فرض روزوں کے علاوہ نفل روزوں کی بھی عادت بنانی چاہئے کہ اس میں بے شمار دینی و دنیوی فوائد ہیں اور ثواب تو اتنا ہے کہ بس!آدمی کا جی چاہے کہ بس روزے ہی  رکھتے چلے جائیں۔

فرض ہو یا نفل روزوں کے بہت فضائل ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اہمیت بھی ہے کہ اس کے بارے میں خود ربّ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے، ارشادِ ربانی ہوا کہ:

ترجمہ کنزالایمان:اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں، ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔(پارہ 22، سورہ احزاب، آیت 35)

(اور روزے والے اور روزے والیاں) کی تفسیر میں حضرت علامہ ابو البرکات عبداللہ بن احمد نسفیرحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:اس میں فرض اور نفل دونوں قسم کے روزے داخل ہیں، منقول ہےجس نے ہر مہینے ایّامِ بیض(یعنی چاند کی 13، 14، 15 تاریخ) کے تین روزے رکھے، وہ روزے رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔(تفسیر مدارک، جلد 6، صفحہ 345)

نفلی روزے رکھنے کے بہت فضائل و برکات ہیں اور بہت ثواب ہے کہ خود پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا:جس نے ایک نفل روزہ رکھا، اس کے لئے جنت میں ایک درخت لگا دیا جائے گا، جس کا پھل انار سے چھوٹا، سیب سے بڑا ہوگا، وہ شہد جیسا میٹھا اور خوش ذائقہ ہوگا، اللہ پاک بروزِ قیامت روزہ دار کو اس درخت کا پھل کھلائے گا۔(المعجم الکبیر، جلد 18، صفحہ 366، حدیث 395)

جمع الجوامع میں صفحہ نمبر 190 پر منقول ہے:جس نے ثواب کی امید رکھتے ہوئے ایک نفل روزہ رکھا، اللہ پاک اُسے دوزخ سے چالیس سال کی مسافت کے برابر دور فرما دے گا۔(جمع الجوامع، جلد 8، صفحہ 190، حدیث 2225)

روزے جیسا کوئی عمل نہیں:

منقول ہے کہ حضرت سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جس کے سبب جنت میں داخل ہو جاؤں، فرمایا:روزے کو خود پر لازم کر لو کہ اس کی مثل کوئی عمل نہیں، راوی کہتے ہیں حضرت سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے گھر دن کے وقت مہمان کی آمد کے علاوہ کبھی دُھواں نہ دیکھا گیا، (یعنی آپ دن کو کھانا کھاتے ہی نہ تھے، روزہ رکھتے تھے)۔(احسن بترتیب صحیح ابن حبان، جلد 5، صفحہ 189، حدیث 3416)

روزہ رکھنے کے فضائل بہت ہیں، جہاں روزہ رکھنے کے اُخروی فوائد ہیں، اس کی دوسری طرف جسمانی اور دنیوی فوائد بھی ہیں کہ فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:صُوْمُوْا تَسِحُّوا یعنی روزہ رکھو، صحت مند ہو جاؤ گے۔

لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اپنی آخرت کو بہتر بنانے کے لئے اور آخری نبی، محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی پانے کے لئے روزہ رکھیں۔

اللہ ہمیں خوب خوب نفل روزہ رکھنے کی سعادت نصیب فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


فرض روزوں کے علاوہ نفل روزوں کی بھی عادت بنانی چاہئے کہ اِس میں بے شُمار دینی و دُنیوی فوائد ہیں۔ دینی فوائد میں ایمان کی حفاظت، جہنَّم سے نَجات اور جنَّت کا حُصُول شامِل ہیں اور جہاں تک دُنیوی فوائد کا تَعَلُّق ہے تو روزہ اور اَخراجات کی بچت، پیٹ کی اصلاح اور بَہُت ساری بیماریوں سے حفاظت کا سامان بھی ہے۔ اور تمام فوائد کی اَصل یہ ہے کہ اِس سے اللہ پاک کی رِضا حاصل ہوتی ہے۔

اللہ پاک پارہ 22 سُورۃُ الاَحزاب کی آیت نمبر 35 میں ارشاد فرماتا ہے:ترجَمۂ کنز الایمان: اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بَہُت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کیلئے اللّٰه نے بخشش اور بڑا ثواب تیّار کر رکھا ہے۔

اللہ پاک پارہ 19 سُورۃُ الحاقَّہ کی آیت نمبر 24 میں ارشاد فرماتا ہے:ترجمۂ کنز الایمان: کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صِلہ اس کا جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں آگے بھیجا۔

حضرتِ سیِّدُنا وکیع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اِس آیتِ کریمہ میں "گزرے ہوئے زمانے سے مُراد روزوں کے دن ہیں کہ لوگ ان میں کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں۔"

(المتبحر الرابح فی ثواب العمل الصالح صفحہ 335 دار خضر بیروت)

حضرتِ سیِّدُنا ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عَرض کی، یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم! مجھے کوئی عمل بتائیے۔ "ارشاد فرمایا: روزے رکھا کرو کیونکہ اِس جیسا عمل کوئی نہیں۔" میں نے پھر عَرض کی، "مجھے کوئی عمل بتائیے۔" فرمایا: "روزے رکھا کرو کیونکہ اِس جیسا کوئی عمل نہیں۔" میں نے پھر عَرض کی، "مجھے کوئی عمل بتائیے۔" فرمایا: "روزے رکھا کرو کیونکہ اِس کا کوئی مِثل نہیں۔"(نَسائی: 4/166)

پیارے آقا رحمۃٌ لِّلعٰلمین، خاتم النبیین صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: "جس نے ثواب کی اُمّید رکھتے ہوئے ایک نفل روزہ رکھا اللہ پاک اُسے دوزخ سے چالیس سال (کا فاصِلہ) دُور فرما دے گا۔"(کَنزُ العُمَّال 8/255، حدیث :24148)

حضرتِ سیِّدُنا ابُوالدَّرداء رضی اللہ عنہ کا قول ہے، "بروزِ قیامت روزہ داروں کیلئے عرش کے نیچے سَونے کے دسترخوان بچھائے جائیں گے۔ جن میں موتی اور جَواہِرات جَڑے ہوں گے، ان پر جنّتی پھل، جنَّتی مشروبات اور اَنواع و اَقسام کے کھانے چُنے ہوئے ہوں گے، روزہ دار کھائیں گے اور مزے اُڑائیں گے جبکہ دوسرے لوگ سخت حساب و کتاب سے دوچار ہوں گے۔"

