دعوتِ اسلامی کی جانب سے4 دسمبر2022 ءبروز اتوار فیضان
آن لائن اکیڈمی کے زیرِ اہتمام ملتان اوربہاولپور
ڈویژنز کے شفٹ اور برانچ ناظمین کا مدنی
مشورہ ہوا۔
مدنی
مشورے میں نگرانِ شعبہ یاسر عطاری مدنی نے شعبے
کے دینی کاموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اسلامی بھائیوں کو تنظیمی
و انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے حوالے سے مدنی پھول
دیئےنیز طلبہ کی دینی و
اخلاقی اعتبار سے تربیت کرنے کے متعلق رہنمائی کی۔ بعدازاں آئندہ کے لئے اہداف بھی دیئے اس موقع پر صوبائی ذمہ دار
محمد عامر سلیم عطاری اور رکن شعبہ سید غلام الیاس عطاری بھی وہاں موجود تھے۔(رپورٹ:وقار یعقوب
مدنی برانچ ناظم فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز، کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)
دعوتِ اسلامی کے شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی کی
جانب سے 4دسمبر2022ء بروز اتوار فیضان آن
لائن اکیڈمی ملتان میں تربیتی اجتماع کا سلسلہ ہوا جس میں فیضان آن لائن اکیڈمی
ملتان اور بہاولپور ڈویژن کے مدنی عملے کے
اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔
تربیتی اجتماع میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن قاری محمد سلیم عطاری نے کوالٹی انہینسمنٹ
(Quality
enhancement)
پر گفتگو کرتے ہوئے تنظیمی کام کرنے کے حوالے سے اسلامی بھائیوں کی ذہن سازی کی ۔ آخر میں تعلیمی و تنظیمی اچھی کارکردگی کے حامل اسلامی بھائیوں میں
تحائف تقسیم فرمائے۔(رپورٹ:وقار یعقوب مدنی برانچ ناظم فیضان آن لائن
اکیڈمی بوائز، کانٹینٹ: رمضان
رضا عطاری)
4دسمبر2022
بروز اتوار دعوتِ اسلامی کے شعبہ فیضان آن
لائن اکیڈمی کے تحت ملتان میں ٹریننگ سیشن ہوا جس میں ملتان اوربہاولپور ڈویژنز برانچ کے اسٹاف نے شرکت کی۔
نگرانِ شعبہ مولانا یاسر عطاری مدنی
نے مختلف امور پر شرکا کی تربیت کرتے ہوئے
ان کی طرف سے کئے گئے سوالات کے جوابات دیئے۔مزید دینی کاموں کے حوالے
سے ذہن سازی کرتے ہوئے فیضان آن لائن اکیڈمی کے اسلامی بھائیوں کو
ماہِ دسمبر 2022ء میں 30دن اور 12دن کے مدنی قافلے میں سفر کرنے
کا ہدف دیا۔ اس موقع پر صوبائی ذمہ دار مولانا محمد عامر سلیم اور رکن شعبہ سید
غلام الیاس عطاری بھی موجود تھے۔ (رپورٹ:وقار
یعقوب مدنی برانچ ناظم فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز، کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)
2
دسمبر 2022ء کو عوتِ اسلامی کے تحت
واربرٹن میں قائم جامع مسجد نگینہ المعروف غلہ منڈی والی مسجد میں سنتوں بھرے
اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاسی ، سماجی و مذہبی شخصیات ، وکلا ، فیکٹری
مالکان سمیت کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی ۔
اجتماعِ
پاک کا آغاز تلاوتِ قراٰن پاک سے ہوا۔ اس کے بعد نعت خواں اسلامی بھائی نے سرورِ
کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی
بارگاہِ اقدس میں گلہائے عقیدت پیش کئے۔
اجتماعِ
پاک میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی مولانا محمد اظہر عطاری نے سنتوں بھرا بیان فرمایا جس میں رکنِ شوریٰ نے شرکا کو نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے محبت کے
تقاضوں کو پورا کرنے اور اپنی زندگی کو آپ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بتائے گئے طریقے کار کے مطابق
گزارنے کا ذہن دیتے ہوئے انہیں ہفتہ وار مدنی مذاکرہ دیکھنے کی ترغیب دلائی جس پر اسلامی بھائیوں نے اچھے جذبات کا اظہار کیا۔ بیان کے بعد رکن
شورٰی نے عاشقانِ رسول سے ملاقات بھی کی۔(رپورٹ: محمد رمضان عطاری مدنی امام و خطیب
جامع مسجد فیضانِ غوث اعظم و مدرس جامعۃ المدینہ امینیہ رضویہ واربرٹن ،کانٹینٹ:رمضان
رضا عطاری)
عاشقانِ
رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت
5 دسمبر2022 ء بروز پیر رضوی بلڈنگ میں ماہانہ مدنی مشورہ ہوا جس میں مبین عطاری مدنی،شاہد عطاری مدنی اور مظہر عطاری مدنی نے شرکت کی۔
مدنی مشورے میں شعبہ ایچ آر مدرسۃُ المدینہ کے رکن قاری محمد صابر
عطاری نے اسلامی بھائیوں کو ماتحت کی حوصلہ افزائی کرنے کی ترغیب دلائی نیز ماہانہ
شعبہ کارکردگی اور ٹیلی تھون مدنی عطیات کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور اسلامی
بھائیوں کو 12دینی کام کرنے کا ذہن بھی دیا۔( رپورٹ: مولانا محمد رضوان شاہ عطاری
مدنی ،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)
گجرات
میں سید ولایت علی شاہ رحمۃُ اللہ علیہ کے سالانہ عرس کے موقع پر قرآن
خوانی
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ مزاراتِ اولیا کے تحت پنجاب کے شہر گجرات میں واقع پیر سید ولایت
علی شاہ نقشبندی مجددی رحمۃُ اللہ علیہ کے سالانہ
عرس کے موقع پر مدرسۃ ُالمدینہ کے بچوں نے مزار شریف پر قرآن خوانی کی۔
شعبہ مزارات اولیا کے ڈویژن ذمہ دار ثناءُاللہ
عطاری ، ڈسٹرکٹ ذمہ دار محمد ذیشان عطاری، مدرسۃ ُالمدینہ کے ناظم اور قاری صاحبان
نے بچوں کے ہمراہ مزار شریف پر حاضری دی جہاں دعا اور فاتحہ خوانی کا سلسلہ ہوا۔
بعدازاں
شعبہ مزاراتِ اولیا کے ڈویژن ذمہ دار ثناءُاللہ عطاری نے سجادہ نشین پیر سید نذر
حسین شاہ نقشبندی سے ملاقات کی اور انہیں ملک و بیرون ملک میں ہونے والی دعوتِ اسلامی کی دینی خدمات کے بارے میں بتاتے ہوئے ماہِ
دسمبر 2022ء کا ماہنامہ فیضانِ مدینہ کا شماراپیش کیا جس پر انہوں نے دعوتِ اسلامی کی خدمات کو سراہا اور قرآن خوانی
کروانے پر خوشی کا اظہار کیا۔ (کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)
عاشقانِ
رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام شعبہ مدنی چینل
عام کریں کراچی سٹی کےذمہ داران کا مدنی
مشورہ ہوا جس میں
نگرانِ
