Under the supervision of ‘Majlis short courses for Islamic sisters’, Ijtima’at regarding ‘the journey of Miraj’ were held in North Birmingham Division (Birmingham Region, UK) in previous days. Approximately, 87 Islamic sisters had the privilege of attending these spiritual Ijtima’at.

In these spiritual Ijtima’at, the Bayans regarding ‘the journey of Miraj’ were delivered and the blessings of Rajab-ul-Murajjab were explained as well. Furthermore, she provided the attendees (Islamic sisters) the information about the religious activities of Dawat-e-Islami and motivated to keep associated with the religious environment of Dawat-e-Islami, attend the weekly Ijtima’ and take part in the religious activities.


Under the supervision of ‘Majlis short courses for Islamic sisters’, a course, namely ‘Blessings of Zakat’ was held for responsible Islamic sisters in East Midlands (Birmingham Region, UK) in previous days. Approximately, 33 Islamic sisters had the privilege of attending this spiritual course.

In this course, the attendees (Islamic sisters) were taught about Zakat in the light of the Holy Quran and Hadith, wisdom of Zakat, Zakat on gold, Zakat on paper money and the method calculating Zakat, etc. Moreover, Islamic sisters were given the mindset of giving their charities and donations to Dawat-e-Islami.


Under the supervision of ‘Majlis shrouding and burial (Islamic sisters)’, a ‘shrouding and burial Ijtima’ was held in Black Country Kabinah (Birmingham, UK) in previous days. 35 Islamic sisters had the privilege of attending this spiritual Ijtima’.

The female preacher of Dawat-e-Islami delivered a Sunnah-inspiring Bayan and explained the attendees (Islamic sisters) the method of giving Ghusl to the deceased [Islamic sisters] and using Mustamal water. Furthermore, she motivated them to get the Tarbiyyah of giving Ghusl to the deceased [Islamic sisters] and shrouding the deceased [Islamic sister] and gave them mindset of appearing in the test. 7 Islamic sisters among them made intentions immediately to appear in the test. 


Under the supervision of ‘Majlis area visit activity (Islamic sisters)’, an activity, namely ‘calling people to righteousness’ was carried out in West Midlands Kabinah (Birmingham Region, UK) in previous days. Approximately, 46 responsible Islamic sisters had the privilege of attending this spiritual activity.

The attendees (Islamic sisters) presented the local Islamic sisters the call to righteousness, provided them the information about the religious activities of Dawat-e-Islami and motivated to keep associated with the religious environment of Dawat-e-Islami, attend the weekly Ijtima’ and take part in the religious activities.


Under the supervision of Dawat-e-Islami, Sunnah-inspiring Ijtima’at were held in the different areas of East Midlands (Birmingham Region, UK) in the previous week. These areas included Peterborough, Nottingham, Burton, Leicester, Derby, West Midlands and Black Country. Approximately, 809 responsible Islamic sisters had the privilege of attending these spiritual Ijtima’at.

The female preachers of Dawat-e-Islami delivered Bayans on the topic ‘what has the world given us?’ and explained the attendees (Islamic sisters) contemplation of the Judgment Day and importance of the world. Furthermore, she provided them the information about the religious activities of Dawat-e-Islami and motivated to keep associated with the religious environment of Dawat-e-Islami, attend the weekly Ijtima’ and take part in the religious activities.


دعوت اسلامی کی مجلس عشرکے زیر اہتمام 09 مارچ 2021ء بروز منگل   لاہور ریجن، حافظ آباد زون، حافظ آباد اطراف کابینہ ڈویژن نئی منڈی کالیکی ادوکی گاؤں میں شخصیات مدنی حلقہ ہوا۔

نگران کابینہ اطراف حافظ آباد محمد عمران عطاری نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے شرکا کو عشر کے موضوع پر مدنی پھول دئیے اور دعوتِ اسلامی کو عشر دینے کی ترغیب دلائی۔(رپورٹ:محمد طلحہ عمیر عطاری رکن کابینہ شعبہ کارکردگی اطراف حافظ آباد کابینہ)


