نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اوردینِ اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ نماز انسان کو  بےحیائی اور بُری باتوں روکتی ہے۔قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر ، میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔

نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کے لئے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ پاک کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کُتُب تالیف کی ہیں ۔ اس موضوع پر بانی دعوتِ اسلامی امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مُدَّ ظِلُّہُ العالی کی لکھی ہوئی کتاب ”فیضانِ نماز“ بھی ایک شاندار کتاب ہے جس میں نمازوں کے فضائل و مسائل نہایت آسان انداز میں عوام الناس کے لئے بیان کردیئے گئے ہیں۔

اسی کتاب کی ایک قسط حالیہ دِنوں میں رسالے کی صورت میں جاری ہوئی ہے جس کانام ”خُشوع و خُضوع والی نماز“ رکھا گیا ہے۔

امیر اہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے تمام عاشقانِ رسول کو یہ رسالہ پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی خصوصی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یاربَّ المصطفٰے! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ خُشوع و خُضوع والی نماز “ پڑھ یا سن لے اُس کو سجدوں کی لَذتیں عطا فرما، اُس کی تمام نمازیں قبول فرمااوراُسے دونوں جہانوں کی بھلائیاں دے۔ اٰمین

یہ رسالہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے ابھی مفت ڈاؤن لوڈ کیجئے

Download


امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے مدنی مذاکرے میں ماہ ذوالقعدۃ شریف میں جمعرات. جمعہ. ہفتہ تین روزے رکھنے کے فضائل اور ترغیب ارشاد فرمائی اسی سلسلے میں فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور میں عظیم الشان سحری اجتماع ہواجس میں لاہور ڈویژن ذمہ دار غلام شبیر عطاری سمیت کثیر عاشقان رسول نے شرکت کی ۔سحری اجتماع کا آغاز نماز تہجد سے ہوا اس کے بعد امیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے اور نفل روزوں کے فضائل پانے کے لئے عاشقان رسول نے نفل روزہ رکھا۔(رپورٹ: شعبہ اصلاح اعمال لاہور ڈویژن،کانٹینٹ:شعیب احمد عطاری)


شعبہ کفن دفن دعوت اسلامی کے تحت15مئی2024ءبروزبدھ گلشن اقبال دارالمدینہ ہیڈ آفس  میں کفن دفن کورس کا انعقاد ہوا جس میں دارلمدینہ کے مختلف آفس کے عاشقان رسول نے شرکت کی۔

اس کورس میں ایسٹ ڈسٹرکٹ ذمہ دار عزیر عطاری نے شرکا کو غسلِ میت دینے کی فضیلت و اہمیت بیان کرتے ہوئے انہیں نمازِ جنازہ پڑھنے کا طریقہ سکھایا۔اس کے علاوہ ایسٹ ڈسٹرکٹ ذمہ دار نے کورس میں شریک اسلامی بھائیوں کو غسلِ میت دینے، کفن کاٹنے اور پہنانے کا طریقہ بتاتے ہوئے انہیں چند ضروری مسائل سکھائے جبکہ حاضرین کو مسلم فیونرل اپلیکیشن کا تعارف کروایا اور ڈاؤن لوڈ کروائی۔ (رپورٹ:شعبہ کفن دفن، کانٹینٹ:شعیب احمد عطاری )


27اپریل2024ء بروز ہفتہ کو فیضان مدینہ فیصل آباد میں شعبہ رابطہ برائے وکلاکے تحت فیصل آباد اور ساہیوال ڈویژن کے وکلا ڈیپارٹمنٹ کے وکلا ذمہ داران اور شخصیات کی آمد ہوئی جہاں رابطہ برائے وکلاکے ذمہ داران نے ان کو فیضان مدینہ فیصل آباد کا وزٹ کروایا اور بذریعہ ویڈیو دعوت اسلامی کے دینی کاموں کے بارے میں آگاہ کیا ۔

