اللہ پاک نے مخلوق کی ہدایت کے واسطے مختلف انبیائے کرام کو اس دنیا میں بھیجا
جنہوں نے بھٹکی انسانیت کو ایک اللہ واحد قہار کی طرف بلایا انہیں راہِ نجات یعنی
جنت کی طرف راہنمائی کی اور راہِ ہلاکت یعنی دوزخ سے بچایا انہیں ڈرایا انہی میں
سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ہیں، آئیے ہم قرآن و تفسیر کی روشنی میں 10
صفاتِ عیسی سنتے ہیں:
1۔ مسیح: آپ چونکہ مس کر
کے بیماروں کو شفا دیتے تھے اسی لیے مسیح کہلائے۔
2۔ کلمۃ اللہ: آپ کے جسم شریف کی پیدائش
کلمہ کن سے ہوئی، ماں و باپ کے نطفہ سے نہ ہوئی اسی لیے آپ کو کلمۃ اللہ کہا جاتا
ہے،(تفسیر صراط الجنان، 1/476) فرمانِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى
عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ-خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ
فَیَكُوْنُ(۵۹) (پ 3، اٰل عمران: 59) ترجمہ: بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے
نزدیک آدم کی طرح ہے جسے اللہ نے مٹی سے بنایا پھر اسے فرمایا: ہو جا! تو وہ فورا
ہوگیا۔
3۔ روح اللہ: اللہ نے آپ کو
اپنی طرف سے ایک خاص روح فرمایا، اس بناء پر آپ کو روح اللہ بھی کہا جاتا ہے،
ارشاد باری ہے: اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى
ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗۚ-اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ
رُوْحٌ مِّنْهُ٘-(پ 6، النساء: 171) ترجمہ: بے شک مسیح مریم کا بیٹا عیسیٰ
صرف اللہ کا رسول اور اس کا ایک کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا اور اس کی طرف
سے ایک خاص روح ہے۔ (سیرت الانبیاء، ص 793)
4۔ حلیہ مبارکہ: نبی پاک
ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے حضرت عیسیٰ، موسیٰ و ابراہیم علیہم السلام کو دیکھا
حضرت عیسیٰ سرخ رنگ، گھونگھریالے بالوں اور چوڑے سینے والے تھے۔
5۔ بغیر باپ کے پیدا ہونا۔
6۔ جھولے میں کلام کرنا۔
7۔ معجزات کا دیا جانا: مٹی سے بنے پرندے کو پھونک مار کر حقیقی پرندہ بنادینا جیسا کہ آپ نے بنی
اسرائیل کے کہنے پر مٹی سے چمگادڑ کی صورت بنائی پھر اس میں پھونک ماری تو وہ اللہ
کے حکم سے اڑنے لگی۔
8۔ پیدائشی اندھوں کو آنکھوں کا نور عطا کرنا اورکوڑھیوں کو
شفایاب کرنا: آپ اپنا دست اقدس پھیر کر پیدائشی نابینا افراد کو آنکھوں
کا نور عطا کر دیتے اور اس مریض کو بھی شفا دیتے جس کا برص بدن میں پھیل گیا ہو
اور طبیب اس کے علاج سے عاجز ہوں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں مردے
زندہ کرتا ہوں میں لاعلاج بیماروں کو اچھا کرتا ہو، میں غیبی خبریں دیتا ہوں،
حقیقت میں یہ تمام کام رب العٰلمین کے ہیں لیکن آپ نے اپنی طرف منسوب کیے، اس سے
معلوم ہوا کہ حقیقی شفا دینے والا و مشکلات دور کرنے والا اللہ پاک ہی ہے، لیکن اس
کے دیئے ہوئے اختیار سے عطا سے کوئی دوسرا کچھ کر سکتا ہے۔
9۔ مردوں کو زندہ کرنا: حضرت عیسی نے اللہ کی عطا سے 4 مردوں کو زندہ کیا: عازر، ایک بڑھیا کا لڑکا،
ایک لڑکی اور سام بن نوح۔ (سیرت الانبیاء، ص 794-795)
10۔ عاجزی و انکساری: آپ تکبر سے دور اور عاجزی و انکساری کے پیکر تھے جس کی گواہی خود رب العٰلمین
نے دی ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا: نہ تو مسیح اللہ کا بندہ بننے سے کچھ عار کرتا ہے
اور نہ مقرب فرشتے اور جو اللہ بندگی سے نفرت اور تکبر کرے تو عنقریب وہ ان سب کو
اپنے پاس جمع کرے گا۔
خود عجز و انکسار کے پیکر ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب
دیاکرتے تھے۔ (سیرت الانبیاء، ص 800)
اللہ پاک ہمیں بھی فیضانِ عیسیٰ سے حصہ عطا فرمائے۔ آمین
بلاشبہ قرآن کریم میں گزشتہ انبیائے کرام کے واقعات اور معجزات اور اوصاف بیان
کیے گئے اور ان کی مدح و ستائش بیان کی گئی ہے، قرآن کریم میں ان انبیائے کرام کے
اوصاف حمیدہ کو بہت احسن طریقے سے بیان کیا گیا ہے اور ان کے اوصاف کو ایسے روشن
کیا جیسے سارا آسمان جھلملاتے ستاروں سے روشن ہے۔ انہیں میں حضرت عیسیٰ علیہ
السلام بھی ہیں، آپ دنیا و آخرت میں عزت و وجاہت والے اور رب کریم کے مقرب بندے
ہیں، چنانچہ حضرت عیسیٰ کے اوصاف کے بارے میں چند آیات مبارکہ ملاحظہ ہوں:
1۔ کلمۃ اللہ ہونا: حضرت
عیسیٰ کا ایک وصف قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ آپ کو کلمۃ اللہ کہا جاتا ہے
کہ آپ کے جسم شریف کی پیدائش کلمہ کُن سے ہوئی باپ اور ماں کے نطفہ سے نہ ہوئی،(تفسیر صراط الجنان، 1/476) جیسا کہ سورہ اٰل عمران کی آیت نمبر 45 میں ارشاد ہے: اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ
بِكَلِمَةٍ مِّنْهُۙ-ترجمہ: اور یاد کرو جب فرشتوں
نے مریم سے کہا کہ اے مریم اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی۔
فرمایا کہ وہ اللہ کا کلمہ ہیں کیونکہ آپ کا کوئی باپ ہوتا تو یہاں آپ کی نسبت
ماں کی طرف نہ ہوتی بلکہ باپ کی طرف ہوتی۔ (صراط الجنان، 1/476)
2۔ مسیح ہونا: اللہ پاک قرآن
پاک میں حضرت عیسیٰ کا ایک اور وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ (پ 3، اٰل عمران: 45) ترجمہ: جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ اس آیت
مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا نام عیسیٰ اور لقب مسیح ہے کیونکہ آپ
مس کر کے یعنی چھوکر شفا دیتے تھے، حضرت عیسیٰ پیدائشی اندھوں کو آنکھوں کا نور
عطا فرما دیتے، کوڑھ کے مریضوں کو چھو کر شفایاب کر دیتے، مردوں کو اللہ کے نام سے
زندہ کر دیتے، یہ سب کام باذن اللہ کرتے تھے۔ (تفسیر صراط الجنان، 1/476)
3۔ حضرت مریم کا بیٹا ہونا: اللہ پاک پارہ 3 سورۂ اٰل عمران میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ-خَلَقَهٗ
مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۵۹) (پ 3، اٰل عمران: 59) ترجمہ: بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے
نزدیک آدم کی طرح ہے جسے اللہ نے مٹی سے بنایا پھر اسے فرمایا: ہو جا! تو وہ فورا
ہوگیا۔ یہ آیت مبارکہ نجران کے عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے آقا ﷺ سے
کہا کہ آپ گمان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ اللہ کے بندے ہیں، فرمایا: ہاں، اس کے بندے
اور اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جو اس نے کنواری پاک مریم رضی اللہ عنہا کو عطا
فرمایا، عیسائی یہ سن کر بہت غصہ میں آئے اور کہنے لگے: اے محمد! کیا تم نے کبھی
بے باپ کا انسان دیکھا ہے؟ اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں (معاذ