مجلس انجم رضا عطاری نے کراچی سٹی کے سٹی ،ڈسٹرکٹ اور ٹاؤن ذمہ داران کی تربیت
فرمائی اور شعبے کے دینی کام کرنے کے لئے جدید طریقہ اور ذرائع استعمال
کرنے کی ترغیب دلائی جس پر اسلامی بھائیوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا ۔ (رپورٹ: محمد
آصف عطاری کراچی سٹی ذمہ دار شعبہ مدنی چینل عام کریں ،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)
مدنی
چینل عام کریں کراچی سٹی کے ذمہ داران کی مارکیٹ یونین کے اراکین سے ملاقات
پچھلے
دنوں نیکی کی دعوت دینے کے سلسلے میں دعوتِ ا سلامی کےشعبہ مدنی چینل
عام کریں کراچی سٹی کے ذمہ داران نے ڈسٹرکٹ ایسٹ گلشن اقبال ٹاؤن میں مارکیٹ
یونین کے اراکین ، مارکیٹ جائے نماز کے امام صاحب اور دکان داروں سے ملاقات کی۔
نگرانِ
مجلس انجم رضا عطاری نے دکانداروں
کودعوتِ اسلامی اور دعوتِ اسلامی کی ڈیجیٹل سروسز کا تعارف کروایا نیز انہیں ہفتہ
وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کی دعوت دیتے ہوئے علم ِدین پر
مشتمل مدنی چینل کے سلسلے دیکھنے
کا ذہن دیا ۔ (رپورٹ: محمد
آصف عطاری کراچی سٹی ذمہ دار شعبہ مدنی چینل عام کریں ،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ مجلس مدنی چینل عام کریں
کے تحت6 دسمبر 2022ء کو ڈسکہ
شہر اور ڈسکہ شہر کے اطراف میں گوجرانوالہ ڈویژن ذمہ دار نے مقامی ذمہ دار کے
ہمراہ مختلف موبائل مارکیٹس اور کیبل آپریٹرز سے ملاقات کی۔
دورانِ ملاقات ذمہ داران نے کیبل آپریٹرز سے جہاں مدنی چینل نہیں چلتا وہاں مدنی چینل کو
چلوانے اور جہاں چلتا ہے لیکن آخری نمبروں پر ہے وہاں مدنی چینل کو پہلے نمبروں پر چلانے کی گزارش پیش
کی۔
اس کے ساتھ ساتھ کیبل آپریٹرز کو نیکی دعوت دیتے ہوئے انہیں دعوتِ اسلامی کی ڈیجیٹل
سروسز کا تعارف پیش کیا اور ان کے موبائل
میں ڈیجیٹل سروسز ایپ ڈاؤن لوڈ کروائیں نیز انہیں مدنی چینل پر چلنے والے سلسلوں
کو دیکھنے کا ذہن بھی دیا۔ (رپورٹ:
محمد مزمل عطاری گوجرانوالہ ڈویژن مجلس مدنی چینل عام کریں ،کانٹینٹ:رمضان رضا
عطاری)
ادب ایک ایسا
وصف ہے کہ جب تک یہ موجود تھا تو شیطان کا لقب معلم الملکوت یعنی فرشتوں کا سردار
تھا اور پھر یہ ہی ادب مفقود ہوا تو شیطان ابلیس لعین اور حقارت و رحمت الٰہی سے
دوری کا نشان بن گیا۔العیاذ باللہ
ادب کی بدولت
انسان شرف اور عزت و بلندی پاتا ہے جبکہ بے ادبی کے سبب ذلت و رسوائی ہی ملتی ہے،
حکایت بیان کی جاتی ہے کہ مشہور ولی اللہ حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ ولایت سے
قبل ایک شرابی تھے، انہوں نے اللہ پاک کے نام یعنی بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کی تعظیم کی
جس کی وجہ سے اللہ پاک نے انہیں ولایت کا ایسا درجہ عطا کیا کہ جانور بھی آپ کی
تعظیم و شرف کی خاطر راستے میں گوبر نہ کرتے تھے کیونکہ آپ ننگے پاؤں ہوتے تھے۔
5
آداب:
مسلمان ہر ایک سے ہی ادب سے پیش آتا ہے، البتہ ایک مسلمان پر اپنے معبود و خالق
