دعوت اسلامی کے شعبہ تحفظ اوراق مقدسہ  کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں ریجن لاہور، زون گوجرانوالہ، کابینہ گوجرانوالہ سینٹرل، ڈویژن نوشہرہ روڈ، حلقہ نوشہرہ سناسی میں اوراق مقدسہ کے نئے بکس لگائے گئے۔ اس موقع پر رکن کابینہ اور محافظ اوراق مقدسہ نے شرکت کی۔(رپورٹ: محمد دلشاد عطاری کارکردگی ذمہ دار گوجرانوالہ زون)


اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام  ملتان زون، گلگشت کابینہ کے علاقے بستی آرائیاں سورج میں اسپیشل پرسنز میں مدنی حلقہ ہوا جس میں اسپیشل پرسنز اور ان کے سرپرستوں نے شرکت کی ۔

مبلغ دعوت اسلامی نے فکر آخرت کے موضوع پر بیان فرمایا اس بیان کی اشاروں کی زبان میں ترجمانی رکن کابینہ گلگشت کابینہ فلک شیر عطاری نے کی۔(رپورٹ:محمد سمیر عطاری اسلا م آباد ، میڈیا ڈیپارٹمنٹ اسپیشل پرسنز دعوت اسلامی)


                            واجباتِ نماز میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے یا فرائض و واجباتِ نماز میں بھولے سے تاخیر ہو جائے تو سجدہ سہو واجب ہے اور جان بوجھ کر واجب ترک کیا تو سجدہ سہو کافی نہیں بلکہ نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ (نماز کے احکام، ص 276)

سجدہ سہو واجب ہونے کی بہت سی صورتیں ہیں تاہم ان میں سے دس صورتیں مندرجہ ذیل ہیں:

1) قراءت وغیرہ کسی مقام پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کا وقفہ ہوا سجدہ سہو واجب ہے۔

2) قعدہ اولی میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ تو سجدہ سہو واجب ہے اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھا بلکہ اس وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی(جو کہ فرض ہے) تو اگر اتنی دیر تک سکوت کیا ( خاموش بیٹھا رہا) جب بھی سجدہ سہو واجب ہے۔

3) تعدیل ارکان (مثلا رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا یا دو سجدوں کے درمیان ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا) بھول گئے سجدہ سہو واجب ہے۔

4) دعائے قنوت بھول گئے سجدہ سہو واجب ہے۔

5) تکبیر قنوت بھول گئے سجدہ سہو واجب ہے۔

6) امام سے سہو ہوا اور سجدہ سہو کیا تو مقتدی پر بھی سجدہ واجب ہے۔

(نماز کے احکام، ص276-278)

7) اگر قعدہ اخیرہ بھول گیا تو لوٹ آئے جبکہ اس نے سجدہ نہ کیا ہو تو قعدہ اخیرہ کے فرض ہونے کی بنا پر اس سے تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو کرے ۔ (نورالایضاح، ص 246، مکتبہ المدینہ)

8) سورہ فاتحہ پڑھنا بھول گیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔

9) تَشَہُّد پڑھنا بھول گیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔

10) جو قعدہ اولی بھول گیا اگر وہ حالت قیام کے زیادہ قریب تھا تو نہ لوٹے اور سجدہ سہو کرے۔ (المختصر القدوری،ص 70-71، مکتبہ امام احمد رضا)۔

سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ تَشَہُّد پڑھ کر بلکہ افضل یہ ہےکہ دُرُود شریف پڑھ لیجے، سیدھی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کیجیے پھر تَشَہُّد، دردو شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دیجیے۔

(نماز کے احکام،ص280)

اسی طرح مزید احکام شرعیہ مثلا نماز ، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہا کے مسائل سیکھنے اور بے شمار سنتیں جاننے کے لیے مدنی قافلے، مدنی مذاکرہ، دعوت اسلامی کا ہفتہ وار اجتماع، جامعات المدینہ اور دعوت اسلامی کی شائع کردہ کتب آج کے دورمیں بہترین ذرائع ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں فرائض، واجبات، سنن اور خشوع وخضوع کے ساتھ پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