اللہ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یہ بتایا گیا کہ حضرت عیسیٰ تو صرف بغیر باپ کے
پیدا ہوئے جبکہ حضرت آدم علیہ السلام تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر مٹی سے پیدا
ہوئے تو جب انہیں اللہ کا مخلوق اور بندہ مانتے ہو تو حضرت عیسیٰ کو اللہ کا مخلوق
و بندہ ماننے میں کیا تعجب ہے، لہٰذا یہ معلوم بھی ہو گیا کہ حضرت آدم بغیر نطفہ
کے بنے ایسے ہی حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے کنواری مریم سے پیدا ہوئے اس لیے تو ان کو
عیسیٰ بن مریم کہا جاتا ہے۔ (صراط الجنان، 1/489)
4۔ دنیا و آخرت میں عزت والا ہونا: اللہ پاک پارہ 3 سورہ اٰل عمران آیت نمبر 45 میں ارشاد فرماتا ہے: وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ
الْمُقَرَّبِیْنَۙ(۴۵) ترجمہ کنز الایمان: رو دار ہوگا دنیا اور آخرت میں اور قرب
والا۔ اس آیت مبارکہ میں دنیا میں عزت والا ہونا کہ قرآن کے ذریعے سارے عالم میں
ان کے نام کی دھوم مچا دی گئی، آخرت میں خصوصی عزت والا ہونا بہت سے طریقوں سے
ہوگا ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قیامت میں انہی کے ذریعہ مخلوق کو حضور اقدس ﷺ تک
رہنمائی ملے گی۔
بارگاہ الٰہی میں بہت زیادہ قرب و منزلت رکھنے والا ہونا وغیرہ، معلوم ہوا کہ
انبیا کی نعت خوانی سنت الٰہیہ ہے، اللہ پاک اس کی توفیق عطا فرمائے۔ (صراط
الجنان، 1/477-478)
آپ علیہ السلام کا مبارک نام عیسیٰ اور آپ کا نسب حضرت داود سے جا ملتا ہے، آپ
کی کنیت ابن مریم ہے اور تین القابات یہ ہیں:مسیح، کلمۃ اللہ اور روح اللہ۔
آپ چونکہ مس کر کے بیماروں کو شفا دیتے تھے اس لیے آپ کو مسیح کہا جاتا ہے۔
آپ کے جسم شریف کی پیدائش کلمہ کُن سے ہوئی باپ اور ماں کے نطفے سے نہ ہوئی اس
لیے آپ کو کلمۃ اللہ کہا جاتا ہے۔(تفسیر صراط
الجنان، 1/476)
اللہ پاک نے آپ کو اپنی طرف سے ایک خاص روح فرمایا اس بنا پر آپ کو روح اللہ
بھی کہا جاتا ہے۔ (سیرت الانبیاء، ص 793)
آپ پر آسمانی کتاب انجیل کا نزول ہوا۔
آئیے آپ کے اوصاف کے بارے میں کلام کرتے ہیں، آپ بے شمار اچھے اوصاف و کمالات
کے مالک تھے جن میں سے چند یہاں ذکر کرتے ہیں:
1۔ آپ دنیا و آخرت میں خدا کی بارگاہ میں بہت معزز و مقرب بندے ہیں، قرآن کریم
میں ہے: وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ
الْمُقَرَّبِیْنَۙ(۴۵) (پ 3، اٰل عمران: 45) ترجمہ کنز الایمان: رو دار ہوگا دنیا
اور آخرت میں اور قرب والا۔
2۔ آپ نے بہت چھوٹی عمر میں لوگوں سے کلام کیا۔ قرآن کریم میں ہے: وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ
الصّٰلِحِیْنَ(۴۶) (پ 3، اٰل عمران: 46) ترجمہ کنز الایمان: اور لوگوں سے بات
کرے گا پالنے میں اورپکی عمر میں اور خاصوں میں ہوگا۔
3۔ آپ نماز کے پابند اور ادائے زکوٰۃ کی تاکید کرنے والے تھے۔ اللہ پاک نے
ارشاد فرمایا: وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ۪-وَ اَوْصٰنِیْ
بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّاﳚ(۳۱) (پ 16، مریم: 31)
ترجمہ: اور اس نے مجھے مبارک بنایا ہے خواہ میں کہیں بھی ہوں اور اس نے مجھے نماز
اور زکوٰۃ کی تاکید فرمائی ہے جب تک میں زندہ رہوں۔
4۔ آپ اپنی والدہ سے اچھا سلوک کرنے والے تھے نیز تکبر سے دور اور شقاوت سے
محفوظ تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَّ بَرًّۢا
بِوَالِدَتِیْ٘-وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا(۳۲) (پ 12، مریم:
32) ترجمہ: اور مجھے اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا بنایا اور مجھے متکبر و
بدنصیب نہ بنایا۔
5۔ آپ اللہ کا بندہ بننے میں کسی طرح کا شرم و عار محسوس نہیں فرماتے تھے،
ارشاد باری ہے: لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ
اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓىٕكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَؕ-وَ مَنْ
یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ
جَمِیْعًا(۱۷۲) (پ 6، النساء: 172) ترجمہ: تو مسیح اللہ کا بندہ بننے سے
کچھ عار کرتا ہے اور نہ مقرب فرشتے اور جو اللہ کی بندگی سے نفرت و تکبر کرے تو
عنقریب وہ ان سب کو اپنے پاس جمع کرے گا۔
6۔ اللہ نے آپ کو نبوت عطا فرما کر احسان فرمایا اور آپ کو بنی اسرائیل کے لیے
اپنی قدرت کا حیرت انگیز نمونہ بنایا۔ اللہ پاک نے فرمایا: اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ
مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ(۵۹) (پ 25، الزخرف: 59) ترجمہ: عیسیٰ تو نہیں ہے مگر ایک بندہ
جس پر ہم نے احسان فرمایا ہے اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک عجیب نمونہ
بنایا۔
7۔ اللہ کریم نے حضرت عیسیٰ کو آپ کی رسالت حق ہونے پر روشن نشانیاں عطا کیں۔
اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى
ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ (البقرۃ: 87) ترجمہ:
اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھلی نشانیاں عطا فرمائیں۔
8۔ اللہ پاک نے آپ کو مخلص حواری عطا فرمائے جنہوں نے آپ کے ارشادات دل و جان
سے تسلیم کیے، ارشاد ربانی ہے:وَ اِذْ اَوْحَیْتُ
اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْۚ-قَالُوْۤا اٰمَنَّا
وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ(۱۱۱) (پ 7،
المائدۃ: 111) ترجمہ: اور جب میں نے حواریوں کے دل میں یہ بات ڈالی کہ مجھ پر اور
میرے رسول پر ایمان لاؤ تو انہوں نے کہا: ہم ایمان لائے اور (اے عیسیٰ) آپ گواہ ہو
جائیں کہ ہم مسلمان ہیں۔
9۔ آپ کے آسمان سے دوبارہ زمین پر تشریف لانے کو قیامت کی ایک نشانی بتایا۔
فرمان باری تعالیٰ ہے: وَ
اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِؕ-هٰذَا
صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(۶۱) (پ 25، الزخرف:
61) ترجمہ: اور بے شک عیسیٰ ضرور قیامت کی ایک خبر ہے تو ہرگز قیامت میں شک نہ
کرنا اور میری پیروی کرنا یہ سیدھا راستہ ہے۔
10۔ اللہ کریم نے آپ کو تورات اور انجیل سکھائی۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ
الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ(۴۸) (پ 3، اٰل عمران: 48) ترجمہ: اور اللہ اسے کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل
سکھائے گا۔
اللہ کریم ہمیں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی سیرت مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔ آمین
بنی نوع انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بہت سے
انبیائے کرام اور رسل بھیجے گئے اور اللہ نے تمام انبیائے کرام کو مختلف خصوصیات و