رب کی بارگاہ کے بھی آداب لازم ہیں:
1۔
اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا جائے: بارگاہ الٰہی کا پہلا ادب یہ ہے کہ
بندہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو شریک سے پاک
اور احد یعنی ایک تسلیم کرے اس کا حکم خود اللہ پاک نے قرآن میں دیا ہے: وَ
اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا (النساء: 36)
ترجمہ: اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔
2۔اللہ
کی نازل کردہ کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانا: بارگاہ الٰہی
کا ادب یہ بھی ہے کہ انسان اس کے بھیجے ہوئے رسولوں اور کتابوں پر ایمان لائے، اس
کا حکم دیتے ہوئے اللہ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ
عَلٰى رَسُوْلِهٖ (النساء :
136) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ پر اس کے رسول پر اور جو کتاب اس نے اپنے رسولوں
پر نازل کی اس پر ایمان لاؤ۔
3۔
سب سے بڑھ کر محبت اللہ سے کی جائے: بارگاہ
الٰہی کا یہ بھی ادب ہے کہ بندہ اپنی ہر محبت پر اللہ کی محبت کو فوقیت دے یہی اہل
ایمان کی امتیازی خصوصیت بھی ہے کہ وہ سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرنے والے ہوتے
ہیں۔ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا
اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ- (البقرۃ: 165)
ترجمہ: اور ایمان والے اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔
4۔احکام
الٰہی اور شریعت کی پابندی کی جائے: اللہ کی بارگاہ کا ادب یہ بھی ہے کہ
بندہ اس کے دیئے گئے ہر ہر حکم پر ایمان لائے اور اپنے کاموں میں اس حکم کی اطاعت
کرے اور اپنی زندگی شریعت کے مطابق گزارے۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (النساء:
59) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔
5۔ خوف خدا پیدا کیا جائے: بارگاہ الٰہی کا ایک اہم ادب یہ ہے کہ بندہ اپنے اندر اپنے الٰہ و معبود بر
حق اپنے مولا تعالیٰ کا ڈر اور خوف پیدا کرے اس کی رحمت سے امید رکھے اور اس
کے غضب سے ڈرے، اللہ پاک خوف خدا کا حکم
دیتے ہوئے فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ (الاحزاب: 70) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو۔
اللہ پاک ہم سب کو اس کی بارگاہ
میں ادب کے ساتھ حاضر ہونے اور حاضر رہنے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین
جھوٹ کی
مذمت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از بنت جعفر، بہار مدینہ آفیسر کالونی فیصل آباد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ناچاقیوں
اور آپس کی اَن بَن کا ایک اہم سبب جھوٹ بولنا بھی ہے۔
جھوٹ کی تعریف :
کسی کے بارے میں خلافِ حقیقت خبر دینا جھوٹ کہلاتا ہے۔قائل(یعنی جھوٹی خبر