اس موقع پر شخصیات نے نگران پاکستان مشاورت ورکن شوری حاجی محمد شاہد عطاری سے ملاقات کی۔ نگران پاکستان نے ان شخصیات کو اپنے شعبے میں رہتے ہوئے دین کی خدمت کرنے کاذہن دیا اور دعوت اسلامی کی مختلف ایپس کاتعارف کروایا۔ وکلانے نگران پاکستان سے سوالات بھی کئے جس پر نگران پاکستان نے جوابات ارشاد فرماتے ہوئے انہیں تحائف دیئے۔(رپورٹ: عبدالخالق عطاری ،کانٹینٹ:شعیب احمد عطاری)


پچھلے دنوں شعبہ مدنی چینل عام کریں  دعوت اسلامی کے زیر اہتمام وہاڑی ڈسٹرکٹ کے ذمہ داران کا مدنی مشورہ ہوا جس میں ڈسٹرکٹ نگران وہاڑی غلام مصطفی عطاری، ڈویژن ذمہ دار مدنی چینل اشرف عطاری، تحصیل نگران صاحبان، ڈسٹرکٹ کارکردگی ذمہ دار محمد حامد رضا شاہ عطاری اور ڈسٹرکٹ سطح کے ذمہ دارن سمیت دیگر عاشقان رسول نے شرکت کی ۔

نگران ڈویژن ملتان محمد سادات عطاری نے12 دینی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے کارکردگی بیان کی جبکہ حاضرین کی 12 دینی کام کے تعلق سے تربیت فرمائی اور 12 دینی کام کتاب کا تعارف کروایا نیز12 دینی کام بڑھانے کے حوالے سے کلام کیا جس پر حاضرین نے اپنی اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا ۔(رپورٹ محمد حامد رضا شاہ عطاری،کانٹینٹ:شعیب احمد عطاری)


شعبہ کنسٹرکشن اورپراپرٹی ڈیپارٹمنٹ کے تحت 14 مئی 2024ء بروز منگل مدنی مشورہ ہوا جس میں تحصیل نگران سمیت متعلقہ شعبہ ذمہ داران نے شرکت کی ۔ ڈسٹرکٹ گوجرانوالہ  ذمہ دار خوشی محمد عطاری مدنی نے کنسٹرکشن اورپراپرٹی کے حوالے سے جملہ معاملات پر مشاورت کی ۔

مشورے میں خوشی محمد عطاری مدنی نے دعوتِ اسلامی کے اثاثہ جات (پلاٹس،زمینیں اور دیگر پراپرٹیز) کی کنسٹرکش کے حوالے سے مختلف امور پر مشاورت کی اور جن مقامات پر تعمیراتی کام جاری ہیں ان کی تکمیل کے حوالے سے تمام پراسس جلد مکمل کرنے کا ذہن دیا  ۔(کانٹینٹ:شعیب احمد عطاری) 


14مئی2024ءبروزمنگل راولپنڈی سٹی ٹاؤن فیضان عشق رسول مسجد میں مدنی مشورہ   ہوا جس میں شعبہ ذمہ داران اور یوسی سمیت وارڈ نگران نے شرکت کی۔ سٹی نگران محمد حماد قریشی عطاری اور ٹاؤن نگران محمددانش مدنی نے حاضرین کی ہفتہ وار اجتماع کے حوالے سے تربیت کی اور 17.18.19مئی کو یوم مدنی قافلہ منانے کا ذہن دیتے ہوئے اجتماعی قربانی اور قربانی کی کھالوں کےاہداف دیئے۔ (رپورٹ : محمد بلال ڈویژن ذمہ دار شعبہ اوراق مقدسہ،کانٹینٹ:شعیب احمد عطاری)