واجباتِ نماز میں سے کسی بھی ایک واجب کے بھولے سے رہ جانے سے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے۔ ترکِ واجب پانچ اقسام پر مشتمل ہے : تاخیرِ فرض ، تاخیرِ واجب ، تکرارِ فرض ، تکرارِ واجب اور ترکِ واجب ۔ ان پانچوں اقسام کی دو دو امثلہ پیش کی جاتی ہیں  جن سے مستفیدہو کر سجدہ سہو واجب ہونے کی صورتیں سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

١) تاخیرِ فرض :

نماز کے کسی بھی فرض کو ادا کرنے میں تین مرتبہ سبحٰن اللہ کی مقدار دیر ہو جانا۔ مثلًا:

١۔ ایک رکعت کا دوسرا سجدہ رہ گیا ہو اور اسے نماز کی اگلی کسی بھی رکعت یا آخر میں ادا کرنا

٢۔قعدہ اولٰی کے بعد درود شریف پڑھنا یہاں تک کہ صرف ” اللھم صلی علی محمد “تک ہی پڑھا ہو اور پھر کھڑا ہو جانا ۔

٢)تاخیرِ واجب :

نماز کے کسی بھی واجب کو ادا کرنے میں تین مرتبہ سبحٰن اللہ کی مقدار دیر ہو جانا ۔ مثلًا:

١۔قعدہ میں بیٹھ کر پہلے قرأت کرنا پھر تشھد پڑھنا۔

٢۔وتر کی آخری رکعت میں تکبیرِ قنوت کے بعد قرأت کرنا اور پھر دعائے قنوت پڑھنا ۔

٣)تکرارِ فرض :

نماز کے کسی بھی فرض کو ایک سے زائد مرتبہ دہرانا ۔ مثلًا:

١۔ ایک ہی رکعت میں دو رکوع ادا کرنا ۔

٢۔ ایک ہی رکعت میں دو سے زائدسجدے کرنا ۔

٤)تکرارِ واجب :

نماز کے کسی بھی واجب کو ایک سے زائد مرتبہ پھیرنا ۔ مثلًا:

١۔سورة الفاتحہ پڑھنے کے بعد بغیر کسی سورت یا تین آیات یا ایک بڑی آیت ملائے دوبارہ سورة الفاتحہ پڑھنا ۔

٢۔ قعدہ میں تشھد پڑھتے ہوئے آدھی سے زیادہ پڑھنے کے بعد دوبارہ تشھد پڑھنا ۔

٥) ترکِ واجب :

نماز کے کسی بھی واجب کو ادا نہ کرنا۔مثلًا :

١۔ تعدیلِ ارکان (یعنی رکوع،سجود،قومہ اورجلسہ میں ایک مرتبہ سبحٰن اللہ کی مقدار ٹھہرنا ) کو ادا نہ کرنا ۔

٢۔ وتر نماز کی تیسری رکعت کے قیام میں دعائے قنوت پڑھنے سے پہلے تکبیرِ قنوت نہ پڑھنا ۔

ان تمام صورتوں یا ان کی مثل کوئی دوسری صورت اگر جان بوجھ کر پائی گئی تو نماز مکروہِ تحریمی اور واجب الاعادہ ہوگی ۔ جبکہ اگر بھولے سے ہوا تو آخر میں سجدہ سہو کر کے نماز مکمل کی جاۓ اگر چہ بھولے سے کئی سارے واجب چھوٹ جائیں تو سب کا ازالہ کرنے کے لئے صرف ایک سجدہ سہو کافی ہے۔


دعوت اسلامی کے شعبہ تحفظ اوراقِ مقدسہ کے زیر اہتمام 10 مارچ 2021ء بروز بدھ لاہور ریجن،  حافظ آباد زون کی حافظ آباد کابینہ کی ڈویژن شرقی میں زون ذمہ دار محمد عمران عطاری نے مدرستہ المدینہ میں اوراق مقدسہ کا بڑا ڈرم خالی کیا اور مدرستہ المدنیہ کے ناظم اور مدرس سے ملاقات کی ۔(رپورٹ: محمد عمران عطاری زون ذمہ دار شعبہ تحفظ اوراق مقدسہ)