دینے والا)گنہگار اس وقت ہوگا جبکہ بلاضرورت جان بوجھ کر جھوٹ بولے۔(حديقہ ندیہ،4/
10)
احادیث کی روشنی میں جھوٹ کی مذمت: آئیے!احادیثِ مبارکہ
میں بَیان کردہ جھوٹ کی مختلف تباہ کاریاں سنتے
ہیں،چنانچہ
جھوٹ کے بھیانک نتائج: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے اس کی بدبو
سے فِرِشتہ ایک مِیْل دور ہوجاتا ہے۔ (ترمذی، 3/392، حدیث1979) جھوٹ بولنا سب سے
بڑی خیانت ہے۔(ابوداود،4/381، حدیث: 4971) جھوٹ ایمان کے مخالف ہے۔(مسند امام احمد،
1/22، حدیث:16) لوگوں کوہنسانے کےلیے جھوٹ بولنے والے کیلئے ہلاکت ہے۔ (ترمذی،4/142،
حدیث:2322) لوگوں کو ہنسانے کےلیے جھوٹ بولنے
والا دوزخ کی اتنی گہرائی میں گرتا ہے جوآسمان و زمین کے درمیانی فاصلے سے زِیادہ ہے۔ (شعب الایمان، 4/213، حدیث:4832)
جھوٹ بولنے سے منہ کالا ہوجاتاہے۔ (شعب الایمان،4/208، حدیث: 4813) جھوٹی بات
کہنا کبیرہ گناہ ہے۔ (معجم کبیر،18/140، حدیث:293 ملخصا) جھوٹ بولنا منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی
ہے۔ (مسلم، ص 50، حدیث:106) جھوٹ بولنے والے قیامت کے دن اللہ کریم کے نزدیک سب سے
زیادہ ناپسندیدہ افراد میں شامل ہوں گے۔ (کنز العمال،16/39، حدیث:44037)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے کہ جھوٹ آخرت کیلئے کتنی نقصان دہ
چیز ہے۔ اس لیےعقل مند وہی ہے کہ جو جھوٹ سے پیچھا چھڑا کر ہمیشہ سچ کا دامَن
تھامے رہے۔ سچ بولنے سے ہم نہ صِرف جھوٹ کی اِن وعیدوں سے بچ سکیں گی بلکہ سچ
بولنے کے فوائد سے بھی مالامال ہوں گی۔
سب سے پہلا جھوٹ شیطان نے بولا کہ
حضرت آدم علیہ السلام سے کہا میں تمہارا
خیر خواہ ہوں۔
جھوٹ کی مذمت پر فرامین مصطفیٰ :
1۔ایک حدیث میں یہ ہے کہ جھوٹ اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے، لہٰذا اللہ کے
رسول ﷺ نے جھوٹ کو ایمان کے منافی عمل قرار دیا ہے۔ حدیث ملاحظہ فرمائیے:
’’عَنْ صَفْوَان بْنِ سُلَيْمٍ اَنَّہٗ قِيْلَ لِرَسُوْلِ اللہِ اَ
يَکُوْنُ الْمُـؤمِنُ جَبَاناً؟ فَقَالَ: ’’نَعَمْ.‘‘ فَقِيْلَ لَہٗ: اَ يَکُونُ
الْمُـؤمِنُ بَخِيْلاً؟ فَقَالَ: ’’نَعَمْ‘‘. فَقِيْلَ لَہٗ: اَ يَکُوْنُ
الْمُـؤمِنُ کَذَّاباً؟ فَقَالَ: ’’لاَ‘‘ (مؤطا امام مالک، حدیث :3630) ترجمہ:حضرت صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھاگیا:
کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا: ہاں۔ پھر سوال کیا گیا: کیا مسلمان
بخیل ہو سکتا ہے؟ آپ نےجواب دیا: ہاں۔ پھر عرض کیا گیا: کیا مسلمان جھوٹا ہوسکتا
ہے؟ آپ نے جواب دیا: نہیں (اہلِ ایمان جھوٹ نہیں بول سکتا)۔
2۔ایک حدیث شریف میں جن چار خصلتوں کو محمد عربی ﷺنے نفاق کی علامات قرار
دیا ہے، ان میں ایک جھوٹ بولنا بھی ہے، لہٰذا جو شخص جھوٹ بولتا ہے، وہ خصلتِ نفاق
سے متصف ہے۔ حدیث شریف ملاحظہ فرمائیے:
’’اَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِيْہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ کَانَتْ
