ابو حنین سید ثقلین عطّاری
(درجہ سابعہ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی،پاکستان)
معاشرہ افراد سے مِل کر بنتا ہے اور
معاشرہ میں رہنے والے لوگوں کے باہمی مراسم و تعلقات کبھی نہایت خوشگوار اور کبھی
بہت زیادہ ناروا ہو جاتے ہیں۔ جس طرح شریعتِ مطہرہ نے ہر معاملے میں ہماری راہنمائی
کی ہے، اسی طرح جب لوگوں کے آپسی معاملات اگر ناخوشگوار صورت اختیار کر جائیں تو
ہمیں کیا فریضہ سر انجام دینا چاہیے، اس پر بھی بڑے عمدہ انداز میں دینِ اسلام
ہماری تربیت کرتا ہے۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ جب بھی ایسا معاملہ دیکھیں تو حکمتِ
عملی کے ساتھ ان دونوں کے درمیان صلح کروائیں کہ قرآن و احادیث میں مختلف مقامات
پر صلح کروانے کا حکم اور اس کے فضائل بیان کیے ہیں، چنانچہ اللہ کریم ارشاد
فرماتا ہے:اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ
وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠(۱۰) ترجمۂ کنزالایمان: مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ
تم پر رحمت ہو۔ (پ26، الحجرات:10)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوگوں کے درمیان صلح کروائے گا، اللہ عزوجل اُس کا
معاملہ درست فرمادے گا اور اُسے ہر کلمہ بولنے پر ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا
فرمائے گا اور جب وہ لوٹے گا تو اپنے گناہوں سے مغفرت یافتہ ہو کر لوٹے گا۔ (الترغیب
و الترہیب، کتاب الادب، الترغیب فی الاصلاح بین الناس، 3/321، حدیث: 9، دار الکتب
العلمیہ بیروت) کس قدر خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جو اپنی کوشش اور کاوش سے دو بچھڑے
ہوئے مسلمانوں کو ملا دیتا ہے کہ اسے ہر کلمہ پر ایک غلام کی آزادی اور صلح
کروانےکے بعد لوٹنے پر مغفرت سے نوازے جانے کی بشارت عطا کی ہے۔ ایک اور مقام پر
نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں روزہ، نماز
اور صدقہ سے افضل عمل نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان عرض کرنے لگے:یا رسول
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ضرور بتائیں۔ ارشاد فرمایا: وہ عمل آپس میں
روٹھنے والوں میں صلح کرانا ہے، کیونکہ روٹھنے والوں میں ہونے والا فساد خیر کو
کاٹ دیتا ہے۔(ابو داود، کتاب الادب، باب فی اصلاح ذات البین، 4/365، حدیث: 4919 دار
احیاء التراث العربی بیروت)
ان روایات سے صلح کروانے کی اہمیت
اور فضیلت معلوم ہوئی، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جب بھی دو مسلمانوں کے درمیان رنجش
دیکھیں تو اُن کے درمیان صلح کروانے کی بھرپور کوشش کریں۔ بعض اوقات جب کوئی شخص
دو بندوں کے درمیان ناراضی کو دیکھتا ہے تو ان کے درمیان صلح کروانے سے اس لیے
پیچھے ہٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ماننا تو ہے نہیں تو میرے سمجھانے سے کیا فائدہ ہوگا
یہ شیطان کا وسوسہ ہے اس کو فوراً دور کیجئے اور اپنا ذہن بنایئے کہ سمجھانا کبھی
بھی فائدے سے خالی نہیں ہوتا کیونکہ اللہ کریم نے ارشاد فرمایا:وَّ ذَ كِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) ترجمۂ کنز الایمان:اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو
فائدہ دیتا ہے۔(پ27، الذٰریٰت: 55) اگر اس طرح اپنا ذہن بنائیں گے تو اللہ پاک کی
رحمت سے امید ہے کہ شیطان کے اس وسوسے سے چھٹکارا مل جائے گا۔ صلح کروانے کی کس
قدر اہمیت ہے،اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ویسے تو جھوٹ بولنا گناہِ کبیرہ ہے
اور دینِ اسلام میں جھوٹ بولنے کی سخت مذمت بیان کی ہے، لیکن چند مقامات ایسے ہیں
جہاں واقع کے خلاف بات کرنا (یعنی جھوٹ بولنا) جائز ہے، ان میں سے ایک مقام وہ ہے
کہ جب دو مسلمان ناراض ہو جائیں تو ان کے درمیانی نفرتوں کو محبتوں میں تبدیل کرنے
کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت ہے، مثلاً صلح کروانے والا دو ناراض بندوں میں سے کسی
ایک کے پاس جائے اور اس سے کہے کہ فلاں جو تم سے ناراض ہے وہ تو تمہاری تعریف کر
رہا تھا یا تمہیں سلام کہہ رہا تھا اسی طرح دوسرے شخص سے بھی کہے تاکہ ان کے
درمیان صلح ہو جائے۔(بہارِ شریعت، 3/517، مکتبۃ المدینہ) لیکن آج اگر معاشرے پر
نگاہ ڈالیں تو صورتِ حال اِس کے برعکس نظر آتی ہے کہ صلح کروانے کے بجائے ایک
دوسرے کو مزید لڑانے کے لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو بگاڑ کر دوسرے کے سامنے رکھا
جاتا ہے۔ بحیثیتِ مسلمان ہمیں اس بات کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ جب شریعتِ مطہرہ
نے صلح کروانے کی اس قدر تاکید کی ہے تو پوری کوشش کر کے لوگوں کے دلوں میں اپنے
بھائیوں کی محبت و الفت کو بٹھائیں اور نفرتیں دور کریں۔
اللہ کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ
ہمیں صلح کروا کر اس کے فضائل پانے کی توفیق عطا فرمائے۔
محمد احمد رضا عطّاری(درجہ
ثانیہ جامعۃُ المدینہ فیضان خلفائے راشدین بحریہ ٹاؤن اسلام آباد پاکستان)
حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: کیا میں تمہیں روزے، نماز اور صدقہ سے افضل عمل نہ بتاؤں صحابہ کرام علیہم
الرضوان نے عرض کی: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! ضرور بتائیے۔
فرمایا کہ وہ عمل آپس میں روٹھنے والوں میں صلح کرا دینا ہے کیونکہ روٹھنے والوں
میں ہونے والے فساد خیر کو کاٹ دیتے ہیں۔(ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی اصلاح ذات
البین،4/365، حدیث:4919)
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی
اللہ عنہما سے روایت ہے کہ پیکر حسن و جمال بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سب سے افضل صدقہ روٹھے ہوئے لوگوں میں صلح کرا دینا ہے۔(الترغیب
والترہیب، کتاب الآداب، باب اصلاح بین الناس، 3/321، رقم:6)
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ خاتم المرسلین رحمۃ اللعالمین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: لوگوں کے ہر جوڑ پر ہر اس دن میں جس میں سورج طلوع ہوتا ہے ایک صدقہ ہے،
دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے کسی شخص کی مدد کے لیے اسے اپنی سواری پر
سوار کرنا یا اس کا سامان اپنی سواری پر لانا صدقہ ہے اچھی بات کہنا صدقہ ہے نماز
کے لیے ہر قدم چلنے صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا صدقہ ہے۔(صحیح
بخاری، کتاب الجہاد، باب من اخز بالرکاب ونحو، 2/302، حدیث: 2989 بتغیر قلیل)
حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ تاجدار رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت ابو ایوب رضی
اللہ عنہ سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک تجارت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ انہوں نے عرض
کیا ضرور بتائیں۔ ارشاد فرمایا: جب لوگ جھگڑا کریں تو ان کے درمیان صلح کروا دیا
کرو، ایک دوسرے سے دوری اختیار کریں تو انہیں قریب کر دیا کرو۔ ایک روایت میں ہے
کہ حضرت سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ سے فرمایا: میں تمہیں ایسے صدقہ کے بارے میں نہ بتاؤں جسے
اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پسند کرتے ہیں، جب لوگ
ایک دوسرے سے ناراض ہو کر لوٹ جائیں تو ان میں صلح کروا دیا کرو۔(الترغیب والترہیب،
کتاب الآداب، باب اصلاح بین الناس، رقم:7، 8، 9، 3/321)
حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ نور کے پیکر تمام انبیاء کی سرور دو جہاں کے تاجدار سلطان بحر و بر
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوگوں کے درمیان صلح کرائے
گا اللہ تعالیٰ اس کے معاملے درست فرما دے گا، اس کے ہر کلمہ بولنے پر اسلام آزاد
کرنے کا ثواب عطا فرمائے گا اور وہ جب لوٹے گا تو اپنے پچھلے گناہوں سے مغفرت
یافتہ ہو کر لوٹے گا۔(الترغیب والترہیب، کتاب الآداب، باب اصلاح بین الناس، 3/321)
محمد شیرازعطاری( درجۂ سابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ
غوث اعظم کراچی پاکستان)
پیارے اسلامی بھائیو! اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں
ہر شے کا واضح بیان ہے ان ہی میں سے ایک صلح بھی ہے۔آئیے صلح کے بارے میں چند باتیں
آپ بھی پڑھئے:اللہ پاک فرماتا ہے : ﴿لَا
خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ
مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِؕ﴾ ترجَمۂ کنزُ الایمان: ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے
خیرات یا اچھی بات یا لوگوں میں صلح کرنے کا۔ (پ 5، النسآء: 114) ایک جگہ اور
ارشاد فرمایا: ﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ
اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠(۱۰)﴾ ترجَمۂ کنزُا لایمان: مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے
دو بھائیوں میں صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔(پ26،الحجرات:10)
(1)بخاری شریف میں حضرت اُمِّ کُلثوم بنتِ عقبہ رضی اللہُ
عنہا سے مروی ہے:رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمفرماتے ہیں: وہ شخص
جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرائے کہ اچھی بات پہنچاتا ہے یا اچھی بات
کہتاہے۔(بخاری،2/210، حدیث: 2692) (2)رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے
مگر وہ صلح کے حرام کو حلال کردے یا حلال کو حرام کردے۔(ابوداؤد،3/425،حدیث:3594)
(3)اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سب سے افضل
صدقہ روٹھے ہوئے لوگوں میں صلح کرادینا ہے۔(الترغیب والترھیب،3 /321،حدیث:6)
مذکورہ بالا آیات اور احادیثِ مقدسہ سے ہمیں یہ درس ملتا ہے
کہ ہمیں ہمیشہ آپس میں پیار و محبت سے رہنا چاہئے کبھی بھی لڑائی جھگڑے وغیرہ نہیں
کرنے چاہئیں،آپس میں بھائی بھائی بن کے رہنا چاہئے اور اگر کسی کے آپس میں اختلافی
معاملات ہوں تو انہیں آپس میں حل کرکے صلح کر لینی چاہئے، اللہ پاک ہم سب کو آپس میں
اتفاق و اتحاد نصیب فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
حمزہ
رسول( جامعۃُ المدینہ فیضان حسنین کریمین کھوکھر روڈ ،لاہور ،پاکستان)
شریعت
مطہرہ نے ہمیں مکلف بنایا ہے۔ بعض اعمال کا تعلق ظاہری بدن کے ساتھ ہے جیسے نماز،روزہ
وغیرہ، نیکیاں کرنا، برے کاموں سے بچنا اور بعض اعمال ایسے ہیں جن کا تعلق باطن دل
کے ساتھ ہے جیسے حسد سے بچنا ریاکاری رشوت تکبر سے بچنا اور بخل سے بچنا وغیرہ۔ بخل
ایک انتہائی قبیح یعنی برا کام ہے۔ امام غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ
احیاء العلوم جلد تین میں بخل کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: جہاں مال خرچ
کرنا ضروری ہے وہاں خرچ نہ کرنا بخل ہے۔ یہ تعریف جامع مانع اور زندگی کے ہر معاملے میں صادق آتی ہے قرآن و
حدیث میں بخل کی مذمت اور اس سے بچنے کی ترغیب کثیر مقامات پر بیان کی گئی ہے۔
(1)صحیح مسلم
شریف میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بخل سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو
ہلاک کیا ہے اور بخل ہی کی وجہ سے انہوں نے لوگوں کے خون بہائے اور حرام کو حلال کیا۔
جب کوئی مالدار شخص ضرورت مند کو بھی
مال دینے سے بخل یعنی کنجوسی کرتا ہے تو مجبوراً شخص حرام کام کی طرف چلے جاتا ہے بعض اوقات تو بات خون بہانے تک بھی چلی
جاتی ہے۔
(2)
ابو داؤد میں روایت ہے حضرت عبد اللہ بن عمر
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: بخل و حرص سے بچو اس لیے کہ تم سے پہلے
لوگ بخل و حرص کی وجہ سے ہلاک ہوئے حرص نے لوگوں کو بخل کا حکم دیا تو وہ بخیل ہو
گئے،بخل نے انہیں ناطہ توڑنے کا حکم دیا
تو لوگوں نے ناطہ توڑا اور اس نے انہیں فسق و فجور کا حکم دیا تو وہ فسق و فجور میں لگ گئے۔ مذکورہ حدیث مبارکہ سے معلوم
ہوا کہ اکثر برائیوں کی جڑ بخل ہی ہے۔
(3)
سنن نسائی میں موجود ہےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بخل اور ایمان
یہ دونوں کسی بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔
(4)
جامع ترمذی میں روایت ہے حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ میں
نے عرض کیا یا رسولاللہ! میرے
گھر میں صرف زبیر کی کمائی ہے کیا میں اس میں سے صدقہ کروں ؟ آپ علیہ السلام نے
فرمایا ہاں صدقہ کرو اور گرہ مت لگاؤ ورنہ تمہارے اوپر گرہ لگا دی جائے گی (یعنی بغل مت کرو ورنہ تمہارے مال سے
برکت ختم ہو جائے گی)
(5)
بخاری مسلم اور کثیر کتابوں میں یہ حدیث مبارکہ موجود ہے کہ نبی آخرالزماں صلی
اللہ علیہ وسلم یوں دعا کرتے کہ یعنی اے اللہ میں تجھ سے عاجز ہونے سستی ،بزدلی، بڑھاپے اور بخل سے پناہ مانگتا ہوں اور
میں تجھ سے عذاب قبر، زندگی اور موت کی آزمائشوں سے پناہ مانگتا ہوں۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ہمیشہ بخل سے محفوظ رکھے۔ آمین
مبشر رضا عطّاری (درجہ ثالثہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور،پاکستان)
بخل ایک مہلک اور قابل مذموم مرض ہے کہی تو یہ بہت سے
گناہوں کا سبب بن جاتا ہے بقول یہ ہے کہ جہاں شرعاً یا عرف و عادت کے اعتبار سے
خرچ کرنا واجب ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل (کنجوسی) ہے ۔ (احیاء العلوم کتاب زم البخل
وزم حب المال، 3/320،ملخصا )قراٰن و حدیث میں شدید مذمت بیان کی گئی ہے بخل کی مذمت
پر اللہ پاک قراٰن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا یَحْسَبَنَّ
الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ
مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-بَلْ
هُوَ شَرٌّ لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا
بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ
السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا
تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۸۰)۔ ترجمۂ کنز
الایمان: اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے
لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت
کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا اور اللہ ہی وراث ہے آسمانوں اور زمین کااور اللہ
تمھارے کا موں سے خبردار ہے۔ (پ 4،آل عمران:180)کثیر احادیث میں بخل کی مذمت بیان کی گئی ہے۔
چنانچہ بخل کی مذمت پر پانچ فرامین مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ ہوں۔
(1) اللہ سے دور : حضور
نبی اکرم نور مجسم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کر نے ارشاد فرمایا : بخیل اللہ
پاک سے دور ہے جنت سے اور آدمیوں سے دور ہے جبکہ جہنم سے قریب ہے۔(ترمذی، کتاب
البر والصلۃ، باب ما جاء فی السخائ، 3/387، حدیث: 1968)(2)رلا نے والی :حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےارشاد فرمایا: آدمی کی دو عادتیں بریہیں
(1)بخیلی جو رلانے والی ہے (2)بزدلی جو ذلیل کرنے والی ہے (ابو داؤد، کتاب الجہاد، 3/18، حدیث:2511)(3)بلا حساب جہنم میں
داخلہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: مالدار بخل کرنے کی وجہ سے
بلا حساب جہنم میں داخل ہوں گے۔(فردوس الاخبار، باب السین، 1/444، حدیث: 3309) (4)جہنم میں داخل کرے گی
:حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا:بخل جہنم میں ایک درخت ہے جو بخیل ہے اس نے اس کی ٹہنی پکڑ لی ہے وہ
ٹہنی جہنم میں داخل کئے بغیر نہیں چھوڑے گی۔(شعب الایمان،435/7، حدیث: 10877)(5) جنت میں نہیں جائے گا : نبی
اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : کوئی بخیل جنت میں نہیں
جائے گا ۔(معجم الاوسط، باب العین، من اسمہ علی، 3 / 125، حدیث: 4066)الله سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس مرض سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے
اور ہمیں خلوث کی عظیم دولت سے نوازے۔
محمد مدثر عطّاری (درجہ
ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور پاکستان)
بخل کی تعریف: جہاں شرعاً یا عرف و عادت کے اعتبار سے خرچ
کرنا واجب ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل (کنجوسی) ہے ۔ (احیاء العلوم کتاب زم البخل وزم
حب المال، 3/320،ملخصا )قرآن مجید میں بخل کے
بارے ارشاد : اللہ پاک کا فرمان عالیشان ہے ۔ وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ(۸)ترجمۂ کنز العرفان : اور رہا وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا۔(پ30،اللیل:8)بخل کی مذمت کے بارے میں 5 فرامین مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
(1)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضور پر نور
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :بخل جہنم میں ایک درخت ہے، جو
بخیل ہے اُس نے اس کی ٹہنی پکڑ لی ہے، وہ ٹہنی اُسے جہنم میں داخل کیے بغیر نہ
چھوڑے گی۔(شعب الایمان، الرابع و السبعون من شعب الایمان، 7 / 435، حدیث: 10877)(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم
نور مجسم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کر نے ارشاد فرمایا : بخیل اللہ پاک سے
دور ہے جنت سے اور آدمیوں سے دور ہے جبکہ جہنم سے قریب ہے۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ،
باب ما جاء فی السخائ، 3/387، حدیث: 1968)(3)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمَا سے روایت ہے ، نبی
اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : کوئی بخیل جنت میں نہیں
جائے گا ۔(معجم الاوسط، باب العین، من اسمہ علی، 3 / 125، حدیث: 4066)(4) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مالدار
بخل کرنے کی وجہ سے بلا حساب جہنم میں داخل ہوں گے۔(فردوس الاخبار، باب السین، 1/444، حدیث: 3309) (5) حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بخیل( یعنی کنجوسی کرنے والا)، دھوکے باز، خیانت کرنے والا اور بد
اخلاق جنت میں نہیں جائیں گے۔(المسند للامام احمد بن حنبل مسند ابی بکر الصدیق ،1/20 ،حدیث:13)
محمود علی عطّاری(اسسٹنٹ
سول انجینئر انصاری شگر ملز ٹنڈو غلام حیدر پاکستان)
بخل کیا ہے ؟ مع معنی و تعریف اور حکم:۔ بخل ایک باطنی بیماریوں
میں سے ایک بیماری ہے۔ بخل کے معنی کنجوسی کے ہیں، بخل کی تعریف یہ ہے کہ جہاں شرعاً،
عادتاً، مروتاً خرچ کرنا لازم ہو، نہ کرنا جیسے زکوٰۃ، عشر ،صدقۂ فطر وغیرہ شرعاً
لازم اور رشتے دار دوست وغیرہ پر مروتاً لازم ہے۔ بخل کا حکم ناجائز و حرام اور
گناہ ہے ۔ اللہ پاک و رسول پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ناراضی کا باعث ہے۔بخل کے متعلق احادیث
مبارکہ میں کئی مذمتیں آئی ہیں آیئے انہیں میں سے پانچ پڑھتے ہیں۔
(1) فرمان آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: دو عادتیں مومن میں جمع نہیں ہوسکتیں ،
بخل اور بد خلقی۔( ترمذی ،کتاب
البروالصلۃ ، باب ماجاء فی البخل، 3/387، حدیث: 1969) دیکھئے بخل کیسی بری بیماری ہے کہ مؤمن کے دل میں داخل ہی نہیں ہو سکتی کہ مؤمن
کے اوصاف میں سے ایک وصف اس کا بخیل نہ ہونا ہے۔ (2) ایک اور فرمان آخری رسول صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم: کوئی بخیل جنت میں نہ جائے
گا۔(معجم الاوسط، باب العین، من اسمہ علی، 3 / 125، حدیث: 4066)
اللہ اکبر کہ ساری طلب یہی بندۂ مؤمن کی ہوتی ہے کہ وہ
جنت پالے پر مالک جنت خود فرماتے ہے کہ بخل کرنے والا جنت سے محروم ہے اتنی بڑی
تباہ کاری ہے بخل کی۔ تفسیر صراط الجنان میں ہے: بخل کی وجہ سے جنت سے روکا جاسکتا ہے۔( تفسیر صراط الجنان،333/9)(3)
حدیث پاک پڑھئے اور بخل کی نحوست سے بچئے: آدمی کی دو عادتیں بری ہے :بخیلی جو
رلانے والی ہے اور بزدلی جو ذلیل کرنے والی ہے۔(ابوداؤد،18/3،حدیث:2511)(4) حدیث پاک میں ہے مال دار کو بخل کی وجہ سے بے حساب دوزخ میں ڈالا
جائے گا۔(مسند الفردوس ،444/1، حدیث: 3309) تفسیر صراط
الجنان میں ہے بخل کرنے والا گویا اس درخت کی شاخ پکڑ رہا ہے جو اسے
جہنم کی آگ میں داخل کرکے ہی چھوڑے گی۔ ( تفسیر صراط الجنان،333/9)(5)بخل سے بچو کہ بخل نے پہلے
کے لوگوں کو ہلاک کیا ،اسی بخل نے انہیں خون بہانے اور حرام کو حلال ٹھہرانے پر
آمادہ کیا۔(مسلم،کتاب البروالصلۃ و الآداب،باب تحریم الظلم،ص1069، حدیث:2578)
پیارے اسلامی بھائیوں ! دیکھا ہم سب نے بخل کیسی مذموم اور منحوس خصلت
ہے جو سوائے تباہی کہ کچھ نہیں لاتی۔ دنیا میں بھی بخیل ذلت اٹھاتا ہے اور آخرت میں
درد ناک عذاب۔الامان والحفیظ اللہ پاک ہمیں بخل
سے بچائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پانچ باتوں سے اللہ کی پناہ مانگی۔
فرمانِ
نبوی ہے: اے گروہ مہاجرین! پانچ بلائیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں اللہ پاک سے
تمہارے لئے پناہ مانگتا ہوں : جب کسی قوم میں کھلم کھلا بدکاریاں ہوتی ہیں تو اللہ
پاک ان پر ایسے مکروہات نازل کرتا ہے جو پہلے کسی پر نازل نہیں ہوتے۔ جب کوئی قوم
ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو ان پرتنگدستی، قحط سالی اور ظالم حاکم مسلط کردیا جاتا
ہے، جب کوئی قوم اپنے مالوں کی زکوٰۃ نہیں دیتی انہیں خشک سالی گھیر لیتی ہے، اگر
زمین پر چوپائے نہ ہوں تو کبھی ان پر بارش نہ برسے۔ جب کوئی قوم اللہ اور اس کے رسول کے عید کو توڑ رہی۔ جب
کوئی قوم اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑ دیتی ہے تو اس پر اس کے دشمن مسلط
ہوجاتے ہیں جو ان سے ان کا مال و دولت چھین لیتے ہیں اور جس قوم کے فرمانروا کتاب
اللہ سے فیصلہ نہیں کرتے، ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے خوف پیدا ہوجاتا ہے۔
(1)فرمانِ
نبوی ہے: اللہ پاک بخیل کی زندگی اور سخی کی موت کو ناپسند فرماتا ہے۔(
کنزالعمال،کتاب الاخلاق، الباب الثانی فی الأخلاق والأفعال۔۔۔الخ، 2/180،
الجزء الثالث ،حدیث: 7373)
(2)فرمانِ نبوی ہے: دو عادتیں مومن
میں جمع نہیں ہوسکتیں ، بخل اور بد خلقی۔( ترمذی ،کتاب البروالصلۃ ، باب ماجاء
فی البخل، 3/387، حدیث: 1969)
(3)فرمانِ نبوی ہے: اللہ پاک نے
قسم کھائی ہے کہ بخیل کو جنت میں نہیں بھیجے گا۔( تاریخ مدینہ دمشق، 57/373)
(4)فرمانِ نبوی ہے:بخل سے بچو! جس
قوم میں بخل آجاتا ہے وہ لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے، صلہ رحمی نہیں کرتے اور ناحق خون
ریزیاں کرتے ہیں ۔ (کنزالعمال
، کتاب الاخلاق، 2/182،الجزء الثالث، حدیث: 7401)
(5)فرمانِ نبوی ہے: اللہ پاک نے
رکاکت اور شعلہ پن کو پیدا کیا اور اسے مال اور بخل سے ڈھانپ دیا۔( کنزالعمال
، کتاب الاخلاق، 2/183، حدیث: 7407)
رانا عبید عطّاری(درجہ ثالثہ
جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور پاکستان)
بخل مہلک یعنی ہلاک کرنے والا مرض ہے بخل بعض اوقات کئی
گناہوں کا سبب بن جاتا ہے ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو اس سے بچنا لازم ہے جہاں شرعاً یا
عرف و عادت کے اعتبار سے خرچ کرنا واجب ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل یعنی کنجوسی ہے
جہاں مال خرچ کرنا شرعاً ضروری ہے مثلاً فرض ہونے کی صورت میں صدقہ فطر ادا کرنا،
اسی طرح قسم وغیرہ کا کفارہ دینا، ان کاموں میں بخل کرنا گناہ اور جہنم میں لے جانے
والا کام ہے۔بخل کے متعلق قراٰن پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا
یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ
اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ
خَیْرًا لَّهُمْؕ-بَلْ هُوَ شَرٌّ
لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِؕ-وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ
الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۸۰)۔ ترجمۂ کنز الایمان: اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو
اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے
برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا اور اللہ
ہی وراث ہے آسمانوں اور زمین کااور اللہ تمھارے کا موں سے خبردار ہے۔ (پ 4،آل عمران:180)
(1)بخل سے بچو کہ اس نے اگلوں کو ایک دوسرے کا خون بہانے پر
ابھارا تو انہوں نے ایک دوسرے کا خون بہا یا حرام کو حلال سمجھا اور رشتہ داری کو
کاٹا۔(مسلم ، کتاب البر والصلة والآداب ، باب تحریم الظلم، ص 1394، حدیث: 12578)(2)سخاوت جنت میں اگنے والا ایک درخت ہے لہٰذا سخی جنت میں
جائے گا۔ بخل جہنم میں اگنے والا ایک درخت ہے لہٰذا بخیل جہنم میں جائے گا۔
(کنزالعمال،168/6،حدیث:16203)(3)حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رحیم وکریم
آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
بنولِحْیان کے وَفْد سے پوچھا:تمہارا سردار کون ہے؟ انہوں نے کہا: جَدْبن قیس
ہمارے سردار ہیں مگر ان میں بخل ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:بخل سے بڑی کونسی بیماری ہے،
تمہاراسرداراب عَمْرو بن جَمُوح ہے۔ (المعجم الصغیر ،1/ 115، حدیث : 318)(4)ان
الله بعض البخيل في حياته التقى عند موته بے شک اللہ
اس شخص کو ناپسند فرماتا ہے جو زندگی بھر بخل اور مرتے وقت سخاوت کرے۔(كنز العمال،
کتاب الاخلاق،185/3،حدیث:7373)(5)رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے زمانے میں ایک شخص شہید ہو گیا۔ تو اس پر ایک
خاتون رونے لگی اور روتے ہوئے کہا: ہائے رے شہید ! رسول اللہ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد نے
ارشاد فرمایا: تمہیں کیسے معلوم ہے کہ وہ
شہید ہے ہو سکتا ہے اس نے بے کار گفتگو کی ہویا نہ گھٹنے والی چیز میں بخل کیا ہو۔المسند لابی یعلیٰ ، 509/5 ،حدیث: 6615)
شناور غنی عطّاری (درجہ رابعہ
جامعۃُ المدینہ، فیضان امام غزالی،فیصل آباد پاکستان)
ہر اسلامی بھائی پر ظاہری گناہوں کے ساتھ ساتھ باطنی گناہوں
کے علاج پر بھی بھرپور توجہ دینا لازم ہے تاکہ ہم اپنے دارِ آخرت کو ان کی تباہ
کاریوں سے محفوظ رکھ سکیں۔ باطنی گناہوں کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے۔ آئیے سب سے
پہلے بخل کی تعریف کے بارے میں جانتے ہیں: بخل کے لغوی معنی کنجوس کے ہیں اورجہاں خرچ کرنا شرعاً، عادتاً یا مروتاً لازم ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے یا جس
جگہ مال و اسباب خرچ کرنا ضروری ہو وہاں خرچ نہ کرنا یہ بھی بخل ہے۔(الحدیقہ
الندیہ، 2 / 154) زکوٰۃ
صدقہ فطر وغیرہ میں خرچ کرنا شرعاً واجب ہے اور دوست احباب،عزیز رشتہ داروں پر خرچ
کرنا عرف و عادت کے اعتبار سے واجب ہے۔(احیاء علوم الدین، 3/ 320)
مدینہ کے پانچ حروف کی نسبت سے بخل کی مذمت پر پانچ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم :۔قرآن مجید اور
کثیر احادیث میں بخل کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے:۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا
ہے: هٰۤاَنْتُمْ
هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ-فَمِنْكُمْ مَّنْ
یَّبْخَلُۚ-وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖؕ-وَ اللّٰهُ
الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُۚ-وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا
غَیْرَكُمْۙ-ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠(۳۸) ترجمۂ کنزالایمان: ہاں ہاں یہ جو تم ہو بلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں
خرچ کرو تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے
اور اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج اور اگر تم منہ پھیرو تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا پھر وہ تم
جیسے نہ ہوں گے۔(پ26، محمد:38)(1) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مالدار
بخل کرنے کی وجہ سے بلا حساب جہنم میں داخل ہوں گے۔(فردوس الاخبار، باب السین، 1/444، حدیث: 3309) (2) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرورِ عالم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: دو خصلتیں کسی مؤمن میں جمع نہیں
ہو سکتیں ،بخل اور بدخلقی۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی البخل، 3/387، حدیث: 1969)(3) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا:بخیل اللہ پاک سے دور ہے، جنت سے اور آدمیوں سے دور ہے جبکہ جہنم سے قریب
ہے۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 1968)
(4) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمَا سے روایت ہے ، نبی
اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : کوئی بخیل جنت میں نہیں
جائے گا ۔(معجم الاوسط، باب العین، من اسمہ علی، 3 / 125، حدیث: 4066)(5) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضور پر نور
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :بخل جہنم میں ایک درخت ہے، جو
بخیل ہے اُس نے اس کی ٹہنی پکڑ لی ہے، وہ ٹہنی اُسے جہنم میں داخل کیے بغیر نہ
چھوڑے گی۔(شعب الایمان، الرابع و السبعون من شعب الایمان، 7 / 435، حدیث: 10877)
سید زین العابدین (درجہ دورۃالحدیث
جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی پاکستان)
بعض نادان دنیاوی مال و دولت کے اتنے حریص ہوتے ہیں کہ راہ
خدا میں صدقہ و خیرات کا نام سنتے ہی دُور بھاگتے ہیں اور کنجوسی کی حد پار کرتے
ہوئے اللہ پارے کی راہ میں خرچ کرنا تو دور کی بات اپنی ذات اور اپنے گھر والوں کی
ضروری حاجات بھی مرے دل سے پوری کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دل و دماغ پر ہر وقت دنیاوی
مال و دولت جمع کرنے کا جنون سوار رہتا ہے اور پھر یہی بخل و حرص آہستہ آہستہ انہیں
سرکش اور یاد خداوندی سے غافل کر دیتی ہے۔ حدیث مبارک میں مالداروں اور صاحب ثروت
لوگوں کو راہ خدا میں خرچ کرنے اور بخل سے بچنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
بخل کی تعریف :بخل کا لغوی معنی کنجوسی کے ہیں۔اصطلاحی معنی: جہاں خرچ کرنا شرعاً، عادتاً یا مروتاً
لازم ہو، وہاں خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے۔
(1)حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے سرور دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: دو خصلتیں کسی مؤمن میں جمع
نہیں ہو سکتیں بخل اور بد خلقی۔ (ترمذی شریف، حدیث: 1969) (2)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
بخیل اللہ پاک سے دور ہے ،جنت سے، آدمیوں
سے دور ہے جبکہ جہنم سے قریب ہے۔ (ترمذی شریف، حدیث: 1968)(3) حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضور پر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے ارشاد فرمایا :بخل جہنم میں ایک درخت ہے، جو بخیل ہے اُس نے اس کی ٹہنی پکڑ لی
ہے، وہ ٹہنی اُسے جہنم میں داخل کیے بغیر نہ چھوڑے گی۔(شعب الایمان، الرابع و
السبعون من شعب الایمان، 7 / 435، حدیث: 10877)(4)حضرت
سیِّدُنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار مدينہ، راحت قلب و
سينہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا:لالچ سے بچتے رہو کیونکہ
تم سے پہلی قوميں لالچ کی وجہ سے ہلاک ہوئيں ، لالچ نے انہيں بُخْل پر آمادہ کيا
تو وہ بُخْل کرنے لگے اور جب قطع رحمی کا خيال دلايا تو انہوں نے قطع رحمی کی اور
جب گناہ کا حکم ديا تو وہ گناہ ميں پڑ گئے۔( ابوداؤد، کتاب الزکاۃ باب فی الشح، 2/185، حدیث: 1698 ) (5)حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کرم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
کوئی بخیل جنت میں نہیں جائے گا۔(معجم الاوسط، باب العین، من اسمہ علی، 3/125، حدیث: 4066)
بخل ایک مہلک مرض ہے۔ بخل کی قرآن پاک میں اور احادیث
مبارکہ میں مذمت کی گئی ہے۔چنانچہ اللہ پاک قراٰن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ
لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ
اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ
خَیْرًا لَّهُمْؕ-بَلْ هُوَ شَرٌّ
لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ
یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ
السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا
تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۸۰)۔ ترجمۂ کنز
الایمان: اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے
لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت
کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا اور اللہ ہی وراث ہے آسمانوں اور زمین کااور اللہ
تمھارے کا موں سے خبردار ہے۔ (پ 4،آل عمران:180)
حدیث مبارکہ:
بخل ہلاکت کا سبب ہے: اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: لالچ سے بچتے رہو کیونکہ تم سے پہلے قومیں لالچ کی وجہ سے ہلاک ہوئیں،
لالچ نے انہیں بخل پر آمادہ کیا تو وہ بخل کرنے لگے اور جب قطع رحمی کا خیال دلایا
تو انہوں نے قطع رحمی کی اور جب گناہ کا حکم دیا تو وہ گناہ میں پڑ گئے۔ (ابو داؤد،حدیث:1698)بخل کی تعریف :بخل کی تعریف
یہ ہے کہ جہاں شرعاً یا عرف وعادت کے اعتبار سے خرچ کرنا واجب ہو وہاں خرچ نہ کرنا
بخل ہے۔ زکوٰۃ صدقہ فطر وغیرہ میں خرچ کرنا شرعاً واجب ہے اور دوست احباب،عزیز
رشتہ داروں پر خرچ کرنا عرف و عادت کے اعتبار سے واجب ہے۔ (تفسیر صراط الجنان) بخل کی مذمت پر پانچ فرامین مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم:۔
(1) بخیلی جو رلانے والی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی کی دو
عادتیں بری ہیں (1) بخیلی جو رلانے والی ہے۔ (2) بزدلی جو ذلیل کرنے والی
ہے ۔ (ابو داؤد،
کتاب الجہاد، باب فی الجرأۃ والجبن، 3/18،
حدیث: 2511)(2)
بخیل مالدار بلا حساب
داخل جہنم : حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مالدار
بخل کرنے کی وجہ سے بلا حساب جہنم میں داخل ہوں گے۔(فردوس الاخبار، باب السین، 1/444، حدیث: 3309) (3) بخیل داخل جنت نہ
ہو گا: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: کوئی بخیل جنت میں نہیں جائے گا۔(معجم الاوسط، باب العین، من اسمہ علی، 3/125، حدیث: 4066)(4) بخیل اللہ پاک سے دور ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بخیل اللہ پاک سے دور ہے جنت
سے اور آدمیوں سے دور ہے جبکہ جہنم سے قریب ہے۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما
جاء فی السخائ، 3/387، حدیث: 1968) (5) بخل جہنم میں ایک درخت ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بخل جہنم میں ایک درخت ہے، جو
بخیل ہے اُس نے اس کی ٹہنی پکڑ لی ہے، وہ ٹہنی اُسے جہنم میں داخل کیے بغیر نہ
چھوڑے گی۔ (شعب الایمان، الرابع و السبعون من شعب الایمان، 7/435، حدیث: 10877)
ابلیسِ لعین بخل کو پسند کرتا ہے: حضرتِ
یحییٰ علیہ السلام نے پوچھا: تجھے کونسا آدمی پسند ، کونسا ناپسند ہے؟ ابلیس نے
کہا: مجھے مؤمن بخیل پسند ہے مگر گنہگار سخی پسند نہیں ؟ آپ نے پوچھا: وہ کیوں ؟
ابلیس نے کہا: اس لئے کہ بخیل کو تو اس کا بخل ہی لے ڈوبے گا مگر فاسق سخی کے
متعلق مجھے یہ خطرہ ہے کہ کہیں اللہ پاک اس کے گناہوں کو اسکی سخاوت کے باعث معاف
نہ فرمادے۔ پھر ابلیس جاتے ہوئے کہتا گیا کہ اگر آپ یحییٰ پیغمبر نہ ہوتے تو میں
(راز کی یہ باتیں ) کبھی نہ بتلاتا۔ (مکاشفۃ القلوب،ص181) پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! حکایت سے
معلوم ہوا کہ بخیل( کنجوس) شخص شیطان کو بہت پسند ہے کہ ایسے شخص پر ابلیس کو زیادہ
محنت نہیں کرنی پڑتی بلکہ اس شخص کا بخل ہی اسے لے ڈوبتا ہے۔ بخل سے بچنے کا درس: میٹھے
میٹھے اسلامی بھائیو ! بخل ایک نہایت ہی قبیح اور مذموم فعل ہے اس لیے ہر مسلمان
کو اس سے بچنا لازم ہے زکوۃ، صدقہ فطر وغیرہ ادا کرنے میں بخل سے کام مت لیجیے،
بخل سے بچنے کے لیے دعا کیجیے۔ ہمارے پیارے آقا مکی مدنی محمد عربی صلی اللہ علیہ
وسلم نے جو دعائیں مانگی ان میں ہمارے لیے بھی سیکھنے کے مدنی پھول ہیں۔ بخاری شریف
میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا منقول ہے جس میں بخل سمیت سات چیزوں سے پناہ
مانگی گئی ہے۔چنانچہ دعائے مصطفی ہے: اللَّهُمَّ إِنِّي
أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْكَسَلِ و ارذل العمر، و عَذَابِ الْقَبْرِ، وَ فِتْنَةِ
الدجّال و فِتْنَةِ الْمَحْيَا
َالْمَمَاتِ ترجمہ: اے اﷲ میں تیری پناہ چاہتا ہوں بخل سے،
سستی سے، نکمی عمر سے، عذاب قبر سے، دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کے فتنہ سے
۔( صحیح بخاری،حدیث:4707)
اللہ رب العزت ہمیں
بخل جیسی مہلک مرض سے بچائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
Dawateislami