میڈیا (ذرائع
ابلاغ) سے مراد وہ تمام ذرائع ہیں جن کے ذریعے معلومات، خبریں اور نظریات عوام تک
پہنچائے جاتے ہیں۔ اس میں Print Media (اخبارات، رسائل) اور Electronic
media (ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ)،اور social
media (you tube , facebook ,
Instagram,Tick tock etc شامل ہیں۔میڈیا سے دور حاضر میں جس انداز
میں فوائد حاصل ہوئے ہیں اس سے ہم منہ نہیں پھیر سکتے مگر اس کے نقصانات بھی اپنی
جگہ موجود ہیں۔ چنانچہ آج کے دور میں میڈیا نوجوان نسل کی تباہی کا سبب بھی بن رہی
ہے چنانچہ چند درج ذیل ہیں:
حیاء
کے خاتمہ کا سبب: میڈیا
کے سبب بری فلمیں اور ویڈیوز تک رسائی اس قدر آسان ہوگئی ہے کہ جس کی وجہ سے کوئی
یہ نہیں کہہ سکتا کہ اکیلے میں بیٹھا بچہ کر کیا رہا ہے! اس کے سبب کہیں نہ کہیں
مثلا اشتہار میں بھی حیا سوز منظر نظر میں آتے رہتے ہیں جس کے سبب حیا ختم ہونا
شروع ہو جاتی ہے جبکہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ حیا ایمان سے ہے۔ (ترمذی، 3/ 406، حدیث:2016)
غیر
شرعی رسومات کے فروغ کا سبب: فلموں ڈراموں کے سبب نوجوان نسل تباہ
ہو تی جارہی ہے کیونکہ ہر نیا رواج ڈراموں اور فلموں، سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک
آسانی سے پہنچ جاتا ہے۔
بدلحاظی
میں اضافے کا سبب: جب سوشل میڈیا پر لوگ مختلف ویڈیوز دیکھتے ہیں یا
ڈرامے دیکھتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وہ رواج دیکھا دیکھی میں رائج ہو جاتا ہے۔
نئے
فیشنز پھیلانے کا ذریعہ: ہر نیا فیشن میڈیا کے ذریعے بہت تیزی
سے پھیلتا ہے۔ آج تو سوشل میڈیا پر لوگوں نے ایسے پیجز فولو کر رکھے ہیں کہ اس کے
ذریعے اس کی ہر پوسٹ آپکے پاس نوٹیفیکیشن کے ساتھ شو ہوتی ہے کہ کہیں رہ نہ جائے۔
غلط
اور جھوٹی خبر دینے کا سبب: میڈیا پر بغیر تحقیق کیے کوئی شخص کسی
کے بارے میں کچھ کہہ دے تو بلا تحقیق لوگ اس کو حقیقت مان لیتے ہیں اوراس کی اصلیت
جاننے اور اس کی تصدیق کروانے پر کوئی توجہ نہیں دیتا ہے جبکہ قرآن پاک میں ادب
سکھایا گیا ہے کہ ارشاد ربانی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ
فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا
عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ(۶) (پ 26، الحجرات:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لو کہ کہیں کسی قوم کو
بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔
غیبت
و تنقید کا پلیٹ فارم: آج میڈیا نے آسان کر دیا ہے یہ معاملہ کہ کوئی بھی
بندہ منہ بھر بھر کر ایسے باتیں کہتا ہے کہ جس سے اس کی دل آزاری ہو۔
میڈیا
نے ہی لبرل ازم پھلائی ہے: میڈیا نے ہی عورت کو بے پردہ کردیا ہے،اسی
کے سبب سب کی دیکھا دیکھی میں ان کی بے باکی میں اضافہ ہوا ہے۔
لمبی
امیدیں نفسانی خواہشات میں اضافے کا سبب: یہی وہ سبب ہے کہ ہم تک دوسروں
کی آسائشوں کا علم ہوتا ہے جس کے سبب انسان میں حوس و خواہشاتِ نفسانی، اور اور کی
طلب بڑھ جاتی ہے۔
یہی میڈیا
خاندانوں کی دوری کا سبب بن گیا،لوگوں میں اسی کے سبب حسد و بعض پیدا ہوگا۔
الحاصل کہ
میڈیا کے سبب بہت زیادہ خرافات پھیل رہی ہیں، کل جن چیزوں تک رسائی نہیں تھی آج ان
تک رسائی ہو چکی ہے جو کہ مشکلات میں اضافے کا سبب ہیں۔ گناہوں میں مبتلا ہونے اور
نوجوانوں کی تباہی میں مصروف ہےلوگوں کو چاہیے کہ حیا سوز مناظر سے اپنی نگاہوں کو
بچائیں کہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو اپنی آنکھ کی حفاظت پر قادر
نہ ہو وہ اپنی شرم گاہ کی حفاظت پر بھی قادر نہیں۔ (احیاء العلوم، 3/ 125) غیر
شرعی رسومات سے خود کو بچائیے ، اپنی بچیوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھیں لبرل ازم
اور بلا وجہ کہ اس کے استعمال سے بچیں تاکہ ان نقصانات سے بچا جا سکے۔
اللہ پاک نیک
ہدایت دے۔ آمین
نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت محمد اکمل شکیل، کنگ سہالی گجرات
برے کاموں اور
بری (بےحیائی بھری) باتوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ (مسند امام احمد،7/ 431،
حدیث: 20997)
برے افعال و
اعمال میں ایک اہم کردار میڈیا کا ہے۔ آج کے دور کو میڈیا کا دور کہا جاتا ہے۔وہ
میڈیا جسے شعور و آگاہی کا ذریعہ مانا جاتا ہے،وہیں اس کے منفی اثرات نوجوان نسل
کی تباہی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ جوان جو عشقِ خدا اور محبتِ مصطفیٰ سے
لبریز سینے لیے پھرتے تھے،مگر افسوس صد افسوس،آج وہی نوجوان بے حیائی و فحش قول و
فعل کو اپنا شعار بنائے پھرتے ہیں۔
اسلام نے ہر
اس چیز سے بچنے کا حکم دیا ہے جو انسان کے دین و اخلاق کو نقصان پہنچائے۔ چنانچہ
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ
وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶) (پ 15،
بنی اسرائیل: 36) ترجمہ کنز الایمان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم
نہیں، بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔
اس آیت میں
بیان ہوتا ہے کہ انسان اپنی آنکھ، کان اور دل کے استعمال کے بارے میں جواب دہ
ہے۔غرضیکہ میڈیا کے ذریعے دیکھے اور سنے جانے والے منفی مواد پر بھی باز پرس ہوگی۔
ارشادِ
خداوندی ہے: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ
یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ- (پ18،
النور:30) ترجمہ: مسلمان مردوں سے کہو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی
شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
اور فرمایا: وَ قُلْ
لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ (پ 18،
النور:31) ترجمہ: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں۔
ان آیات بینات
سے یہ ثابت ہوتا ہے نہ صرف مردوں بلکہ عورتوں کا بھی بے حیائی اور فحاشی سے بچنا
ضروری ہے، جبکہ میڈیا اکثر ان چیزوں کو عام کرتا ہے۔ چنانچہ تفسیر صراط الجنان میں
ہے: نظر نیچی رکھنا دل کو بہت زیادہ پاک کرتا ہے اور نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ
ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر تم نظر نیچی نہ رکھو بلکہ اسے آزادانہ ہر چیز پر ڈالو
