں، پانی پینے کے آداب بیان کئے گئے، سونے کے آداب، اٹھنے کے آداب، ملاقات کے آداب، والدین کا ادب، اپنے بڑوں کا ادب، بات چیت کے آداب، اگر طالب علم ہے تو استاد کا ادب، علم کا ادب، کتابوں کا ادب، نشست گاہ کا ادب، وہاں موجود شرکاء اہلِ علم کا ادب، گویا ہر چیز میں ادب کہ ادب کے ساتھ زندگی بہت ہی خوبصورت نظر آتی ہے۔

علمِ دین کی بات کو ادب و تعظیم کے ساتھ کے حوالے سے کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے:جس نے کسی علمی بات کو ہزار بار سننے کے بعد اس کی ایسی تعظیم نہیں کی، جیسی تعظیم اس نے اس مسئلہ کو پہلی مرتبہ سنتے وقت کی تھی تو ایسا شخص علم کا اہل نہیں۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم، ترجمہ بنام راہِ علم، صفحہ 35)

تعظیمِ علم میں کتاب کی تعظیم کرنا بھی شامل ہے، لہٰذا طالب علم کو چاہئے کہ کبھی بھی بغیر طہارت کے کتاب کو ہاتھ نہ لگائے، حضرت شیخ شمس الدین حلوانی قدس سرہ النورانی سے حکایت نقل کی جاتی ہے کہ آپ علیہ الرحمہ نےفرمایا: میں نے علم کے خزانوں کو تعظیم و تکریم کرنے کے سبب حاصل کیا اور اس طرح کہ میں نے کبھی بغیر وضو کاغذ کو ہاتھ نہیں لگایا۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم، ترجمہ بنام راہِ علم، صفحہ 33)

شمس الائمہ حضرت امام سرخسی علیہ الرحمہ کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ علیہ الرحمہ کا پیٹ خراب ہو گیا، آپ کی عادت تھی کہ رات کے وقت کتابوں کی تکرار و بحث و مباحثہ کیا کرتے تھے، پس اس رات پیٹ خراب ہونے کی وجہ سے آپ کو سترہ بار وضو کرنا پڑا،کیونکہ آپ بغیر وضو تکرار نہیں کیا کرتے تھے۔(راہ علم، ص33)

سبحان اللہ! کیا شان تھی ہمارے اسلاف کی کہ ایسے ہی انسان فنا فی اللہ کا رتبہ نہیں پالیتا، کہا جاتا ہے کہالحرمۃ خیر من الطاعۃیعنی ادب و احترام کرنا اطاعت کرنے سے زیادہ بہتر ہے کہ انسان گناہ کرنے کی وجہ سے کبھی کافر نہیں ہوتا، بلکہ اسے ہلکا سمجھنے کی وجہ سے کافر ہوتا ہے۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم، ترجمہ بنام راہِ علم، صفحہ 29)

پیاری اسلامی بہنو!استاد کی تعظیم کرنا بھی علم ہی کی تعظیم ہے، امیر المؤمنین حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں:انا عبد من علمنی حرفا واحدا ان شاء باع وان شاء اعتق وان شاء استرقیعنی جس نے مجھے ایک حرف سکھایا، میں اس کا غلام ہوں، چاہے اب وہ مجھے فروخت کر دے اور چاہے تو آزاد کر دے اور چاہے تو غلام بنا کر رکھے۔

سبحان اللہ! کیا کہنے ہمارے بزرگانِ دین علی الرحمہ کے، ربّ کریم ان کے فیوضات میں سے ہمیں بھی حصّہ عطا فرمائے۔آمین

الآخر۔۔خلا صہ یہ حاصل ہوا کہ بغیر ادب کے زندگی بے ذائقہ ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی معرفتِ الٰہی ، عشقِ حقیقی حاصل کرنا چاہتا ہے تو بغیر ادب کے اس منزل تک پہنچنا ناممکن ہے، ہر معاملے میں ادب کے ساتھ زندگی گزارنے کا یہ فائدہ ہے کہ انسان ایک اچھے انسان کے رُوپ میں ڈھل جاتا ہے اور اپنے مقصدِ حقیقی کو پانے کی راہیں اس کے لئے کشادہ ہو جاتی ہیں۔

جبکہ بےادب شخص اپنے مقصد کی تلاش میں نکلے بھی تو اس کی مثال اس مسافر کی سی ہے کہ جس کی منزل کی راہیں تاریک ہیں اور تعجب اس بات کا ہے کہ اس منزل کو روشن کرنے کے لئے اس کے پاس چراغ بھی نہیں، لہٰذا کیا خوب کہا کسی نےباادب بانصیب، بے ادب بے نصیب۔

ایسا انسان جس کے پاس ادب کرنے کی قوت نہیں، وہ ساری زندگی اپنا مقام کبھی بھی نہیں بنا سکتا، ادب کا دروازہ اتنا چھوٹا ہے کہ اس میں داخل ہونے کے لئے سر کو جھکانا پڑتا ہے، عاجزی ہی مقام تک لے کر جاتی ہے۔ ربّ تعالیٰ ہمیں ادب واخلاص کی دولت عطا فرمائے۔آمین