فضائل سے نوازا اور بعض انبیا درجات میں بعض انبیا سے افضل ہیں، انبیا میں سے ایک
جلیل القدر ہستی عیسیٰ بن مریم ہیں جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کئے گئے، اللہ پاک
نے حضرت عیسیٰ کو سراپا فضائل و خصوصیات بنایا اور عظیم فضائل و کمال سے نوازا، ان
کی بے شمار صفات و خصوصیات میں سے چند صفات و خصوصیات قرآن و تفسیر کی روشنی میں
ملاحظہ ہوں:
1۔ کلمۃ اللہ ہونا: اللہ پاک
فرماتا ہے: اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ
بِكَلِمَةٍ مِّنْهُۙ-(پ 3، اٰل عمران: 45) ترجمہ:
یاد کرو جب فرشتوں نے مریم سے کہا کہ اے مریم اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے
ایک کلمہ کی۔حضرت عیسیٰ کو کلمۃ اللہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ کے جسم شریف کی
پیدائش کلمہ کن سے ہوئی باپ اور ماں کے نطفہ سے نہ ہوئی۔ (صراط الجنان، 1/476)
2۔ مسیح ہونا: فرمانِ باری ہے:
اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ (پ 3، اٰل عمران: 45) ترجمہ: جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ آپ کا نام
مبارک عیسیٰ ہے لقب مسیح ہے کیونکہ آپ مس کر کے یعنی چھوکر شفا دیتے تھے۔ (صراط
الجنان، 1/476)
3۔ عزت والا ہونا دنیا و آخرت میں: فرمایا: وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ
الْمُقَرَّبِیْنَۙ(۴۵) (پ 3، اٰل عمران: 45) ترجمہ کنز الایمان: رو دار ہوگا دنیا
اور آخرت میں اور قرب والا۔ دنیا میں عزت والا ہونا اس طرح کہ قرآن کے ذریعے سارے
عالم میں ان کے نام کی دھوم مچادی گئی آکرت میں خصوصی عزت والا ہونا بہت سے طریقوں
سے ہوگا ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قیامت میں انہی کے ذریعہ مخلوق کو حضور تک
رہنمائی ملے گی۔ (صراط الجنان، 1/477)
4۔ بغیر باپ کے پیدا ہونا: ارشاد فرمایا: ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَۚ- (پ 16، مریم: 34) ترجمہ: یہ
ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ورنہ آپ باپ
کی طرف نسبت کیے جاتے۔
5۔ روح
القدس کے ذریعے مدد فرمایا جانا: اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ
مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِؕ- (پ 3، البقرۃ: 253) ترجمہ: اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو کھلی نشانیاں دیں
اور پاکیزہ روح سے اس کی مدد کی۔ روح القدس سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں جو
بروقت حضرت عیسیٰ کے ساتھ رہتے تھے۔ (تفسیر نور العرفان، ص 65)
6۔ چھوٹی عمر میں جھولے میں کلام فرمانا: اللہ پاک فرماتا ہے: فَاَشَارَتْ
اِلَیْهِؕ-قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا(۲۹) قَالَ
اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ﳴ (پ 16، مریم: 29-30) ترجمہ: اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ
کیا وہ بولے ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہے، بچے نے فرمایا میں ہوں
اللہ کا بندہ۔یعنی آپ نے چھوٹی عمر میں جھولے میں کلام فرمایا جس عمر میں بچے کلام
نہیں کیا کرتے اور یہ صرف آپ کی خصوصیت ہی تھی۔
7۔ پکی عمر میں لوگوں سے کلام فرمانا: وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ
الصّٰلِحِیْنَ(۴۶) (پ 3، اٰل عمران: 46) ترجمہ کنز الایمان: اور لوگوں سے بات
کرے گا پالنے میں اورپکی عمر میں اور خاصوں میں ہوگا۔یعنی وہ پکی عمر میں بھی
لوگوں سے کلام فرمائیں گے اور وہ یوں کہ آسمان سے اترنے کے بعد آپ لوگوں سے کلام
فرمائیں گے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے زمین کی طرف اتریں گے
جیساکہ احادیث میں وارد ہوا ہے اور دجال کو قتل کریں گے۔ (صراط الجنان، 1/477)
اللہ پاک حضرت عیسیٰ کے صدقے ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔
صفات عیسیٰ از بنت نعیم عطاریہ، فیضان فاطمۃ الزہرا مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اللہ کریم نے اپنی مخلوق کی رشد و ہدایت کے لیے
نبی بنا کر بھیجا، آپ کے بے شمار فضائل و مناقب اللہ کریم نے قرآن پاک میں ذکر
فرمائے ہیں ان کو ذکر کرنے سے پہلے آپ کے بارے میں تین عقائد ملاحظہ فرمائیے:
1۔ اللہ کریم نے آپ کو زندہ سلامت آسمان پر اٹھا لیا۔
2۔ آپ پر اب تک موت طاری نہیں ہوئی۔
3۔ قیامت سے پہلے آپ دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔
ان تین عقائد میں سے پہلے دو عقائد کا انکار کرنے والا کافر اور تیسرے عقیدے
کا انکار کرنے والا گمراہ اور بدمذہب ہے، (فتاویٰ حامدیہ، ص 140،142 ملتقطا) آئیے
اب کچھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفات بھی ملاحظہ کرتے ہیں:
1۔ سورۂ اٰل عمران میں ہے: وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ
فِی الْمَهْدِ (پ 3، اٰل عمران: 46) ترجمہ کنز الایمان: اور لوگوں سے بات
کرے گا پالنے میں۔ اس آیت کی تفسیر میں صراط الجنان میں ہے کہ آپ اللہ کے خاص بندے
ہیں۔
2۔ مزید یہ کہ حضرت عیسیٰ کو سورۂ اٰل عمران آیت نمبر 45 میں کلمۃ اللہ
فرمایا گیا، اسی آیت مبارکہ میں آپ کے اور بھی بہت سے اوصاف ذکر کئے گئے، جیسا کہ
3۔ آپ کا نام مبارک عیسیٰ ہے۔
4۔ آپ کا لقب مسیح ہے، کیونکہ آپ لوگوں کو چھو کر شفا دیتے تھے۔(تفسیر صراط الجنان، 1/476)
5۔ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ (پ 3، اٰل عمران: 45) ترجمہ کنز الایمان: رو دار ہوگا دنیا اور آخرت میں۔
6۔ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ(۴۵) (پ 3، اٰل عمران: 45) ترجمہ کنز الایمان: اور قرب والا۔اور آپ
کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ آپ کی نسبت باپ کی بجائے ماں کی طرف کی گئی اس سے
معلوم ہوا کہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے: اسْمُهُ
الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ (پ 3، اٰل
عمران: 45) ترجمہ: جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ اگر آپ کا باپ ہوتا تو آپ
کو اس کی نسبت سے پکارا جاتا کیونکہ سورۂ احزاب آیت نمبر 5 میں ہے: ترجمہ کنز
العرفان: لوگوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔
ہے لبِ عیسیٰ سے
جاں بخشی نرالی ہاتھ میں سنگریزے
پاتے ہیں شیریں مقالی ہاتھ میں
اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور
دلیل کے طور پر بہت ساری خصوصیات و معجزات عطا کیے، خود اللہ کریم نے قرآن مجید
میں حضرت عیسیٰ کی بہت سی صفات بیان کیں، مجموعی طور پر سورۂ اٰل عمران کی آیت
نمبر 45 اور 46 میں حضرت عیسیٰ کی بہت ساری صفات بیان ہوئیں۔