(البُدُورُ السّافِرۃ ،ص: 260)

فضلِ ربّ سےرَاحَتوں کاحَشر میں سامان ہے

روزہ داروں کیلئے سَونے کا دسترخوان ہے

اگر دین و دنیا کے کاموں میں رُکاوٹ نہ پڑتی ہو، والِدَین وغیرہ بھی ناراض نہ ہوتے ہوں، تو ہمیں خوب نفل روزے رکھنے چاہئیں کہ اکثر بُزُرگانِ دین رَحِمَہمُ اللہ ایسا کرتے رہے ہیں۔ ہمارا ایک ایک لمحہ اِن شَاءَ اللہ عبادت میں گزرے گا۔ اللہ پاک ہم سب کو اِخلاص کے ساتھ فرض روزوں کے ساتھ ساتھ نفل روزے رکھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔

مِرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو

کر اِخلاص ایسا عطا یا الٰہی

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الاَمین صَلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم


روزہ کسے کہتے ہیں؟ روزہ عرف شرع میں مسلمان کا بہ نیت عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصدا کھانے پینے اور جماع سے باز رکھنا ہے (بہارشریعت،ح5،ص966)

روزہ اللہ پاک کی عبادت ہے۔ کتب احادیث روزے کے فضائل سے مالامال ہیں، آئیے چند فضائل ملاحظہ کرتے ہیں۔

جنت کا دروازہ: روزہ رکھنے والے جنت میں ایک خاص دروازے سے داخل ہوں گے، وہ دروازہ صرف روزہ داروں کے لئے کھولا جائے گا، اس دروازے کا نام ریان ہے، چنانچہ صحیح بخاری شریف میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں آٹھ دروازے ہیں، ان میں ایک دروازہ کا نام ریان ہے، اس دروازے سے وہی جائیں گے جو روزے رکھتے ہیں۔(صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق، باب صفۃ ابواب الجنۃ، 2/394)

بے حساب اجر: روزہ ایسا عمل ہے جس پر بروز قیامت بلا حساب اجر دیا جائے گا، چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے راویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ اللہ پاک کے لئے ہے، اس کا ثواب اللہ پاک کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

(شعب الایمان،باب فی الصیام، فضائل الصوم،3/298)

حضرت سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں،”بروز قیامت ایک منادی اس طرح نداء کرے گا، ہر بونے والے کو اس کی کھیتی کے برابر اجر دیا جائے گا سوائے قرآن والوں اور روزہ داروں کے کہ انہیں بے حد و بے حساب اجر دیا جائے گا۔

(شعب الایمان،3/413)

زمین بھر سونا: اگر نفل روزے کے بدلے، روزہ رکھنے والے کو زمین بھر سونا دیا جائے، تب بھی نفلی روزے کا ثواب پورا نہ ہو گا۔ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی نے ایک دن نفل روزہ رکھا اور زمین بھر اسے سونا دیا جائے، جب بھی اس کا ثواب پورا نہیں ہوگا، اس کا ثواب تو قیامت ہی کے دن ملے گا۔

(مسند ابی یعلی، مسند ابی ھریرۃ، 5/353)

دعا کی قبولیت: رب کریم اپنے فضل سے افطار کے وقت روزہ دار کی دعا کو شرف قبولیت عطا فرماتا ہے، یہ اللہ پاک کا خاص فضل ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے راویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: روزے دار کی دعا، افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی۔(شعب الایمان، باب فی الصیام، 2/36)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین شخصوں کی دعا رد نہیں کی جاتی، (1)روزہ دار جس وقت افطار کرتا ہے، (2)عادل بادشاہ،(3)اور مظلوم کی دعا،(سنن ابن ماجہ،ابواب ماجاء فی الصیام،2/349)

جہنم سے دوری: نفلی روزے کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ پاک نفلی روزہ رکھنے والے شخص کو، جہنم سے بہت دور رکھے گا۔ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ پاک کی رضا کے لئے ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ پاک اس کو جہنم سے اتنا دور کر دے گا جیسے کوّا، کہ جب بچہ تھا اس وقت سے اڑتا رہا یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر مرا(المسند للامام احمد بن حنبل،مسندابی ھریرۃ، 3/619)

ابو سعید رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے اللہ پاک اس کے منہ کو دوزخ سے ستر برس کی راہ دور فرما دے گا۔(صحیح مسلم، کتاب الصیام، ص581)

ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بندہ اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے، اللہ پاک اس کے اور جہنم کے درمیان اتنی بڑی خندق کر دے گا جتنا آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔

(جامع الترمذی،ابواب فضائل الجھاد،3/233)

معزز قارئین! روزہ رکھنے کی سعادت حاصل کرنا بھی اللہ پاک کی عنایت ہے، اور اس پر اتنا فضل و کرم بھی اسی کی عطا ہے، ہمیں چاہیے کہ فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی اہتمام کریں۔

اللہ پاک ہمیں شریعت مطہرہ پر استقامت عطا فرمائے، اور نوافل کا اہتمام کرنے کی بھی سعادت عطا فرمائے ۔اٰمین۔


روزہ تزکیۂ نفس کا بہترین ذریعہ ہے اس لئے اسلام نے فرض روزوں کے علاوہ مختلف ایام  کے نفلی روزوں کی ترغیب بھی دی ہے. یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور صلحاء صوفیاء کرام رحمہم اللہ علیہم کا معمول رہا ہے کہ فرض روزوں کے علاوہ زندگی بھر نفلی روزوں کا بطور خاص اہتمام فرماتے رہے ہیں ۔

سال بھر متبرک اور بزرگ دنوں میں روزے رکھنا سنت ہے۔ جیسا کہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اب عاشوراء کا روزہ سنت ہے۔

(شرح صحیح مسلم جلد 3 صفحہ 127 کتاب الصیام باب صوم یوم عاشوراء (فرید بک سٹال)

رجب شریف کے روزے :

فرمان مصطفیٰ صلى الله عليہ وسلم: رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کفارہ ہے، دوسرا دن کا روزہ دو سال کا، تیسرے دن کا ایک سال کا کفارہ ہے پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے (کفارہ سے مراد گناہ صغیرہ کا کفارہ ہے)

(الجامع الصغير للسيوطي ص: 311 حديث 5051 دار الكتب العلميہ بيروت )

شعبان المعظم کے روزے :

اسامہ بن زيد رضي اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله (صلى الله عليہ وسلم) میں آپ کو دیکھتا ہوں آپ مہینوں میں سے بعض مہینوں میں روزہ رکھتے ہیں کیا آپ شعبان میں بھی روزہ رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا :یہ رجب اور رمضان کے درمیان وہ مہینہ ہے کہ جس میں لوگ غفلت کرتے ہیں اور اس مہینہ میں رب العالمین کی طرف اعمال اٹھائے جاتے ہیں۔ اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اٹھائے جائیں اس حال میں کہ میں روزے دار ہوں۔(الترغيب والترهيب جلد 1 ص: 439 الترغيب في صوم يوم عاشوراء )

ايام بيض کے روزے :

ہر مہینے کے تین روزے خصوصاً ایام بیض تیرہ (13) چودہ (14) پندرہ (15) ایام بیض ہیں۔(بہار شریعت جلد 1 حصہ 5 صفحہ 1018 مکتبہ المدینہ)

طبراني ميمونہ بنت سعد رضي الله عنہا راوی کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم فرماتے ہیں جس سے ہو سکے ہر مہینے میں تین روزے رکھے کہ ہر روزہ دس گناہ مٹاتا ہے اور گناہ سے ایسا پاک کر دیتا ہے جیسا پانی کپڑے کو۔(المعجم الكبير لطبراني ، 25 /35 حدیث :60 )

دو شنبہ (پیر) کا روزہ :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے پیر کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا اس دن میں ہم پیدا ہوئے اور اسی دن ہم پر قرآن اتارا گیا۔

(صحیح مسلم حدیث 1162 ص: 534 دارالفكر بیروت)


روزہ کی شرعی حیثیت:

"روزہ عرف شرع میں مسلمان کا بہ نیّت عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصداً کھانے پینے جماع سے باز رکھنے کا نام ہے"۔ (بہار شریعت ج1، ح5، ص966)

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، روزے کی حقیقت" رُکنا" ہے اور رُکے رہنے کی بہت سی شرائط ہیں:مثلاً معدے کو کھانے پینے سے روکے رکھنا، آنکھ کو شَہوانی نظر سے روکے رکھنا، کان کو غیبت سننے، زبان کو فضول اور فِتنہ انگیز باتیں کرنے اور جسم کو حُکمِ الٰہی عزوجل کی مخالفت سے روکے رکھنا روزہ ہے۔(کشف المحجوب، صفحہ354/353)

روزہ کی اقسام:

کتب فقہ میں روزہ کی 8 اَقسام بیان ہوئی ہیں :

1۔ فرضِ معیّن (ماہ رمضان کے روزے)

2۔ فرضِ غیر معیّن (ماہ رمضان کے قضا شدہ روزے)

3۔ واجب معیّن (کسی خاص دن یا تاریخ میں روزہ رکھنے کی منت مانیں تو اسی دن یا تاریخ کو روزہ رکھنا واجب ہے)

4۔ واجب غیر معیّن (کفارے کے روزے، نذرِ غیر معین کے روزے اور توڑے ہوئے نفلی روزوں کی قضا)

5۔ سنت (محرم الحرام کی نویں اور دسویں تاریخ کے روزے، عرفہ یعنی نویں ذی الحجہ کا روزہ اور ایامِ بیض یعنی ہر قمری مہینے کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کے روزے)

6۔ نفل (ماہ شوال کے چھ روزے، ماہ شعبان کی پندرہویں تاریخ کا روزہ، سوموار، جمعرات اور جمعہ کا روزہ)

7۔ مکروہ تنزیہی (محرم الحرام کی صرف دسویں تاریخ کا روزہ، صرف ہفتہ کے دن کا روزہ رکھنا، عورت کا بلااجازتِ خاوند نفلی روزہ) رکھنا

8۔ مکروہ تحریمی (عید الفطر اور ذوالحجہ کی دس سے تیرہ تک کے روزے)۔

روزہ رکھنا انبیائے کرام   عَلَیْہِم السَّلَام کا طریقہ ہے:

(1) حضرت آدَم صَفِیُّ اللہ علیہ السلام نے (چاند کی)  13،  14، 15 تاریخ کے  روزے رکھے۔ (کنزالعُمّال 8/258،حدیث:24188)

(2) صَامَ نُوْحٌ الدَّہْرَ اِلَّا یَوْمَ الْفِطْرِ وَیَوْمَ الْاَضْحٰی۔ یعنی(حضرتِ)   نوح نَجِیُّ اللہ (عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)  عیدالفطر اور عیدالاضحی کے  علاوہ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے۔

 (ابن ماجہ 2/333، حدیث :1714 ) 

(3) حضرتِ سلیمان علیہ السلام تین دن مہینے کے  شروع میں  ، تین دن درمیان میں  اور تین دن آخر میں  (یعنی اس ترتیب سے مہینے میں  9دن)روزہ رکھا کرتےتھے۔

(4) حضرت عیسیٰ روحُ اللہ علیہ السلام ہمیشہ روزہ رکھتے تھے کبھی نہ چھوڑتے تھے۔

(ابنِ عَساکِر 24/48)

(5)  (حضرتِ)  داؤد علیہ السلام  ایک دن چھوڑ کرایک دن روزہ رکھتے تھے۔

 (مسلم ص 584، حدیث :1159 )   

"نفلی روزوں کے فضائل"

فرض روزوں کے  علاوہ نفل روزوں کی بھی عادت بنانی چاہئے کہ اس میں  بے شمار دینی و دُنیوی فوائد ہیں اور ثواب تو اِتنا ہے کہ مت پوچھو بات! آدمی کا جی چاہے کہ بس روزے رکھتے ہی چلے جا ئیں ۔ دینی فوائد میں  ایمان کی حفاظت ، جہنَّم سے نَجا ت اور جنت کا حصول شامل ہیں اور جہاں تک دُنیوی فوائد کاتعلق ہے تودن کے  اندر کھانے پینے میں  صرف ہونے والے وَقت اور اَخراجا ت کی بچت،  پیٹ کی اِصلاح اور بہت سارے اَمراض سے حفاظت کا سامان ہے ۔ اور تمام فوائد کی اَصل یہ ہے کہ روزے دارسے اللہ پاک راضی ہو تاہے۔

احادیثِ مبارکہ میں فرض روزوں کی تاکید کی گئی ہے تو نفلی روزوں کے بھی فضائل کو بیان کیا گیا ہے ان میں سے چند ذکر کرتا ہوں:

(1) اللہ پاک پارہ 22 سُوْرَۃُ الْاَحْزَاب کی آیت نمبر 35میں  ارشاد فرماتا ہے: وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمہ کنزالایمان: اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ( اور روزے والے اور روزے والیاں) کی تفسیر میں حضرت علامہ ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس میں فرض اور نفل دونوں قسم کے روزے داخل ہیں۔ منقول ہے: جس نے ہر مہینے ایام بیض (یعنی چاند کی 13، 14، 15 تاریخ) کے تین روزے رکھے وہ روزے رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ (تفسیرِ مدارک 2/345)

(2) جس نے ثواب کی اُمید رکھتے ہوئے ایک نفْل روزہ رکھااللہ پاک اسے دوزخ سے چالیس سال (کی مسافت کے  برابر) دُور فرمادے گا۔

(جَمعُ الجَوامع 7/190،حدیث:22251)

(3) حضرت سَیِّدَتنا اُمِّ عمارَہ بنت کعب رضی اللہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں :  سلطانِ دو جہان،  شہنشاہِ کون و مکان،  رحمتِ عالمیان صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے،  میں  نے کھاناپیش کیا تو ارشاد فرمایا:   ’’ تم بھی کھاؤ! ‘‘  میں  نے عرض کی:   ’’  میں  روزے سے ہوں ۔ ‘‘  تو فرمایا:   ’’  جب تک روزے دار کے  سامنے کھانا کھایا جا تا ہے فرشتے اُس روزہ دار کے  لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔

(تِرمذی 2/205،حدیث:785)

(4) صُوْمُوْا تَصِحُّوا۔یعنی روزہ رکھوتَندُرُست ہو جا ؤ گے۔

(مُعْجَم اَوْسَط 6/146،حدیث:8312)

(5) قیامت والے دن روزہ داروں کیلئے ایک سونے کا دستر خوان رکھا جا ئے گا ،  جس سے وہ کھائیں گے حالانکہ لوگ (حساب کتا ب کے ) مُنتظِر ہوں گے۔

(کَنْزُ الْعُمّال 8/214،حدیث:23640)

(6) جس کو روزے نے کھانے یا پینے سے روک دیا کہ جس کی اسے خواہش تھی تو اللہ پاک اسے جنتی پھلوں میں  سے کھلائے گااور جنتی شراب سے سیراب کرے گا۔ (شُعَبُ الْایمان 3/410،حدیث:3917)

(7) حضرت سَیِّدُنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ بروزِقیامت ایک منادی اس طرح ندا کر ے گا ، ہر بونے والے (یعنی عمل کرنے والے) کو اس کی کھیتی (یعنی عمل) کے  برابر اَجر دیا جا ئے گا سوائے قراٰن والوں ( یعنی عالم قراٰن ) اور روزہ داروں کے  کہ انہیں بے حد و بے حساب اَجر دیا جا  ئے گا ۔

(شُعَبُ الایمان 3/413،حدیث:3928)

(8) سرکار مدینہ، صاحِبِ مُعطّر پسینہ، باعثِ نزولِ سکینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عظمت نشان ہے: رَمضان کے  بعد سب سے افضل شعبان کے  روزے ہیں ،  تعظیمِ رَمضان کیلئے۔( شُعَبُ الْایمان 3/377،حدیث:3819)

(9) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ سے مَروی ہے کہ اُنہوں نے امُّ المؤمنین سَیِّدَتُنا عائِشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے سنا:  انبیا کے  سرتاج صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ مہینہ شعبانُ المُعَظَّم تھا کہ اس میں  روزےرکھا کرتے پھر اسے رَمَضانُ الْمبارَک سے ملادیتے۔ ( ابوداوٗد 2/476،حدیث :2431)

(10)حضور اکرم،  نُورِ مُجَسَّم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :  ’’ رَمضان کے  بعدمُحرَّم کا روزہ افضل ہے اورفر ض کے  بعد افضل نماز صَلٰوۃُاللَّیل (یعنی رات کے  نوافِل)  ہے۔“

( مسلم  ص591حدیث:1163)

اللہ پاک ہمیں بھی نفلی روزہ رکھنے اور اس کی بر کتیں حاصل کرنے کی توفیق و سعادت عطا فر مائے۔


نفل کے لغوی معنی ہیں زیادتی۔

شرعاً وہ کام ہے جس کا اللہ نے حکم دیا نہ ہو بلکہ بندہ اللہ کی رِضا کے لئے اپنی طرف سے کرے ۔اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنا باعث مواخذہ نہیں(شرح صحیح مسلم، 2)

انہی کاموں میں سے ایک کام نفلی روزہ رکھنا بھی ہے جس کے متعلِق کُتُبِ احادیث میں کئی فضائل وارد ہیں اور اکثر بزرگان دین کا اس پر عمل بھی رہا ہے ۔

چنانچہ حدیث پاک میں ہے :حضرت سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" اگر کوئی شخص ایک دن نفلی روزہ رکھے پھر اسے زمین بھر سونا دے دیا جائے تب بھی اس کا ثواب قیامت کے دن ہی پورا ہوگا"

(مجمع الزوائد، کتاب الصیام، باب فی فصل الصوم، حدیث: 5092، ص:423)

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں! دیکھا آپ نے کہ ایک نفلی روزہ رکھنے والے کو اتنا ثواب ملتا ہے تو سوچئے کہ وہ عاشقان رسول جو سال ہا سال نفلی روزہ رکھتے ہیں جیسے کہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ اپنی کتاب جاء الحق حصہ دوم میں مناقب امام اعظم علیہ الرحمہ میں لکھتے ہیں کہ امام اعظم علیہ الرحمہ نے چالیس(40) سال ایسے روزے رکھے کہ کسی کو خبر نہ ہوئی گھر سے کھانا لائے باہر طلباء کو کھلا دیا گھر والے سمجھے کہ باہر جا کر کھایا، باہر والے سمجھے کے گھر سے کھا کر تشریف لائے۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں! ذرا غور تو کیجیے جب ایک نفلی روزہ رکھنے پر اتنا ثواب ہے تو چالیس سال کے روزوں کا کتنا ثواب ہوگا اور اس کے علاوہ کئی بزرگ ہیں جو نفلی روزوں کا اہتمام فرماتے تھے جیسے کہ موجودہ دور کی عظیم شخصیت حضرت امیر اہلسنت جو کہ خود تو نفلی روزے رکھتے ہی ہیں ساتھ میں اپنے مریدوں کو بھی پیر شریف کو نفلی روزہ رکھنے کی ترغیب دلاتے ہیں۔