فِيہِ خَصْلَۃٌ مِنْہُنَّ کَانَتْ فِيْہِ خَصْلَۃٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتّٰی
يَدَعَہَا: إِذَا اؤتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَإِذَا عَاہَدَ
غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ.‘‘ (صحیح بخاری، حدیث : 34)ترجمہ: جس میں چار
خصلتیں ہوں گی، وہ خالص منافق ہے اور جس شخص میں ان خصلتوں میں کوئی ایک خصلت پائی
جائے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے، تا آں کہ وہ اسے چھوڑدے: جب اس کے پاس امانت
رکھی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو دھوکہ دے اور جب
لڑائی جھگڑا کرے تو گالم گلوچ کرے۔
’’إِذَا کَذَبَ العَبْدُ تَبَاعَدَ
عَنْہُ الْمَـلَکُ مِيْلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِہٖ‘‘ (سنن ترمذی :1972)ترجمہ: جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو اس سے جو بدبو آتی ہے
اس کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور ہوجاتا ہے۔
3۔ایک حدیث میں پیارے نبی ﷺ نے جھوٹ کو فسق و فجور
اور گناہ کی طرف لے جانے والی بات شمار کیا ہے۔
جھوٹ کی مثالیں: عام طور پر بولے جانے والے جھوٹ جنہیں جھوٹ سمجھا
ہی نہیں جاتا، ویسے عموماً ہم اپنی روز مرہ زندگی میں اکثر و بیشتر مختلف مواقع پر
جھوٹ بولتے رہتے ہیں، لیکن کچھ جھوٹ ایسے بھی ہیں جو اکثر بولے جاتے ہیں، مگر ان
کو جھوٹ سمجھا نہیں جاتا، مثلا ”میں معافی چاہتا یا چاہتی ہوں“ ہم اس حقیقت سے بھی
واقف ہیں انسان غلطی کا پتلا ہے اور اکثر غلطیاں کرتا رہتا ہے، لیکن اپنی غلطی کو
چھپانے اور ایک اور مرتبہ اسے دہرانے کیلئے آئی ایم سوری جیسے الفاظ کا استعمال
کرنا۔ ’’مجھے تم سے نفرت ہے“ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ تین لفظ بول دینے سے ہم اپنے
نام نہاد دشمن سے بالکل قطع تعلق ہو سکتے ہیں ، لیکن ایسا ہر گز نہیں ہوتا، جب کسی
محبوب دوست سے جھگڑا ہو جائے تب کہنا کہ اب میں نے اس سے محبت کرنا چھوڑ دیا ہے
جبکہ دل میں ابھی بھی اس کی محبت موجود ہو۔ ’’میں ٹھیک ہوں‘‘ جب بھی ہم سے کوئی
پوچھتا ہے کیا حال ہے تو ہمارا ایک ہی جواب ہوتا ہے میں ٹھیک ہوں، حالانکہ بندہ جب
شدید بیمار ہو تو تب بھی یہی جواب دینا جھوٹ ہے۔ اسی طرح جب کبھی ہم گر جائیں تو
پاس موجود لوگ پوچھتے ہیں لگی تو نہیں اس پر ہمارا جواب ہوتا ہے نہیں بچت ہو گئی
ہے اگر واقعی چوٹ لگی ہو تو یہ جھوٹ ہے۔ ’’کچھ نہیں‘‘ عام طور پر جب ہم کسی بات پر اداس
ہوتے ہیں اور کوئی پوچھ لے کیا ہوا تو ہمارا جواب ہوتا ہے کچھ نہیں۔ کیا اس وقت سچ
میں کچھ نہیں ہوتا یا ہمارے اندر ایک طوفان برپاہوتا ہے۔
جھوٹ بولنے کی طرح جھوٹ لکھنا بھی گناہ ہے۔ اپریل فول منانا گناہ ہے اور یہ
احمقوں اور بے وقوفوں کا طریقہ ہے۔ یکم اپریل کو لوگوں کو جھوٹی باتیں بتاکر یا