1۔ کلمۃ اللہ ہونا: حضرت
عیسیٰ کو کلمۃ اللہ اس لیے کہتے ہیں کہ آپ کے جسم شریف کی پیدائش کلمہ کن سے ہوئی،
باپ اور ماں کے نطفہ سے نہ ہوئی،(تفسیر صراط
الجنان، 1/476) رب تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ
مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ-خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ
قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۵۹) (پ 3، اٰل عمران: 59) ترجمہ: بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے
نزدیک آدم کی طرح ہے جسے اللہ نے مٹی سے بنایا پھر اسے فرمایا: ہو جا! تو وہ فورا
ہوگیا۔اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے بیٹے نہ
ہوئے تو اے عیسائیو! عیسیٰ خدا کے بیٹے کب ہو سکتے ہیں یہ رب تعالیٰ کے کلمہ کن سے
پیدا ہوئے، اللہ کے بندے اور رسول ہیں نہ کہ بیٹے۔
2۔ مسیح ہونا: حضرت عیسیٰ کا
لقب مسیح ہے کیونکہ آپ لوگوں کو مس کر کےیعنی چھو کر شفا دیتے تھے،(تفسیر صراط الجنان، 1/476) کیونکہ حضرت عیسیٰ کے دور میں طب کا علم عروج پر تھا، حضرت عیسیٰ اس مریض کو
بھی شفا دیتے جس کا مرض بدن میں پھیل گیا ہو آپ اسے چھو کر شفا دیتے، حضرت عیسیٰ
کے پاس ایک ایک دن میں پچاس ہزار مریض ہوتے تھے، آپ باذن الٰہی چھو کر ان سب کو
ٹھیک کر دیتے تھے۔
4۔ بغیر باپ کے پیدا ہونا: اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ
كَلِمَتُهٗۚ-اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ٘-( پ 6، النساء: 171) ترجمہ: بے شک مسیح مریم کا بیٹا عیسیٰ صرف اللہ کا رسول
اور اس کا ایک کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا اور اس کی طرف سے ایک خاص روح
ہے۔ حضرت عیسیٰ کی نسبت باپ کے بجائے ماں کی طرف کی گئی، اس سے معلوم ہوا کہ حضرت
عیسیٰ بغیر باپ کے صرف ماں سے پیدا ہوئے ہیں، اگر آپ کا کوئی باپ ہوتا تو آپ کی
نسبت ماں کی طرف نہ ہوتی بلکہ باپ کی طرف ہوتی۔
4۔ جھولے میں کلام کرنا: قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ
فِی الْمَهْدِ (پ 3، اٰل عمران: 46) ترجمہ کنز الایمان: اور لوگوں سے بات
کرے گا پالنے میں۔ جب حضرت مریم حضرت عیسیٰ کو گود میں لے کر قوم کی جانب گئیں تو
ان کی قوم نے ان سے کہا کہ اے مریم تم نے کتنی بری بات کی۔ تو اس وقت حضرت عیسیٰ
نے ماں کی گود سے آپ کی پاکدامنی کی گواہی دی۔ فَاَشَارَتْ
اِلَیْهِؕ-قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا(۲۹) قَالَ
اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ﳴ (پ 16، مریم: 29-30) ترجمہ: اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ
کیا وہ بولے ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہے، بچے نے فرمایا میں ہوں
اللہ کا بندہ۔
5۔ دنیا میں عزت والا ہونا: قرآن کے ذریعے سارے عالم میں ان کی دھوم مچا دی گئی، آخرت میں بھی آپ خصوصی
عزت والے ہوں گے کیونکہ انہی کے ذریعے مخلوق کو قیامت والے دن حضور اکرم ﷺ تک
راہنمائی ملے گی۔(تفسیر صراط الجنان،
1/477)
6۔ بارگاہ الٰہی میں بہت زیادہ قرب و منزلت والے: یعنی بارگاہ الٰہی میں آپ بہت زیادہ مقام و مرتبے والے
ہیں۔ (صراط الجنان، 1/478) جب حضرت عیسیٰ کے اتنے اوصاف مبارکہ ہیں رسول کریم
محبوب خدا ﷺ کے کتنے اوصاف ہوں گے۔ اللہ کریم ان کے صدقے ہمیں بھی متقی و پرہیزگار
بنائے۔ آمین
نبی و رسول اللہ پاک کے نیک، عبادت گزار، پرہیزگار اور ہر قسم کے گناہ سے پاک
اور خوش اخلاق اور خوش مزاج بندے ہوتے ہیں، اللہ پاک کا ان پر خاص کرم و فضل ہوتا
ہے اور یہ کسی قسم کے بھی عیب میں مبتلا نہیں ہوتے، اللہ پاک انہیں عقل سلیم عطا
فرماتا ہے انہیں میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جن کے بارے میں اللہ پاک
ارشاد فرماتا ہے: وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ
فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌۙ-وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ
التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ(۴۶) (پ 6، المائدۃ: 46) ترجمہ: اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور
تھا اور وہ انجیل اس سے پہلے موجودہ تورات کی تصدیق فرمانے والی تھی اور
پرہیزگاروں کےلیے ہدایت اور نصیحت تھی۔
1۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ نے چار
شخصوں کو زندہ کیا: عازر، ایک بڑھیا کا لڑکا، ایک لڑکی اور سام بن نوح۔ (تفسیر
جمل، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 49، 1/419-420 ملتقطا)
2۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اپنی رسالت و معجزات کے بارے
میں بتایا تو انہوں نے درخواست کی کہ آپ ایک چمگادڑ پیدا کریں، آپ نے مٹی سے چمگادڑ
کی صورت بنائی پھر اس میں پھونک ماری تو وہ اللہ کے حکم سے اڑنے لگی۔ (خازن، اٰل
عمران، تحت الآیۃ: 49، 1/251)
3-4۔ حضرت عیسیٰ جسمانی مریضوں کو شفا دینے کے ساتھ ساتھ روحانی مریضوں کا بھی
علاج فرماتے تھے، حضرت عیسیٰ کسی بستی میں جاتے تو اس بستی کے برے لوگوں کے بارے
میں پوچھتے حضرت یحیی نے ان سے پوچھا، آپ برے لوگوں کا پوچھ کر ان کے پاس کیوں
جاتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا: میں جسمانی طبیب کے ساتھ ساتھ روحانی طبیب بھی ہوں اور
میں گناہ کے ان مریضوں کو توبہ و نیک اعمال کی تلقین کر کے ان کا علاج کرتا
ہوں۔(حسن التنبہ، 5/64)
5-6۔ حضرت عیسیٰ خود بھی دنیا سے بہت زیادہ بے رغبت تھے کبھی بھی دنیوی نعمتوں
کو خاطر میں نہ لاتے یہاں تک کہ آپ نے ایک ہی اونی جبہ میں اپنی زندگی کے دس سال
گزار دیئے جب وہ جبہ کہیں سے پھٹ جاتا تو سے باریک رسی سے باندھ لیتے یا پیوند لگا
لیتے۔ (عیون الحکایات، ص 119)
7۔ ایک بار آپ نے ارشاد فرمایا: میں نے تخلیق کے بارے میں غور و فکر کیا تو اس
نتیجے پر پہنچا کہ جسے پیدا نہیں کیا گیا وہ اس سے زیادہ رشک کے قابل ہے جسے پیدا
کر دیا گیا۔ (المجالسۃ و جواہر العلم، 1/224)
8۔ قیامت کا ذکر سن کر آپ کا جو حال ہوتا اس کے بارے میں امام شعبی رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں: حضرت عیسیٰ کے سامنے قیامت کا ذکر ہوتا تو شدتِ خوف سے آپ کی چیخ
نکل جاتی اور فرماتے: ابن مریم کے لیے یہی مناسب ہے کہ تذکرہ قیامت کے وقت اس کی
چیخ نکل جائے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، 19/28، رقم: 35385)
9-10۔ آپ دنیا و آخرت میں خدا کی بارگاہ میں بہت معزز و مقرب بندے تھے، آپ نے
بڑی عمر کے علاوہ بہت چھوٹی عمر میں بھی لوگوں سے کلام کیا اور آپ اللہ کے خاص
بندوں میں سے ہیں۔ (سیرت الانبیاء، ص 811)