ہر شخص نگہبان ہے ، ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ جس کے ماتحت جتنے زیادہ ہونگے وہ اتنا ہی زیادہ جوابدہ ہو گا۔ پھر جس خوش نصیب نے  اپنے ماتحتوں اور اپنی رعایا کے ساتھ عدل و انصاف، شفقت و محبت ، خیر خواہی، امانتداری اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہو گا وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جائے گا، اسے بروزِ قیامت عرشِ الہی کا سایہ نصیب ہو گا اور اُس کا عدل و انصاف اُس کے لئے باعث نجات ہو گا۔ اس کے برعکس جس حاکم نے اپنی رعایا کے ساتھ خیانت، ظلم و ستم ، دھوکا دہی، حق تلفی کا مظاہرہ کیا ہو گا، اُن کی حاجات و ضروریات کی طرف کوئی توجہ نہ دی ہو گی تو وہ دنیا و آخرت میں نقصان اُٹھائے گا، محشر کی گرمی میں اس کے لئے کوئی سایہ نہ ہو گا، رحمت خداوندی سے محروم رہے گا اس لئے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے ماتحتوں کے حقوق کی ادائیگی کی بھر پور کوشش کرے، جتنا ہو سکے نرمی سے پیش آئے، شفقت و محبت بھرا انداز اپنا ئے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ھوسکے گا۔

1۔انصاف کرناحضرت سیدنا عبد الله بن عمرو بن عاص رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا سے روایت ہے کہ رسول الله صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک انصاف کرنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے" یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی حکومت، اپنے اہل و عیال اور اپنے ماتحت لوگوں میں عدل وانصاف سے کام لیتے تھے "۔(مسلم، كتاب الامارة ، باب فضيلة الامام العادل الخ، ص 783، حدیث : 4721 ملتقطا)

2۔ظلم نہ کرناحضرت سید نا عائذ بن عمر و رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ وہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: اے لڑکے میں نے رسول الله صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا: ” بے شک بدترین حکمران وہ ہیں جو رعایا پر ظلم کریں، پس تو اپنے آپ کو ان میں شامل ہونے سے بچا۔“(مسلم، کتاب الامارة ، باب فضيلة الامام العادل الخ، ص 785, حدیث: 4733)

3۔خبر گیری کرناحضرت سیدنا عبد الله بن عمرو بن عاص رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ رسول الله صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک انصاف کرنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں نور کےمنبروں پر ہوں گے" یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی حکومت اپنے اہل و عیال اور اپنے ماتحت لوگوں میں عدل وانصاف سے کام لیتے تھے"(مسلم، كتاب الامارة ، باب فضيلة الامام العادل الخ، ص783 ، حدیث : 4721 ملتقطا)

4۔دھوکہ نہ دیناحضرت سید نا ابو یعلی معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی الله تَعَالَ عَلَيْهِ وَ الهِ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ” جب اللہ عَزَّ وَ جَلَّ اپنے کسی بندے کو رعایا پر حاکم بنائے اور وہ اس حال میں مرے کہ اپنی رعایا کو دھوکا دیتا ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر جنت حرام فرما دے گا۔“ ایک روایت میں ہے کہ ”وہ خیر خواہی کے ساتھ اُن کا خیال نہ رکھے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا۔ “مسلم شریف کی روایت میں یہ ہے کہ ”جو مسلمانوں کے اُمور پر والی بنایا جائے، پھر اُن کے لئے کوشش نہ کرے اور اُن سےخیر خواہی نہ کرے تو وہ اُن کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہو گا"(مسلم، کتاب الایمان، باب استحقاق الوالى الغاش الخ، ص 78، حدیث: 366 بتغير قليل)