جھوٹی خبریں لکھ کر مذاق کیاجاتاہے جو کہ ناجائز وگناہ ہے، لہٰذا اس ناجائز و برے
طریقے سے بچنا بہت ضروری ہے۔
مذاق میں بھی جھوٹ جھوٹ ہی ہوتا ہے۔ بعض والدین بچوں کو ڈرانے کے لئے جھوٹی
باتیں کرتے ہیں کہ فلاں چیز آرہی ہے مثلا بلی وغیرہ یا بہلانے کے لئے کہتے ہیں کہ
ادھر آؤ ہم تمہیں چیز دیں گے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص سویا
ہو تو اس کو اٹھانا کہ نماز کا ٹائم ہوگیا ہے اور جماعت میں صرف 5 منٹ باقی ہیں،
حالانکہ ابھی اذان بھی نہیں ہوئی ہوتی یا پھر جماعت میں 5 سے زیادہ منٹ باقی ہوتے
ہیں۔ توریہ یعنی لفظ کے جو ظاہری معنی ہیں وہ غلط ہیں مگر اس نے دوسرے معنی مراد
لئے جو صحیح ہیں، ایسا کر نا بلا حاجت جائز نہیں اور حاجت ہو تو جائز ہے۔ توریہ کی مثال یہ ہے کہ آپ نے کسی کو کھانے
کیلئے بلایا وہ کہتا ہے میں نے کھانا کھا لیا اس کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس وقت کا
کھانا کھا لیا ہے مگر وہ یہ مراد لیتا ہے کہ کل کھایا ہے۔ اس کے علاوہ کسی کی کوئی
چیز چھپا لینا اور اس کے پوچھنے پر کہنا میرے پاس نہیں یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے۔
بچوں کے جھوٹ بولنے کی چند مثالیں: اگر امی جان صبح اسکول میں جانے کے لئے اٹھاتی ہیں تو
جھوٹا بہانہ کردیتے ہیں کہ میری طبیعت صحیح نہیں یا
پھر میرے سرمیں درد ہے، یا پھر میرے پیٹ میں
تکلیف ہے۔ اسی طرح جب انہیں اسکول کا سبق یاد
کرنے کا کہا جائے تو جھوٹا عذر پیش کردیتے ہیں کہ مجھے نیند آرہی ہے، یا پھر مجھے فلاں تکلیف ہے۔ ایسے ہی جب ایک بچہ دوسرے بچے سے لڑائی جھگڑا کرلے یا کسی کومارے
تو دریافت کرنے پر جھوٹ بول دیتاہے کہ میں نے تو نہیں مارا۔
چند ایسی مثالیں جو بظاہر تو جھوٹ لیکن حقیقت
میں جھوٹ نہیں۔ اصل میں ایک عربی قاعدہ ہے لِلْاَکْثَرِ حُکْمُ الْکُل یعنی اکثر کا حکم سب پر ہوتا ہے۔ جیسے
کہا جائے کہ اس وقت ساڑھے بارہ ہو چکے ہیں جبکہ حقیقت میں 11:25 یا پھر 27 منٹ
ہوئے ہوں تو یہ جھوٹ نہیں، کیونکہ ساڑھے بارہ ہونے میں تھوڑا سا ہی وقت باقی ہے۔ اسی طرح کسی نے پوچھا اس وقت کہاں ہو تو جواب دیا
جی میں مال روڈ پر ہوں حالانکہ حقیقت میں کہنے والا شخص مال روڈ سے تھوڑا سا پیچھے
ہے تو چونکہ وہ مال روڈ بس پہنچنے ہی والا ہے اور مشہور جگہ بھی مال روڈ ہے اس لیے
اس نے مال روڈ کا نام لے دیا، لیکن اگر وہ خود ابھی کلمہ چوک ہے اور بتاتا مال روڈ
کا ہے تو اب یہ جھوٹ ہوگا۔
محاورہ جات: کچھ
ایسے جملے ہوتے ہیں جو بس کیفیات کو سمجھنے یا سمجھانے کے لیے بولے جاتے ہیں اگر
چہ وہ بظاہر جھوٹ ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ جھوٹ نہیں یعنی ان پر کوئی گناہ
نہیں ہوتا جیسے کہا جائے میرا دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے
یعنی میرا دل بہت ہی زیادہ خوش ہوا۔ جیسے بہت زیادہ کام کرنے کے باجود کام کے
