دعوتِ اسلامی کے تحت ہر ہفتے  کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ عاشقان ِ رسول کے مختلف سوالات کے جوابات ارشاد فرماتے ہیں۔

اسی سلسلے میں 4 اپریل 2026ء بمطابق 16 شوال المکرم 1447ھ کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعت شریف سے کیا گیا۔

تلاوت و نعت کے بعد براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل سوالات کا سلسلہ ہوا جس میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات دیئے۔

بعض سوال و جواب:

سوال:ایک پوسٹ میں لکھا تھا:”دوست ایسا ہونا چاہیئے جو آپ کے سامنے اللہ پاک کا ذکر کرے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں آپ کا ذکر کرے“ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:بہت پیاری بات ہے ،ایسے کی صحبت اختیار کی جائے جو نیک ہو، جسے دیکھ کر خدا یاد آئے اور وہ آپ کے لئے اللہ پاک سے دعا کرے ۔

سوال: جب بندہ گفتگو کرتا ہے تو اس کا نیک ہونا ظاہر ہو جاتا ہے ،کیا یہ درست ہے ؟

جواب:یہ درست بھی ہے اور نہیں بھی ۔بعض لوگ نیک ہوتے ہیں اور ان کی گفتگو سے ان کا نیک ہونا ظاہر ہوتا ہے اور بعض گفتار کے غازی ہوتے ہیں(یعنی باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں، لیکن عمل کچھ بھی نہیں ہوتا) ،کوئی تصوف کی کتاب پڑھ لیتے ہیں اور نیکوں والی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں ،مگر وہ نیک ہوتے نہیں ،ایسوں کی تو گلی میں بھی نہیں جانا چاہیئے (یعنی ایسوں کی صحبت سے بچنا چاہئے)۔

سوال:بچے کو بچپن میں کیا سکھایا جائے ؟

جواب:فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم :اِفْتَحُوْا عَلٰی صِبْیَانِکُمْ اَوَّلَ کَلِمَةٍ بِـلَآ اِلٰہَ اِلَّااللہُ یعنی اپنے بچوں کو پہلی بات لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ سکھاؤ ۔ (شعب الایمان:8649) آپ کا بچہ جب بولنے لگے تو سب سے پہلے لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ بولے ۔اس کے لئے اس کے سامنے لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ پڑھتے رہیں ،پہلے مائیں لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ کی لوری دیتی تھیں ،اَب پنگھوڑے(جُھولے) میں میوزک لگا دیتے ہیں ،ایسا نہ کیا جائے بلکہ بچے کے سامنے کلمہ شریف(لآ اِلٰہَ اِلاَّاللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ) پڑھتے رہیں۔ اس کے علاوہ آپ سب بھی اُٹھتے بیٹھتے کلمہ شریف پڑھتے رہیں۔میں بھی اُٹھتے بیٹھتے کلمہ شریف پڑھتا رہتا ہوں تاکہ مرتے وقت بھی میرا آخری کلام کلمہ شریف ہو۔

سوال:پہلے دعا میں دل لگتا تھا،خشوع و خضوع نصیب ہوتا تھا ،اب ایسا نہیں،کیا کروں ؟

جواب:ایسے شخص کو چاہیئے کہ وہ گناہوں سے سچی توبہ کرے اوردُعا میں رونے کی کوشش کرے کہ نیک لوگوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے۔یادرکھئے!جو گناہوں میں مصروف رہتا ہے اسے عبادت میں لذت نصیب نہیں ہوتی ۔

سوال:شوال شریف کی کیا خصوصیات ہیں ؟

جواب:اس مہینے کا پہلا دن عیدالفطر ہے جو بہت بابرکت ہے ،اس میں عید کی نماز پڑھی جاتی ہے اور مسلمانوں کی عام مغفرت ہوتی ہے۔حدیثِ پاک کی مشہور کتاب صحیح بخاری کے مصنف امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا یوم عرس بھی اسی دن(یعنی پہلی شوال کو ) ہے ۔

٭شوال میں 6 روزے(شش عید) رکھے جاتے ہیں ،حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے راوی ، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اُس کے بعد6 دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسے نکل گیا، جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے“۔( المعجم الاوسط، ج6، ص234، باب المیم، الحدیث: 8622)

٭ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عیدالفطر کے بعد6روزے رکھ لئے تو اُس نے پورے سال کا روزہ رکھا، کہ جو ایک نیکی لائے گا اُسے 10ملیں گی تو ماہِ رمضان کا روزہ 10مہینے کے برابر ہے اور ان 6دنوں کے بدلے میں 2 مہینے تو پورے سال کے روزے ہوگئے“۔ (السنن الکبری للنسائی، کتاب الصیام، باب صیام ستۃ ایام من شوال، ج2، ص162۔163، الحدیث: 2860 ۔ 2861)

٭شوال میں اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی یعنی یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر آئیں۔15 شوال کو سَیِّدُالشَّہَدَاء(شہیدوں کے سردار) حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اوردیگرشہدائے اُحد کا یوم عرس ہے ۔

سوال:علمِ نافع سے کیا مراد ہے؟اور یہ کیسے حاصل ہوتا ہے؟

جواب:علم نافع کا مطلب ہے: نفع دینے والا علم ۔بعض دنیاوی علم بھی نفع دیتے ہیں مگر تمام دینی علوم نفع دینے والے ہوتے ہیں، اس کی ایک تعریف یہ ہے کہ علمِ نافع وہ ہوتا ہے جو دل میں اثر کرے اور دل میں اللہ پاک کا خوف اور محبت پیدا کرے، جب دل میں اللہ پاک کا خوف اور محبت ٹھہر جائے تو بندہ نیک اعمال کی طرف رغبت کر لیتا ہے ۔

سوال:عالمِ دین کی کیا شان ہے؟

جواب:عالمِ دین کی بڑی شان ہے،اس کے لئے سمندر میں مچھلیاں اورزمین میں چیونٹیاں دُعا کرتی ہیں ،جب وہ علمِ دین حاصل کرنے کے لئے چلتا ہے تو فرشتے اس کے لئے پر بچھاتے ہیں ،عالمِ دِین کو دیکھنا عبادت ہے ۔ہر گھر میں کم از کم ایک عالم اور ایک عالمہ ہونے چاہئیں ،یہ والدین کے لئے صدقہ جاریہ ہوں گے اور آخرت میں جنت میں داخلے کا سبب بنیں گے ،ان شآء اللہ الکریم۔دیگر اسلامی بھائی بھی عالم بنیں ،نہیں بن سکتے تو جتنوں کو ہو سکے جامعۃ المدینہ میں داخلہ دلوائیں ،اگر ہو سکے تو مجلس جامعۃ المدینہ سے مشورہ کر کے کسی طالب علم کا خرچہ اٹھا لیں ۔ہراسلامی بھائی کم از کم ایک اسلامی بھائی کو جامعۃ المدینہ میں ضرور داخل کروائیں اور فالواپ کریں ۔پوچھتے رہیں ،توجہ رکھیں تاکہ وہ چھٹیاں نہ کرے ۔آج دورہ حدیث والے بھی جمع ہیں ،آپ سب بھی کوشش کریں ۔ اسلامی بہنیں اپنے محارم اور دیگر اسلامی بہنوں کوتیار کر کے جامعۃ المدینہ میں داخل کروائیں ۔علمِ دین عام ہو گیا تو معاشرے کی اصلاح ہو گی اور نیکیوں کا دور دورہ ہو جائے گا ۔

حدیثِ پاک میں ہے:اِنَّ الدَّالَ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖ یعنی بے شک نیکی کی راہ دکھانے والا، نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔( ترمذی ،4 /308، حدیث:2679)مشہور مفسرِ قرآن مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی نیکی کرنے والا، کرانے والا، بتانے والا اور مشورہ دینے والا، سب ثواب کے حقدار ہیں۔(مرآۃالمناجیح،۱ /۱۹۴بتغیر قلیل)سب مل کر زور لگائیں اور اس سال دُنیا بھرکے جامعۃ المدینہ(بوائز،گرلز) میں 21ہزارطلبہ و طالبات کو داخل کروائیں ۔ مدرسۃ المدینہ میں اس مرتبہ جتنے حافظ بنے ہیں ان سب پرقاری صاحبان اور اسلامی بھائی انفرادی کوشش کر کے جامعۃ المدینہ میں داخل کروائیں ۔قاری صاحبان خود بھی عالم بنیں اور حفاظ کو بھی اس کے لیے تیار کریں ۔ حافظِ قرآن اچھا عالمِ دِین بنتا ہے ۔

سوال:معاشرے میں دوسروں کا احساس کم ہے، لوگ ایسے کام کر رہے ہوتے ہیں جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے،اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:جہاں قانون پر عمل ہوتا ہے وہاں لوگ ایسے کام نہیں کرتے جس سے دوسروں کوتکلیف ہو، البتہ قانون خاموش بھی ہو تو دینی تعلیمات موجود ہیں کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے کہ کسی کو تکلیف ہو ۔حدیث پاک میں ہے: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔( بخاری، 2 / 150، حدیث: 2518)ایک اور حدیث پاک میں ہے :مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ( مسند امام احمد ، 2 / 654، حدیث: 6942 )کسی کو شر نہ پہچانا جنت میں لے جانے والا عمل ہے ۔

سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” نیک اعمال پراستقامت پانے کے طریقے“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یا ربِّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”نیک اعمال پر استقامت پانے کے طریقے“ پڑھ یا سُن لے، اُسے نیکیوں پر استقامت دے اور ماں باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم