قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا اسلامی نقطہ نظر میں جائز نہیں قرض کی ادائیگی میں سستی یا ٹال مٹول کرنے کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مالدار قرض ادا کرنے کی طاقت رکھنے والے کا ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری، 2/109، حدیث:2400)

اور فرمایا: مومن کی روح اس کے قرض کے ساتھ معلق رہتی ہے یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کر دیا جائے۔ (ابن ماجہ، 3/145، حدیث: 2413)

اللہ کی راہ میں جان دینے والے شہید کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں لیکن قرض کا بوجھ پھر بھی باقی رہتا ہے۔(مسلم، ص 1046، حدیث: 1886)

قرآن پاک میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ- (پ 2، البقرۃ: 282) ترجمہ: اے ایمان والو جب تم ایک مقررہ مدت کے لیے آپس میں قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔

قرآن کی رو سے قرض کی ادائیگی ایک عہد ہے جسے پورا کرنا ایمان کا حصہ ہے جو شخص استطاعت کے باوجود تاخیر کرتا ہے وہ وعدہ خلافی میں مبتلا ہوتا ہے، قرض لینے والے کو چاہیے کہ جتنی جلدی ہو سکے اپنا بوجھ ہلکا کرے، اگر مقروض واقعی غریب ہو تو اس کے پاس ادائیگی کا کوئی ذریعہ نہیں تو اس کی مختلف صورتیں ہیں، ایسی صورت میں تاخیر کرنا گناہ یا ظلم نہیں، قرض دینے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ مقروض کی مجبوری دیکھ کر اسے مہلت دے یا پھر قرض معاف کر دے جس پر اس سے اجر ثواب ملے گا۔

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) (پ 3، البقرۃ: 280) ترجمہ کنز الایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلاہے اگر جانو۔

الغرض ہمیں اپنا قرض جلد از جلد اتارنا چاہیے جو قرض ادا کرنے کی نیت رکھتا ہے اللہ پاک اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے اور جو ٹال مٹول کی نیت رکھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے مال کو تباہ کر دیتا ہے قرض کا تعلق حقوق العباد سے ہے جو محض توبہ یا اللہ تعالی کی عبادت سے معاف نہیں ہوتا جب تک کہ صاحب حق اسے معاف نہ کرے یا اسے اس کا حق نہ مل جائے۔

رشتہ داروں یا دوستوں سے اگر قرض لیا ہو تو تاخیر سے ادائیگی تعلقات میں تناؤ پیدا کر سکتی ہے، غیر ضروری اخراجات ختم کر کے قرض ادا کرنے میں جلدی کی جائے قرض خواہ کی بددعا سے بچیں کیونکہ جب آپ کسی کا مال روک کر یا اسے ذہنی اذیت میں مبتلا کرتے ہیں تو وہ مظلوم بن جاتا ہے اس کی آہ سے بچنا ایمان کا تقاضا ہے۔

ابتدائے اسلام میں نبی کریم ﷺ اس شخص کا نماز جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جس کے ذمے قرض ہوتا جب تک دوسرا اس کی ادائیگی کی زمہ داری نہ لے لیتا یہ اس بات کی علامت ہے کہ قرض میں تاخیر یا عدم ادائیگی کتنی بڑی رکاوٹ ہے۔

فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے پاس مال ہو اور اس پر قرض بھی ہو تو اس کے لیے نفلی حج یا نفلی عمرہ یا صدقہ خیرات کرنے سے پہلے قرض ادا کرنا واجب ہے، اگر کسی کو اپنی جائیداد یا کوئی اور چیز بیچ کر بھی قرض اتارنا پڑے تو ضرور قرض اتارے۔


کسی شخص کادین یاقرض ادا کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود اپنے وعدے پر دین یاقرض ادا نہ کرنا اورٹال مٹول سے کام لینا ظلم اور بہت بڑا گناہ ہے،اس پر احادیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔

یہ معاملہ حقوق العباد کا ہے اور اللہ تعالی حقو ق العباد کو اس وقت تک معاف نہیں فرماتاجب تک بندہ خود معاف نہ کردے،لہذا ایسا شخص اگر اسی حالت میں مر گیا کہ لوگوں کا دین اس پرباقی رہاتو بروز محشر قرض دینے والوں کے تقاضے پر اس کی نیکیاں ان (قرض خواہوں)کو دی جائیں گی اور جب اس کےپاس نیکیاں نہیں رہیں گی،تو ان (قرض خواہوں) کے گناہ اس پر ڈالے جائیں گے، لہذا دکان داروں پر لازم ہے کہ جب ادھار مال خریدیں،تو اس کی ادائیگی کی وہی مدت طے کریں جس پر وہ ادا کرسکیں اور پھر جب ادائیگی کا وقت آجائے،تو بلا حیل وحجت ادائیگی کریں تاکہ حق العبد کے گناہ میں مبتلا ہونے سے بچ سکیں۔

اچھی نیت سےقرض لینا: اگر کوئی شخص ادا کرنے کی نیت سے قرض لے تواللہ اس کی اچھی نیت کی بدولت اس کے لیے اسباب پیدا فرما دے گا جس سے اس کا قرض اتر جائے گا۔حضور اکرم، نورمجسم ﷺ کا فرمان معظم ہے: جس شخص نے لوگوں کا مال (بطورقرض) لیا او ر وہ اس کے ادا کرنے کی نیّت رکھتا ہے تو اللہ اس کی طرف سے ادا کردیتا ہے اور جو ہضم کرنے کے لیے لیتا ہے اللہ اسے ادا کرنے کی توفیق نہیں دیتا۔ (بخاری، 2/105، حدیث:2387)

اس حدیث پاک کے تحت شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ حسنِ نیت کی برکت اور بدنیتی کی نحوست کا بیان ہے کہ جو شخص انشراحِ صدر کے ساتھ ادا کرنا چاہے گا اللہ اس کی مدد فرمائے گا تاکہ وہ آخرت کے مواخذہ سے بچ سکے اور جس کی نیت میں فتور ہوتا ہے اسے اس توفیق سے محروم رکھتاہے اور وہ قرض ادا نہ کرنے کے وبال میں گرفتار رہتاہے۔

حدیث شریف میں ہے: کوئی مقروض نہیں جو قدرت کے باوجود اپنے قرض دينے والے کو ٹالے،مگر یہ کہ اللہ ہر دن اور رات میں اس پر گناہ لکھتا ہے۔ (شعب الایمان، 7/530، حدیث:11232)

ایک روایت میں ہے:قرض میں ٹال مٹول کرنا شیطان کا شعار ہے، جو وہ مومنین کے دل میں ڈالتا ہے۔ (جامع الصغیر، 3/373)

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) (پ 3، البقرۃ: 280) ترجمہ کنز الایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلاہے اگر جانو۔ اس آیت مبارکہ کے تحت صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا جزو یا کل معاف کردینا سبب اجر عظیم ہے۔

حدیث مباركہ میں وعید: رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:غنی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)

”مطل الغنى ظلم“ کی شرح کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں: یعنی جس مقروض کے پاس ادائے قرض کے لیے پیسہ ہو پھر ٹالے، تو وہ ظالم ہے، اسے قرض خواہ ذلیل بھی کرسکتا ہے اور جیل بھی بھجواسکتا ہے،یہ شخص مقروض گنہگار بھی ہوگا کیونکہ ظالم گنہگار ہوتا ہی ہے۔ (مراۃ المناجیح،4 /342)

الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان ہونے کے ناطے دوسرے مسلمانوں کے جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ ہم پر لازم ہے۔جس طرح دوسری عبادات ہم پر فرض کی گئی ہیں اسی طرح اسلام ہمیں حقوق العباد کو پورا کرنے کا درس دیتا ہے۔ بدقسمتی سے آج مسلمان دوسرے مسلمانوں کی حق تلفی کرنے میں ذرا بھی خوف و شرم محسوس نہیں کرتے۔ان میں سے سب سے اہم حق ادائیگی قرض میں تاخیر ہے۔ کسی سے قرض لینے کے بعد اسکی ادائیگی نہیں کی جاتی یا پھر بہت تاخیر کردی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے قرض دینے والے کو بہت سے مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مال و اسباب موجود ہونے کے باوجود قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والوں سے متعلق بہت سی حدیث مبارکہ وارد ہیں، چنانچہ: آقا ﷺ نے فرمایا: مالدار کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)

جس شخص کے پاس قرض کی ادائیگی کے اسباب موجود ہوں اور اس کے باوجود بھی وہ قرض ادا نہ کرے تو وہ ظالم ہے۔

قرض دار کا جنازہ: حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے یہاں نماز جنازہ پڑھنے کے لیے ایک میت لائی گئی۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا اس میت پر کسی کا قرض تھا؟ لوگوں نے کہا: نہیں، آقا علیہ السلام نے ان کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ پھر ایک اور جنازہ آیا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: میت پر کسی کا قرض تھا؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ یہ سن کر آقا علیہ السلام نے فرمایا: پھر اپنے ساتھی کی تم ہی نماز پڑھ لو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ان کا قرض میں ادا کردوں گا، تب آقا علیہ السلام نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ (بخاری،2/72، حدیث:2289)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ قرض کی جلد ادائیگی کتنی ضروری ہے قرض ادا نہ کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھانے سے حضور اکرم ﷺ نے منع فرما دیا۔ لہذا جتنی جلدی ہو سکے قرض ادا کردینا چاہیے۔ ادائیگی قرض میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک طرح کی امانت ہے جو کہ اس کے مالک کو لوٹانا ضروری ہے۔ امانت میں خیانت کرنا مومن کی شان کے خلاف ہے۔

چنانچہ قرآن پاک میں اس کا ذکر یوں آیا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- (پ 5، النساء: 58) ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل تک پہنچا دو۔

قیاس کیا جائے تو قرض بھی ایک امانت ہے اور اللہ پاک نے امانت اس کے مالک کو لوٹانے کا حکم ارشاد فرمایا۔

یہ معاملہ حقوق العباد کا ہے اور اللہ حقوق العباد کو اس وقت تک معاف نہیں فرماتا جب تک بندہ خود معاف نہ کر دے۔ لہذا ایسا شخص جس پر کسی کا قرض ہو اور وہ اسی حالت میں مرگیا تو روز محشر قرض دینے والوں کے تقاضے پر اس کی نیکیاں (قرض خواہوں) کو دے دی جائیں گی اور جب اس کے پاس نیکیاں نہیں رہیں گی تو قرض خواہوں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔ لہذا جس جس کا قرض اپنے ذمے ہو، اسے فوراً ادا کر دیجیے اور اپنی دنیا و آخرت کو برباد ہونے سے بچا لیجیے۔

شیطان کا شعار: قرض میں ٹال مٹول کرنا شیطان کا شعار ہے جو وہ مومن کے دل میں ڈالتا ہے۔ (جامع صغیر، 3/373)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: جس مقروض کے پاس ادائے قرض کے لیے پیسے ہوں پھر بھی ٹالے تو وہ ظالم ہے۔ اسے قرض خواہ ذلیل بھی کر سکتا ہے اور جیل میں بھی بھجوا سکتا ہے۔ اور مقروض گناہگار بھی ہو گا کیونکہ ظالم گناہگار ہی ہوتا ہے۔ (مراۃ المناجیح، 4/342)

معلوم ہوا کہ قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول اور تاخیر کرنے سے دنیا و آخرت دونوں کا نقصان ہے۔ ایسا شخص دنیا میں بھی ذلیل و رسوا ہو کر نقصان اٹھاتا ہے اور آخرت کی بربادی کا سامان بھی اکھٹا کرتا ہے۔ لہذا ابھی بھی وقت ہے اگر کسی کا قرض ناحق دبایا ہوا ہو تو اسے فوراً ادا کر دیں۔ عذاب الٰہی سے ڈریں اور اپنی دنیا و آخرت برباد ہونے سے بچائیں۔

اللہ پاک ہمیں بھی وقت پر قرض کی ادائیگی کرنے اور حقوق العباد پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


قرض کی تعریف: قرض سے مرادو وہ مال رقم یا اشیا ہے جو ایک شخص یعنی قرض خواہ دوسرے شخص یعنی مقروض کو اس شرط پر دیتا ہے کہ وہ مقررہ وقت پر اتنی ہی مقدار میں یا ویسے ہی مال واپس کرے گا یہ ایک مالی ذمہ داری ہے جس میں مقروض پر اصل رقم واپس کرنا واجب ہوتا ہے۔ (جامع الکتب، 1/34)

قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا کیسا: قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا اخلاقی سماجی اور شرعی لحاظ سے انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے خاص طور پر جب ادائیگی کی استطاعت موجود ہو اور فقائے کرام نے بلا حاجت شرعی ادائے قرض میں تاخیر کو بھی ظلم قرار دیا ہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ کرنا تو اس سے بھی سخت تر معاملہ ہے اس بارے میں حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے اور اس سے بچنے کی کوشش کریں۔

سرکار علی وقار ﷺ نے فرمایا: استطاعت والے کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا اس کی آبرو یعنی عزت اور اس کی سزا کو حلال کر دیتا ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث: 2400)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: شہید یعنی وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں جان دی ہے اور اس کا ہر گناہ معاف ہو جائے گا سوائے قرض کے۔ (مسلم، ص 1046، حدیث: 1886)

اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 2، البقرۃ: 188) ترجمہ: اور تم لوگ آپس میں دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔

قرض نہ دینے کے نقصانات: کسی شخص کا دین یا قرض ادا کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود اپنے وعدے پر دین یا قرض ادا نہ کرنا سب گناہ ہے یہ معاملہ حقوق العباد کا ہے اللہ پاک حقوق العباد کو معاف نہیں فرماتا جب تک بندہ خود معاف نہ کرے لہذا اگر ایسا شخص اسی حالت میں مر گیا کہ لوگوں کا دین اس پر باقی رہا تو وہ روز محشر قرض دینے والے کے تقاضے پر اس کی نیکیاں یعنی قرض خواہ کو دی جائیں گی اور جب اس کے پاس نیکیاں نہیں رہیں گی تو ان قرض خواہوں کے گناہوں اس پر ڈالے جائیں گے۔

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ کبیرہ گناہ جن سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے ان کے بعد اللہ کے نزدیک سب گناہوں سے بڑا یہ کہ آدمی اپنے اوپر دین چھوڑ کر مرے اس کے ادا کے لیے کچھ نہ چھوڑا ہو۔ ابوداود، 3/334، حدیث: 3342


اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو نہایت خوبصورتی اور توازن کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ انسان کو اس زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا گیا تاکہ وہ عدل، انصاف اور بھلائی کو فروغ دے۔ مگر جب انسان اپنی ذمہ داریوں کو بھول جاتا ہے اور ظلم، ناانصافی، اور برائی کو اختیار کرتا ہے تو زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر"فساد فی الارض" کی مذمت فرمائی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد۔(الاعراف:56)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے درست نظام کے ساتھ بنایا، لیکن انسان کے غلط اعمال اس نظام کو بگاڑ دیتے ہیں۔ فساد فی الارض کا مطلب صرف جنگ و جدل نہیں بلکہ ہر وہ عمل ہے جو معاشرے، ماحول یا انسانیت کے لیے نقصان دہ ہو۔

فساد کی کئی صورتیں ہیں: مثلاً ظلم و زیادتی، رشوت، دھوکہ دہی، ناانصافی، قتل و غارت، اور حقوق العباد کی پامالی یہ فساد کی اقسام میں شامل ہیں۔ اسی طرح ماحول کو نقصان پہنچانا، درخت کاٹنا، پانی کو آلودہ کرنا بھی جدید دور کے فساد میں شمار ہوتا ہے۔