مطابق فائدہ نہ ہو بلکہ تھوڑا فائدہ ہو تو کہا جاتا ہے: کھودا پہاڑ، نکلا چوہا! یہ
بھی جھوٹ نہیں کیونکہ یہاں بس ایک کیفیت بتانا مقصود ہے، اسی طرح بہت سی اور بھی
مثالیں ہیں۔
جھوٹ کی
مذمت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از بنت محمد ہارون،فیض مکہ،پی آئی بی کالونی کراچی
اللہ پاک اپنی مقدس کتاب قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ
اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ(۲۸)ترجمہ کنز
الایمان:بے شک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا بڑا جھوٹا ہو۔(پ26،
المومن:28)
جھوٹ ایک ایسا
وصف ہے جسے ہر مذہب میں مذموم و قبیح
سمجھا جاتا ہے۔جھوٹ کی تعریف یہ ہے کہ کسی کے بارے میں خلافِ حقیقت خبر دینا۔(حدیقہ ندیہ،4/10)
جھوٹ بولنا
حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ احادیث مبارکہ میں بھی جھوٹ سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔
1-ایمان
کے مخالف:آخری
نبی ﷺ کا فرمان ہے:جھوٹ سے بچو!کیونکہ جھوٹ ایمان کے مخالف ہے۔ ( مسند امام
احمد،2/468،حدیث:1913)
2-فرشتہ
دور ہوجاتا ہے:حضور
انور ﷺ کا فرمان ہے: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے اس کی بدبو سے فرشتہ ایک میل دور
ہوجاتا ہے۔ (ترمذی،3/392،حدیث:1979)
3-منافق
کی نشانیاں:منافق
کی تین نشانیاں ہیں:1)جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔2)جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے۔3)جب
اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔ (مسلم ، ص 50،حدیث:59)
شرحِ
حدیث:نفاق
کا لغوی معنی:باطن کا ظاہر کے خلاف ہونا ۔اگر اعتقاد ااور ایمان کے بارے میں یہ
حالت ہو تو اسے نفاق کفر کہتے ہیں اور اگر اعمال کے بارے میں ہو تو اسے نفاق عمل
کہتے ہیں اور یہاں حدیث میں یہی مراد ہے۔ (فیض القدیر،1/593،تحت الحدیث:916)
4-اللہ
پاک کے نزدیک کذاب:بے شک جھوٹ فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فسق و
فجور جہنم تک لے جاتا ہے اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ پاک کے
نزدیک کذاب(بہت بڑا جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔(مسلم،ص1405،حدیث:2607)
5-کامل
مومن نہیں ہوتا:بندہ
پورا مومن نہیں ہوتا جب تک مذاق میں بھی جھوٹ کو نہ چھوڑ دے اور جھگڑا کرنا نہ
چھوڑ دے اگرچہ سچا ہو۔ (مسند امام احمد،ص268،حدیث: 8638)
یاد رہے!مذاق
میں بھی جھوٹ بولنا گناہ ہے،نیز بات بات پر جھوٹ بولنے والے پر لوگ اعتبار کرنا
چھوڑ دیتے ہیں۔جھوٹا شخص دنیا میں بھی خسارہ اٹھاتا ہے اور آخرت میں بھی۔منقول ہے
:جھوٹا شخص دوزخ میں کتے کی شکل میں بدل جائے گا۔(جھوٹا چور،ص3)الامان
والحفیظ۔لہٰذا ہمیں چاہئے کہ خود بھی جھوٹ جیسی بری صفت سے بچیں اور اپنے بچوں کو
بھی اس سے بچنے کا ذہن دیں۔اللہ پاک ہم سب کو جھوٹ سے بچ کر صادق المصدوق ﷺ کے
صدقے سچ بولنے والی بنائے۔آمین
Dawateislami