اولو العزم انبیائے کرام علیہمُ السلام میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ
السلامبھی ہیں جو بنی اسرائیل کی جانب بھیجے گئے آخری نبی ہیں۔چار مشہور آسمانی
کتابوں میں سے انجیل مقدس آپ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔اللہ کریم نے آپ کو اپنی
قدرتِ کاملہ سے بغیر باپ کے پیدا فرمایا۔قرآنِ کریم میں آپ علیہ السلام کی کئی صفا
ت کا ذکر ہے۔
1-دنیا و آخرت میں عزت والا ہونا:اللہ پاک فرماتا ہے:وَجِیْهًا
فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ (پ3،الِ عمرٰن: 45)ترجمہ کنز العرفان: آخرت میں بڑی
عزت والا ہوگا۔دنیا میں قرآنِ کریم کے ذریعے سارے عالَم میں ان کی دھوم مچا دی
گئی۔ آخرت میں خصوصی عزت والا ہونا بہت سے طریقوں سے ہوگا۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے
کہ قیامت میں انہی کے ذریعے مخلوق کو حضور ﷺ تک راہ نمائی ملے گی۔(تفسیر صراط
الجنان، 1/477)
2-کلمۃ اللہ ہونا:حضرت مریم رضی اللہ ُعنہا کو آپ کی ولادت کی خوشخبری پہلے ہی دی گئی: اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ
یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُۙ-(پ 3، اٰل عمران:
45) ترجمہ: اور یاد کرو جب فرشتوں نے مریم سے کہا کہ اے مریم اللہ تجھے بشارت دیتا
ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی۔ آپ کو کلمۃ اللہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ کے جسم شریف
کی پیدائش کلمہ کن سے ہوئی باپ اور ماں کے نطفے کے نہ ہوئی۔ (تفسیر صراط الجنان،
1/476)
3-مسیح ہونا:فرمایا:اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ(پ3،الِ عمرٰن: 45)جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم
ہوگا۔آپ کا لقب مسیح ہے کہ آپ مریضوں کو چھو کر شفا دیتے تھے۔(تفسیر صراط الجنان،
1/476)
4-مصدقِ توریت: وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ (پ3،الِ عمرٰن: 50) ترجمہ کنز الایمان: اور تصدیق
کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی۔ آپ تصدیق فرمانے والے تھے کہ توریت شریف
اللہ کریم کی نازل کردہ کتاب ہے۔
5-6-جھولے اور بڑی عمر میں گفتگو: وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۴۶) (پ 3، اٰل عمران: 46) ترجمہ کنز الایمان: اور لوگوں سے بات
کرے گا پالنے میں اور پکی عمر میں اور خاصوں میں ہوگا۔ آپ بات کرنے کی عمر سے پہلے ہی کلام فرمائیں گے چنانچہ
سورہ مریم میں آپ کا کلام مذکور ہے پکی عمر میں کلام یوں کہ آسمان سے اترنے کے بعد
آپ لوگوں سے کلام فرمائیں گے۔(تفسیر صراط الجنان، 1/ 477)
7-مبارک:آپ
کے کلام کو قرآنِ کریم میں ذکر کیا گیا جس میں سے یہ بھی ہے” وَ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا “اور اس نے مجھے مبارک بنایا۔اللہ پاک نے مجھے خبر کی
تعلیم دینے والا،اللہ پاک کی طرف بلانے والا بنایا۔
8-آپ علیہ السلام کے کام میں ہے: اٰتٰىنِیَ
الْكِتٰبَ (اس نے مجھے کتاب دی ہے)اس کتاب سے مراد انجیل مقدس ہے۔
9-روحِ مقدس سے مدد:قیامت کے دن ہونے والے ایک معاملے کا ذکر قرآنِ کریم میں کیا گیا جس میں آپ
علیہ السلام سے روحِ مقدس سے مدد کئے جانے کے احساس کو یاد کرنے کا ذکر ہے: اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ
عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَۘ-اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ(پ7،المائدۃ:110) ترجمہ:اے مریم کے بیٹے عیسیٰ اپنے اوپر اور اپنی والدہ
پر میرا وہ احسان یاد کر جب میں نے ایک روح سے تیری مدد کی۔
10-قیامت کی نشانی:فرمایا: وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ
اتَّبِعُوْنِؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(۶۱) (پ 25، الزخرف: 61) ترجمہ: اور بے شک عیسیٰ ضرور قیامت کی
ایک خبر ہے تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا اور میری پیروی کرنا یہ سیدھا راستہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے دوبارہ زمین پر
تشریف لانا قیامت کی علامات میں سے ہے۔مزید معلومات کے لئے سیرت الانبیا کا مطالعہ
کیجئے۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو! جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حیرت انگیز معجزات
عطا فرمائے گئے اور ان کا ذکر قرآن میں آیا ہے جیسے مٹی سے پرندے بنا کر پھونک
مارنا اور اس سے حقیقی پرندہ بن جانا وغیرہ اسی طرح آپ علیہ السلام کو اللہ پاک نے
بہت سی صفات بھی عطا کی ہیں جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے اور مجموعی طور پر قرآن کریم
میں سورہ آل عمران میں آیت نمبر 45 اور46 میں ان کا ذکر آیا ہے، چنانچہ فرمایا
گیا: وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ
الْمُقَرَّبِیْنَۙ(۴۵) وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۴۶) ترجمہ کنز الایمان: رو دار ہوگا دنیا اور آخرت میں اور قرب
والا اور لوگوں سے بات کرے گا پالنے میں اورپکی عمر میں اور خاصوں میں ہوگا۔
1۔ کلمۃ اللہ ہونا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کلمۃ اللہ اس لیے کہتے ہیں کہ اللہ
پاک نے انہیں کلمہ " کُن " فرما کر بغیر باپ کے پیدا کیا۔
2۔ مسیح ہونا۔
3۔ حضرت مریم رضی اللہ عنہا کا بیٹا ہونا۔
4۔ بغیر باپ کے پیدا ہونا۔
5۔دنیا میں عزت والا ہونا۔ اس سے مراد کہ قرآن کریم کے ذریعے سارے عالم میں ان
کے نام کی دھوم مچادی گئی۔
6۔ آخرت میں عزت والا ہونا۔ یہ بہت طریقوں سے ہو گا، ان میں سے ایک یہ بھی ہے
کہ قیامت میں انہیں کے ذریعہ مخلوق کو حضور ﷺ تک رہنمائی ملے گی۔
7۔ بارگاہ الٰہی میں بہت زیادہ قرب و منزلت رکھنے والا ہونا۔(تفسیر صراط
الجنان، 1/477)
8۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ بھی
خصوصیت حاصل ہے کا آپ بنی اسرائیل کی طرف معبوث ہونے والے آخری نبی ہیں۔
9۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام توریت کے کتاب اللہ ہونے اور حق ہونے کی تصدیق کے لیے
تشریف فرما ہوئے۔ ( صراط الجنان، 1/ 483)
10۔ حضرت عیسیٰ کو اللہ پاک نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔
خالق کل جہاں نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو ان میں اپنا سب سے زیادہ قرب
حضرات انبیائے کرام کو عطا فرمایا، تمام انبیائے کرام اللہ کے معصوم بندے ہیں ان
حضرات میں سے بعض کے درجات بعضوں سے بلند ہیں جیسا کہ محبوب ﷺ اللہ کے حبیب اور
تمام انبیا سے افضل ہیں یونہی اولو العزم انبیا دیگر انبیائے کرام سے افضل ہیں،
انہی اولو العزم انبیا میں سے ایک جناب عیسیٰ علیہ السلام بھی ہیں، آپ بے شمار