نفلی روزے رکھنے کے مطلق کئی فضائل کتب احادیث و بزرگان دین کی کتابوں میں ملتی ہیں جیسے کہ محرم الحرام کے پہلے عشرے (10 دن) کے روزے، اسی طرح رجب کے پہلے تین روزے، شوال کے چھ روزے، پندرویں شعبان (15 شعبان) کا روزہ وغیرہ۔

ویسے بھی اگر دیکھا جائے تو نفلی روزہ رکھنے کے کئی دینی و دنیوی فوائد ہیں کہ جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا البتہ دو فائدے جو حدیث پاک میں وارد ہیں وہ عرض کرتا ہوں :۔

چنانچہ (1)ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " ہر چیز کی زکوۃ ہے اور جسم کی زکوۃ روزہ ہے اور روزہ آدھا صبر ہے"

( ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب فی الصوم، 2/346،حدیث: 1745)

دیکھئے اس حدیث پاک میں روزہ کو آدھا صبر فرمایا گیا اور صبر کیا ہی عظیم نعمت ہے کہ جس کے متلعق اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمۂ کنز العرفان :"مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کئے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے"۔

(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :روزے رکھو تندرست ہوجاؤ گے۔

(مجمع الزوائد،کتاب الصیام،باب فی فصل الصوم،3/416،حدیث: 507)

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں دیکھا آپ نے کہ اس حدیث پاک میں تو فرمایا گیا کہ روزہ رکھنے سے تندرستی ملتی ہے تو کیوں نہ اللہ کی رضا اور تندرستی حاصل کرنے کے لئے نفلی روزوں کی کثرت کریں۔ نفلی روزہ رکھنے کے فضائل بے شمار ہیں لیکن میں نے چند لکھنے کی سعادت حاصل کی. اللہ پاک سے دعا ہے کہ اسے اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ (اٰمین)


فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزوں کی بھی عادت بنانی چاہئے  کہ اس میں بے شمار دینی و دنیاوی فوائد ہیں ۔ دینی فوائد میں ایمان کی حفاظت ، جہنم سے نجات اور جنت کا حصول شامل ہیں اور جہاں تک دنیوی فوائد کی بات ہے تو دن کے اندر کھانے پینے میں صرف ہونے والے اخراجات کی بچت ، پیٹ کی اصلاح اور بہت سارے امراض سے حفاظت کا سامان ہے ۔ اور تمام فوائد کی اصل یہ ہے کہ روزے دار سے الله پاک راضی ہوتا ہے ۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)ترجمہ کنزالایمان : اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور الله کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کیلئے الله نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔(پ 22، الاحزاب :35)

وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ ( ترجمہ : اور روزے والے اور روزے والیاں ) کی تفسیر میں حضرت علامہ ابو البرکات عبدالله بن احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اس میں فرض اور نفل دونوں قسم کے روزے داخل ہیں ۔ منقول ہے : جس نے ہر مہینے ایام بیض ( یعنی چاند کی 13 ، 14 ، 15 تاریخ ) کے تین روزے رکھے وہ روزے رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔

( تفسير مدارك 2/345 )

پیارے آقا علیہ الصلوة والسلام نے ارشاد فرمایا:جس نے ایک نفل روزہ رکھا اس کیلئے جنت میں ایک درخت لگا دیا جائے گا جس کا پھل انار سے چھوٹا اور سیب سے بڑا ہوگا ، وہ شہد سے زیادہ میٹھا اور خوش ذائقہ ہو گا ، اللہ پاک بروز قیامت روزہ دار کو اس درخت کا پھل کھلائے گا ۔

( معجم الکبیر 18/366 )

ہمارے پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے :جس نے رضائے الہی عزوجل کے لئے ایک دن کا نفل روزہ رکھا تو الله پاک اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک تیز رفتار سوار کی پچاس سالہ مسافت ( یعنی فاصلے) تک دور فرما دے گا ۔ ( کنز العمال ج حديث :24149 )

فرمان رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ:جس نے الله پاک کی راہ میں ایک دن کا فرض روزہ رکھا ، الله پاک اسے جہنم سے اتنا دور کر دے گا جتنا ساتوں زمینوں اور آسانوں کے مابین ( یعنی درمیان )فاصلہ ہے ۔ اور جس نے ایک دن کا نفل روزہ رکھا الله پاک اسے جہنم سے اتنا دور کر دے گا جتنا زمین و آسمان کا درمیانی فاصلہ ہے۔( مجمع الزوائد 3/445، حديث :5177 )

اللہ پاک کے پیارے نبی ، مکی مدنی سلطان صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمانِ عظیم ہے:قیامت کے دن جب روزے دار قبروں سے نکلیں گے تو وہ روزے کی بو سے پہچانے جائیں گے ، ان کے لئے دسترخوان لگایا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا : کھاؤ کل تم بھوکے تھے ، پیو ! کل تم پیاسے تھے ، آرام کرو کل تم تھکے ہوئے تھے ۔ پس وہ کھائیں گے پئیں گے اور آرام کریں گے حالانکہ لوگ حساب کی مشقت اور پیاس میں مبتلا ہوں گے ۔( جمع الجوامع 1/334، حديث :2462 )

حضرت سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے ایسا عمل بتائیے جس کے سبب جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ فرمایا : روزے کو خود پر لازم کرلو کیونکہ اس کی مثل کوئی عمل نہیں ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے گھر دن کے وقت مہمان کی آمد کے علاوہ کبھی دھواں نہ دیکھا گیا ( یعنی آپ دن کو کھانا کھاتے ہی نہ تھے روزہ رکھتے تھے ) ۔ (الاحسان بترتيب صحيح ابن حبان 5/179، حديث :3416 )


روزہ اللہ پاک کی بہترین عبادت ہے اللہ پاک نے مسلمانوں پر رمضان کے روزے فرض فرمائے تا کہ مسلمان متقی و پرہیز گار  بن جائیں۔

روزہ رکھنے کے دینی و دنیوی بہت فوائد ہیں احادیث مبارکہ میں فرض روزوں کے ساتھ ساتھ نفل روزوں کی بھی ترغیب ارشاد فرمائی ہے نفل روزوں کے حوالے سے چند احادیث مبارکہ بیان کی جاتی ہیں :

(1)صحیحین میں ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے عاشورا کا روزہ خود رکھا اور اس کے رکھنے کا حکم فرمایا۔

( صحیح مسلم ،الحدیث: 1134، ص573)

(2)صحیحین میں ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی، رسول اﷲ صلیﷲ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے، یہود کو عاشورا کے دن روزہ دار پایا، ارشاد فرمایا: یہ کیا دن ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو؟ عرض کی، یہ عظمت والا دن ہے کہ اس میں موسیٰ علیہ الصلاۃ و السّلام اور اُن کی قوم کو اﷲ پاک نے نجات دی اور فرعون اور اُس کی قوم کو ڈبو دیا، لہٰذا موسیٰ علیہ السّلام نے بطور شکر اُس دن کا روزہ رکھا تو ہم بھی روزہ رکھتے ہیں ۔ ارشاد فرمایا: موسیٰ علیہ الصلاۃ والسّلام کی موافقت کرنے میں بہ نسبت تمہارے ہم زیادہ حق دار اور زیادہ قریب ہیں تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اُس کا حکم بھی فرمایا۔(صحیح مسلم ، الحدیث: 128 (1130)، ص571)

(3) ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے بیہقی و طبرانی روایت کرتے ہیں ، کہ رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم عرفہ کے روزہ کو ہزار دن کے برابر بتاتے مگر حج کرنے والے پر جو عرفات میں ہے، اُسے عرفہ کے دن کا روزہ مکروہ ہے کہ ابو داود و نسائی و ابن خزیمہ و ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے راوی، حضور (صلی اﷲ علیہ وسلم) نے عرفہ کے دن عرفہ میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔( سنن أبي داود ، 2/479، الحدیث: 2440)

(4) نسائی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ وابن حبان ثوبان رضی اﷲ عنہ سے اور امام احمد و طبرانی و بزار جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے عیدالفطر کے بعد چھ روزے رکھ لئے تو اُس نے پورے سال کا روزہ رکھا، کہ جو ایک نیکی لائے گا اُسے دس ملیں گی تو ماہِ رمضان کا روزہ دس مہینے کے برابر ہے اور ان چھ دنوں کے بدلے میں دو مہینے تو پورے سال کے روزے ہوگئے۔

(السنن الکبری للنسائي الحدیث: 2860 ۔ 2861، ج2/162۔163)

(5) اُم المومنین صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ رکھتے میں نے نہیں دیکھا۔

( جامع الترمذي،2/182، الحدیث: 736)

(6) طبرانی میمونہ بنت سعد رضی اﷲ عنہا سے راوی، کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جس سے ہوسکے، ہر مہینے میں تین روزے رکھے کہ ہر روزہ دس گناہ مٹاتا ہے اور گناہ سے ایسا پاک کر دیتا ہے جیسا پانی کپڑے کو۔( المعجم الکبیر25/35، الحدیث: 60)

(7) حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے چہار شنبہ و پنجشنبہ و جمعہ کو روزے رکھے، اﷲ پاک اس کے لئے جنت میں ایک مکان بنائے گا، جس کا باہر کا حصہ اندر سے دکھائی دے گا اور اندر کا باہر سے۔(المعجم الأوسط 1/87، الحدیث: 253)

اللہ پاک ہمیں فرض روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ نفل روزے رکھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


سرکار دو عالم نور مجشم شاہ نبی آدم رسول محتشم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس نے دن اور رات میں میری طرف شوق و محبت کی وجہ سے تین تین مرتبہ دورد شریف پڑھا اللہ پاک پر حق ہے کہ وہ اس کے دن اور اس رات کے گناہ معاف کر دے گا۔

(الترغیب والترھیب 2/328)

نفلی روزوں کے فضائل:

جان لیجیئے کہ فضیلت والے دنوں میں روزوں کا مستحب ہونا مؤکد ہے اور فضیلت والے دنوں میں بعض سال میں ایک بار بعض ہر مہینے میں اور بعض ہر ہفتے میں پائے جاتے ہیں۔

(1)سال میں ایک بار آنے والے افضل ایام:

سال میں رمضان المبارک کے بعد عرفہ ( نویں ذوالحجہ) کا دن دسویں محرم الحرام ذوالحجہ کے ابتدائی نو دن محرم الحرام کے ابتدائی دس دن اور عزت والے مہینے (ذوالحجہ ذوالقعدۃ محرم الحرام اور رجب) روزوں کے لئے عمدہ مہینے اور یہ فضیلت والے اوقات ہیں نیز مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم شعبان میں بکثرت روزےرکھتے تھے حتی کہ گمان ہوتا کہ یہ ماہ رمضان المبارک ہے ایک حدیث مبارک میں ہے کہ ماہ رمضان کے بعد افضل روزے اللہ پاک کے مہینے محرم کے روزے ہیں کیونکہ یہ سال کا پہلا مہینہ ہے لہذا اسے نیکی میں گزارنا زیادہ پسندیدہ اور دائمی برکت کی امید ہے۔

(2)ایک روزہ 30 روزوں سے افضل:

مکی مدنی سلطان رحمت عالمیان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد فرمایا :حرمت والے مہینے کے30 روزوں سے افضل ہے۔

( 3)700 سال کی عبادت کا ثواب:

ایک روایت میں ہے کہ جو شخص عزت والے مہینوں ميں جمعرات ،جمعہ اور ہفتہ کا روزہ رکھے، اللہ پاک اس کے لئے سات سو سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہے۔'' فضیلت والے مہینے ذوالحجۃ الحرام، محرم الحرام،رجب المرجب اورشعبان ا لمعظم ہیں اورعزت والے ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب ہیں ان میں ایک(رجب کا)مہینہ الگ ہے اور تین مسلسل ہیں۔''

(لباب الاحیاء ص:87)


اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــٴًـۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ(۲۴) ترجمہ کنز الایمان: کھاؤ اور پیؤ رچتا ہوا صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں میں آ گے بھیجا۔(پ 29،الحاقہ :24)

حضرت سید نا وکیع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: گزرے ہوئے دنوں سے مراد "روزوں کے دن ہیں" کہ لوگ ان میں کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں۔

(جنت میں لے جانے والے اعمال، ص253)

1: حضرت ابواُمامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کسی ایسے کام کا حکم دیجئےجس کے ذریعے اللہ پاک مجھے نفع دے" فرمایا " روزے کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس کا کوئی مثل نہیں.۔(نسائی ، کتاب الصيام، باب فضل الصیام، 4/129)

جبکہ ایک روایت میں ہے کہ میں نے عرض کیا، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے ایسا عمل بتائیےجس کے سبب جنت میں داخل ہوجاؤں۔ "فرمایا " روزے کو خود پر لازم کرلو کیونکہ اس کے مثل کا کوئی عمل نہیں۔

(الاحسان، بترتیب ابنِ حبان، کتاب الصوم، فضل الصیام،5/179)

2: حضرت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: آخری نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! "روزہ ایک ایسی ڈھال ہے جو بندے کو جہنم سے بچاتی ہے"۔

(مجمع الزوائد، کتاب الصیام، باب فضل صوم، 3/418)

3: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شخص ایک دن کا نفلی روزہ رکھے، پھر اسے زمین بھر سونا بھی دے دیا جائے تب بھی اس کا ثواب قیامت کے دن ہی پورا ہوگا۔

(مجمع الزوائد، کتاب الصیام، فضل الصوم، 3/219)

4: حضرت سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے سے ٹیک لگائی اور ارشاد فرمایا! جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جو اللہ پاک کی رضا چاہتے ہوئے کسی دن روزہ رکھے پھر اسی پر اس کا خاتمہ ہوجائے تو وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جو اللہ پاک کی رضا کے لئے صدقہ کرے اور اس پر اس کا خاتمہ ہوتو وہ جنت میں داخل ہوگا۔"(مسند امام احمد بن حنبل، 9/90)


فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزوں کی بھی عادت بنانی چاہئےکہ اس کے بےشمار فضائل و برکات ہیں۔جیسے :ایمان کی حفاظت ، جہنم سے نجات اور جنت کا حصول وغیرہ۔ نفلی روزوں کے فضائل پر چند احادیث مندرجہ ذیل ہیں :

1)زمین بھر سونے سے زیادہ ثواب : اگر کسی نے ایک دن نفل روزہ رکھا اور زمین بھر سونا اسے دیا جائے جب بھی اس کا ثواب پورا نہ ہوگا ، اس کا ثواب تو قیامت ہی کے دن ملے گا ۔

(ابو یعلی،5/303،حدیث :6104)

2)تندرستی کا حصول: صُومُوا تَصِحُّوا روزہ رکھو تندرست ہو جاؤ گے۔

(معجم اوسط ،6/146،حدیث :8312)

3) روزے میں مرنے کی فضیلت : جو روزے کی حالت میں مرا ، اللہ پاک قیامت تک کےلئے اس کے حساب میں روزے لکھ دے گا ۔

(الفردوس بمأثور الخطاب 3/504،حدیث :5557)

4) دوزخ سے 70 برس کی دوری: جو بندہ للہ پاک کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے ،اللہ پاک اس کے چہرے کو دوزخ سے ستر برس کی راہ دور فرمادےگا ۔

(صحیح مسلم ، حدیث 168 (1103) ، ص :581 )

5)جنت میں داخلہ : جس نے کسی ایک دن للہ پاک کی رضا کیلئے روزہ رکھا ، اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ داخلِ جنت ہوگا ۔ (مسندِامام احمد، 9/90 ، حدیث :23383)

6) جنت میں انوکھا درخت: جس نے ایک نفل روزہ رکھا اس کیلئے ایک درخت لگایا جائے گا جس کا پھل انار سے چھوٹا اور سیب سے بڑا ، شہد جیسا میٹھا اور خوش ذائقہ ہوگا ۔ اور بروزِ قیامت روزہ دار کو اس درخت کا پھل کھلایا جائے گا ۔ (معجم الکبیر ،ج :18 ، حدیث :935)

7) روزے دار کے سامنے کھانا : جب تک روزےدار کے سامنے کھاناکھایاجاتا ہےفرشتے اس روزہ دار کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔ (ترمذی،ج:2،حدیث:785)

اللہ پاک ہمیں بھی کثرت کے ساتھ نفلی روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اسلام نے فرض روزوں کے علاوہ مختلف ایام کے نفلی روزوں کی بھی ترغیب دی ہے۔

کیونکہ روزہ تزکیہ نفس کا بہترین ذریعہ ہے یہی وجہ ہے کہ انبیا ،اولیا، صُلحا کی زندگیوں کا معمول تھا کہ وہ فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزوں کا بھی بطور خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے ۔

نفلی روزوں کی فضیلت احادیث کی روشنی میں:

1. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُوْمُ يَوْمًا فِي سَبِيْلِ اﷲِ، إِلَّا بَاعَدَ ﷲُ بِذٰلِکَ الْيَوْمِ، وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِيْنَ خَرِيْفًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی ایک دن اللہ پاک کی رضا کے لئے روزہ رکھے تو اللہ پاک اس ایک دن کے بدلے اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔

( أخرجہ البخاري في الصحيح، کتاب الجهاد والسير، باب فضل الصوم في سبيل اﷲ، الرقم 2840 دارلکتب علمیہ, 2ومسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب فضل الصيام في سبيل اﷲ . الرقم2711 دارلکتب علمیہ(

2. عَنْ عَبْدِ ﷲِ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَاءَ ةَ فَلْيَتَزَوَّجْ. فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ. وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ.مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

حضرت عبد ﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اے نوجوانو! تم میں سے جو عورتوں کے حقوق ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو وہ ضرور نکاح کرے، کیونکہ یہ نگاہ کو جھکاتا اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے، اور جو نکاح کی طاقت نہ رکھے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ روزے رکھے، بے شک یہ روزہ اس کے لئے ڈھال ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔

) أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب النکاح، باب من لم يستطع الباء ة فليصم، الرقم: 1905 دارلکتب علمیہ ومسلم في الصحيح، کتاب النکاح، باب استحباب النکاح لمن تاقت نفسه إليه ووجده مٶنة۔الرقم 3398 دارالکتب علمیہ(

3. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم، قَالَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيْلِ اﷲِ، جَعَلَ اﷲُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ خَنْدَقًا کَمَا بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے تو اللہ پاک اس کے اور جہنم کے درمیان زمین وآسمان کے درمیان فاصلے جتنی خندق بنا دیتا ہے۔

( أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل الجهاد، باب ما جاء في فضل الصوم في سبيل اﷲ، الرقم: 1624 دارالکتب علمیہ(

4. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، أنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا اِبْتِغَاءَ وَجْهِ اﷲِ بَعَّدَهُ اﷲُ مِنْ جَهَنَّمَ کَبُعْدِ غُرَابٍ طَارَ وَهُوَ فَرْخٌ، حَتّٰی مَاتَ هَرِمًا.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ پاک کی رضا کے لئے ایک دن روزہ رکھے تو اللہ پاک اسے جہنم سے اس قدر دور کر دیتا ہے، جیسے کوئی کوّا جب اُڑا تو بچہ تھا اور وہ مسلسل اُڑتا رہا یہاں تک کہ بڑھاپے کے عالم میں اُسے موت آ گئی۔( أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 526، الرقم: 10820(

سال بھر میں رکھے جانے والے چند روزرے:

چونکہ اسلامی ماہ کا پہلا مہینہ محرم ہے لہذا محرم کے نفلی روزوں کے فضائل احادیث کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصِّيَامِ، بَعْدَ رَمَضَانَ، شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ، بَعْدَ الْفَرِيضَةِ، صَلَاةُ اللَّيْلِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : رمضا ن کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے ۔ (صحیح مسلم الرقم 2755 دارالکتب العلمیہ)

بالخصوص یوم عاشورا (یعنی دس محرم ) کا روزہ رکھنا چاہیے کہ اس دن کا روزہ رکھنے سے گزشتہ ایک سال کے گناہوں کی معافی ہے ۔

صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ،مجھے اللہ پر گمان ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال قبل کے گناہ مٹا دیتا ہے ۔

(صحیح مسلم دارلکتب العلمیہ الرقم۔ 2746)

‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ صَامَ يَوْمَ عَرَفَةَ غُفِرَ لَهُ سَنَةٌ أَمَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَسَنَةٌ بَعْدَهُ قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا تو اس کے ایک سال کے اگلے اور ایک سال کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں۔

(سنن ابن ماجہ دارالکتب العلمیہ ،رقم: 1731)

بہتر یہ ہے کہ عاشورا ء کے روزے کے ساتھ 9نو محرم کا روزہ یا 11گیارہ محرم کا روزہ رکھنا چاہیے۔حدیث میں ہے:صُوْمُوْا یَوْمَ عَاشُوْرَائَ وَخَالِفُوْا فِیْہِ الْیَہُوْدَ وَصُوْمُوْا قَبْلَہُ یَوْمًا اَوْ بَعْدَہُ یَوْمًا۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یومِ عاشوراء کو روزہ رکھا کرو، البتہ اس کے معاملے میں یہودیوں کی مخالفت کیا کرو اور وہ اس طرح کہ اس سے ایک دن پہلے کا روزہ رکھ لیا کرو یا اس سے ایک دن بعد ۔(مسند احمد بن حنبل دارالکتب العلمیہ الرقم 3929)

ہر ماہ تین روزے رکھنا یہ بھی سنت ہے امیر اہلسنت فیضان رمضان میں فرماتے ہیں۔ہر مَدَنی ماہ (یعنی سن ہجری کے مہینے) میں کم ازکم تین3 روزے ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن کو رکھ ہی لینے چاہئیں ۔ اس کے بے شمار دُنیوی اور اُخروِی فوائدہیں ۔ بہتر یہ ہے کہ یہ روزے ’’ ایامِ بِیْض ‘‘ یعنی چاند کی 13، 14 اور 15 تاریخ کو رکھے جا ئیں ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيْلِي صلی الله عليه وآله وسلم بِثَلاَثٍ: صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَامٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ، وَرَکْعَتَيِ الضُّحٰی، وَأَنْ أُوْتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے خلیل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت فرمائی: ہر مہینے میں تین روزے رکھنا، چاشت کی دو رکعتیں ادا کرنا اور سونے سے پہلے وتر پڑھ لینا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔(أخرجه البخاری في الصحيح، کتاب الصوم، باب صيام أيام البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة، 2 / 699، الرقم:1880، ومسلم في الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب استحباب صلاة الضحی وأن أقلها رکعتان وأکملها ثمان رکعات وأوسطها أربع رکعات أوست والحث علی المحافظة عليها، 1 / 499، الرقم:721)

صَوْمُ ثَلَاثَةٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانَ إِلَی رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ۔ ’’ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنا اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا یہ تمام عمر کے روزوں کے مترادف ہے۔‘‘( مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة أيام من کل شهر، 2 : 819، رقم : 11062)

عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِيَامَ عَاشُورَاءَ وَالْعَشْرَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ۔

(سنن نسائی ارقم 2418 دارالکتب العلمیہ)

اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رضی اللہ عنہا سے رِوایت ہے، اللہ پاک کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزیں نہیں چھوڑتے تھے، عاشور۱ کا روزہ اور عشرئہ ذُوالْحِجَّہ کے روزے اور ہر مہینے میں تین3 دن کے روزے اورفجر(کے فرض ) سے پہلے دو2 رَکْعَتَیں (یعنی دوسُنَّتیں ) ۔ حدیثِ پاک کے اس حصے عشرۂ ذُوالْحِجَّہ کے روزے سے مراد ذُوالْحِجَّہ کے ابتدائیی نو9 دنوں کے روزے ہیں ، ورنہ 10 ذُوالْحِجَّہ کو روزہ رکھنا حرام ہے۔ (ماخوذ ازمراٰۃ المناجیح ،3 /195)

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وَأَيَّامُ الْبِيضِ صَبِيحَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ

(سنن نسائی الرقم دارلکتب العلمیہ 2422)

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر مہینے تین روزے رکھنا ( ثواب کے لحاظ سے ) زمانے بھر کے روزوں کے برابر ہے ۔ اور ایام بیض ( چمکتی راتوں والے دن ) 13 ، 14 اور 15 ہیں ۔‘عشرہ ذوالحجہ کے ابتد۱ئی نو دنوں میں روزہ رکھنا یہ بھی مستحب اور نہایت اجروثواب کا کام ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ، ‏‏‏‏‏‏يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ . (جامع ترمذی الرقم دارلکتب العلمیہ 758)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذی الحجہ کے ( ابتدائی ) دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کو زیادہ محبوب ہو، ان ایام میں سے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے“۔

شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہے،احادیثِ مبارکہ میں اس کی فضیلت وارد ہوئی ہے: عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ ( نفلی ) روزے رکھے تو یہی صوم الدھر ہے“۔(جامع ترمذی الرقم : 759 دارالکتب العلمیہ)