دعوت اسلامی کے شعبہ تحفظ اوراقِ مقدسہ کے زیر اہتمام لاہور ریجن،  حافظ آباد زون، حافظ آبادکابینہ کی ڈویژن غربی میں زون ذمہ دار محمد عمران عطاری نے اوراقِ مقدسہ کے باکسز کا جائزہ لیا جو باکسز مقدس اوراق سے فل ہوچکے تھے ان کو خالی کرنے کا سلسلہ رہا اور قریبی اسلامی بھائیوں نے بھی باکسز خالی کرنے کی سعادت حاصل کی۔ (رپورٹ: محمد عمران عطاری زون ذمہ دار شعبہ تحفظ اوراق مقدسہ)


واجباتِ نماز میں سے کسی بھی ایک واجب کے بھولے سے رہ جانے سے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے۔ ترکِ واجب پانچ اقسام پر مشتمل ہے : تاخیرِ فرض ، تاخیرِ واجب ، تکرارِ فرض ، تکرارِ واجب اور ترکِ واجب ۔ ان پانچوں اقسام کی دو دو امثلہ پیش کی جاتی ہیں  جن سے مستفیدہو کر سجدہ سہو واجب ہونے کی صورتیں سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

١) تاخیرِ فرض :

نماز کے کسی بھی فرض کو ادا کرنے میں تین مرتبہ سبحٰن اللہ کی مقدار دیر ہو جانا۔ مثلًا:

١۔ ایک رکعت کا دوسرا سجدہ رہ گیا ہو اور اسے نماز کی اگلی کسی بھی رکعت یا آخر میں ادا کرنا

٢۔قعدہ اولٰی کے بعد درود شریف پڑھنا یہاں تک کہ صرف ” اللھم صلی علی محمد “تک ہی پڑھا ہو اور پھر کھڑا ہو جانا ۔

٢)تاخیرِ واجب :

نماز کے کسی بھی واجب کو ادا کرنے میں تین مرتبہ سبحٰن اللہ کی مقدار دیر ہو جانا ۔ مثلًا:

١۔قعدہ میں بیٹھ کر پہلے قرأت کرنا پھر تشھد پڑھنا۔

٢۔وتر کی آخری رکعت میں تکبیرِ قنوت کے بعد قرأت کرنا اور پھر دعائے قنوت پڑھنا ۔

٣)تکرارِ فرض :

نماز کے کسی بھی فرض کو ایک سے زائد مرتبہ دہرانا ۔ مثلًا:

١۔ ایک ہی رکعت میں دو رکوع ادا کرنا ۔

٢۔ ایک ہی رکعت میں دو سے زائدسجدے کرنا ۔

٤)تکرارِ واجب :

نماز کے کسی بھی واجب کو ایک سے زائد مرتبہ پھیرنا ۔ مثلًا:

١۔سورة الفاتحہ پڑھنے کے بعد بغیر کسی سورت یا تین آیات یا ایک بڑی آیت ملائے دوبارہ سورة الفاتحہ پڑھنا ۔

٢۔ قعدہ میں تشھد پڑھتے ہوئے آدھی سے زیادہ پڑھنے کے بعد دوبارہ تشھد پڑھنا ۔

٥) ترکِ واجب :

نماز کے کسی بھی واجب کو ادا نہ کرنا۔مثلًا :

١۔ تعدیلِ ارکان (یعنی رکوع،سجود،قومہ اورجلسہ میں ایک مرتبہ سبحٰن اللہ کی مقدار ٹھہرنا ) کو ادا نہ کرنا ۔

٢۔ وتر نماز کی تیسری رکعت کے قیام میں دعائے قنوت پڑھنے سے پہلے تکبیرِ قنوت نہ پڑھنا ۔