رکوع،سجود، قعدہ میں قرآن پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہے۔

(فتاوی ھندیہ ،کتاب الصلاتہ، جلد 1 ،صفحہ 126)

2۔تعدیل ارکان یعنی رکوع سجود قومہ جلسہ،بھول گیا سجدہ سہو واجب ہوگا۔

(فتاوی ھندیہ جلد 1 صفحہ 127)

3۔اگر قعدہ اولی میں چند بار تشہد پڑھا سجدہ سہو واجب ہوگیا۔

(فتاوی ھندیہ جلد 1 صفحہ 127)

4۔تشہد کی جگہ الحمد پڑھی سجدہ سہو واجب ہوگیا۔

5۔عید ین کی سب تکبیریں یا بعض بھول گیا یا زائد کہیں یا غیر محل میں کہیں ان سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔ (فتاوی ھندیہ جلد 1 صفحہ 128 6)

منفرد نے سری نماز میں جہر سے پڑھا تو سجدہ واجب ہے اور جہری میں آہستہ تو نہیں ۔

( ردالمحتار جلد 2صفحہ 657)

7۔قرأت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کے وقفہ ہوا تو سجدہ سہو واجب ہے۔

8۔ شک کی سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے اور غلبہ ظن میں نہیں مگر جب کہ سوچنے میں ایک رکن کا وقفہ ہو گیا تو واجب ہوگیا ۔(الدر المختار جلد 2 صفحہ 678)

9۔کسی قعدہ میں تشہد سے کچھ رہ گیا تو سجدہ سہو واجب ہے نفل ہو یا فرض۔

(فتاوی ھندیہ ج 1ص 128)

10۔واجبات نماز سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے یا فرائض و واجبات نماز میں بھولے سے تاخیر ہو جائے تو سجدہ سہو واجب ہے۔ (در مختار)


سجدہ سہو کیوں ہوتا ہے اس بارے میں چند احکام :

اولاً یہ کہ سجدہ سہو کس طرح ہوتا ہے اس کے کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

سجدہ سہو اس وقت ہوتا ہے جب نماز میں بھولے سے کوئی واجب چھوٹ جائے تو اس کے ازالہ کیلئے سجدہ سہو کیا جاتا ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد دائیں جانب سلام پھیر کر دو سجدہ کرنا پھر التحیات وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دینا ۔اس کی چند صورتیں ملاحظہ ہوں کہ کن کن صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہوتا ہے ۔

1. اگر نماز میں کوئی واجب بھولے سے رہ گیا مثلا سورت ملانا بھول گیا تو سجدہ سہو کرنا واجب ہے

2. تعدیل ارکان میں سے کوئی چیز بھول گیا تو سجدہ سہو واجب ہے ۔

3. عید ین کی سب تکبیریں یا بعض بھول گیا یا زیادہ تکبیریں کہہ دیں تب بھی سجدہ سہو واجب ہوگیا

4. اگر ایسا واجب ترک ہوا جو واجبات نماز سے نہیں بلکہ اس کا تعلق خارج نماز امور سے ہے تو سجدہ سہو واجب نہیں ہو گا مثلا خلاف ترتیب قرائت کر لی تو سجدہ واجب نہیں ہو گا کیونکہ یہ واجبات تلاوت سے ہے نا کہ واجبات نماز سے۔

5. سجدہ سہو واجب ہوا مگر بھول گیا اور سلام پھیر دیا تو جب تک مسجد سے باہر نہیں نکلا سجدہ کرلے

6. اگر سجدہ سہو نہ کیا بعد میں یاد آیا کہ سجدہ سہو نہیں کیا ہے تو جب تک مانع نماز کوئی کام نہیں کیا سجدہ کرلے۔ اگر مانع نماز کوئی فعل کر لیا ہے اب سجدہ کافی نہیں بلکہ نماز کا لوٹانا واجب ہے۔

7. سجدہ سہو اس وقت واجب ہے جبکہ وقت میں گنجائش ہو، اگر گنجائش نہ ہو تو واجب نہیں۔ مثلا نماز فجر میں سہو واقع ہوا ،سلام پھیرا ،ابھی سجدہ نہ کیا تھا کہ آفتاب طلوع کر آیا تو سجدہ سہو ساقط ہوگیا