اوصاف سے موصوف ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی آیا، چنانچہ
1۔ کلمۃ اللہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ماں باپ کے نطفے سے نہیں بلکہ کلمہ کُن
سے ہوئی، چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: اِنَّ
مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ-خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ
قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۵۹) (پ 3، اٰل عمران: 59) ترجمہ: بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے
نزدیک آدم کی طرح ہے جسے اللہ نے مٹی سے بنایا پھر اسے فرمایا: ہو جا! تو وہ فورا
ہوگیا۔
2۔ دنیا و آخرت میں معزز: قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: وَجِیْهًا فِی
الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ (پ 3، اٰل عمران:
45) ترجمہ کنز الایمان: رو دار ہوگا دنیا اور آخرت میں۔ دنیا میں عزت والا ہونا کہ قرآن کے ذریعے سارے عالم میں ان کے نام کی دھوم
مچادی گئی اور آخرت میں بہت طریقوں سے ہوگا ایک یہ کہ انہی کے ذریعے مخلوق کو شفیع
روزِ جزا تک رہنمائی ملے گی۔(تفسیر صراط الجنان، 1/477)
3۔ رب کریم کے مقرب: جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے مقرب بندے ہیں، قرآن کریم میں ان کے بارے
میں ارشاد ہوا: وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ(۴۵) (پ 3، اٰل عمران: 45) ترجمہ کنز الایمان: اور قرب والا۔
4۔ بغیر باپ کے پیدا ہونے والے: حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے، چنانچہ صراط
الجنان میں ہے: اگر آپ کا کوئی باپ ہوتا تو یہاں آپ کی نسبت ماں کے بجائے باپ کی
طرف ہوتی جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ پاک نے خود فرمایا: اُدْعُوْهُمْ
لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ- (پ 21، الاحزاب: 5) ترجمہ: ان لوگوں کو ان کے باپوں کی
نسبت پکارو یہ اللہ کے نزدیک انصاف سے قریب ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، 1/476)
5۔ مسیح اللہ: حضرت عیسیٰ بیماروں کو چھوکر شفا دے دیتے تھے، اس لیے انہیں مسیح اللہ کہا
جاتا ہے، قرآن کریم میں ارشاد ہے: اسْمُهُ الْمَسِیْحُ
عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ (پ 3، اٰل عمران: 45) ترجمہ:
جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا۔
6۔ مہد و کہل میں کلام کرنے والے: مہد یعنی جھولے میں حضرت عیسیٰ نے بچپن کی عمر میں
کلام فرمایا اور اپنی ماں کی پاکدامنی ثابت کی اور کہل یعنی پکی عمر میں، جیسا کہ
احادیث میں وارد ہے کہ قربِ قیامت آپ تشریف لائیں گے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ
ہے: وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ
الصّٰلِحِیْنَ(۴۶) (پ 3، اٰل عمران: 46) ترجمہ کنز الایمان: اور لوگوں سے بات
کرے گا پالنے میں اورپکی عمر میں اور خاصوں میں ہوگا۔
7۔ برکت والے: ارشاد ہے: وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا (پ 16، مریم: 31) ترجمہ: اور اس نے مجھے مبارک بنایا ہے۔ اللہ کریم نے نبوت عطا فرما کر انہیں لوگوں کو نفع
پہنچانے والا خیر و توحید و عبادت کی تعلیم دینے والا بنایا۔ (تفسیر صراط الجنان، مریم:
31 ملتقطا)
8۔ اللہ کریم کے بندے: آپ اللہ کا بندہ بننے میں کچھ عار محسوس نہ کرتے۔ (سیرت الانبیاء، ص 812)
چنانچہ ارشاد فرمایا: لَنْ یَّسْتَنْكِفَ
الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓىٕكَةُ
الْمُقَرَّبُوْنَؕ-وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ
فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا(۱۷۲) (پ 6، النساء: 172) ترجمہ: تو مسیح اللہ کا بندہ بننے سے
کچھ عار کرتا ہے اور نہ مقرب فرشتے اور جو اللہ کی بندگی سے نفرت و تکبر کرے تو
عنقریب وہ ان سب کو اپنے پاس جمع کرے گا۔
9۔ نماز و زکوٰۃ ادا کرنے والے: آپ نے مہد میں جو کلام فرمایا اسے قرآن کریم میں یوں
ارشاد فرمایا گیا: وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ
الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّاﳚ(۳۱) (پ 16، مریم: 31) ترجمہ: اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کی
تاکید فرمائی ہے جب تک میں زندہ رہوں۔
10۔ والدہ سے اچھا سلوک کرنے والے: فرمایا: وَّ بَرًّۢا
بِوَالِدَتِیْ٘- (پ 16، مریم: 32) ترجمہ: اور مجھے اپنی ماں سے اچھا سلوک
کرنے والا بنایا۔
اس کے علاوہ بھی آپ کے بے شمار اوصاف ہیں، اللہ پاک ان کا صدقہ عطا فرمائے
اور ہمیں حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
خالد حسین عطاری مدنی(جامعۃُ المدینہ فیضانِ ابو عطار
ماڈل کالونی کراچی ، پاکستان)
اللہ پاک نے علمائے کرام
کو بڑا مقام و منصب عطا فرمایا ہے حتیٰ کہ انبیائے کرام کے وارث بننے کا منصب بھی
علما ہی کو ملا ہے اس کے ساتھ ساتھ اللہ پاک نے اہل علم کو دیگر فضائل کے ساتھ
ساتھ اپنی وحدانیت پر گواہ بھی بنایا ہے چنانچہ ارشادِ باری ہے: شَهِدَ اللّٰهُ
اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ
قَآىٕمًۢا بِالْقِسْطِؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ(۱۸) ترجَمۂ کنزُالایمان: اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں
نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہو کر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت
والا۔(پ3 ، آل عمران :18)
نیز احادیث مبارکہ میں بھی
علمائے کرام کے بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں ایک حدیث مبارکہ میں فرمایا: إِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ
الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ
وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا
وَلَا دِرْهَمًا، وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ (سنن ابو داؤد کتاب
العلم ،حدیث : 3641 )
نیز علما ہی تو ہیں جو لوگوں کو راہِ راست پر
لاتے ہیں شریعت کے احکام سکھاتے ہیں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہر شخص کو زندگی کے ہر
شعبہ میں علما کی رہنمائی کی سخت حاجت ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن بھی لوگوں کو
علما کی حاجت ہوگی ۔
علمائے کرام کی اتنی اہمیت و فضائل کے باوجود آج
لوگ علما سے دور ہیں بلکہ علما کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں اسی
مناسبت سے علمائے کرام کے چند حقوق بیان کیے جا رہے ہیں تاکہ ان پر عمل کرتے ہوئے
ہم اپنے عمل میں بہتری لا سکیں ۔