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا


دعوتِ اسلامی کے زیرِا ہتمام پتوکی شہر میں قائم فیضان اسلامک اسکول سسٹم کی برانچ میں اجتماعِ غوثیہ کا انعقاد کیا گیا جس میں اسٹوڈنٹس اور اساتذہ نے شرکت کی۔

اس اجتماعِ پاک میں تلاوتِ قراٰن و نعت شریف کے بعد مبلغِ دعوتِ اسلامی نے حضور غوثِ اعظم رحمۃاللہ علیہ کی سیرت کے حوالے سے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے بچوں کی تربیت کی۔

بعدازاں فیضان اسلامک اسکول سسٹم کے بچوں نے سرکارِ غوثِ اعظم رحمۃاللہ علیہ کی منقبت پڑھی جبکہ مبلغِ دعوتِ اسلامی نے اختتامی دعا کروائی۔(رپورٹ:علی ریاض عطاری تحصیل ذمہ دار سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


پاکستان کے شہر پتوکی کی جامع مسجد مدینہ میں عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت اجتماعِ غوثیہ کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

مبلغِ دعوتِ اسلامی و تحصیل نگران محمد دانش تفسیر عطاری نے غوثِ پاک رحمۃاللہ علیہ کی سیرت کے حوالے سے سنتوں بھرا بیان کیا اور وہاں موجود عاشقانِ رسول کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کی۔

اس کے علاوہ نگرانِ تحصیل نے شرکائے اجتماع کو دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ: علی ریاض عطاری تحصیل ذمہ دار سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں رابطہ برائے میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کا میٹ اپ منعقد کیا گیا جس میں ڈیپارٹمنٹ کے دیگر اہم ذمہ داران نے بھی شرکت کی۔

اس میٹ اپ میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد امین عطاری نے ذمہ داران کی تربیت کرتے ہوئے مختلف موضوعات پر گفتگو کی اور انہیں مدنی پھولوں سے نوازا۔

دورانِ میٹ اپ جن موضوعات پر کلام کیا گیا اُن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

1)ڈسٹرکٹ و ٹاون پر تقرری مکمل کرنی ہے۔

2) ہر ہسپتال میں 3 رکنی مجلس بنانی ہے۔

3)ڈاکٹرز اور میڈیکل لیبارٹریز کی لسٹ تیار کرنی ہے۔

4)صدقہ بکس اورروحانی علاج کتب کے بکس کلینک میں لگانے ہیں۔

5)عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی کا وزٹ۔

46) 4دسمبر 2022ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مشورہ۔(رپورٹ: حمزہ علی عطاری سٹی ذمہ دار میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کراچی ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

9 نومبر 2022ء کو دعوت اسلامی کے مدنی مرکز فیضان مدینہ جبی جاتلاں کشمیر میں دینی حلقے کا انعقاد کیا گیاجس میں جامعۃ المدینہ و مدرسۃ المدینہ کے طلبہ اور اساتذۂ کرام نے شرکت کی۔

نگران کشمیر مشاورت حاجی سید جنید عطاری نے شرکا کو 13 نومبر 2022ء کو ہونے والے ٹیلی تھون میں بڑھ چڑھ کر حصہ ملانے اور زیادہ سے زیادہ یونٹس جمع کرنےکا بھر پور ذہن دیا جس پر طلبائے کرام نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔

بعد ازاں اساتذہ کرام اور ناظمین کا مدنی مشورہ ہوا جس میں شرکا نے نگران کشمیر مشاورت حاجی سید جنید عطاری کو ہاتھوں ہاتھ یونٹس جمع کروائے۔ 


10 نومبر 2022ء دعوت اسلامی کے زیر اہتمام جامع مسجد رضائے مصطفٰے علی بیگ جاتلاں کشمیر میں اجتماع غوثیہ کا انعقاد کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں عاشقان رسول نے شرکت کی۔

نگران کشمیر مشاورت حاجی سید جنید عطاری نے ”سیرت غوث اعظم رحمۃُ اللہِ علیہکے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیااور شرکا کو 13 نومبر 2022ء کو ہونے والے ٹیلی تھون میں بھر پور تعاون کر نے کی ترغیب دلائی۔


عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام پچھلے دنوں سندھ کے شہر شہداد پور میں قائم میمن اکیڈمی کالج میں محفلِ میلاد کا انعقاد کیا گیاجس میں اسٹوڈنٹس، مینیجنگ ڈائریکٹر محمد علی شمسی، پرنسپل اور پروفیسرز نے شرکت کی۔

ابتداءً تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و سلم پڑھی گئی جبکہ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد اطہر عطاری نے ”اخلاقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا۔

دورانِ بیان رکنِ شوریٰ نے شرکائے محفلِ کواپنے اخلاق اور کردار سنوارنےنیز بڑوں کا ادب کرنے کے حوالے سے مدنی پھول دیئے جبکہ دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔ (رپورٹ: فہیم عطاری مین ریجن ذمہ دار ڈاکٹر مجلس حیدرآباد ریجن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)