8. اگر مقتدی سے بحالت اقتداء (یعنی امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے) سہو واقع ہوا تو سجدہ سہو نہیں ہوگا۔

9. سجدہ سہو کے بعد بھی التحیات پڑھنا واجب ہے التحیات پڑھ کر سلام پھیرے۔


  حدیث شریف میں ارشاد ہے: ایک بار حضور صلی اﷲ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہو گئے بیٹھے نہیں پھر سلام کے بعد سجدۂ سہو کیا۔

(سنن الترمذی‘‘،ابواب الصلاۃ،باب ماجاء فی الامام ینہض فی الرکعتین ناسیا، الحدیث۳۶۵ ، ج ۱ص ۳ ۸۰)

(اس حدیث کو ترمذی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

واجبات نماز میں جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے لیے سجدۂ سہو واجب ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ التحیات کے بعد دہنی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرے پھر تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر ے۔

(شرح الوقایۃ‘‘، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۱، ص۲۲۰۔ و ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۱، ۶۵۵)

واجب کی تاخیر رکن کی تقدیم یا تاخیر یا اس کو مکرر کرنا یا واجب میں تغییر یہ سب بھی ترک واجب ہیں ۔ (بہار شریعت، باب سجود السھو، ج۱ ، ص۷۱۰، م ۱۳)

سجدہ سہو واجب ہونے کی کئی صورتیں ہیں لیکن یہاں ان میں سے صرف 10 صورتیں درج ذیل ہیں۔

1۔ فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل و وتر کی کسی رکعت میں سورۂ الحمد کی ایک آیت بھی رہ گئی یا سورت سے پیشتر دو بار الحمد پڑھی یا سورت ملانا بھول گیا یا سورت کو فاتحہ پر مقدم کیا یا الحمد کے بعد ایک یا دو چھوٹی آیتیں پڑھ کر رکوع میں چلا گیا پھر یاد آیا اور لوٹا اور تین آیتیں پڑھ کر رکوع کیا تو ان سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے۔

(الدرالمختار‘‘، کتاب الصلاۃ، باب سجود السہو، ج۲، ص۶۵۶۔و ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۶)

2۔ فرض و نفل دونوں کا ایک حکم ہے یعنی نوافل میں بھی واجب ترک ہونے سے سجدۂ سہو واجب ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۶)

3۔ الحمد پڑھنا بھول گیا اور سورت شروع کر دی اور بقدر ایک آیت کے پڑھ لی اب یاد آیا تو الحمد پڑھ کر سورت پڑھے اور سجدہ واجب ہے۔ یوہیں اگر سورت کے پڑھنے کے بعد یا رکوع میں یا رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد یاد آیا تو پھر الحمد پڑھ کر سورت پڑھے اور رکوع کا اعادہ کرے اور سجدۂ سہو کرے۔

( الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۶)

4۔ تعدیل ارکان بھول گیا سجدۂ سہو واجب ہے۔

( الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۷)

5۔ کسی قعدہ میں اگر تشہد میں سے کچھ رہ گیا، سجدۂ سہو واجب ہے، نماز نفل ہو یا فرض۔

(الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۷)

6 ۔ تشہد پڑھنا بھول گیا اورسلام پھیر دیا پھر یاد آیا تو لوٹ آئے تشہد پڑھے اور سجدۂ سہو کرے۔ یوہیں اگر تشہد کی جگہ الحمد پڑھی سجدہ سہو واجب ہوگیا۔

(الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۷)

7۔ قنوت یا تکبیر قنوت یعنی قراء ت کے بعد قنوت کے لیے جو تکبیر کہی جاتی ہے بھول گیا سجدۂ سہو کرے۔ (الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۸)

8۔ رکوع کی جگہ سجدہ کیا یا سجدہ کی جگہ رکوع یا کسی ایسے رُکن کو دوبارہ کیا جو نماز میں مکرر مشروع نہ تھا یا کسی رُکن کو مقدم یا مؤخر کیا تو ان سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے۔

(الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۷)

9۔ قراء ت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک رکن یعنی تین بار سبحان اﷲ کہنے کے وقفہ ہوا سجدۂ سہو واجب ہے۔ (ردالمحتار‘‘، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۸)

10۔ وتر میں شک ہوا کہ دوسری ہے یا تیسری تو اس میں قنوت پڑھ کر قعدہ کے بعد ایک رکعت اور پڑھے اور اس میں بھی قنوت پڑھے اور سجدۂ سہو کرے۔

(الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۳۱)

سجدہ سہو کسے کہتے ہیں:سجدہ سَہو کا لُغوی معنی ہے، بھولنے کا سجدہ

اصطلاحی معنی:یَجِبُ سَجْدَتَانِ بِتَشُّھِدِِ وَ تَسْلِیْمِِ لِتَرْکِ وَاجِبِِ سَھْوًا وَاِنْ تَکَرَّرَ۔

یعنی بھول کسی واجب کو چھوڑنے پر تشہد اور سلام کے ساتھ دو سجدے واجب ہیں، اگرچہ بار بار واجب چھوٹے ۔

قاعدہ کلیہ: ایک قاعدہ کلیہ اگر ذہن میں ہوگا تو سجدہ سہو کب واجب ہوگا، اس کو سمجھنے میں کافی آسانی ہوگی، کہ:

بُھول کر( بُھول کر ہونا سجدہ سَہو کے لئے ضروری ہے، جان بوجھ کر واجب چھوڑنے کی صورت میں سجدہ سہو کافی نہ ہوگا، بلکہ نماز دُہرانا لازم ہوگا) واجب کی تقدیم و تاخیر، کمی، زیادتی اور ترک سے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے اور فرض میں تقدیم و تاخیر ہو جائے تو بھی سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے۔

دس صورتیں:

سجدہ سہو کے وُجوب کی کئیں صورتیں ہیں، جن میں سے 10 یہاں ذکر کی جاتی ہیں:

1۔کسی قعدہ میں تشہّد کا کوئی بھی حصّہ بھول گیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔

2۔ آیتِ سجدہ پڑھی اور سجدہ میں سہواً تین آیات یا زیادہ کی تاخیر ہوئی تو سجدہ سہو کرے۔

3۔ سورت پہلے پڑھ لی اور الحمد شریف بعد میں، تو سجدہ سہو واجب ہو گیا ۔

الحمد اور سورت کے درمیان دیر تک یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار چُپ کیا رہا تو سجدہ سہو واجب ہے۔

الحمد کا ایک لفظ بھی رہ گیا تو سجدہ سہو کرے۔

6۔ایک سجدہ کسی رکعت کا بھول گیا تو جب یاد آئے کرلے، اگرچہ سلام کے بعد ہو، بشرطیکہ کوئی فعل منافئ صلٰوۃ نہ صادر ہوا ہو اور سجدہ سہو کرے۔

7۔ ایک رکعت میں تین سجدے کر لیے تو سجدہ سہو لازم ہوگیا۔

8 ۔قعدہ اولٰی بھول گیا یا ایک رکعت میں دو رُکوع کر لئے تو سجدہ سہوکرے۔

9۔فرض، وتر اور سُننِ رواتب کے قعدہ اولیٰ میں اگر تشہد کے بعد اِتنا کہہ لیا"اللھم صلی علی محمد یا اللھم صلی علی سیّدنا" تو اگر بھولے سے کہہ دیا تو سجدہ سہوکرے اور عمداً کہا تو اِعادہ صلوۃ( نماز کا دہرانا) واجب ہے۔

(ان 9 صورتوں کاحوالہ: بہار شریعت، جلد اوّل، حصّہ سوم مکتبہ المدینہ، باب نماز پڑھنے کا طریقہ، عنوان واجباتِ نماز، ص519)