قرآنِ پاک میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (القصص:77)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ جو لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہ اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ اصلاح کرتے ہیں، انصاف قائم کرتے ہیں اور لوگوں کے درمیان بھلائی پھیلاتے ہیں، وہ اللہ کے پسندیدہ بندے ہوتے ہیں۔

آج کے دور میں فساد کی شکلیں مزید پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانا، لوگوں کی عزت اچھالنا، نفرت انگیز باتیں کرنا بھی فساد کی جدید صورتیں ہیں۔ اسی طرح معاشی بدعنوانی، ذخیرہ اندوزی، اور غریبوں کا حق مارنا بھی معاشرتی فساد ہے۔اسلام ہمیں فساد سے بچنے اور اصلاح کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سچ بولیں، انصاف کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، اور معاشرے میں امن و محبت کو فروغ دیں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے تو معاشرہ خود بخود بہتر ہو سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ فساد فی الارض ایک سنگین گناہ ہے جس کے نتائج دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان دہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآنِ پاک کی تعلیمات پر عمل کریں اور زمین پر امن، عدل اور بھلائی قائم کرنے کی کوشش کریں۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ  فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز کے تحت شیرانوالہ برانچ لاہور میں جامعۃ المدینہ آن لائن لاہور کے شفٹ تعلیمی ذمہ داران کے لیے ایک دن کا سنتوں بھرا اجتماع منعقد ہوا۔

اجتماع میں اکیڈمی کے رکنِ شعبہ اور نگرانِ جامعۃ المدینہ آن لائن مولانا محمد عرفان عطاری نے جامعۃ المدینہ کے شفٹ تعلیمی ذمہ داران کی تنظیمی اعتبار سے تربیت کی جبکہ ڈویژن تعلیمی ذمہ دار مولانا فہد عطاری مدنی نے ”مؤثر تفتیش“کے موضوع پر اور شفٹ تعلیمی ذمہ دار مولانا احمد حنفی عطاری مدنی نے ”ٹائم مینجمنٹ“کے موضوع پر معلوماتی پریزنٹیشنز دیں تاکہ آن لائن تعلیمی نظام کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔(رپورٹ:مولانا محمدوقار یعقوب عطاری مدنی برانچ منیجر فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے شعبہ  فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز کے تحت شیرانوالہ برانچ لاہور میں پچھلے دنوں سنتوں بھرا اجتماع منعقد کیا گیا جس میں لاہور سٹی کے تمام شفٹ تعلیمی ذمہ داران نے شرکت کی۔

اجتماع کے دوران نگرانِ شعبہ مولانا یاسر رضا عطاری مدنی نے شرکا کی تربیت و رہنمائی کرتے ہوئے شعبے کی ترقی کے حوالے سے چند اہم امور پر گفتگو کی۔

اسی طرح نگرانِ شعبہ نے شفٹ تعلیمی ذمہ داران کے تنظیمی و تعلیمی سوالات کے جوابات دیے اور انہیں اکیڈمی کے نظام کو مزید بہتر بنانے سمیت دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔(رپورٹ:مولانا محمدوقار یعقوب عطاری مدنی برانچ منیجر فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، جوہر ٹاؤن لاہور میں 27 جولائی 2026ء کو مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا  جس میں لاہور سٹی کے معاونت ذمہ دار اور ڈسٹرکٹ و ٹاؤن ذمہ داران موجود تھے۔

اس دوران رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ مولانا حاجی ابو ماجد محمد شاہد عطاری مدنی نے مدنی مشورے میں تنظیمی اہداف پر گفتگو کرتے ہوئے یوسی سطح پر تقرریوں، گلی گلی مدرسۃ المدینہ بالغات اور ہفتہ وار اجتماع میں اضافے پر کلام کیا۔

اس کے علاوہ رکنِ شوریٰ نے فیضانِ صحابیات رہائشی کورسز میں داخلوں کی تعداد بڑھانے، ایک ماہ / 3 دن کے قافلوں اور ہر ماہ محارم کے 2 سیکھنے سکھانے کے اہداف بھی طے کیے ۔ اس موقع پر نگرانِ شعبہ غلام الیاس عطاری بھی موجود تھے۔(رپورٹ: طاہر اقبال عطاری، شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں پاکستان، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے شعبہ روحانی علاج کے تحت مدنی مرکز فیضانِ مدینہ آفندی ٹاؤن حیدرآباد میں 3 دن (25، 26 اور 27 جولائی 2026ء کو) کے روحانی علاج کورس“ کا انعقاد کیا گیا جس میں حیدرآباد ڈویژن اور اطراف کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

معلومات کے مطابق 25 تا 27 جولائی 2026ءتک جاری رہنے والے اس کورس میں شعبے کے معلم احمد رضا عطاری نے مختلف موضوعات پر حاضرین کی رہنمائی کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭تعویذات لکھنےکا طریقہ٭ دم / کاٹ کرنے کے طریقے٭ ضروری احتیاطیں ٭شعبے کی نئی اپڈیٹس سے متعلق گفتگو کی۔

اس کے علاوہ معلم احمد رضا عطاری نے کورس میں شریک عاشقانِ رسول میں امت کی غمخواری کا جذبہ بیدار کرتے ہوئے انہیں دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں عملی شمولیت کی ترغیب دلائی۔(رپورٹ: سمیر علی عطاری اسسٹنٹ منیجر شعبہ روحانی علاج ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

دعوتِ اسلامی کے شعبہ روحانی علاج کے تحت پنجاب پاکستان میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ننکانہ میں 3 دن کے (25، 26 اور 27 جولائی 2026ء کو)”روحانی علاج کورس“ کا انعقاد کیا گیا جس میں ننکانہ ڈویژن اور اطراف کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

معلومات کے مطابق 25 تا 27 جولائی 2026ء تک جاری رہنے والے اس کورس میں شعبے کے معلم مولانا محمد عثمان عطاری مدنی نے مختلف موضوعات پر حاضرین کی رہنمائی کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭تعویذات لکھنے٭ دم / کاٹ کرنے کے طریقے٭ ضروری احتیاطیں ٭شعبے کی نئی اپڈیٹس سے متعلق گفتگو کی۔

اس کے علاوہ معلم مولانا محمد عثمان عطاری مدنی نے شرکا میں امت کی غمخواری کا جذبہ بیدار کرتے ہوئے انہیں دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں عملی شمولیت کی ترغیب دلائی۔(رپورٹ: سمیر علی عطاری اسسٹنٹ منیجر شعبہ روحانی علاج ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں  کے تحت ڈویژن سرگودھا، پنجاب میں ایک اہم مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں سرگودھا ڈویژن کے تمام اہم ذمہ داران بشمول ڈویژن ذمہ دار، ڈسٹرکٹ ومیٹروپولیٹن ذمہ داران اور تحصیل و ٹاؤن ذمہ داران شریک تھے۔

مدنی مشورے میں ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی رہنمائی کے لیے رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ مولانا حاجی ابو ماجد محمد شاہد عطاری مدنی اور نگرانِ شعبہ غلام الیاس عطاری موجود تھے جنہوں نے تنظیمی کاموں کو مزید منظم کرنے اور نئے اہداف کا تعین کرنے پر تفصیلی گفتگو کی۔

مدنی مشورے کے اہم نکات

مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن مولانا حاجی ابوماجد محمد شاہد عطاری مدنی اور نگرانِ شعبہ غلام الیاس عطاری نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے درج ذیل تنظیمی امور اور دینی سرگرمیوں پر کلام کیا:

٭گلی گلی مدرسۃالمدینہ: معاشرے میں عام خواتین کو درست قرآن پاک پڑھانے اور بنیادی دینی تعلیمات عام کرنے کے لیے ”گلی گلی مدرسۃ المدینہ“کے نظام کو مضبوط بنانا٭روحانی علاج بستوں کا آغاز: عوامی فلاح اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے نئے روحانی علاج کے بستے اوپن کرنا٭رہائشی کورسز میں اضافہ: اسلامی بہنوں کی اخلاقی و دینی تربیت کے لیے مختلف رہائشی کورسز کی تعداد کو بڑھانا٭نئے تقررات: تنظیمی ڈھانچے کو نچلی سطح پر مضبوط کرنے کے لیے یوسی (UC) نگران کا تقرر۔(رپورٹ: محمد علی رفیق عطاری شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں صوبہ پنجاب آفس، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، جوہر ٹاؤن لاہور میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 30 جولائی 2026ء کو تخصصات کے طلبہ کے لیے  ایک خصوصی بریفنگ سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ”حلال فوڈ کورس“ کے اغراض و مقاصد، فوائد اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

بیان میں طلبہ کی ذہن سازی کی گئی کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی مہارتوں (Skills) کو دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اپڈیٹ کریں اور ایسا عالمِ دین بنیں جو معاشرے کے جدید مسائل کو لوگوں کے فہم اور ان کی زبان کے مطابق حل کر سکے۔ درسِ نظامی کرنے والا ایک اچھا عالمِ دین دنیا کے ہر فیلڈ میں دوسروں سے بہتر پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، بس محنت، لگن اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ درکار ہے۔

حلال و حرام کی پہچان اور عالمی مارکیٹ کے حقائق

بریفنگ کے دوران حلال فوڈ انڈسٹری اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجز کے حوالے سے درج ذیل اہم نکات سامنے رکھے گئے:

٭درسِ نظامی کا ایک مقصد حلال و حرام کی پہچان کرنا ہے ٭الکحل کی اقسام اور شرعی حیثیت: الکحل کی ایک سے زائد اقسام ہیں، جن میں سے ایک عام طور پائی جاتی۔ ہمارے ہاں جو حرام ہے وہ ایتھانول ہے٭ بیرونِ ملک خنزیر کے ہر ہر جزء کو استعمال کیا جاتا ہے اور کوئی جزء ضائع نہیں کیا جاتا ٭ بیرونِ ملک میٹ (گوشت) یا چکن سے متعلق اشیا میں بھی شبہ پیدا ہو جاتا ہے٭ بیرونِ ملک ہر چیز کا ذائقہ بڑھانے یا اسے دیرپا رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ استعمال کرتے ہیں؛ جیسے الکحل کا چھڑکاؤ کرتے ہیں تاکہ چیز دیرپا رہے٭ سرٹیفکیشن دینے والے ادارے کسٹمرز کی یقین دہانی کے لیے کام کرتے ہیں، جن میں سے بعض ادارے معیار کے لحاظ سے اچھے ہوتے ہیں٭ خواہ کوئی چیز کسی اسلامی ملک ہی میں کیوں نہ بن رہی ہو، وہ اسے اپنے طے شدہ سٹینڈرڈ کے مطابق چیک کرتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کا بھی اپنا ایک سٹینڈرڈ ہے ٭ پاکستان کے سٹینڈرڈ کے مطابق مشینی ذبیحہ حلال نہیں ہے، جبکہ بعض اسٹینڈرڈز میں اسے حلال قرار دیا جاتا ہے٭ سرٹیفکیٹ دینے والے ادارے کسی ادارے سے الحاق کر کے سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔

”فقہ الحلال کورس“ کے چند اہم موضوعات

”فقہ الحلال کورس“ کے نصاب میں درج ذیل اہم چیزیں شامل کی گئی ہیں:

٭اس میں انگریزی (English) کو لازمی رکھا گیا ہے تاکہ اس کا مواد انگریزی میں ہو سکے٭مختلف سٹینڈرڈز کا جائزہ (Overview) پیش کیا جائے گا٭ ذبیحہ (ذبح) سے متعلق تمام شرعی مسائل بیان کیے جائیں گے٭ دارالافتاء کے تحقیقی کام (Research Work) سے متعلق آگاہی دی جائے گی٭ مستقبل کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی جائے گی۔