ان تمام صورتوں یا ان کی مثل کوئی دوسری صورت اگر جان بوجھ کر پائی گئی تو نماز مکروہِ تحریمی اور واجب الاعادہ ہوگی ۔ جبکہ اگر بھولے سے ہوا تو آخر میں سجدہ سہو کر کے نماز مکمل کی جاۓ اگر چہ بھولے سے کئی سارے واجب چھوٹ جائیں تو سب کا ازالہ کرنے کے لئے صرف ایک سجدہ سہو کافی ہے۔


دعوت اسلامی کے شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی کے زیراہتمام7 اور 8 مارچ 2021ء کو  فیضان آن لائن اکیڈمی کی مین برانچ ستیانہ روڈ فیصل آباد میں ایڈمیشن و فیس ڈپارٹمنٹ کے اسلامی بھائیوں کا سنتوں بھرا اجتماع ہوا جس میں رکن مجلس و آئی ٹی منیجر محمد یونس عطاری نے شرکائے اجتماع کی آئی ٹی سے متعلقہ امور پر تربیت فرمائی نیز رکن مجلس غلام الیاس عطاری مدنی نے Costumer Satisfaction سے متعلق ٹریننگ فرمائی۔نگران مجلس مولانا یاسر عطاری مدنی نے اسلامی بھائیوں کے سوالات کے جوابات عطا فرماتے ہوئے مختلف مفید نکات عطا فرمائے۔

"سہو" کا لغوی معنی ہے "بھول چوک" اس طرح سجدہ سہو کا معنی بن جائے گا "بھولنے کا سجدہ" لیکن یہ کیا!! سجدہ تو نماز کا ہوتا ہے یہ بھولنے کا سجدہ کونسا ہے؟ تو یاد رکھیئے کہ بعض اوقات حکم کی اِضافت سبب کی طرف کردی جاتی ہے جیسے سجدہ سہو ہی کو لے لیجیے ،تو اس میں سبب ہے بھولنا اور حکم ہے سجدہ یعنی بھولنے کے سبب سے جو سجدہ ہوتا ہے اسے سجدہ سہو کہتے ہیں۔

اِس کو یوں سمجھیے کہ ایک شخص کوئی کتاب لکھ رہا تھا ،لکھتے لکھتے اس سے بھولے سے کوئی واضح و نمایاں غلطی صادِر ہوگئی، کچھ آگے چل کر اس کو یاد آیا کہ میں تو لکھنے میں فُلاں غلطی کر آیا ہوں تو اس نے اپنی کتاب لکھنے کے بعد اُس غلطی کو مٹا کر درست کر دیا کہ اگر وہ اُس غلطی کو نہ بھی مٹاتا اس کی کتاب تو مکمل ہو ہی جاتی ۔بالکل اسی طرح نماز کا معاملہ بھی ہے کہ کوئی شخص نماز پڑھ رہا تھا کہ اس سے بھولے سے کوئی واجب رہ گیا ۔یاد آنے پر اس نے اپنی سفید کپڑے کی مانند نماز پر اس بھولے سے ہوئی غلطی کے کالے سیاہ نقطہ کو دور کرنے کے لیے سجدہ سہو کر لیا کہ بغیر سجدہ سہو کیے بھی اس کی نماز ہوجاتی فرض بھی اس کے ذمہ سے ساقط ہو جاتا۔

سجدہ سہو کا ثبوت : پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ سلام کرنے کے بعد بیٹھنے کی حالت میں سجدہ سہو کیا۔(نور الایضاح؛ صفحہ:243، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

سجدہ سہو کے واجب ہونے کی صورتیں :

1) تکبیر تحریمہ میں لفظ اللہ اَکْبَر نہ کہا۔

2) (بہار شریعت؛ جلد 1، حصہ:3، صفحہ نمبر: 517، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

2) فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل و وتر کی کسی رکعت میں سورہ الحمد کی ایک آیت بھی رہ گئی۔( بہار شریعت؛ جلد 1، حصہ: 4، صفحہ نمبر: 710، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

3) سورۃ کو فاتحہ پر مقدم کرنا۔ ( نور الایضاح، صفحہ: 139، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

4) الحمد شریف پڑھنا بھول گیا اور سورۃ شروع کردی اور ایک آیت کی مقدار کے برابر پڑھ لی اب یاد آیا تو الحمد پڑھ کر سورت پڑھیے اور سجدہ سہو واجب ہے۔

( بہار شریعت؛ جلد 1، حصہ: 4، صفحہ نمبر: 711، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

5) رکوع و سجود و قعدہ میں قرآن پڑھا تو سجدہ واجب ہے۔

( بہار شریعت؛ جلد 1، حصہ: 4، صفحہ نمبر 711، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

تعديلِ ارکان یعنی رکوع، سجود، قومہ اور جلسہ میں کم از کم ایک بار "سبحٰن اللہ" کہنے کی مقدار نہ ٹھہرا۔(اکثر لوگ اس کا بالکل خیال نہیں رکھتے)

(نماز کے احکام؛ صفحہ نمبر 218، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

7) فرض، وتر، اور سنتِ مؤکّدہ کے قعدہ اولیٰ میں تشھُّد كے بعد اگر بے خیالی میں "اللّٰهُمَّ صَلّی عَلیٰ مُحَمَّدٍ یا اَللّٰھُمَّ صَلّی عَلیٰ سَيِّدِنا" کہہ لیا تو سجدہ سہو واجب ہوگیا۔

(نماز کے احکام؛ صفحہ نمبر 220، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

8) فرض میں اگر قعدہ اولٰی بھول گیا تو جب تک سیدھا کھڑا نہ ہوا، لوٹ آئے اور سجدہ سہو نہیں اور اگر سیدھا کھڑا ہو گیا تو نہ لوٹے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اور اگر سیدھا کھڑا ہو کر لوٹا تو سجدہ سہو کرے۔ (بہار شریعت؛ جلد 1، حصہ 4، صفحہ نمبر 712، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

9) قومہ یعنی رکوع سے سیدھا کھڑا نہ ہوا۔

(بہار شریعت؛ جلد 1، حصہ 3، صفحہ نمبر 518، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

10) جلسہ یعنی دو سجدوں کے درمیان سیدھا نہ بیٹھا۔

(بہار شریعت؛ جلد 1، حصہ 3، صفحہ نمبر 518، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)


اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُمت محمدیہ علیٰ صاحبھا الصلاۃ والسلام پر دِن رات میں پانچ ( 5 ) نمازیں فرض کی ہیں جنہیں ان کے شرائط و ارکان کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے ۔ لیکن افسوس کہ اولاً تو مسلمانوں کی بُہت بڑی تعداد نماز جیسی عظیم عبادت سے محروم رہتی ہے اور جو نماز ادا کرتے بھی ہیں ان کی بھی بہت بڑی تعداد ایسی ہے کہ وہ لاشعوری اور کم علمی کے سبب نماز میں ایسی غلطیاں کرتے ہیں کہ یا تو ان کی نماز ہوتی ہی نہیں یا پھر واجب الاعادہ (دوبارہ لوٹانا واجب) ہوتی ہے۔

واجبات نماز میں جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے لیے سجدۂ سہو واجب ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ التحیات کے بعد دہنی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرے پھر تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیرے۔

ذیل میں سجدہ سہو واجب ہونے کی دس (10) صورتیں پیش کی جاتی ہیں:

1:سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانا بھول گیا، رکوع میں یاد آیا تو کھڑا ہو جائے اور سورت ملائے پھر رکوع کرے اور اخیر میں سجدۂ سہو کرے اگر دوبارہ رکوع نہ کرے گا، تو نماز نہ ہوگی.(بہار شریعت جلد 1 حصہ 3 ص 545)

2:کسی قعدہ میں تشہد کا کوئی حصہ بھول جائے تو سجدہ سہو واجب ہے۔

(ایضاً حصہ 3 صفحہ 519)

3: آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ میں سہواً تین (3) آیات یا زیادہ کی تاخیر ہوئی تو سجدہ سہو کرے ۔ ( ایضاً ص 519)

4:سورہ فاتحہ کا اگر ایک لفظ بھی رہ گیا تو سجدہ سہو کرے۔(ایضاً ص 519)

5:ایک سجدہ کسی رکعت کا بھول گیا تو جب یاد آئے کر لے، اگر چہ سلام کے بعد بشرطیکہ کوئی فعل منافی نماز صادر نہ ہوا ہو اور سجدہ سہو بھی کرے ۔ ( ایضاً ص 520)

6:ایک رکعت میں تین سجدے کئے یا دو رکوع یا قعدہ اولیٰ بھول گیا تو سجدہ سہو کرے ۔ ( ایضاً ص 520)

7:فرض،وتر،اور سنن رواتب کے قعدہ اولیٰ میں اگر تشہد کے بعد سہواً اتنا کہہ لیا:اللّٰھم صل علٰی محمد یا اللّٰھم صل علیٰ سیدنا تو سجدہ سہو کرے، عمدا ہو تو اعادہ واجب ہے۔( ایضاً ص 520)

8:فرض و نفل دونوں کا ایک حکم ہے یعنی نوافل میں بھی واجب ترک ہونے سے سجدۂ سہو واجب ہے۔(ایضاً حصہ 4 صفحہ 710)

9:تعدیل ارکان (رکوع، سجود، قومہ اور جلسہ میں کم از کم ایک بار ’’ سُبْحٰنَ اللہ ‘‘کہنے کی مقدار ٹھہرنا) بھول گیا سجدۂ سہو واجب ہے۔( ایضاً حصّہ 4 ص 711)

10:قنوت یا تکبیر قنوت یعنی قراء ت کے بعد قنوت کے لیے جو تکبیر کہی جاتی ہے بھول گیا سجدۂ سہو کرے۔( ایضاً حصہ 4 ص 714)

اللہ پاک  سے دعا ہے کہ ہمیں نماز کماحقہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


نیپال گنج کابینہ کے نگران اور دیگر ذمہ داران نے نیپال کے شہر چندروٹہ میں عالم دین حضرت مولانا محبوب علی فیضی  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملاقات کی اور انہیں دعوت اسلامی کے شعبہ جات اور دینی و فلاحی کاموں کا بتایا ۔مولانا محبوب علی فیضی صاحب دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دعوت اسلامی کی دینی کاموں کو سراہا اور مزید ترقی کے لئے دعائیں کیں۔

بعد ازاں نگران کابینہ نے چند روٹہ ہی میں قائم مدرسۃ المدینہ کے بچوں سے ملاقات کی اور انہیں نیکی کی دعوت دیتے ہوئے سبق یاد کرنے اور ساتھ ساتھ بڑوں کا ادب و احترام کرنے کا ذہن دیا۔

چند روٹہ میں تاجر اسلامی بھائیوں میں نیکی کی دعوت کا سلسلہ بھی ہواجس میں نگران کابینہ نیپال گنج کابینہ نے دین اسلام کی خدمت میں حصہ ملاتے ہوئےمسجد و مدرسہ تعمیر کروانے کا ذہن دیا نیز ایک اور مقام پر نگران کابینہ نے اسلامی بھائیوں کو نیک کام کرنے کی ترغیب دلائی اور عاشقان رسول کے ہمراہ نیکی کی دعوت عام کی۔


مدرسۃ المدینہ سے حفظ کرنے والے اسلامی بھائیوں کا عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں 7 مارچ 2021ء کی شب سنتوں بھرا اجتماع ہوا جس میں مدرسۃ المدینہ کراچی ریجن کے حفاظ کرام، مدرسین، ناظمین اور دیگر عاشقان رسول نے شرکت کی۔

مرکزی مجلس شوریٰ نے نگران مولانا محمد عمران عطاری مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی نے ”تلاوت قرآن کے فضائل“کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان فرمایا اور شرکا کو زیادہ سے زیادہ قرآن پاک کی تلاوت کرنے کی ترغیب دلائی۔