تو بسااوقات تم بے فائدہ اور فضول بھی ادھر اُدھر دیکھنا شروع کر دو گے اور رفتہ
رفتہ تمہاری نظر حرام پر بھی پڑنا شروع ہو جائے گی۔ اب اگر جان بوجھ کر حرام پر
نظر ڈالو گے تو یہ بہت بڑا گناہ ہے اور عین ممکن ہے کہ تمہارا دل حرام چیز پر
فریفتہ ہو جائے اور تم تباہی کا شکار ہو جاؤ۔ (تفسیر صراط الجنان، 6/ 617)
شرم و حیا کے
متعلق حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: شرم و حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان والا جنت میں جائے گا
اور بے حیائی و فحش گوئی برائی کا حصّہ ہے اور برائی سے والا دوزخ میں جائے گا۔ (مسند
امام احمد، 3/568، حدیث:10517- ترمذی،3/406، حدیث:2016)
سوشل میڈیا
نوجوان نسل میں بے حیائی عام کرنے تک ہی محدود نہیں بلکہ غیر مرد و عورت کا آپس
میں بات چیت کرنا، وقت کا ضیاع، بد نگاہی اور دیگر گناہوں کا دروازہ بھی کھولتا ہے۔
یہ ایک دو دھاری شمشیر کی حیثیت رکھتا ہے کہ اس کا مثبت یا منفی استعمال نوجوان
نسل کی ترقی یا تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر
دیگر سرگرمیوں کے علاوہ نوجوان نسل ایک اہم اور عام سرگرمی میں مشغول ہے۔ فلمیں،
ڈرامے اور دیگر فضول مصروفیات کی فہرست میں ٹک ٹاک، یو ٹیوب، انسٹاگرام اور سب سے
بڑھ کر سنیپ چیٹ جیسی ایپس شامل ہو چکی ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ نوجوانانِ ملت کی
زندگیاں انٹرنیٹ کے ساتھ اس قدر ملحق ہو چکی ہیں کہ سوتے ہیں تو نیٹ پہ اس کی
متعلق پوسٹ اپلوڈ کرتے ہیں، جاگتے ہیں، کھاتے ہیں، پیتے ہیں، کہیں جاتے ہیں، غرض
کہ ہر کام کرنے سے پہلے انٹرنیٹ پہ اپلوڈ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا
نقصان وقت کا ضیاع ہے۔
ہونا تو یہ
چاہیے تھا کہ ہمارے نوجوان اپنے آپ کو دورِ جدید کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے
خود کو تیار کرتے۔ٹیکنالوجی کے دور میں ارتقائی مراحل طے کرتے اور رفتارِ زمانہ کا
ساتھ دیتے مگر حالات اس کے بر عکس ہیں۔
وقت کے ضیاع
کے ساتھ ساتھ بعض اوقات ایسی ایسی جھوٹی خبریں پھیلا دی جاتی ہیں، جو کسی انسان کی
عزت پارہ پارہ کر دیتی ہیں اور لوگوں کے مابین لڑائی جھگڑوں کا سبب بنتی ہیں۔کوئی
اس نقطے کی طرف توجہ نہیں کرتا کہ آیا فلاں خبر سچی ہے یا جھوٹی، بس پھیلا دی جاتی
ہے۔ حالانکہ قرآن کریم نے اس اہم بات پر بھی روشنی ڈالی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا
بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ(۶) (پ 26، الحجرات:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لو کہ کہیں کسی قوم کو
بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔
مذکورہ بالا
آیت میں بیان کیے گئے اصول کو اگر ہم آج کل کے دور میں پیشِ نظر رکھیں تو ہمارے
معاشرے کی بہت سی برائیاں ختم ہو جائیں کیونکہ ہمارے ہاں لڑائی جھگڑے کا ایک بڑا
سبب یہ ہے کہ جب کسی کو کوئی اطلاع دی جاتی ہے تو وہ اس کی تصدیق کیے بغیر ہی
فوراً غصے میں آ جاتا ہے اور وہ کام کر بیٹھتا ہے جس کے بعد ساری زندگی پریشان
رہتا ہے۔
میڈیا پر حرام
و فحش اقوال و افعال کی بھرمار ہے۔ چنانچہ جن کے دلوں میں مرض ہے، جو اپنی لذتوں
کے حصول کے لیے فلمیں، ڈرامے دیکھتے ہیں، ایک دل دہلا دینے والی روایت بار بار
پڑھیں اور خوفِ خداوندی سے لرزیں، چنانچہ فرمانِ مصطفیٰﷺ ہے: اس شخص پر جنت حرام
ہے جو فحش (یعنی بے حیائی کے قول و فعل) سے کام لیتا ہے۔ (الصمت، 7/204، حدیث:
325)
علاوہ ازیں
میڈیا کا منفی استعمال غیر اخلاقی مواد، بے ہودہ روایات، غیر حقیقی تصورات، تشدد
اور نفرت کو فروغ دے رہا ہے۔
اگر ہم نے
اپنی نوجوان نسل کو میڈیا کے منفی اثرات سے نہ بچایا تو یہ ہماری اجتماعی تباہی کا
سبب بن سکتا ہے، اور اگر درست رہنمائی کی تو یہی میڈیا اصلاح کا بہترین ذریعہ بھی
بن سکتا ہے۔
ہمارے
نوجوانوں کو اپنے اندر تقویٰ، امانت و دیانت، صداقت، راست بازی اور عدالت و شجاعت
جیسے اعلیٰ اوصاف پیدا کرنے چاہئیں تاکہ وہ اعلیٰ و ارفع مقاصد کی تکمیل کر سکیں۔
سبق
پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا
جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
اللہ پاک ہم
سب کو میڈیا کے غلط استعمال اور شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
فلموں
سے ڈراموں سے دے نفرت تُو الٰہی
بس
شوق مجھے نعت و تلاوت کا خدا دے
نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت احمد دین،فیضان بی بی حاجرہ کوئٹہ
نوجوان نسل کی
تباہی میں میڈیا(سوشل میڈیا، ٹک ٹاک، یوٹیوب) کا کردار انتہائی منفی ہے جو قیمتی
وقت کا ضیاع ہے۔
ویسے دیکھا جائے
تو انٹرنیٹ نے جہاں زندگی کو آسان بنا دیا ہے وہیں اسکے منفی اثرات نے معاشرے کو
بری طرح متاثر کیا ہے۔
تو اس کا درست
استعمال کریں غلط استعمال کرنے سے گریز کریں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ
تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا
وَ الْاٰخِرَةِؕ- (پ
18، النور: 19) ترجمہ: بےشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ
مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔
اس آیت کا
معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو یہ ارادہ کرتے اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی کی
بات پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ دنیا کے عذاب سے مراد حد
قائم کرنا ہے۔
میوزک والے
گانے سننے کے ناجائز و حرام ہونے کے بارے میں سرکارﷺ نے ارشاد فرمایا: ضرور میری
امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں جو عورتوں کی شرمگاہ (زنا) اور ریشمی کپڑوں اور شراب
اور باجوں کو حلال جانیں گے۔ (بخاری، 3/583، حدیث: 5590)
موبائل کا
زیادہ استعمال کرنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہے، کمر میں درد، سستی، بے چینی، جسم
میں تھکاوٹ سی محسوس ہوتی ہے۔
کوئی مسئلہ
سمجھ نہ آئے تو جلدی سے گوگل یا یوٹیوب کی طرف جاتے ہیں اور جیسی معلومات ملتی ہیں
اسی پر یقین کرلیتے ہیں اور پتا ہی نہیں چلتا کہ ہم کر کیا رہے ہیں ذہن میں بھی
نہیں آتا کہ کہیں ہماری آخرت خراب تو نہیں ہورہی، تو جو مسئلہ سمجھ نہ آئے کسی سنی
صحیح العقیدہ عالم دین سے معلوم کریں!
اب تو
معاذاللہ انبیائے کرام پر فلمیں ڈرامے بنائے گئے ہیں جو کہ ان فلموں، ڈراموں کو
دیکھنا، بنانا، بنوانا حرام ہے ایک فاسق، بدکار، کافر کو نبی،صحابی یا فرشتہ بنا
کے دکھایا جاتا ہےاور اس میں بعض من گھڑت باتیں ہوتی ہیں اور بہت دفعہ ایسا بھی
ہوتا ہے کہ انکی بعض باتیں عقائد شرع کے خلاف ہوتی ہیں اور عوام یہ شوق سے دیکھتے
ہیں کہ انہیں معلومات حاصل ہورہی ہیں لاحول ولا قوة۔
دوسرا یہ کہ
کسی کو بولیں کہ بھئ فلمیں، ڈرامے وغیرہ نہ دیکھیں تو آگے سے جواب ملتا ہے کہ ہم
پاکستانی ڈراما دیکھتے ہیں، کچھ سیکھنے کے لیے کہ کیا ہورہا ہے آج کل ہمیں کیسا
ہونا چاہیے۔
کیا پاکسانی
ڈرامے وغیرہ میں میوزک نہیں ہوتا؟ کیا اس میں بے حیائی، بے پردگی نہیں ہوتی؟ کیا
اس میں فحاشی و عریانی وغیرہ گناہوں سے بھر پور مناظر نہیں ہوتے؟ جو فنکار، اداکار
ہوتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں۔
حدیث مبارکہ
میں ہے کہ آدمی اپنے دوست کے دِین پر ہوتا ہے لہٰذا تم میں سے ہر ایک دیکھ لے وہ
کس سے دوستی کررہا ہے۔ (ابوداود، 4/341، حدیث: 4833) تو اس حدیث پاک میں علما صلحا
اور بزرگانِ دِین کے ساتھ محبت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور فاسق و بدعقیدہ لوگوں
سے محبت رکھنے والوں کے لیے اس میں تنبیہ و وعید ہے۔
یہ سب یعنی
فلمیں، ڈرامے وغیرہ ماحول کو زندگی کو خراب کررہے ہیں اگر آپکو سیکھنا ہے تو پہلے
تو دینی تعلیم حاصل کریں قرآن پاک کھولیں اسکی تفسیر کسی سنی صحیح العقیدہ اساتذہ
سے سمجھیں، کتابیں کھولیں پیارے آقا ﷺ کی سیرت کا، صحابہ کرام کی سیرت کا، اولیائے
کرام کی سیرت کا مطالعہ کریں وہاں سے سیکھیں دوسری طرف کیوں جاتے ہیں؟
یہ سیکھنا
نہیں ہے بلکہ نفس کو تسکین دینے کے لیے فلمیں ڈرامے، گانے سنے جاتے ہیں جو سکون
برباد کررہے ہیں زندگی برباد کررہے ہیں، رشتوں میں دراڑ کا سبب بن رہے ہیں، نعتیں
سنیں، پڑھیں، قرآن پاک کی تلاوت کریں حقیقی سکون تو وہاں رکھا ہے مدینے کی یاد میں
گم ہو جائیں۔
کوئی بات کرتا
ہے تو موبائل دیکھتے رہتے ہیں توجہ ہوتی ہی نہیں سامنے والے کی طرف کہ کیا بول رہے
ہیں، جو بات کررہا ہوتا ہے انکی دل آزاری ہوتی ہے کہ میں کب سے بات کر رہا ہوں ایک
نظر بھی ادھر نہیں اٹھائی، تسلی بخش جواب نہیں مل رہا، گھر والے بات کرتے ہیں تو
بھی موبائل کو اہمیت دی جاتی ہے، کسی مسلمان بھائی کی بات ہاتھ آگئی انٹرنیٹ کے
حوالے کردی ایسے نہ کریں۔
موبائل کو
استعمال کریں لیکن ایک حد میں رہ کر، موبائل سے کام لیں اپنے آپکو اسکے حوالے نہ
کریں۔
الله پاک ہمیں
سوچنے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت عطاء اللہ، فیضانِ عطار بھینس کالونی
کراچی
میڈیا
کیا ہے؟ موجودہ
دور میں اطلاعات اور پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والے مختلف وسائل کو میڈیا
کہا جاتا ہے ان کے ذریعے انفرادی یا اجتماعی سطح پر کم وقت میں زیادہ اثر کے ساتھ
پیغام رسانی کی جاتی ہے، آج کل میڈیا کی ایک اور قسم بھی عام ہے جس کا استعمال روز
بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے اسے سوشل میڈیا (social media)
کہا جاتا ہے۔
سوشل
میڈیا: سوشل
میڈیا سے مراد وہ میڈیا ہے جو انٹرنیٹ ایپلیکیشنز (Internet
Application) اور موبائل ٹیکنالوجی (Mobile
Technology) کے ذریعے معلومات اور خبریں پھیلاتا ہے۔
نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار: نوجوان نسل کی تباہی میں میڈیا کا منفی
کردار انتہائی تشویش ناک ہے غیر اخلاقی مواد، غلط معلومات اور سوشل میڈیا پر بے جا
وقت صرف کرنے سے نوجوان نفسیاتی دباؤ، بے چینی اور اخلاق پستی کا شکار ہو رہے ہیں
80 فیصد سے زائد نوجوان نفسیاتی دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں۔
نفسیاتی
دباؤ اور بےچینی: میڈیا
کا حد سے زیادہ استعمال نوجوان نسل کو نفسیاتی دباؤ اور احساس کمتری کا شکار کر
رہا ہے۔
وقت
کا ضیاع: اوسطاً
چار گھنٹے سے زیادہ میڈیا کے استعمال سے جسمانی اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی
ہیں۔
جسمانی
صحت کے مسائل: مسلسل
اسکرین پر نظر رکھنے سے دماغ، آنکھیں اور صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے
ذریعے پھیلنے والی غلط خبریں نوجوان نسل کو گمراہ کرتی ہیں اور ان میں منفی
رجحانات پیدا کرتی ہیں۔ میڈیا کے ذریعے گناہوں بھرے کام کیے جاتے ہیں، مثلاً فلمیں
ڈرامیں دیکھنا، گانے باجے سننا وغیرہ فلموں ڈراموں میں دکھایا جانے والا تشدد کا
مواد نوجوان نسل کے اخلاق اور رویوں کو بگاڑ رہا ہے۔ جدید دور میں میڈیا (Media)
کا استعمال اچھا بھی ہے اور برا بھی لیکن ہمارے معاشرے میں اس کا اچھا استعمال کم
اور برا استعمال زیادہ ہو رہا ہے اب جیسے مدنی چینل اسکا اچھا استعمال کر رہا ہے
اور گناہوں بھرے چینل اس کا استعمال برا کر رہے ہیں۔ اسی طرح عوام میں بھی بعض لوگ
اسکا استعمال اچھا کر رہے ہیں اور بعض اس کے ذریعے گناہ کما رہے ہیں۔
عوام سے سوشل
میڈیا اور انٹر نیٹ ہم چھڑا تو نہیں سکتے البتہ انہیں ترغیب دلا سکتے ہیں کہ اسکا
استعمال ایسا کریں جو آخرت کے لیے فائدہ مند ہو مثلاً مدنی چینل یا دعوت اسلامی کی
مجلس سوشل میڈیا کی طرف سے جو مدنی گلدستے آتے ہیں آپ انہیں دیکھیں اور آگے شیئر
کریں۔ اسی طرح مدنی چینل بھی دیکھتے رہیے کہ یہ بھی ایک ٹیکنالوجی ہے۔ جو
الیکٹرونک میڈیا (Electronic
media) کہلاتی ہے یہ الگ بات ہے کہ نیٹ اور سوشل میڈیا
کے آنے کے بعد اب چینلز کی طرف لوگوں کا رجحان کم ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا میں اب
کئی شعبے بن چکے ہیں اور اور مزید نئے بنتے جا رہے ہیں۔ اس میں بھی بعض پرانی
چیزیں اب پیچھے ہوتی جا رہی ہیں، اور کُلٌّ جَدِیْدٌ لَذِیْذٌ یعنی
ہر نئی چیز لذت والی ہوتی ہے کے تحت نئی چیزوں میں مگن ہو کر لوگ کہاں سے کہاں نکل
رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر
انسان کا بہت زیادہ وقت فضولیات میں گزر جاتا ہے جو کہ لہو و لعب میں مبتلا ہو
جاتا ہے لہو ولعب میں وقت گزرنا مومنین کی صفات میں سے نہیں ہے۔
مومنین کی
صفات کے بارے میں اللہ پاک پارہ 18 سورہ مومنون کی آیت نمبر 3 میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ هُمْ
عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳) ترجمہ کنز الایمان:اور وہ جو کسی
بیہودہ بات کی طرف اِلتفات نہیں کرتے۔
اسی طرح پارہ
24 سورہ نور کی آیت نمبر 19 میں برے لوگوں کی مذمت بیان کرتے ہوئے ان کا وصف بیان
کیا چنانچہ ارشاد فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ
الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ
الْاٰخِرَةِؕ-ترجمہ:
بےشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا و آخرت
میں دردناک عذاب ہے۔
ان دونوں آیات
مبارکہ میں برائی سے اعراض کرنے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بیہودہ باتوں اور کاموں کو
پھیلانے کی مذمت بھی بیان کی گئی ہے ہر وہ کام کہ جس کی وجہ سے برائی پھیلے خواہ
وہ موبائل ہو یا سوشل میڈیا ہو یا کوئی بھی اور ذریعہ ہو اس سے اعراض اجتناب کا
درس ان آیات سے ملتا ہے۔
نوجوان نسل
میں سوشل میڈیا کی وجہ سے انسان ایک دوسرے پر بہتان لگانے کا سلسلہ اور ان کی خفیہ
باتوں کی ٹوہ میں رہنے کا سلسلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے اور دن بدن ایسے لوگوں کی
تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو دوسرے لوگوں کی ذاتی زندگی میں تجسس کرتے رہتے ہیں اور
اس کے متعلق سوشل میڈیا پر بہت زیادہ گفتگو ہوتی رہتی ہے جس کی وجہ سے لوگ گناہ
میں مبتلا ہو جاتے ہیں کسی کی ذاتی زندگی کے بارے میں یا عیبوں کی ٹوہ میں رہنا یا
ان کے عیب ڈھونڈنے کی کوشش کرنا اس کے بارے میں حدیث مبارکہ میں مذمت آئی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: جو شخص لوگوں کی باتیں چھپ کر سنے حالانکہ وہ لوگ اس کو ناپسند کر رہے ہوں
تو اس کے کانوں میں پگھلایا ہوا سیسا ڈالا جائے گا۔
میر اہل سنت
مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں آج کل موبائل/ سوشل میڈیا کا
استعمال بہت زیادہ عام ہو گیا ہے ہر خاص و عام اس کا استعمال کرتے نظر آرہے ہیں اس
کا استعمال اگر ایک مناسب اور مہذب انداز میں نہ کیا جائے تو یہ آپ کے وقت کے ضیاع
کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت اور وقار کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
آج کل کے دور
میں سوشل میڈیا ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ ہمیں کوئی بھی معلومات
چاہیے ہو، کھانا پکانا ہو یا کسی بھی قسم کا کام ہو، ہم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی
مدد لیتے ہیں۔ اس کے بہت سے فائدے ہیں، لیکن اس کے نقصانات بھی کم نہیں ہیں۔
سب سے بڑا
نقصان وقت کا ضیاع ہے۔ ہم گھنٹوں سوشل میڈیا استعمال کرتے رہتے ہیں، جیسے فیس بک
اور انسٹاگرام پر سکرول کرنا یا ٹک ٹاک پر ویڈیوز دیکھنا اور بنانا۔ ان کاموں میں
بظاہر مزہ تو آتا ہے، لیکن یہ وقت کا ضیاع ہے اور اس کے نقصانات بھی بہت زیادہ
ہیں۔
سوشل میڈیا کے
بے جا استعمال کا ایک بڑا نقصان اخلاقی زوال ہے۔ اس پر غلط اور غیر مناسب مواد عام
ہو چکا ہے، جس سے نوجوان متاثر ہو کر اپنی تہذیب اور روایات سے دور ہوتے جا رہے
ہیں۔
اس کے علاوہ
ذہنی اور جذباتی دباؤ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ لوگ سوشل میڈیا پر اپنی خوشحال اور
پرفیکٹ زندگی دکھاتے ہیں، جس سے دوسرے نوجوان خود کو کم تر محسوس کرتے ہیں۔ اس سے
ڈپریشن، اینزائٹی اور احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے۔
آخر میں ہمیں
یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کا درست استعمال ہی فائدہ مند ہے۔ والدین اور اساتذہ
کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں سوشل میڈیا کے مناسب اور محدود
استعمال کی عادت ڈالیں۔
سوشل میڈیا
ایک طاقتور ذریعہ ہے، لیکن اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے تو یہ نوجوان نسل کی
تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ نوجوان کس طرح اپنا قیمتی وقت
ضائع کر رہے ہیں اور غیر ضروری کاموں میں مشغول ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ
گھروں میں اچھا دینی ماحول قائم کریں اور مدنی چینل لگائیں۔ ساتھ ہی ہمیں خود بھی
موبائل کا کم استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتے
ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر ہم اپنی عادتیں درست کریں گے تو بچے بھی اچھی عادتیں اپنائیں
گے۔
اگر ہم بچوں
کی اچھی تربیت کریں گے تو وہ کل کے بہتر نوجوان بنیں گے اور ہم انہیں سوشل میڈیا
کی تباہ کاریوں سے بچا سکیں گے۔
نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت محمد اسماعیل،فیضانِ رضا سرجانی ٹاؤن
میڈیا کی مثال
ایک چھری کی طرح ہے، جس کا صحیح اور غلط دونوں ہی استعمال ہیں مگر افسوس! ہمارے
معاشرے میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال زیادہ ہے، سوشل میڈیا پر موجود فحش مضامین
اور کہانیاں، گندی تصویریں اور نفسانی خواہشات کو بھڑ کانے والی بیہودہ ویڈیوز نے
نوجوان نسل کے اخلاق و کردار اور عادات کو تباہ و برباد کر دیا ہے، ساری ساری رات
سوشل میڈیا پر بڑی بے دردی کے ساتھ اپنا پیسہ اور قیمتی وقت ضائع کرنا، جھوٹ بولنا
لوگوں کو دھو کہ دینا بلیک میل کرنا، جیسی برائیاں ہمارے معاشرے کے نوجوانوں میں
بڑی تیزی سے عام ہوتی جارہی ہیں۔
اس بیماری میں
مبتلا نوجوان تعلیم سے محروم ہو کر معاشرے میں کوئی اہم مقام پانے کے بجائے اخلاق
و تمیز کھو کر معاشرے میں ذلیل و خوار ہوتے نظر آرہے ہیں۔
بات صرف یہیں
تک محدود نہیں رہی بلکہ اب تو ایمان کے بھی لالے پڑے ہیں کہ شیطان کے ایما پر کفار
بد اطوار نے گانوں میں کفریہ کلمات کے ایسے ایسے زہر گھول دیئے ہیں جنہیں دلچسپی
سے سننا اور گنگنانا (معاذ اللہ) کفر ہے۔
(ایک آنکھ والا آدمی، ص 37)
نوجوان لڑکیوں
کیلئے تو یہاں بالخصوص مقام غور ہے کہ انہیں قرآن مجید کی ایک سورت سورہ یوسف کا
ترجمہ اور تفسیر پڑھنے سے اس لئے منع کر دیا گیا ہے کہ کہیں یہ منفی یعنی اُلٹ اثر
نہ لے لیں۔ اب آپ ہی اندازہ لگا لیجئے کہ انہیں بے ڈھنگی تصویروں اور حیا سوز فلمی
اشتہاروں وغیرہ کہ دیکھنے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے۔
لہذا ہماری
نوجوان نسل کو چاہیے کہ جتنا ہوسکے اس سوشل میڈیا کی آفت سے اپنے آپ کو بچانے کی
کوشش کریں اس کے نقصانات پر غور کریں اور اس کے صحیح استعمال کی طرف اپنی توجہ کو
مرکوز کریں کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال انسان کو یاد الہی سے غافل کرکے اس کی
دنیا و آخرت کی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔
اس کا ایک
بہترین حل دعوت اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہنا بھی ہے کہ دعوت اسلامی اپنی
دینی تعلیمات کے ذریعے اللہ پاک کا خوف دل میں بٹھانے اور ہر صورت میں اس کی اطاعت
و فرمانبرداری کرنے کی تربیت دیتی ہے۔ اس مسلسل تربیت کے نتیجے میں سوسائٹی کے لیے
ناسور بننے والے بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو اس نے کچھ اس طرح بدل دیا ہے کہ وہ
اب معاشرے کے معزز ترین افراد میں شمار کیے جاتے ہیں۔
نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت عبدالخالق،فیضان آمنہ کراچی
میڈیا دورِ
حاضر میں ایک بہت بڑا فتنہ بن چُکا ہے اور صرف فتنہ ہی نہیں بلکہ فتنوں کی جڑ ہے
جس سے روز بروز نئے فتنے جنم لیتے ہیں۔اس ضمن میں ہمارے آقا و مولا ﷺ کا مبارک
فرمان ہے: میں دیکھ رہا ہوں کہ (عن قریب) تمہارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے
ہوں گے، جیسے بارش برستی ہے۔ (بخاری، 2/133، حدیث:2467)
جیسے ہی دنیا
ترقی کے دور میں داخل ہوئی،جدید ٹیکنالوجی سے متعارف ہوئی تو ٹیکنالوجی کی اس جدت
میں سوشل میڈیا سرِ فہرست ہے۔میڈیا نے لوگوں کی زندگیوں پر کئی منفی اثرات مرتب
کئے ہیں،خاص کر ہماری نوجوان نسل تو جیسے میڈیا تک ہی محدود رِہ گئی ہے۔آج کل
نوجوان نسل کی زندگی کا مقصد ہی گویا سکرُولینگ،چِیٹینگ اور پوسٹنگ بن کر رہ گیا
ہے،ان کی زندگیاں ہی جیسے فیس بک،واٹس ایپ اور انسٹاگرام میں قید ہو کر رہ گئی
ہیں۔
میڈیا نے
نوجوان نسل میں بے حیائی،بے ادبی کو بہت فروغ دیا ہے،اور بے باکی تو اس قدر بڑھا
دی ہے کہ دنیا تو دنیا،دین کے معاملات میں بھی نوجوان اس قدر بے باک ہوچکے ہیں کہ
گویا ہر دوسرا فرد ہی سوشل میڈیا پر مفتی اعظم بنا بیٹھا ہے،سب اپنی مرضی و ذہنیت
کے مطابق دین کی تشریح و ترجمانی میں مصروف ہیں،جس کو اپنے آپ کا پتا نہیں وہ بھی
میڈیا پر فتویٰ نویسی کررہا ہے۔اور دیگر نوجوان بھی لاعلمی و بے شعوری کی وجہ سے
ان لوگوں کو فالو کرکے ایسے ناقص افراد کے شاگرد بنے بیٹھے ہیں جنہیں خود ایک کامل
اور صحیح العقیدہ استاد کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر،انجینئر،پلمبر جس کو دیکھیں وہ اپنے آپ
کو دین کا ترجمان بنا کر ہمارے بھولے بھالے نوجوانوں کو ایسی تعلیم فراہم کر رہے
ہیں جس تعلیم کے بارے میں شاعرِ مشرق،مصورِ پاکستان،ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا کہ
تعلیم
کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو
جائے ملائم تو جدھر چاہے،اسے پھیر
دین بیزار
طبقے نے تو جیسے میڈیا کو مسلمان نوجوانوں کے لئے بطورِ ہتھیار استعمال کیا ہے، اس
قدر غلط تعلیمات کو فروغ دیا جا رہا ہے کہ ہمارے نوجوان بدعقیدہ ڈاکٹروں، پلمبروں
کے اسٹوڈنٹ بن کر اپنے ہی صحیح العقیدہ، محافظینِ اسلام علمائے کرام پر تنقید و
الزامات کے انبار لگا رہے ہیں۔ تاریخِ اسلام میں اگر دیکھا جائے تو نوجوانوں نے
ایسے ایسے کارنامے انجام دیئے ہیں جو شاید آج کا نوجوان سوچ بھی نہیں سکتا، آج
ہمارے پندرہ سے سترہ سال کے نوجوان کو شاید تعریفِ جہاد بھی درست معلوم نہ ہو اور
وہی اگر ہم اپنی تاریخ کی طرف نظر دوڑائیں تو اسی عمر کے نوجوان محمد بن قاسم نے
ایک خاتون کے خط پر اعلانِ جہاد فرمایا اور فاتح بن کر سر زمینِ سندھ پر علمِ
اسلام بلند فرمایا۔
میڈیا کے کثیر
و بےدریغ استعمال سے نوجوانوں کی صحت، تعلیم اور خاندانی نظام پر بھی بہت منفی
اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا کی
تباہیوں میں سے نوجوان نسل کی گرتی ہوئی صحت بھی ہے، کیونکہ نیند پوری نہ ہونے کی
وجہ سے اُن کی صحت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ نوجوانوں میں فرسٹریشن اور ڈپریشن میں
اضافہ ہورہا ہے۔فیس بک،انسٹاگرام اور دیگر میڈیا پلیٹ فارم پر ڈال کر دیکھتے رہتے
ہیں کہ اب کتنے لائیک اور کومنٹس ہوگئے اور ویڈیو کتنے لوگوں نے دیکھ لی،گویا کہ
اب مقصدِ حیات ہی یہ ہے
ہر نوجوان
دانشور، ادیب اور لکھاری بن گیا اور بغیر تحقیق کے ہر پوسٹ پر رائے دینا ایمان
سمجھنے لگا اور اپنا بیانیہ بنانے لگا۔ انہوں نے کچھ نوجوانوں کو مثال بھی بنایا
ہوا ہے کہ فلاں شہر میں فلاں نے اتنے پیسے سوشل میڈیا کے ذریعے کمائے ہیں۔ اس لیے
ہمارا نوجوان بھی دن رات اسی دوڑ میں لگا ہوا ہے اور شارٹ کٹ کے ذریعے پیسے کمانے
کی کوشش کررہا ہے۔
آپ کسی طالب
علم سے پوچھ لیں کہ وہ دن میں کتنے گھنٹے موبائل استعمال کرتا ہے تو آپ حیران
ہوجائیں گے کہ وہ پڑھائی اور والدین کو وقت دینے کے بجائے زیادہ وقت اپنے موبائل
پر گزار رہا ہوتا ہے۔ اس کا کوئی دوست نہیں ہے، اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ گھر
میں یا معاشرے میں کیا ہورہا ہے۔
اللہ پاک اپنے
محبوب کے صدقے تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین
نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت رمضان،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
آج کے جدید
اور پرفتن دور میں سوشل میڈیا ہماری زندگیوں کا ایک اہم حصہ بن چکےہیں Facebook,
Instagram, Snapchat, TikTok اورyoutubeوغیرہ جیسے
پلیٹ فارمز کے استعمال کو ہم نے اپنےاہم ترین کاموں میں سے ایک کام بنا لیا ہے اور
اس کام کو ہم اس قدر اہمیت دیتے ہیں کہ ہم اس کام کی بنا پر دیگر بہترین کاموں کو
بھول جاتے ہیں۔
اگر دیکھا
جائے تو یہ سوشل میڈیا کے ذرائع کو رابطے،معلومات اور دیگر ضروری کاموں کے لئے
بنایا گیا تھا،لیکن ان کا بے جا استعمال نوجوان نسل کے لئے تباہ کن ثابت ہو رہا
ہے۔ہمارا بہت قیمتی وقت ان ذرائع کے غلط استعمال میں ضائع ہو رہا ہے۔
نبی ﷺ نے
فرمایا: قیامت کے دن بندے کے قدم نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے متعلق
سوال نہ کرلیا جائے ان میں سے ایک چیز یہ ارشاد فرمائی کہ اس کی عمر کے بارے میں
پوچھا جائے گا کہ اسے کس کام میں گزارا۔ (ترمذی، 4/188، حدیث: 2424)
اگر ہم اپنی
ذات میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہماری عمر کا کتنا حصہ سوشل میڈیا کے فضول
استعمال میں ضائع ہو رہا ہے۔
طلبا اپنی
تعلیم پر توجہ دینے کے بجائے گھنٹوں ویڈیوز دیکھنے،چیٹنگ کرنے اور غیر ضروری
سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ جس کی بنا پر طلبا کے سوچنے کی صلاحیت کم تر ہوتی
جا رہی ہے انکا حافظہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔تعلیم پر توجہ نہ دینے پر ان کی
کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔
سوشل میڈیا کے
بے جا غلط استعمال کی وجہ سے اخلاقیات پر بھی بہت اثر پڑرہا ہے سوشل میڈیا پر غیر
مناسب مواد کی بھر مار ہے،جونوجوان نسل کے کردار پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔جس فیشن
کو دیکھتے ہیں اگر چہ وہ نامناسب ہی ہوں اس کو اپنانے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے
ہیں۔
سوشل میڈیا
ہماری ذہنی و نفسیاتی دباؤ کی بھی ایک وجہ ہے۔دوسروں کی حوشحال اور پرامن زندگی کو
دیکھ کر نوجوان نسل احساس کمتری کا شکار ہو رہی ہے کسی کے لائکس اور کمینٹس اور
فالورز کو بڑھتا دیکھ کر خود بعض اوقات ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ
سوشل میڈیا نوجوان نسل کو اپنی حقیقت اور پہچان سے بہت دور کر رہا ہے انسان اپنی
اصل سے بہت دور ہو چکا ہے۔
نوجوان نسل
اپنے حقیقی رشتوں کی بجائے آن لائن دوستیوں کو نبھانے پر لگی ہے لیکن جو اس کے اصل
رشتے ہیں وہ اس سے چھوٹ رہے ہیں۔
ماہرین کے
مطابق سوشل میڈیا ایک نشے کو صورت اختیار کر چکا ہی جس کے بے جا استعمال سے نیند
کی کمی،چرچڑا پن اور ڈپریشن بڑھ رہا ہے الغرض سوشل میڈیا نوجوان نسل کی تباہی کا
بہت بڑا سبب بن چکا ہے۔
سوشل
میڈیا کے کم استعمال کے لئے چند احتیاطی تدابیر: اپنے مقاصد کو
سامنے رکھے، ایک مخصوص وقت رکھیں جس میں آپ فقط سوشل میڈیا کو درست استعمال کے لئے
استعمال کریں، ہر وقت موبائل اپنے ہاتھ میں نہ رکھیں، موبائل سکرین کم کریں، موبائل
کا پاسورڈ تھوڑا لمبا لگائیں اس سے یہ ہوگا کہ جب آپ کا پاسورڈ لمبا ہوگا تو اپکو
بار بار کھولنے کے لئےپریشانی کا سامنا ہو گا جس کی وجہ سے آپ موبائل کو بار بار
چیک نہیں کریں گے۔
اللہ پاک ہمیں
اپنے وقت کا بہترین استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت فیاض احمد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
آج کے دور میں
میڈیا انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے خصوصاً نوجوان نسل اس سے سب سے
زیادہ متاثر ہو رہی ہے میڈیا میں ٹی وی فلمیں سوشل میڈیاڈرامے اور انٹرنیٹ شامل
ہیں اگرچہ میڈیا معلومات تعلیم اور آگاہی کا ایک اہم ذریعہ ہے لیکن اس کے منفی
استعمال نے نوجوانوں کی اخلاقی دینی اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔
سب سے پہلے
اگر ہم میڈیا کے اثرات کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس نے نوجوانوں کے
اخلاق کو بری طرح متاثر کیا ہے فحش اور بے حیائی پر مبنی مواد غیر اسلامی اقدار
اور بےمقصد تفریح نوجوانوں کو دین سے دور کر رہی ہے ڈراموں اور فلموں میں دکھائی
جانے والی غیر اخلاقی حرکات کو نوجوان نقل کرنے لگتے ہیں جس سے معاشرے میں بے راہ
روی بڑھ رہی ہے سوشل میڈیا بھی نوجوانوں کی تباہی میں ایک بڑا کردار ادا کر رہا ہے
فضول ویڈیوزوقت کا ضیاع اور غیر ضروری تعلقات نوجوانوں کی ذہنی اور روحانی نشوونما
کو متاثر کرتے ہیں، نوجوان اپنا قیمتی وقت علم حاصل کرنے یا مثبت سرگرمیوں میں
لگانے کے بجائے بے فائدہ مصروفیات میں گزار دیتے ہیں۔
اسلام ہمیں ہر
اس چیز سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے جو انسان کو برائی کی طرف لے جائے اس حوالے سے
ایک حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہٰذا تم
میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس کو دوست بناتا ہے۔ (ابوداود، 4/341، حدیث:
4833)
آج کے دور میں
میڈیا بھی ایک دوست کی طرح ہے جو مسلسل انسان کے ذہن پر اثر انداز ہوتا ہےلہٰذا
اگر میڈیا کا مواد برا ہو تو اس کے اثرات بھی برے ہوں گے۔
ایک اور حدیث
میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: حیا ایمان کا حصہ ہے۔ (ترمذی، 3/ 406، حدیث:2016) لیکن
میڈیا میں بڑھتی ہوئی بے حیائی اس اسلامی قدر کو ختم کر رہی ہے نوجوان جب مسلسل
ایسے مناظر دیکھتے ہیں تو ان کے دل سے حیا کم ہوتی جاتی ہے جو کہ ایمان کی کمزوری
کی علامت ہے۔
اسی طرح ایک
حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے
ماتحت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری، 1/309، حدیث: 893)اس حدیث کی روشنی میں
والدین اساتذہ اور معاشرے کے دیگر افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو
میڈیا کے منفی اثرات سے بچائیں اور ان کی صحیح رہنمائی کریں۔
میڈیا کے منفی
اثرات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان خود بھی شعور پیدا کریں اور اپنی زندگی
کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالیں مثبت مواد دیکھیں وقت کا صحیح استعمال کریں اور
دین کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی نگرانی
کریں اور انہیں اچھے اور برے میں فرق سمجھائیں میڈیا بذاتِ خود برا نہیں بلکہ اس
کا غلط استعمال نوجوان نسل کی تباہی کا سبب بن رہا ہے اگر میڈیا کو مثبت انداز میں
استعمال کیا جائے تو یہ علم اخلاق اور ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہم میڈیا کے استعمال میں احتیاط کریں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
اپنی زندگی کو سنواریں۔
نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از ہمشیرہ دانیال قادری،پاکپورہ سیالکوٹ
جیسے ہی دنیا
ترقی کے نئے دور میں داخل ہوئی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بولنے
لگا، نوجوان نسل نے اس میں خوشیوں کا جہاں ڈھونڈ لیا۔ یہ نوجوان، جو پہلے اپنی
مایوسی اور بے چینی کے لیے مختلف مشاغل اپناتے تھے، اب دن رات انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل
میڈیا کے پیچیدہ جال میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ
اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے گویا اُن کے لیے ایک نئی دنیا کا دروازہ کھول دیا
ہے، اور وہ اس دنیا کے مکین بن گئے ہیں، جہاں حقیقت کی زمین ان کے پیروں تلے سے
کھسک گئی۔
پیاری پیاری
اسلامی بہنو!سوشل میڈیا کی مثال ایک چُھری کی طرح ہے، جس کاصحیح اور غلط دونوں ہی
استعمال ہیں،مگر افسوس!ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال زیادہ ہے،سوشل
میڈیا پرموجودفحش مضامین اور کہانیاں،گندی تصویریں اورنفسانی خواہشات کو بھڑکانے
والی بیہودہ ویڈیوز نے نوجوان نسل کے اَخلاق وکردار اورعادات کو تباہ و بربادکردیا
ہے،ساری ساری رات سوشل میڈیا پربڑی بےدردی کے ساتھ اپنا پیسہ اورقیمتی وقت ضائع
کرنا،جھوٹ بولنا، لوگوں کودھوکہ دینا،بلیک میل کرنا،جیسی برائیاں ہمارے معاشرے میں
بڑی تیزی سے عام ہوتی جارہی ہیں،پہلے تو سوشل میڈیا کا استعمال محدود تھا مگرجب سے
یہ سہولت موبائل پر موجود ہوئی تو چھوٹی عمر کے بچے بھی اس بیماری کا شکار ہوکر
اپنا مستقبل ضائع کررہے ہیں، اس بیماری میں مبتلا لوگ تعلیم سے محروم ہوکر معاشرے
میں کوئی اہم مقام پانے کے بجائے اخلاق و تمیز کھو کر معاشرے میں ذلیل و خوار ہوتے
نظر آ رہے ہیں۔
آئیے! سوشل
میڈیا کے چند نقصانات کے بارے میں سنئے:
چند تباہ
کاریاں
(1)مذہبی(روحانی)نقصان:
اکتوبر2017
کے”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“کے صفحہ نمبر33پر لکھاہے:سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں
کا گناہوں خصوصاًبد نگاہی سے بچنا بہت مشکل ہے،چونکہ سوشل میڈیا پربد مذہب اور بے
دین لوگ بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں،اس لئے بعض اوقات ایک عام مسلمان کا ان کے
بہکاوے میں آ کر گمراہ یا بے دین ہونےکابہت خطرہ ہوتاہے۔
(2)جسمانی
نقصان: سوشل
میڈیا اکاؤنٹس یا تو موبائل پر استعمال کئے جاتے ہیں یا کمپیوٹر پراور دونوں کا
خصوصاً نظر پر اور استعمال کا انداز درست نہ ہونے کی وجہ سے جسم کے پٹھوں پر بُرا
اثر پڑتا ہے۔
(3)تعلیمی
نقصان: تعلیم
خواہ دینی ہو یا دنیاوی،اس میں کامیابی کے لئے وقت کا درست استعمال بہت ضروری ہے
اور سوشل میڈیا سے زیادہ وقت ضائع کروانے والی شاید ہی کوئی چیز ہو۔
اللہ پاک
ہماری نوجوان نسل کو سنتوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور سوشل میڈیا کے غلط
استعمال سے ہر دم بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت سید ابرار حسین،پاکپورہ سیالکوٹ
موجودہ دور
میڈیا جیسے ٹی وی، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ، اخبارات وغیرہ کا دور بن چکا ہے۔ سوشل
میڈیا کے جدید ترین ذرائع جیسے فیس بک، ٹوئیٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ، یوٹیوب ہیں۔
بذات خود میڈیا نہ مکمل طور پر برا ہے نہ ہی مکمل طور پر اچھا بلکہ اسکے اچھے اور
برے پہلو ہیں انکے اچھے استعمال سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے جیسے علمائے اہل سنت
کے بیانات، علم دین حاصل کرنا وغیرہ جبکہ سوشل میڈیا کے غیر ضروری اور غلط استعمال
سے منفی و نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
فی زمانہ بچے
بوڑھے جوان تقریباً ہر عمر کے افراد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں لیکن نوجوان نسل
سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی وجہ سے شدید تباہی کا شکار ہے۔
آئیے سوشل
میڈیا کے چند نقصانات ملاحظہ فرمائیے۔
فحاشی
و بےحیائی کا پھیلنا: سوشل میڈیا پر بےحیائی و عریانی عروج پر ہوتی ہے
اور بےحیائی و بد نگاہی کے اسباب بہت زیادہ مہیا کیے جاتے ہیں۔ ایسی فلمیں ڈرامے و
پوسٹ شیئر کی جاتی ہیں جن میں بے حیائی کی بھرمار ہوتی ہے۔
جوانی میں
نفسانی خواہشات عروج پر ہوتی ہیں جبکہ میڈیا انکو مزید بھڑکانےمیں بھرپور کردار
ادا کرتا ہے اس طرح نوجوانوں کا گناہوں کی طرف رجحان اور بد نگاہی و بے شرمانہ
حرکات میں ملوث ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
پارہ 18 سورۃ
النور کی آیت نمبر 19 میں ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ
الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ
الْاٰخِرَةِؕ-ترجمہ:
بےشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا و
آخرت میں دردناک عذاب ہے۔
بے حیائی کی
بات پھیلنے سے مراد وہ اقوال و افعال جن کی قباحت بہت زیادہ ہے۔ جیسے ایسی کتابیں
اخبارات ناول رسائل اور ڈائجسٹ وغیرہ لکھنا اور شائع کرنا جن سے شہوانی جذبات
متحرک ہوں۔
حرام
کاموں کی ترغیب: حیا
سوز تصاویر اور ویڈیوز بنانا بیچنا اور انہیں دیکھنا یا دیکھنے کے ذرائع مہیا کرنا،
ایسے اشتہارات، سائن بورڈ بنانا اور لگانا جن میں جنسی عریانیت کا سہارا لیا گیا
ہو۔حیا سوز مناظر یا فیشن شوز میں عورتوں کا استعمال اسکے ذریعے بےحیائی کو فروغ
دیا جارہا ہے۔
یہ ایسے ذرائع
ہیں جو نواجوان نسل کےلیے دنیا و آخرت میں تباہی کا ذریعہ ہیں۔اور یہ چیزیں سوشل
میڈیا پر عام ہیں۔بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی یہ مناظر آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں
اور مسلمان بد نگاہی کے گناہ میں ملوث ہوجاتا ہے۔
اسی طرح سوشل
میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کے قیمتی وقت ضیاع ہوتا ہے۔نوجوان گیمز فضول ویڈیوز اور
سکرولنگ میں گھنٹوں صرف کردیتے ہیں جن سے وہ اپنا وقت کہ جسے اچھے کام میں صرف
کرنا تھا نماز، والدین کی خدمت میں، تعلیم میں یا دیگر معاملات میں اس سب سے غافل
ہوجاتے ہیں اور میڈیا کے ذریعے اپنی دنیا و آخرت داؤ پر لگا لیتے ہیں۔
اسی طرح سوشل
میڈیا پر مغربی و غیر اسلامی طرز زندگی کو دیکھ کر اسکی طرف مائل ہوتے ہیں اور
مغربی فیشن کی طرف رجحان پاکر بعض اسکے دیوانے ہوجاتے ہیں اور اسی کو اپنانے کی
کوشش کرتے ہیں جس سے مسلمان نوجوان سنتوں سے دور ہوجاتا ہے۔اور غیر اسلامی تہذیب
کی طرف چل پڑتا ہے جس سے آنے والی نسلوں میں مزید بگاڑ کا اندیشہ ہوجاتا ہے کہ آج کے
نوجوان کل کو والدین ہوں گے اور جب خود اچھے اور دینی ماحول والے نہ ہوں گے تو
اپنی اولاد کی کیسے اسلامی تربیت کرسکیں گے؟
سوشل میڈیا کے
استعمال سے عبادات میں غفلت و سستی پیدا ہوتی ہے، والدین سے دوری، گھر میں بد امنی
و لڑائی جھگڑے جنم لیتے ہیں اور اسکے روحانی نقصانات کے ساتھ جسمانی و طبی نقصانات
بھی ہیں۔
سوشل میڈیا پر
وائرل ہونے والے افراد کی زندگی اور رہن سہن دیکھ کر ان جیسے ہونے کی کوشش میں یا
خود کو کمتر سمجھ کر نوجوان نسل اپنے ذہنی سکون کو متاثر کیے ہوئے ہے۔ اسکے علاوہ
بھی دیگر نقصانات ہیں جیسے عدم اعتمادی، ڈپریشن، صحت خراب ہونا اور تعلیم سے دوری
اور ذاتی زندگی متاثر ہورہی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ
سوشل میڈیا کو صرف اچھے مقاصد کے لیے اور کم سے کم استعمال کریں۔ غیر ضروری ایپس
اور اکاؤنٹس ڈیلیٹ کریں اور اپنی ذات،گھر، خاندان رشتہ داروں اور دوست احباب کو
وقت دیں اور اپنی موجودہ حالت کے مطابق علم دین سیکھیں اپنے دینی معاملات درست
کریں اور ممکن ہوتو موبائل میں کتابیں پڑھنے کی بجائے کوشش کریں کہ کتابی شکل میں
کتب کا مطالعہ کریں۔ اسکرین کوکم دیکھیں تاکہ اپنی نظر و جسمانی اعضا پٹھوں وغیرہ
کی حفاظت ہو۔
آج کل نوجوان
نسل و دیگر افرادکی موبائل کے غیر ضروری استعمال کی وجہ سے نظر کمزور ہوچکی ہے ان
میں دیگر بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ لہذا والدین و اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ
داری کا احساس کرتے ہوئے اپنے ماتحتوں کو موبائلزاور سوشل میڈیا سے دور رکھیں اور
جب انہیں موبائل استعمال کے لیے دیں پھر بھی وقتا فوقتاً ان کا جائزہ لیں کہ کیا
دیکھ رہے ہیں اور کیا کررہے ہیں۔
اللہ کریم
ہمیں ہدایت دے اور نیک و صالح کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔ اپنی رضا کے مطابق زندگی
گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
عمر
فاروق گھانچی (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
"فساد فی الارض" یعنی زمین میں بگاڑ پھیلانا، قرآن مجید
میں سخت ترین جرائم میں شمار کیا گیا ہے۔ اس سے مراد اللہ کے احکام کی خلاف ورزی،
قتل و غارت، چوری ڈکیتی، ظلم، شرک، بدعات اور ہر وہ عمل ہے جو معاشرے کے امن و
سکون کی بربادی کا سبب بنے۔
قرآن کریم
فساد فی الارض کی مذمت کرتے ہوئے کچھ اسطرح ناطق ہے فرمایا:
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ
اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ
فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد
برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں
سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا
(ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں
رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔(سورۃ المائدۃ، 5: آیت 33
)
فساد وہ
شریر عمل ہے کہ اسکی مذمت تو بداہتا جا بجا مذکور ہیں لیکن اسکے فاعل کی بھی محرومیاں
قرآن واضح کر رہا ہے سب سے بڑی محرومی یہ کہ اللہ کی رضا اُسے نہیں حاصل ہوتی فساد
پھیلانے والوں سے اللہ محبت نہیں کرتا الفاظ قرآن یوں مذکور ہیں۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمہ کنز العرفان: بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ ( سورۃ
القصص 28: آیت 77)
وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)
ترجمۂ کنز العرفان: اور اللہ فساد پھیلانے
والوں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ المائدۃ، 5: آیت 64)
چونکہ یہ
مہلک وصف منافقین کی خاصیت ہے اس حوالہ سے ارشادِ ربانی ہے:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا
اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ
کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف
اصلاح کرنے والے ہیں۔ سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس
کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ، 2: آیات 11،12)
اگر ہم
قصص اقوامِ سابقین پر نظر کریں تو ان میں سے ظالم قوموں کی ہلاکت کا سبب فساد
تھا۔آیت قرآنی مذکور ہے فرمائے:
فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ
قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا
قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْۚ-وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ
اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ(۱۱۶)
ترجمۂ کنز العرفان:توتم سے پہلی گزری ہوئی
قوموں میں سے کچھ ایسے فضیلت والے لوگ کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد کرنے سے منع
کرتے۔(سورۃ ہود 11،: آیت 116)
تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کی تفسیر کرتے
ہوئے مفتی قاسم عطاری نقل فرماتے ہیں :کہ اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے
گزشتہ امتوں پر جڑ سے اکھاڑ دینے والے عذابات نازل ہونے کا بیان فرمایا اور ا س آیت
میں یہ بیان فرمایا کہ ان عذابات کے نازل ہونے کا سبب دو چیزیں تھیں۔ (1) ان میں
کوئی ایسا نہیں تھا جو انہیں فساد سے منع کرتا۔ (2) اپنے برے اعمال یعنی شرک اور
کفر وغیرہ سے رجوع نہ کرنا۔ (صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۳ / ۹۳۷)
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے میرے حبیب صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت! تم سے پہلی امتوں میں سے جنہیں
ہم نے ہلاک کر دیا تھا وہ کچھ ایسے فضیلت والے نہیں ہوئے جو لوگوں کو زمین میں
فساد کرنے سے روکتے اور انہیں گناہوں سے منع کرتے ، اسی لئے ہم نے انہیں ہلاک کردیا
البتہ ان سابقہ امتوں میں تھوڑے سے ایسے تھے جنہیں ہم نے نجات دی اور وہ لوگ انبیاءِ
کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لائے اوران کے اَحکام پر عمل
کرتے اور لوگوں کو فساد سے روکتے رہے جبکہ ظالم لوگ اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے
رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ نعمتوں ،لذتوں ، خواہشات اور شَہوات کے عادی ہوگئے ،
کفر اورگناہوں میں ڈوبے رہے اور وہ مجرم تھے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۲
/ ۳۷۵، ملخصاً)
ایک اور مقام پر صراحتا قومِ عاد، ثمود اور
فرعون جیسے کفار و منکرِ نبوت کی تباہی کا بڑا سبب فساد فی الارض کوقراردیتےہوئےفرمایا:
اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ
اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ(۸۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ
سے روکا ہم ان کے فساد کے بدلے میں عذاب پر عذاب کا اضافہ کردیں گے۔ (سورۃ
النحل، 16: آیت 88)
اس آیت کے
تحت بھی مفتی صاحب تفسیر صراط الجنان میں لکھتے ہیں:کہ اس سے پہلی آیت میں اللہ
تعالیٰ نے ان کافروں کی وعید بیان فرمائی جنہوں نے صرف خود کفر کیا جبکہ ا س آیت
میں ان کافروں کی وعید بیان فرمائی جو خود بھی کافر تھے اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ
کے راستے سے روک کر(اور گمراہ کر کے) انہیں کافر بناتے تھے۔( تفسیرکبیر، النحل،
تحت الآیۃ: ۸۸، ۷
/ ۲۵۷)
آیت کا
خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جن
لوگوں نے آپ کی نبوت کا انکار کیا اور جو آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس سے
لائے، اسے جھٹلایا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے سے روکا تو ہم قیامت کے دن جہنم میں
انہیں اس عذاب سے زیادہ عذاب دیں گے جس کے وہ صرف اپنے کفر کی وجہ سے حقدار ہوئے
تھے۔ انہیں دگنا عذاب اس لئے ہو گا کہ دنیا میں یہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی
کرتے تھے اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیتے تھے ۔ ( تفسیرطبری،
النحل، تحت الآیۃ: ۸۸، ۷
/ ۶۳۲۶۳۳)
حدیث شریف میں سخت وعید بیان کرتے ہوئے حضور
اکرم ﷺ نے فرمایا: "جس نے زمین کا ایک بالشت بھی ظلم سے لیا قیامت کے دن سات
زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔(صحیح بخاری، کتاب المظالم، حدیث: 2452،
صحیح مسلم، حدیث: 1610)
امام ابن
کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: الفساد في الأرض هو
العمل بمعصية الله۔
زمین میں فساد اللہ کی نافرمانی کے ذریعے عمل
کرنا ہے۔( تفسیر ابن کثیر، سورۃ البقرۃ آیت 11 کی تفسیر)
امام قرطبی
رحمۃ اللہ علیہ: "كل معصية فهي فساد في الأرض" ہر
گناہ زمین میں فساد ہے۔( الجامع لاحکام القرآن، ج1 ص215)
قرآن مجید
نے فساد فی الارض کو اللہ کی ناراضگی، سخت سزا اور منافقین کی علامت قرار دیا ہے۔
احادیث میں قتل، ظلم، لڑائی اور معاشرے کا امن خراب کرنے سے روکا گیا ہے۔ سلف صالحین
کے نزدیک ہر گناہ اور نافرمانی فساد فی الارض میں داخل ہے۔ اس لیے مسلمان پر لازم
ہے کہ خود فساد سے بچے اور دوسروں کو بھی روکےاور فرمان خداوندی وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰىکا مصداق بنے۔اللہ تعالیٰ
ہمیں زمین میں اصلاح کرنے والا بنائے اور فساد سے محفوظ رکھے۔ آمین
Dawateislami