(1)علما
سے حصولِ علم اور وابستگی: ہر شخص کو چاہیے کہ وہ علما سے علم دین حاصل کرنے کی کوشش
کرتا رہے اور علما سے وابستہ رہے اور علما کی مجلس میں حاضر ہوتا رہے اور کم از کم
ایک صحیح العقیدہ سنی عاشق رسول عالم دین سے اچھا رابطہ ہونا چاہیے اس کے کئی
فوائد ہیں ۔
مجلس علما کے سات فائدے: (حضرت سیدنا) فقیہ ابواللیث
سمرقندی (رحمۃُ اللہِ علیہ) فرماتے ہیں
کہ جو شخص عالم کی مجلس میں جاوے اُس کو سات فائدے حاصل ہوتے ہیں اگر چہ اس سے استفادہ (کوئی فائدہ حاصل) نہ کرے۔(1) جب تک اس
مجلس میں رہتا ہے گناہوں اور فسق و فجور سے بچتا ہے۔ (2) طلبہ میں شمار کیا جاتا ہے۔( 3) طلب علم کا ثواب پاتا ہے۔(4) اس رحمت
میں کہ جلسہ علم (علم کی مجلس) پر نازل ہوتی ہے شریک ہوتا ہے۔(5) جب تک علمی باتیں
سنتا ہے عبادت میں ہے۔(6) جب کوئی دقیق (مشکل) بات اُن (علما) کی اس کی سمجھ میں
نہیں آتی (تو) دل اس کا ٹوٹ جاتا ہے اور شکستہ دلوں (ٹوٹے دل والوں) میں لکھا جاتا ہے۔ (7) علم و علما کی عزت
اور جہل وفسق (بے علمی وبرائی) کی ذلت سے واقف ہو جاتا ہے۔ (فیضانِ علم علما، ص
29)
خلاصہ: جب صرف عالم کی مجلس میں بیٹھنے کے
اتنے فوائد ہیں تو جو علم دین حاصل کرنے اور خدمت کی نیت سے حاضر ہوگا اس کو کتنے
فوائد حاصل ہونگے۔
خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللہ
علیہ نے 6 چیزوں کے متعلق فرمایا انکی زیارت کرنا عبادت ہے ان میں سے ایک چیز علما
کی زیارت کرنا بھی ہے ۔(دلیل العارفین مترجم ،ص 51ضیاءالقراٰن پبلشر)
(2):علما کی اطاعت و فرمانبرداری: اہل علم کا ایک اہم حق یہ
ہے کہ یہ جو دین کی باتیں بتائیں اس پر انکی اطاعت کی جائے ارشاد باری ہے : یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی
الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور
ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں ۔(پ5، النساء : 59 )
اس آیت میں اولو الامر سے
مراد دینی حکماء بھی مراد ہیں۔ جیسے عالم، فقیہ، مرشد ،لیکن دینی حکام ہوں یا دنیاوی
انکی اس وقت اطاعت کی جائے گی جب وہ قراٰن و حدیث کے مخالف نہ ہو۔ (نور العرفان، ص
137 ،ملخّصًا )
ایک اور آیت میں ہے : فَسْــٴَـلُوْۤا
اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۷) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو۔(پ
17 ، الانبيآ : 7)
بکثرت احادیث میں بھی علما کی اطاعت کی ترغیب دی
گئی ہے، ان میں سے 2 اَحادیث درج ذیل ہیں :
(1) عن أبي رقية تميم بن أوس الداري رضي الله عنه أن
النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الدين النصيحة» قلنا: لمن؟ قال: «لله، ولكتابه، ولرسوله، ولأئمة المسلمين وعامتهم» حضرت تمیم داری رضی
اللہُ عنہ سے مروی ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
دین خیر خواہی (کا نام) ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم نے عرض کی: یا رسولُ اللہ
!صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، کس کی خیر خواہی کریں ؟ ارشاد فرمایا : اللہ پاک کی،
اس کی کتاب کی، اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی، مسلمانوں کے امام کی
اور عام مؤمنین کی۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب بیان انّ الدین النصیحۃ، ص47، حدیث: 55)
(2)حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ مؤمن کا دل ان
پر خیانت نہیں کرتا (1) اللہ پاک کے لیے خالص عمل کرنا۔ (2 ) علما کی اطاعت کرنا
اور (3) (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑنا ۔ (مسند امام احمد، مسند المدنیین، حدیث
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ، 5 / 615، حدیث: 16738)
(3)علما کا احترام کرنا : عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ
لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا سیدنا عبادہ بن صامت رضی
اللہ پاک عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پیارے اور آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے ،اور ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ
کرے اور ہمارے عالم کو نہ پہچانے وہ میری امت میں سے نہیں۔ (الترغیب، حدیث: 169،
رواه أحمد والترمذي)
ایک اور حدیث مبارکہ ہے إن من إجلال الله عز وجل: إكرام ذِي الشَّيْبَةِ
الْمُسْلِمِ، وَحَامِل القراٰن غَيْر الغالي فيه والجافي عنه، وإكْرَامِ ذِي
السُّلطان المقسط یعنی نبی کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے کہ : سفید ریش ، بزرگ مسلمان کے ، حامل قراٰن
(حافظ ، قاری و عالم ) کی جو نہ قراٰن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے والا ہو اور
نہ اس سے اعراض و بے وفائی کرنے والا ہو اور منصف بادشاہ کی عزت کرنا اللہ تعالی کی
عزت کرنے کے ہم معنی ہے۔ ( سنن ابو داود بتاب الادب، حدیث : 4843، سنن ابو داود بروایت ، ابو موسی )
عن ابی بکرۃ رضی اللہ عنہ قال سمعت النبی صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یقول : اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا أَوْ
مُسْتَمِعًا أَوْ مُحِبًّا ، وَلَا تَكُنِ الْخَامِسَةَ فَتَهْلِكَ ترجمہ : حضرت سیدنا ابوبکر ہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں فرماتے
ہیں میں نے حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ
:عالم بنویا طالبِ علم بنو یا علمی گفتگو کو کان لگا کر سننے والے بنو، یا علم اور
اہلِ علم سے محبت رکھنے والے بنو، مذکورہ چار کے علاوہ پانچویں قسم کے مت بنو، کہ
ہلاک ہو جاؤ گے اور پانچویں قسم یہ ہے کہ تم علم اور اہل علم حضرات سے بغض رکھو ۔ (شرح
مشكل الآثار ، 10/ 406 ،باب بيان مشكل ماروي عن رسول اللہ)
(4): علما کی برائی اور عیب جوئی سے بچنا : تاریخ شاہد ہے کہ دشمنانِ
اسلام نے اسلام کو مٹانے کی ہر دور میں ہر ممکن کوشش کی ہے اور انہیں یہ بھی معلوم
تھا کہ جب تک مسلمانوں کا تعلق علمائے حق اور علمائے ربانیین سے بنا رہے گا وہ
اسلام پر باقی رہیں گے۔ لہذا انہوں نے اپنے مذموم مقاصد کو بروئے کار لانے کی خاطر
عام مسلمانوں کو وارثینِ انبیا یعنی علماءئے حق سے دور کرنے کی سازشیں شروع کیں
اور علما کے تعلق سے لوگوں کے دلوں میں اس قدر نفرت اور دوری پیدا کی کہ وہ صحیح
اسلام سے دور ہوگئے۔ اور لوگ علما کی برائیاں کرنے لگے اور بغض رکھنے لگے حتی کہ
کچھ لوگوں نے مولوی اور ملا کو گالی بنا لیا ۔
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا کارواں
کے دل سے احساسِ زِیاں جاتا رہا
اگر اہل علم کے عیوب کو
برملا بیان کیا گیا تو اس سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جائے گا اور یہ اعتماد نہ صرف