10۔مُقتدی پر اِمام کی اطاعت واجب ہے، لہذا اِمام پر سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں مقتدی پر بھی لازم ہوگا، چا ہے مقتدی کسی بھی حالت (لاحق، مَسبوق وغیرہ) میں ہو۔(ایضاً)


نماز اوّلین فرائض میں سے ایک اہم ترین فریضہ ہے، دنیا کا نظام سیکھنے سکھانے سے چلتا ہے، لہذا ایک مسلمان کو اپنا فریضۂ نماز بھی سیکھ کر ہی ادا کرنا چاہیے۔

سجدہ سہو کب واجب ہوتا ہے: واجباتِ نماز میں جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے لیے سجدۂ سہو واجب ہے۔ (بہار شریعت، ج 1، ح 4، ص 711)

سجدہ سہو کا طریقہ : اس کا طریقہ یہ ہے کہ التحیات کے بعد دہنی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرے پھر تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر ے۔ (بہار شریعت، ج 1، ح 4، ص 711)

درج ذیل (نیچے) 10 واجباتِ نماز بیان ہو ں گے لہذا اگر کوئی واجب چھوٹ جائے تو سجدہ سہو واجب ہو گا، سجدۂ سہو واجب ہونے کی 10 صورتیں ملاحظہ فرمائیں۔

1۔ تکبیر تحریمہ میں لفظ ا ﷲ اکبر ہونا نماز کا واجب ہے، لہذا ا ﷲ اکبر کے علاوہ کوئی دوسرا لفظ کہنے سے سجدہ سہو واجب ہو گا۔

2۔ الحمد (سورہ فاتحہ) پڑھنا یعنی اسکی ساتوں آیتیں کہ ہر ایک آیت مستقل واجب ہے، ان میں ایک آیت بلکہ ایک لفظ کا ترک بھی ترک واجب ہے۔ لہذا ایک لفظ بھی چھوٹا تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔

3۔۔ نمازِ فرض میں پہلی دو رکعتوں میں قراءت واجب ہے۔ لہذا اگر کوئی پہلی دو رکعتوں میں بقدرِ واجب قراءت نا کرے تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔

4۔ الحمد (سورہ فاتحہ) کا سورت (سورہ اخلاص وغیرہ) سے پہلے ہونا واجب ہے، لہذا اگر کوئی سورہ فاتحہ اور سورۃ اخلاص وغیرہ ترتیب سے نا پڑھے تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔

5۔ ہر رکعت میں سورت سے پہلے ایک ہی بار الحمد (سورۃ فاتحہ) پڑھنا واجب ہے، لہذا اگر کوئی ایک سے زائد بار سورہ فاتحہ پڑھے تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔

6۔ قراء ت کے بعد متصلاً (فوری بعد) رکوع کرنا واجب ہے، لہذا اگر تاخیر کی تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔

7۔ قومہ یعنی رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا واجب ہے، لہذا اگر کوئی سیدھا کھڑا نا ہوا تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔

8۔ جلسہ یعنی دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا واجب ہے، لہذا اگر کوئی سیدھا نا بیٹھے تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔

9۔ لفظ اَلسَّلَامُ 2 بار پڑھنا واجب ہے، لہذا اگر کوئی 2 بار نا پڑھے تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔

10۔ وتر میں دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے، لہذا اگر کوئی دعائے قنوت نا پڑھے تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔ (بہار شریعت، ج 1، ح 3، ص 520 ،519)

اللہ پاک ہمیں نماز کے فرائض، شرائط، واجبات، سُنَن و مستحبات کی رعایت کرتے ہوئے درست نماز ادا کرنے والا بنائے۔ 


دعوت اسلامی کے شعبہ تحفظ اوراق مقدسہ کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں ریجن لاہور، زون گوجرانوالہ، کابینہ کامونکی اطراف، ڈویژن سادھوکی، حلقہ راجہ اوراق مقدسہ کے بکس خالی کئے گئے۔ اس موقع پر رکن کابینہ اور محافظ اوراق مقدسہ نے شرکت کی۔(رپورٹ:محمد دلشاد عطاری کارکردگی ذمہ دار گوجرانوالہ زون)