5۔محبت کرناحضرت سید نا عوف بن مالک اشجعی رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ پیارے آقا صلَّى اللهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے بہترین حکام وہ ہیں جو تم سے محبت کریں اور تم اُن سے محبت کرو تم انہیں دعائیں دو وہ تمہیں دعائیں دیں اور تمہارے بدترین حکام وہ ہیں جن سے تم نفرت کر واور وہ تم سے نفرت کریں، تم اُن پر پھٹکار کرو وہ تم پر لعنت کریں۔ صحابہ کرام عَلَيْهِمُ الرِّضوان نے عرض کی:” یارسول الله صَلَّى اللهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم، کیا اس وقت ہم ان سے تلوار کے ذریعے جنگ نہ کریں؟ فرمایا: ”نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں، اور جب تم میں سے کوئی اپنے حاکم کو کسی گناہ میں ملوث دیکھے تو اسے چاہیے کہ اس گناہ کو برا جانے مگر اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے۔ (مسلم، كتاب الامارة، باب خيار الائمة وشرارهم ، ص 795 ، حدیث : 4804)

(حاکموں کے لیے دعائے مصطفی)ام المومنین حضرت سیدنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے اس گھر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا" اے اللہ عزوجل جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور پھر ان پر سختی کرے تو تو بھی اسے مشقت میں مبتلا فرما اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور اور ان سے نرمی سے پیش آئے تو تو بھی اس سے نرمی والا سلوک فرما")(مسلم، كتاب الامارة، باب فضيلة الامام العادل وعقوبة الجائر الخ، ص 784، حدیث: 4722)


ہمارے معاشرے میں نیک کام کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے حوالے سے مجموعی طور پر صورتِ حال انتہائی افسوس ناک ہے، حکام  اپنی رعایا کے اعمال سے صَرفِ نظر کئے ہوئے ہیں۔ عدل و انصاف کرنے اور مجرموں کو سزا دینے کے منصب پر فائز حضرات عدل و انصاف کی دھجیاں اڑانے اور مجرموں کی پشت پناہی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ والدین اپنی اولاد، اَساتذہ اپنے شاگردوں اور افسر اپنے نوکروں کے برے اعمال سے چشم پوشی کرتے نظر آ رہے ہیں ، اسی طرح شوہر اپنی بیوی کو،بیوی اپنے شوہر کو،بھائی بہن اور عزیز رشتہ دار ایک دوسر ے کو نیک کاموں کی ترغیبدیتے ہیں نہ قدرت کے باوجود انہیں برے افعال سے روکتے ہیں اور مسلمانوں کی اسی روش کا نتیجہ ہے کہ آج مسلم قوم دنیا بھر میں جس ذلت و رسوائی کا شکار ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی اوراسی وجہ سے رفتہ رفتہ یہ قوم تباہی کی طرف بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

(1)رعایا کی مدد کرنا ۔امیر المؤمنین حضرت سید نا علی المرتضی کرم الله تعالى وَجْهَهُ الكَرِيم ارشاد فرماتے ہیں کہ سر کار مکہ مکرمہ ، سردار من منور صلى الله تعالى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : ” میری ناراضی اس شخص پر شدت اختیار کرجاتی ہے جوکسی ایسے شخص پر ظلم کرے جو میرے سوا کسی کو مددگار نہیں پاتا “المعجم الصغير للطبراني ، الحديث : 71 ، الجزء الاول، ص 31

(2)مدد نہ کرنا۔حضرت سید نا ابو شیخ اور حضرت سید نا ابن حبان رحمه الله تعلی علیهما نقل کرتے ہیں: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ایک بندے کو قبر میں 100 کوڑے لگانے کا حکم دیا گیا، وہ برابر عرض کرتا رہا یہاں تک کہ ایک کوڑا رہ گیا پس اس ایک کوڑے سے ہی قبر میں آگ بھر گئی۔ جب وہ آگ ٹھنڈی ہوئی اور اُسے افاقہ ہوا تو اس نے پوچھا: ” مجھے کوڑا کیوں مار رہے ہو؟“فرشتوں نے جواب دیا : ” تو نے ایک نماز بغیر وضو کے پڑھی تھی اور ایک مظلوم کے پاس سے گزرا تھا لیکن (قدرت رکھنے کے باوجود ) تو نے اس کی مدد نہ کی تھی ۔التمهيد لابن عبد البر ، يحيى بن سعيد الانصاری، تحت الحديث: 738/32، ج 10، ص 166 -

(3)سزا نہ دینا۔ سُنَنِ ابی داؤد کی روایت میں اس طرح ہے : " غلاموں میں سے جو تمہارے مزاج کے موافق ہو اسے وہی کھلا ؤ جو خود کھاتے : ہو اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو اور ان میں سے جو تمہارے مزاج کے موافق نہ ہو اسے بھی بیچ دو لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق کو عذاب نہ دو۔“سنن ابی داود کتاب الادب، باب فى حق المملوك ، الحديث : 5161 ، ص 1600-

(4)معاف کرنا ۔حضور نبی مکرم،نور مجسم ، صلی اللہ علیہ وآلہ نے غلاموں کے بارے میں ارشاد فرمایا: "اگر وہ اچھاکام کریں تو قبول کرلو اور اگر برائی کریں تو معاف کر دیا کرو لیکن اگر وہ تم پر غلبہ چاہیں تو انہیں بچ دو الترغيب والترهيب ، كتاب القضاء ، باب الترغيب فى الشفقة .... الخ ، الحديث : 3490٫ ،ج٫3ص ،167

(5)جنت کی خوشبو نہ پائے گا ۔حضرت معقل بن یسار  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے، سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعایا کا حکمران بنایا ہو اور وہ خیر خواہی کے ساتھ ان کی نگہبانی کا فریضہ ادا نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو تک نہ پاسکے گا۔(بخاری، کتاب الاحکام، باب من استرعی رعیۃ فلم ینصح، 4 / 456، الحدیث: 7150)

(6)نرمی کرنا ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ دعا فرماتے ہوئے سنا ’’اے اللہ ! عَزَّوَجَلَّ،میری امت کا جو شخص بھی کسی پر والی اور حاکم ہو اور وہ ان پر سختی کرے تو تو بھی اس پر سختی کر اور اگر وہ ان پر نرمی کرے تو تو بھی اس پر نرمی کر۔(مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضیلۃ الامام العادل وعقوبۃ الجائر۔۔۔ الخ، ص1061، الحدیث: 19(8127))

کسی بھی ملک یا سلطنت کا نظام دعایا اور حکمرانوں سے مل کر چلتا ہے اور دین اسلام حکمرانوں کو رعایا کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی تاکید کرتا ہے جیسا کہ حکمرانوں پر دعایا کی دیکھ بال اور ان کے درمیان درست فیصلہ کرنا لازم ہے کیونکہ حضرت سید نا ہشام رحمة الله علیه بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا كعب الاحبار  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حکمران نیک ہو تو لوگ بھی نیک ہو جاتے ہیں اور حکمران برا ہو تو لوگ بھی بگڑ جاتے ہیں لہذا حکمران کو دعایا سے اچھا سلوک کرنا چاہیے تاکہ معاشرے میں امن اور سلامتی ہو ۔" آئیے اب دعایا کے حقوق سنئے "

(2) دعایا پر سختی و تنگی نہ کرنا:

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب میں سے بعض کو اپنے کاموں کے لئے بھیجتے تھے تو فرماتے تھے کہ خوشخبریاں دو متنفر نہ کرو اور آسانی کرو سختی و تنگی نہ کرو (المراة المناجیح جلد 5ص416)

(2) دعایا کی ضرورت و حاجت کو پورا کرنا :حضرت عمرو بن مرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت معاویہ سے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جسے اللہ مسلمانوں کی کسی چیز کا والی و حاکم بنائے پھر وہ مسلمان کی حاجت وضرورت کے سامنے حجاب کر دے تو اللہ اس کی حاجت و ضرورت وحتاجی کے سامنے آڑ فرما دے گا چناچہ معاویہ نے لوگوں کی حاجت پر ایک آدمی مقرر کر دیا ( المرأة المناجیح جلد 5 ص 419)

(3)رعایا کے درمیان درست فیصلہ کرنا :حضرت عبد الله بن عمر اور ابو ھریرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حاکم فیصلہ کرے تو کوشش کرے کہ درست فیصلہ کرے تو اس کو دو ثواب ہیں اور جب فیصلہ کرے تو کوشش کرے اور غلطی کرے تو اس کو ایک ثواب ہے۔ (مراۃ المناجیح جلد 5 ص 422)

(4) دعایا پر ظلم نہ کرنا : حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قاضی کے ساتھ اللہ تعالٰی ہوتا ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے پھر جب وہ ظلم کرتا ہے تو اس سے الگ ہو جاتا ہے اور شیطان اسے چمٹ جاتا ہے۔ (مراة المناجیح جلد 5 ص 429)

(5) دعایا کی خبر گیری : حضرت سیدنا یحیی بن عبد الله اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ رات کے اندھیرے میں اپنے گھر سے نکلے اور ایک گھر میں داخل ہوئے پھر کچھ دیر بعد وہاں سے نکلے اور دوسرے گھر میں داخل ہوئے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ یہ سب دیکھ رہے تھے چنانچہ صبح جب ضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس گھر میں جا کر دیکھا تو وہاں ایک نابینا اور اپاہج بڑھیا کو پایا اور ان سے دریافت فرمایا کہ اس آدمی کا کیا معاملہ میں جو تمہارے پاس آتا ہے بڑھیا نے جواب دیا وہ اتنے عرصہ سے میری خبرگیری کر رہا ہے۔حضرت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے آپ کو مخاطب کر کے کہنے لگے اے طلحہ تیری ماں تجھ پر روئے کیا تو امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر نہیں چل سکتا ۔ (اللہ والوں کی باتیں جلد 1 ص 116)


اسلام میں اچھے وعادل حاکم کا بہت مقام و مرتبہ ہے یہاں تک یہ بروز قیامت اللہ پاک کے سب سے زیادہ نزدیک ہوں ہوں گے نور کے ممبروں پر ہوں گے ان کے مقام و مرتبے کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر لازم بہت سے فرائض ورعایا کے حقوق  بھی دین اسلام میں بیان کیے گئے ہیں یہ ان اوصاف سے تب ہی متصف ہو سکیں گے جب یہ اپنے فرائض ورعایا کے حقوق کو پورا کریں گے آئیے ان میں سے چند فرائض وحقوق کا مطالعہ کرتے ہیں

1)خیرخواہی کرناحاکم کو چاہیے کہ رعایہ کے ساتھ حسن سلوک اور خیر خواہی و بھلائی والا معاملہ کریں جس طرح کے رسول پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حاکم کے حوالے سے فرمایافَلَمْ يَحُطُهَا بِنُصْحِهِ لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ . وہ خیر خواہی کے ساتھ ان کا خیال نہ رکھے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا(بخاری، کتاب الاحکام، باب من استرعى رعية فلم ينصح ، ۴۵۶/۴، حدیث: ۷۱۵۰، ۱۵۱ بتغير )

2)خبر گیری کرنارعایہ کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ حاکم رعایا کے معاملات پر نظر اور ان کی خبرگیری کرتا رہے خبرگیری کے حوالے سے رسول پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جسے اللہ عزوجل مسلمانوں کے کسی معاملے کا والی و حاکم بنائے پھر وہ ان کی حاجت و ضرورت اور محتاجی سے چھپتا پھرے تو بروز قیامت اللہ پاک اس کی ضرورت و حاجت اور محتاجی فکر سے کچھ سروکار نہ ہوگا اس کے تحت فیضان ریاض الصالحین میں ہے کہ غافل بادشاہ روز قیامت ذلت کے گھڑے میں ہوگا-

فیضان ریاض الصالحین مکتبہ المدینہ جلد 5صفحہ614٫616

3)عدل و انصاف کرناحاکم پر لازم ہے کہ رعایا پر عدل و انصاف کرے اور ان پر نا انصافی و بے رحمی سے بچے اس کے متعلق حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ایک گھڑی کا عدل ایسے 60 سال کی عبادت سے بہتر ہے جس کی راتیں قیام اور دن روزے کی حالت میں گزرےالزواجر الباب الثاني في الكبائر الظاهرة، ٢٢٦/٢ -

4)رعایہ کے لیے ادارے قائم کرنا ملک میں عام لوگوں کے لیے ادارے قائم کرنا حکمرانوں کے فرائض میں سے ایک اہم فرض ہے تاکہ رعایا سے جہالت و بے رحمی دور ہو جس طرح کے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمت اللہ تعالی علیہ نے کثیر تعلیمی ادارے قائم کیے اور حضور علیہ السلام نے اصحاب صفہ کے لیے صفہ کا مقام منتخب فرمایا

5)عیب نہ ڈھونڈناحاکم کو چاہیے کہ بے وجہ رعایا کی عیب جوئی یا ان کی ٹو میں نہ پڑے حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ حاکم جب لوگوں میں تہمت و شک ڈھونڈنے لگے تو وہ ان کو بگاڑ دے گامرآۃ المناجیح شرح مشکات المصابیح مکتبہ اسلامیہ ج5ص408

پیارے پیارے اسلامی بھائیو اگر ہم اپنے اوپر غور کریں تو تقریبا ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی طرح حاکم حکمران ہے کوئی آفیسر کوئی استاد، کوئی ناظم اورکوئی والد، ہونے کی صورت میں حاکم ہے اگر معاشرے کو پرامن اور خوشگوار بنانا چاہتے ہیں تو اپنے ماتہتوں کے ساتھ حسن سلوک و پیار و محبت و نرمی سے پیش ائیں اور ان کے تمام حقوق ادا کریں اور اسی طرح جو احادیث وغیرہ میں بیان ہوئے ان پر کار بند رہے اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں حقوق و ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے


دین اسلام میں حقوق کی بہت اہمیت ہے . قرآن و حدیث میں حقوق ادا کرنے والوں کی بہت فضیلتیں بیان ہوئی ہیں. اللہ تعالی نے ہر جاندار کے حقوق رکھےہیں جن میں سے دعایا کےبھی حقوق ہیں جو درج ذیل ہیں :

( عیادت کرنا ) نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والعالم نے ارشاد فرمایا . جب مسلمان اپنے بھائی کی عیادت یا اس کی زیادت کو جاتا ہے تو اللہ عزو جل ارشاد فرماتا ہے ۔ تو اچھا ہے تیرا چلنا بھی اچھا ہے اور تو نے جنت میں گھر بنا لیا ۔مسند امام اعظم، مسند ابی ھریرہہ جلد 3 ص (25)

صلہ رحمی کرنا ۔حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ جو شخص الله عزوجل اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ مہمان کی تعظیم کرے اور جو شخص الله عزوجل اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ صلہ رحمی کرے اور جو شخص اللہ عزوجل اور قیامت پر ایمان رکھتا ہےوہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے :بخاری، جلد 4 ، جس 136 ) (بخاری.

محبت کرنا ۔پیارے پیارے آقاصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ تمہارے بہترین حکام وہ ہیں جو تم سے محبت کریں اور تم ان سے محبت کرو تم انہیں دعائیں دو وہ تمہیں دعائیں دیں اور تمہارے بدترین حکام وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں تم ان سے پٹکار کرو وہ تم پر لعنت کریں (مسلم ، کتاب الامارۃ ، ص 795 حدث (4854

(4) نرمی سے پیش آنا : میٹھے میٹھے مکی مدنی مصطفیٰ صلی الله : تعالی علیہ والہ ولی نے ارشاد فرمایا . اے اللہ عزو جل جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور پھر ان پر سختی کرے تو تو بھی اسے مشقت میں مبتلا فرما اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان سے نرمی سے پیش آئے تو تو بھی اس سے نرمی والا سلوک فرما ۔ (مسلم ، کتاب الامارة . م ب الامارة . ص 784 حدیث (4722