اہل علم سے اٹھے گا بلکہ علم دین سے بھی اٹھ جائے گا لہذا ہر وقت ہمیں احتیاط کرنی
ہے کبھی بھی علمائے حق کے بارے میں زبان درازی نہیں کرنی ۔
عالم کی توہین کے حوالے
سے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : عالم کی توہین کی تین صورتیں ہیں : (1)
اگر عالم (دین) کو اس لئے بُرا ہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہے (2) اور بوجہ
علم اس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دُنیوی خُصومت (دشمنی) کے باعث برا
کہتا ہے (گالی دیتا ہے اور) تحقیر کرتا ہے تو سخت فاجر ہے (3) اور اگر بے سبب (بلا
وجہ ) رنج (بغض) رکھتا ہے تو مَرِيضُ
القَلْبِ وَخبيتُ الباطن (دل کا مریض اور ناپاک باطن والا ہے) اور اس (خواہ مخواہ بغض رکھنے والے ) کے
کفر کا اندیشہ ہے۔ خلاصہ (کتاب) میں ہے: من اَبغَضَ عَالَمَا مِنْ غَيْرِ سَبَبٍ ظَاهِرٍ خِيْفَ عَلَيْهِ الكُفر یعنی جو بلا کسی ظاہری
وجہ کے عالم دین سے بغض رکھے اس پر کفر کا خوف ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ، ج21/ 129،
مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )
نوٹ: مزید علم دین و علما کی توہین کے متعلق احکامات معلومات حاصل کرنے کے لیے امیر اہلسنت کی
کتاب کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب صفحہ نمبر242تا 359 مطالعہ فرمائیں ۔
(5) علما کی خدمت کرنا : فی زمانہ علما کی خدمت
کرنے کی سخت حاجت بھی ہے اور اس کے فوائد دنیا میں ملنے کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی
بڑے فوائد حاصل ہونگے یہاں تک کہ لوگ علمائے کرام کے پاس بھی سفارش طلب کرنے آئیں
گے کہ ہم نے آپ کے وضو کے لیے فلاں وقت میں پانی بھردیا تھا، کوئی کہے گا ہم نے
فلاں خدمت کی تھی آپ کی،علما ان تک کی شفاعت کریں گے۔(بہار شریعت،1/141ملخصاً)
خلاصہ: مسجد و مدرسہ اذان و نماز و اسلام آج
بھی صرف اور صرف علما کے دم سے قائم ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک مدارس مساجد اور
علما کے دم سے قائم و دائم رہیں گے صبح محشر تک یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کے
کلمات سے منوّر رہے گی علما کی کمزوریوں، خامیوں کے باوجود وہی اس دین کے اصل
نگہبان ہیں۔ تمام توقعات انہی سے ہیں، ان کے وجود کے بغیر اسلام زندہ نہیں رہ سکتا۔
حقیقت یہی ہے کہ علما ہی حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مسند اور ان
کے علم کے اصل وارث ہیں۔ ان کی عزت، ان سے محبت، ان کی تقلید ،ان کی اتباع ہم سب
کا دینی فریضہ ہے۔ جو معاشرہ اور تہذیب علما کی عزت نہیں کرتی یا عزت تو کرتی ہے مگر ان کے حکم کی تعمیل نہیں کرتی۔ وہ تہذیب
جلد صفحہ ہستی سے مٹادی جاتی ہے یا عبرت کی ایک شرمناک داستان بن جاتی ہے ۔
اللہ پاک ہمیں علما کے
حقوق کی رعایت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم
دینِ اسلام حقوق کا دین
ہے اس میں ہر ایک کے دوسرے پر کیا کیا حقوق ہیں ان کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً والدین
کے حقوق ، اولاد کے حقوق ، پڑوسیوں کے حقوق ، رشتہ داروں کے حقوق ، حکمرانوں کے
حقوق ، رعایا کے حقوق وغیرھم ۔
ہم علمائے کرام کثرھم
اللہ کے حقوق پڑھنے کی سعادت حاصل کریں گے ۔ علما کو اللہ پاک نے بہت بڑا مرتبہ و
مقام عطا فرمایا اور قراٰن و حدیث میں ان کی شان بیان ہوئی اسی طرح قراٰن و حدیث میں
ان کے حقوق بھی بیان کیے گئے کہ علما کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے ۔
(1) علما کا احترام کرنا : علما کا ایک بنیادی اور
بہت اہم حق یہ ہے کہ ان کا دل و جان سے احترام کیا جائے چنانچہ حدیث پاک میں ارشاد
ہوا کہ بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا ، حامل قراٰن ( عالم ) کی تعظیم کرنا جو کہ قراٰن
میں غلو کرنے والا اور قراٰن سے کنارہ کشی کرنے والا نہ ہو اور عادل بادشاہ کی تعظیم
کرنا اللہ کی تعظیم کا ہی ایک حصہ ہے ۔(ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب فی تنزیل
الناس منازلہم ، حدیث: 4873)
اسلافِ امت رحمہم اللہ بھی
علما کا احترام فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس خود ایک جید عالم
ہونے کے باوجود زین بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سواری کی مہار تھامے اور فرمایا : ہمیں
اپنے علما اور بڑے بزرگوں کا اسی طرح ادب بجا لانے کا حکم دیا گیا ۔
(2) علما سے علم کا حصول: حقوقِ علما میں سے یہ بھی
ہے کہ ان سے علم حاصل کیا جائے چنانچہ حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جو علم کی تلاش میں چلے گا اللہ اس کے ذریعے
اس شخص کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دے گا ۔(سنن ابی داؤد ، کتاب العلم ، حدیث:
3640)
(3) علما کی برائی سے بچنا: علما کی گستاخیاں ، ان پہ
طعنہ زنی کرنا اور ان کی برائی کرنا عموماً گمراہ لوگوں کا کام ہوتا ہے علما کی
برائی سے بچنا لازم ہے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ شریف میں ہے کہ اگر عالم کو اس لئے برا
کہتا ہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہے اور اگر بوجہِ علم اس کی تعظیم فرض جانتا
ہے مگر اپنی کسی دنیوی خصومت ( جھگڑے ) کے باعث برا کہتا ہے گالی دیتا ، تحقیر
کرتا ہے تو سخت فاسق فاجر ہے اگر بے سبب رنج رکھتا ہے تو مریض القلب خبیث الباطن
ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ( ڈر ) ہے۔(فتاوی رضویہ، 21 / 130)
(4) ہم عصر علما کے آپسی اختلافات میں خاموشی
اختیار کرنا: جرح و تعدیل میں علما کے
اقوال اور ان کی آپس میں ایک دوسرے کے متعلق باتیں یہ ایک علمی معاملہ ہے اس میں
اختلاف ہوتا رہتا ہے جس میں ہم پہ لازم و ضروری ہے کہ صحیح العقیدہ علما کے بارے میں
کوئی بھی ایسی بات کرنے سے اجتناب برتیں جس کی شریعت میں ممانعت وارد ہے اسی لیے
علما نے فرمایا کہ ہم عصروں ( ایک دور کے لوگ ) کی آپسی چپقلش کو سمیٹا جائے گا
عام نہیں کیا جائے گا۔
علما پر اعتماد قائم رکھنا: بعض اوقات عوام علما سے
کسی ایسے امر کا مطالبہ کرتے ہیں جس کو علما نہیں کرتے کیونکہ وہ اس کام کے انجام
اور نتائج پہ نظر رکھتے ہیں کیونکہ بعض مصلحتوں کے لیے اس کام کو نہیں کیا جاتا کہ
یہ آگے جا کے کسی فساد و برائی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا فلہذا کبھی کوئی ایسا معاملہ
ہو تو علما پہ یقین رکھیں علما پہ اعتماد بحال رکھیں اور بدظن ہونے سے بچتے رہیں ۔
اللہ پاک ہمیں علمائے
کرام کے حقوق بجا لانے اور ان کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami