نئے تعلیمی سال کے آغاز پر فیضان مدینہ کراچی میں
”افتتاح بخاری شریف“ کا سلسلہ
جامعۃ
المدینہ پاکستان کے تحت”افتتاح بخاری شریف“ کا سلسلہ
امیر
اہلسنت نے ”بخاری شریف“ کی پہلی حدیث پڑھی
کراچی
(رپورٹ):
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ جامعۃ المدینہ پاکستان کے تحت 4 مارچ 2026ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ، کراچی میں ”افتتاحِ بخاری شریف“ کے سلسلے میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد
ہوئی۔ اس تقریب میں کراچی کے دورۃ الحدیث کے طلبہ نے براہِ راست شرکت کی جبکہ ملک
کے دیگر شہروں کے ہزاروں طلبہ مدنی چینل کے ذریعے اس علمی و روحانی اجتماع کا حصہ
بنے۔
نمایاں
شرکا:
تقریب
میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی ، نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری،
اور اراکینِ شوریٰ بشمول حاجی برکت علی عطاری، حاجی محمد اظہر عطاری، مولانا حاجی
محمد اسد رضا عطاری مدنی، حاجی یعفور رضا عطاری، حاجی محمد امین عطاری اور حاجی فضیل
عطاری نے خصوصی شرکت کی۔ اس کے علاوہ جامعۃ المدینہ کے اساتذہ اور دیگر ذمہ داران
بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
شیخِ
طریقت امیرِ اہل سنت کا بیان اور تعلیمی اہداف :
بانیِ
دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ جامعۃ المدینہ
میں داخلوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جو یکم ذیقعدہ تک جاری رہے گا۔ آپ نے دورۃ
الحدیث کے طلبہ اور تمام ذمہ داران کو ہدف دیتے ہوئے فرمایا:”ہر طالبِ علم اور ذمہ
دار یہ ذہن بنائے کہ وہ کم از کم ایک بھائی کا جامعۃ المدینہ میں داخلہ کروائے گا
اور صرف داخلہ ہی نہیں، بلکہ اس کا مکمل فالو اپ بھی کرے گا۔“
جامعۃ
المدینہ کی تعلیمی پیشرفت :
نگرانِ
شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری نے گفتگو کرتے ہوئے خوشخبری سنائی کہ الحمد
للہ اس سال دورۃ الحدیث (درس نظامی کا آخری کلاس) میں پہنچنے
والے طلبہ و طالبات کی مجموعی تعداد کم و بیش 8278 (8 ہزار، 2
سو، 78)
ہے۔ یہ تعداد دعوتِ اسلامی کے تعلیمی نظام کی کامیابی اور وسعت کا منہ بولتا ثبوت
ہے۔
درسِ
بخاری شریف اور سیرتِ امام بخاری :
تقریب
کے مرکزی حصے میں امیرِ اہل سنت نے ”حضرت امام بخاری رحمۃ
اللہ علیہ
“کی
سیرت اور ”بخاری شریف“ کا علمی تعارف پیش کیا۔ آپ نے بخاری شریف کی پہلی حدیثِ
مبارکہ: ”عَلْقَمَةُ
بْنُ وَقَّاص اللَّيْثِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ
عَلَى المِنْبَرِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم يَقُولُ: إِنَّمَا الأَعْمَالُ
بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ
إِلی دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلی مَا
هَاجَرَ إِلَيْهِ“
پڑھی اور اس کا جامع ترجمہ کرتے ہوئے حدیث
پاک کے متعلق محدثین کرام اور بزرگان دین کی شرح بیان فرمائی۔ محدثینِ کرام اور
بزرگانِ دین کی شروحات کی روشنی میں ”نیت“ کی اہمیت پر زور دیا۔شرکا کی تربیت کرتے
ہوئے بتایا کہ اخلاصِ نیت ہی اعمال کی قبولیت کی بنیاد ہے۔
اختتامی
دعا
پروگرام
کے اختتام پر امیرِ اہل سنت نے بارگاہِ الہی میں ملکِ پاکستان کی سلامتی، امتِ
مسلمہ کی سربلندی اور دنیا بھر کے پریشان حال اور مظلوم مسلمانوں کے لئے دعا فرمائی۔
تقریب کا اختتام حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
بارگاہ میں درود و سلام کے نذرانے سے ہوا۔
Dawateislami