پیارے اسلامی بھائیو !  آج ہم تین چیزوں کے متعلق پڑھنے کی سعادت حاصل کریں گے احادیث کی روشنی میں جن کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہماری تربیت فرمائی ہے ۔

1 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : منافق کی تین علامتیں ہیں مسلم نے یہ زیادتی بھی بیان کی کہ اگر یہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اپنے کو مسلمان سمجھے پھر مسلم بخاری متفق ہوگئے کہ 1-جب بات کرے، جھوٹ بولے، 2-وعدہ کرے تو خلاف کرے 3-امانت دی جاے تو خیانت کرے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح باب الکبائر وعلامات النفاق جلد اول حدیث 48صفحہ 73)

2 حضرت انس سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جس میں تین خصلتیں ہوں وہ ایمان کی لذت پالے گا 1-اللہ ورسول تمام ماسوا سے زیادہ پیارے ہوں 2-جو بندے سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے 3-جوکفر میں لوٹ جانا جبکہ رب نے اس سے بچالیا ایسا برا جانے جیسے آگ میں ڈالا جانا - (متفق علیہ) (مرآة المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان حدیث نمبر 6 صفحہ 39)

3- حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کجاوہ پر تھے معاذ حضور کے ردیف تھے _ حضور نے فرمایا : اے معاذ! عرض کیا: حاضر ہوں یارسول اللہ خدمت میں،فرمایا: اے معاذ !عرض کیا حاضر ہوں خدمت میں، تیسری بار عرض کرنے پر فرمایا، ایسا کوئی نہیں جو گواہی دے کہ اللہ کےسوا معبود نہیں اور بےشک محمد اللہ کے رسول ہیں-سچے دل سے مگر اللہ اسے آگ پر حرام فرمادے گا عرض کی یارسول اللہ تو کیا میں لوگوں کو اس کی خبر دے دوں کہ وہ خوش ہو جائیں فرمایا تب تو وہ بھروسہ کر بیٹھیں گے۔پھر حضرت معاذ نےکتمان علم سے بچنے کیلئے اپنی وفات کے وقت خبر دے دی۔(مسلم بخاری،. مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان جلد اول صفحہ نمبر 51 حدیث نمبر 22)

4-حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :لوگ پوچھ گچھ کرتے رہیں گے حتیٰ کہ یہ کہا جائے گا کہ مخلوق کوخدا نے پیدا کیا تو خدا کو کس نے پیدا کیا جب یہ کہیں تو تم کہہ دینا اللہ ایک ہے، بے نیاز ہے، نہ اس نے جنا نہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کے برابر کا پھر اپنے بائیں طرف تین بار تھتکاردے اور مردود شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے۔(باب فی الوسوسۃ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح حدیث نمبر 68 ص 84)

5_حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سےروایت ہے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بقدر طاقت اپنے تمام کاموں میں داہنے سے شروع فرمانا پسند کرتے تھے - 1-اپنی طھارت 2-اور کنگھی کرنے3-اور نعلین پہننے میں (مسلم بخاری) (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح باب سنن الوضو حدیث 368ص 266)

7-حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اے علی تین چیزوں میں دیر نہ لگاؤ 1-نماز جب آجائے اور 2 -جنازہ جب تیار ہوجائےاور 3-لڑکی جب اس کا ہم قوم مل جائے (ترمذی) (مرآہ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح باب تعجیل الصلوۃ حدیث 557 ص 363)

9- نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تین شخص جنت میں نہیں جائیں گے :1-ماں باپ کو ستانے والا اور 2-دیوث اور 3- مردانی وضع بنانے والی عورت (معجم اوسط جلد 2ص43 حدیث2443 )

10-کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ تین سے زائد اپنے مسلمان بھائی سے تعلق توڑے جو تین دن سے زیادہ تعلق توڑے اسی حال میں مرجاے تو جہنم میں جائے گا (ابو داؤد کتاب الادب باب فیمن یھجر اخاہ المسلم ص 770 حدیث 4914)

اللہ پاک ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات پہ عمل کی توفیق عطا فرمائے


پیارے پیارے اسلامی بھائیو اسلام کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات مسلمانوں کے لئے رہنمائی اور ہدایت کا ایک مکمل مجموعہ ہیں۔ ان کی زندگی کے ہر پہلو میں ہمیں ایسا نمونہ ملتا ہے جو انسانیت کے لئے بہترین اصول فراہم کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تین اہم باتوں میں تعلیم کو بیان کریں گے جن کا ذکر احادیث میں ملتا ہے۔

1. *سچائی اور امانت داری کی تعلیم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں سچائی اور امانت داری کا بہت بڑا مقام ہے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص جھوٹ بولتا ہے، وہ نیکی نہیں کرسکتا" (صحیح بخاری: 6094)۔ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا کہ جھوٹ بولنا نیکی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "امانت داری ایمان کا حصہ ہے" (مسلم: 211)۔ اس قول سے واضح ہوتا ہے کہ امانت داری ایمان کی مضبوطی کا بنیادی عنصر ہے۔

2. *حقوق العباد کی پاسداری: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں دوسروں کے حقوق کا بہت زیادہ ذکر ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں (صحیح بخاری: 10)۔ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو دوسروں کے حقوق کی پاسداری کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بہترین مسلمان وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لئے بہترین ہو" (مسند احمد: 23489)۔ یہ قول اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے۔

3. *صبر اور شکر کی تعلیم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں صبر اور شکر کا بہت زیادہ ذکر ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مسلمان کی زندگی کا ہر لمحہ خیر ہے، اگر اسے خوشی ملے تو وہ شکر کرتا ہے اور اگر مصیبت آتی ہے تو صبر کرتا ہے" (صحیح مسلم: 2999)۔ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر اور شکر کو مومن کی زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔ صبر اور شکر کی یہ تعلیم ہمیں اس بات کی رہنمائی کرتی ہے کہ ہم زندگی کے ہر لمحے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور مصائب پر صبر کریں۔ *خلاصہ:* نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی امت کو سچائی اور امانت داری، دوسروں کے حقوق کی پاسداری، اور صبر و شکر کی اہمیت کو سمجھایا۔ یہ تین باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع تعلیمات کا حصہ ہیں جو نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ پوری انسانیت کے لئے بہترین اصول فراہم کرتی ہیں۔ ان اصولوں پر عمل کر کے ہم ایک بہتر اور پرامن معاشرے کی تشکیل کر سکتے ہیں۔


کسی دانا سے مراد ہے کہ تین چیزیں غم آلام کو دور کر دیتی ہے اللہ تعالی کا ذکر ،اللہ تعالی کے دوستوں کی ملاقات ،دانا حضرات کی گفتگو(اچھے ماحول کی برکتیں صفحہ39 مکتبۃ المدینہ)آئیے ہم چند حدیث پاک ملاحظہ فرماتے ہیں:

(1)فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کہ جس میں تین خصلتیں ہوں وہ ایمان کی لذت پا لے گا اللہ اور رسول تمام ماسوا سے پیار ےہوں، جو بندے سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے ،جو کفر میں لوٹ جانا جب کہ رب نے اس سے بچا لیا ایسا برا جانے جیسے آگ میں ڈالا جانا۔(مراۃ المناجیح حدیث,6 جلد1 صفحہ 40)

(2)روایت ہے کہ حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قیامت کے دن تین شخص مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے ایک وہ غلام جو اللہ کا حق اور اپنے مولا کا حق ادا کرتا رہے اور ایک وہ شخص جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہو اور ایک وہ شخص جو ہر دن رات پانچوں نمازوں کی اذان دے۔(مراۃالمناجیح, جلد(1) حدیث.615 صفحہ 391)

(3)روایت ہے حضرت ابو اسامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کہ تین شخص ہیں جن سب کی ذمہ داری اللہ پر ہے ایک وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلے وہ خدا کی ذمہ داری میں ہے حتی کہ اسے موت آجائے تو جنت میں داخل فرما دے یا اجر وغنیمت کا مال لے کر واپس کرے اور ایک وہ شخص جو مسجد کی طرف چلے وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے اور ایک وہ شخص جو اپنے گھر میں سلام سے جائے اور اللہ تعالی کی ذمہ داری میں ہے۔(مراۃالمناجیح جلد 1 حدیث 682 صفحہ 421)

(4)سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین چیز کی وصیت فرمائی کہ انہیں موت تک کبھی نہ چھوڑو ۔ہر مہینے تین دن کے روزے، چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا۔(صحیح بخاری حدیث 1178)

(5)رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تین آدمیوں کی دعا ان کے سر سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی وہ شخص جو لوگوں کا امام بنے حالانکہ لوگ اسے نا پسند کرتے ہوں وہ عورت جو اس حال رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو وہ دو بھائی جو باہم جھگڑا کریں۔(ابن ماجہ 971)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دونوں جہاں کی بھلائیاں عطا فرمائے آمین بجاہ النبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم


میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! وعظ ونصیحت حضرات انبیاء کرام ومرسلین عظام عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عظیم سنت ہے جس کوتمام نبیوں کے سَرْوَر ، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کمال کی بلندیوں پر پہنچایااورکیوں نہ ہوکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالمین کے لیے رہبر و ہادی اور کتاب و حکمت سکھانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تمام اجزائے عالم اور جمیع اقسام موجودات کے لئے ہے خواہ وہ جمادات ونباتات ہوں یا حیوانات، آپ موجودات کے تمام ذرّوں اور کل کائنات کی تکمیل وتربیت فرمانے والے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیونکہ کل کائنات کی تکمیل و تربیت فرمانے والے ہیں ان تربیتی فرمودات میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تین چیزوں کے بیان کے ساتھ تربیت فرمانا بھی ہے۔

(1) وہ تین چیزیں جن کا ثواب مرنے کے بعد بھی پہنچتا رہتا ہے:وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أو عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهٖ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْا لَهٗ

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کے عمل بھی ختم ہوجاتے ہیں سوائےتین اعمال کے (1) ایک دائمی خیرات (2) یا وہ علم جس سے نفع پہنچتا رہے (3) یا وہ نیک بچہ جو اس کے لیے دعائے خیر کرتا رہے۔ (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:203)

(2) جس میں تین خصلتیں ہوں وہ ایمان کی لذت پالے گا:عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيْهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: مَنْ كَانَ اللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَمَنْ أَحَبَّ عَبْدًا لَا يُحِبُّهٗ إِلَّا لِلّٰهِ وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللّٰهُ مِنْهُ كَمَا يُكْرَهُ أَنْ يُلْقٰى فِي النَّارِ۔ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس میں تین خصلتیں ہوں وہ ایمان کی لذت پالے گا (1) الله و رسول تمام ماسوا سے زیادہ پیارے ہوں (2) جوبندے سےصرف الله کے لیے محبت کرے (3) جو کفر میں لوٹ جانا جب کہ رب نے اس سے بچالیا ایسا بُرا جانے جیسے آگ میں ڈالا جانا۔ (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:8)

(3) منافق کی تین علامات: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اٰيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ اِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اُؤْتُمِنَ خَانَ. ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’منافق کی تین علامات(نشانیاں) ہیں : (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (2)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور(3) جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:3 , حدیث نمبر:199)

(4) کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ پائی جائے: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِیٍٔ مُّسْلِـمٍ اِلَّا بِاِحْدٰی ثَلَاثٍ اَلثَّیِّبِ الزَّانِی وَالنَّفْسِ بِالنَّفْسِ وَالتَّارِکِ لِدِیْنِہِ الْمُفَارِقِ لِلْجَمَاعَۃ. ‘‘ترجمہ:حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ پائی جائے: (1)…شادی شدہ زانی، (2)… جان کے بدلے جان (قصاص) اور (3)… اپنے دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہونے والا۔‘‘ (بخاری، كتاب الديات، باب قول اللہ تعالٰى: ان النفس بالنفس...الخ، 4/ 361، حدیث:6878 ۔ مسلم، کتاب القسامة، باب ما یباح بہ دم المسلم، صفحہ710، حدیث:4375)

(5) چیزیں تین طرح کی ہیں: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :الْأَمْرُ ثَلَاثَةٌ: أَمْرٌ بَيِّنٌ رُشْدُهُ فَاتَّبِعْهُ وَأَمْرٌ بَيِّنٌ غَيُّهُ فَاجْتَنِبْهُ وَأَمْرٌ اخْتُلِفَ فِيهِ فَكِلْهُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ)ترجمہ: حضرت ابن عباس سے روایت ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیزیں تین طرح کی ہیں ایک وہ جس کا ہدایت ہونا ظاہر اس کی تو پیروی کرو ایک وہ جس کا گمراہی ہونا ظاہر اس سے بچو ایک وہ جو مختلف ہے اسے اللہ کے حوالے کرو۔

حدیث کی مختصر شرح : مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں یعنی احکام شرعیہ تین طرح کے ہیں:بعض یقینی اچھے جیسے روزہ،نماز وغیرہ۔بعض یقینًا بُرے جیسے اہل کتاب کے میلوں، ٹھیلوں میں جانا،ان سے میل جول کرنا۔اور بعض وہ ہیں جو ایک اعتبار سے اچھے معلوم ہوتے ہیں اور ایک اعتبار سے برے۔مثلًا وہ جن کے حلال و حرام ہونے کے دلائل موجود ہیں جیسے گدھے کا جوٹھا پانی جسے شریعت میں مشکوک کہا جاتا ہے یا جیسے قیامت کے دن کا تقرر اور کفار کے بچوں کا حکم وغیرہ ۔چاہیئے یہ کہ حلال پر بے دھڑک عمل کرے حرام سے ضرور بچے اور مشتبہات سے احتیاط کرے۔اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ایک حلال چیز کو کوئی شخص اپنی رائے سے حرام کہہ دے تو وہ شے مشتبہ بن جائے گی۔تمام مسلمان میلادوعرس وغیرہ کو حلال جانیں اور ایک آدمی اسے حرام جانے تو یہ چیزیں مشتبہ نہ ہوں گی بلکہ بلا دلیل حرام کہنے والے کا قول ردّہوگا۔ (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:183)

یا رب العالمین ہمیں حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں برائی سے روکنے کی اور نیکی کی دعوت دینے کی توفیق عطا فرما اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے تمام عالم اسلام کے اوپر لطف و کرم فرما۔

امین ثم امین یا رب العالمین۔


معاشرےکےافرادکےظاہروباطن کو بُری خصلتوں سے پاک کرکےاچّھے اوصاف سے مزیّن کرنا اور انہیں معاشرے کا ایک باکردار فرد بنانا بہت بڑا کام اور انبیائے کرام علیہمُ الصَّلٰوۃ و السَّلام کا طریقہ ہے۔،اس حوالے سے ہمارے پیارے آقاصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اندازِ تربیت بہترین نمونہ ہے اور یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ کسی نبی کو جو عقل عطا کی جاتی ہے وہ اوروں سے بہت زیادہ ہوتی ہے،کسی بڑے سے بڑے عقل مند کی عقل ان کی عقل کے لاکھویں حصّے تک بھی نہیں پہنچ سکتی ۔ آئیے!رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا تین چیزوں کے بیان سے تربیت فرمانے کے بارے میں چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرماتے ہیں۔

1:-ایمان کی حلاوت (مٹھاس) حضرت اَنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تین چیزیں جس شخص میں ہوں وہ ایمان کی مٹھاس پائے گا1:جس کو اللہ و رسول ان دونوں کے ماسوا (سارے جہان ) سے زیادہ مَحبوب ہوں۔2:اور جو کسی آدمی سے خاص اللہ ہی کے لئے محبت رکھتا ہو۔3 اور جو اسلام قبول کرنے کے بعد پھر کفر میں جانے کو اتنا ہی بُرا جانے جتنا آگ میں جھونک دئیے جانے کو بُرا جانتا ہے۔

شرح:-جس طرح’’شکر‘‘اور چیز ہے اور ’’شکرکی مٹھاس ‘‘اور چیز ہے اسی طرح ایمان اور چیز ہے ا ور ایمان کی لذت اور چیزہے۔جس شخص کے منہ کا ذائقہ بالکل درست ہو اگر وہ شکر کھائے گا تو اس کو شکر کی مٹھاس کا لُطف و مزہ بھی محسوس ہوگا لیکن اگر کوئی صَفْر اوی بخار کا مریض جس کے منہ کا ذائقہ بگڑ کر تلخ ہوچکا ہو اگر وہ شکر کھائے گا تو اس کو شکر کی مٹھاس محسوس نہیں ہوگی۔

بس بالکل یہی مثال ایمان کی ہے جوشخص کلمہ پڑھ کر مومن ہوگیا اور ایمان کے بعد اس میں تین خَصْلَتیں پیدا ہوگئیں تو وہ شخص ایمان کی مٹھاس یعنی ایمانی لذت کا لُطف و مزہ بھی پالے گااور جس شخص میں یہ تینوں خصلتیں نہیں پیدا ہوئیں تو وہ شخص اگرچہ صاحب ایمان تو ہوگامگر ایمان کی مٹھاس یعنی ایمان کی لذت خاص کے لطف و مزہ سے مَحروم رہے گا۔(کتاب:منتخب حدیثیں , حدیث نمبر:11)

2:-دو بے وفا اور ایک وفادار ساتھی:مندرجہ ذیل حدیث پاک میں اُن تین چیزوں کو بیان کیا گیا ہے جن کا تعلق انسان کے ساتھ اس کی زندگی میں ہوتا ہے لیکن ان تینوں میں سے دو بے وفا اورساتھ چھوڑ جانے والی ہیں اور فقط ایک وفادار اور قبر میں ساتھ جانے والی ہے۔حدیث:حضرت سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا: میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں ، گھر والے ، مال اور اس کاعمل، پس دو چیزیں یعنی اس کے گھر والے اور اس کا مال واپس لوٹ آتے ہیں اور ایک چیز یعنی اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہتاہے۔ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:2 , حدیث نمبر:104)

3:-تین نجات دلانے والی اور تین ہلاک کرنے والی چیزیں۔حدیث:روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزیں نجات دینے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی۔ نجات دینے والی تو وہ1: الله سے ڈرنا ہے خفیہ اور علانیہ2: سچی بات کہنا ہے خوشی اور ناخوشی میں3:درمیانی چال ہے امیری اور فقیری میں۔ لیکن ہلاک کرنے والی چیزیں تو وہ1:نفسانی خواہش ہے جس کی پیروی کی جائے2:بخل ہے جس کی اطاعت ہو3: انسان کا اپنے کو اچھا جاننا یہ ان سب میں سخت تر ہے۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:5122)

4:-تین لعنتی چیزوں سے بچو۔روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین لعنتی چیزوں سے بچو،گھاٹوں،درمیانی راستہ اور سایہ میں پاخانہ کرنے سے (ابوداؤد)

شرح حدیث:ہر وہ جگہ جہاں لوگ بیٹھتے یا آرام کرتے ہوں وہاں پاخانہ کرنا منع ہے کہ اس سے رب تعالٰی بھی ناراض ہے اور لوگ بھی گالیاں دیتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مسجد کے غسل اور استنجاءخانوں میں پاخانہ کرنا سخت جرم ہے۔بندوں کو ستانے والا رب کے عذا ب کا مستحق ہے۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:355)

5:-تین چیزیں جن کا ارادہ بھی ارادہ اور مذاق بھی ارادہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزیں وہ ہیں جن کا ارادہ بھی ارادہ ہے اور مذاق بھی ارادہ ہے نکاح ، طلاق اور رجوع (ترمذی،ابوداؤد)اور فرمایا ترمذی نے یہ حدیث حسن غریب ہے۔

شرح حدیث: یعنی ارادۃً بولے تو بھی واقع ہوجائیں گی اور مذاق دل لگی سے کہے یا ویسے ہی اس کے منہ سے نکل جائے یا کسی اور زبان میں بولے جس سے وہ واقف نہ ہو،بہرحال یہ کلمات اس کے منہ سے نکل جائیں یہ چیزیں واقع ہوجائیں گی بشرطیکہ دیوانگی یا نیند میں نہ کہے بیداری و ہوش میں کہے۔

ان تین چیزوں کا ذکر صرف اہتمام کے لیے ہے ورنہ تمام تصرفات شرعیہ جن میں دوسرے کا حق ہوجاتا ہو سب کا یہ ہی حکم ہے۔یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے بعض اسنادوں سے حسن ہے بعض سے غریب لہذا جن لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف کہا غلط کہا چند اسنادوں سے تو ضعیف بھی قوی ہوجاتی ہے اس کی کتاب اﷲ سے بھی تائید ہوتی ہے رب تعالٰی فرماتا ہے: لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْؕ- ۔منافقین نے حضور کی شان میں بکواس بکی تھی،پوچھ گچھ پر بولے کہ ہم تو مذاق کرتے تھے فرمایا بہانہ نہ بناؤ تم کافر ہوچکے۔معلوم ہوا کہ کفر و اسلام عمدًا ومذاقًا ہر طرح ثابت ہوجاتا ہے اور اس پر احکام شرعیہ مرتب ہوجاتے ہیں۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 , حدیث نمبر:3284)


پیارے اسلامی بھائیوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تین باتوں میں تعلیم فرمانا اسلام کے پیغمبر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات مسلمانوں کےلئے رہنمائی اور ہدایت کا ایک مکمل مجموعہ ہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ہر پہلو میں ہمیں ایسا نمونہ ملتا ہے جو انسانیت کےلئے بہترین اصول فراہم کرتا ہے اس مضمون میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تین اہم باتوں میں تعلیم کو بیان کریں گے جن کا ذکر احادیث میں ملتا ہے اللہ پاک سے دعا ہے کہ مجھے حق اور سچ بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین

الحدیث نمبر 1: حضرت معاذبن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوۓ سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ پاک سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو پانچوں نمازیں اور رمضان کے روزے اداکرتا ہوں وہ بخشا جاۓ گا میں نے عرض کیا کہ میں لوگوں کو یہ بشارت نہ دے دوں فرمایا انہیں رہنے دو کہ عمل کرتے رہیں *(مراۃ المناجیح ،جلد نمبر 1 کتاب الایمان الحدیث نمبر 42)

الحدیث نمبر 2: حضرت عباس بن عبدالمطلب سے روایت ہے فرماتے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ پاک کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہو گیا (مراۃ المناجیح جلد نمبر1 کتاب الایمان الحدیث نمبر 7)

الحدیث نمبر 3 : حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس میں تین خصلتیں ہوں وہ ایمان کی لذت پالے گا (1)اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام ماسوا سے زیادہ پیارے ہوں (2)جو بندے سے صرف اللہ عزوجل کیلئے محبت کرے (3) جو کفر میں لوٹ جانا جبکہ رب نےاس سے بچالیا ایسا براجانے جیسے آگ میں ڈالا جانا

(مراۃ المناجیح ،جلد 1 کتاب الایمان الحدیث نمبر 6)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین


پیارے اسلامی بھائیو حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایک بڑا وقت تربیت پر لگایا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انسان کے ہر پہلوکو جس میں اسے تربیت کی ضرورت تھی اسے بیان کیا ہے خواہ وہ انسان کے لباس کے حوالے سے ہو یا اس کے رہن سہن کے حوالے سے ہو یا رشتہ داروں کے ساتھ تعلق کے حوالے سے ہو یا اس کی اولاد کی تربیت کے حوالے سے ہو اور حقیقت میں انسان وہ ہے جو اچھی تربیت والا ہے وگرنہ صرف انسان کا نام اس پر صادق آتا ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ اچھی تربیت کریں اور اچھی تربیت لیں پیارے اسلامی بھائیو آج معاشرے میں تعلیم کی کمی نہیں ہے کمی ہے تو تربیت کی ہی ہے جس کے ساتھ اچھا معاشرہ بنتا ہے جس میں انسان اچھی اور پرسکون زندگی گزار سکتا ہے  ۔آئیے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تین چیزوں کے ساتھ تربیت فرمانے کو ملاحظہ کرتے ہیں ۔

1: ایمان کی مٹھاس :حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ دو عالم کے مالک و مختار مکی مدنی سرکار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس میں یہ تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس پا لے گا(1) اللہ عزوجل اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوں( 2) صرف رضائے الہی کے لیے کسی سے محبت کرے اور ( 3) وہ جسے اللہ عزوجل نے کفر سے نجات دے دی تو اسے دوبارہ اس کی طرف جانا آگ میں ڈالے جانے کی طرح ناپسند ہو. (فیضان ریاض الصالحین جلد،4, حدیث نمبر,375)

2: دیر نہ کرو :روایت ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کہ فرمایا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اے علی تین چیزوں میں دیر نہ لگاؤ (1) نماز جب آجائے(2)جنازہ جب تیار ہو جائے(3) اور لڑکی جب اس کا ہم قوم مل جائے کتاب: مراۃالمنا جیح شرح مشکاۃالمصابیح جلد 1 حدیث نمبر 605

3: مشک کے ٹیلے :روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قیامت کے دن تین شخص مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے (1) ایک وہ غلام جو اللہ پاک کا حق اور اپنے مولا کا حق ادا کرتا رہے(2) اور ایک وہ شخص جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں( 3) اور ایک وہ شخص جو ہر دن رات پانچ نمازوں کی اذان دےکتاب مراۃ المناجیح شرح مشکاۃالمصابیح جلد 1 حدیث نمبر 666

4: جن کی ذمہ داری اللہ پر ہے :روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ تین شخص ہیں جن سب کی ذمہ داری اللہ پر ہے (1) ایک وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلے وہ خدا کی ذمہ داری میں ہے حتی کہ اسے موت آجائے تو جنت میں داخل فرما دے یا اجر و غنیمت کا مال لے کر واپس کرے (2) اور ایک وہ شخص جو مسجد کی طرف چلے وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے (3) اور ایک وہ شخص جو اپنے گھر میں سلام سے جائے وہ اللہ تعالی کی ذمہ داری میں ہے۔کتاب مراۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 727

5: تین لعنتی چیزیں :روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تین لعنتی چیزوں سے بچو (1) گھاٹوں (2 )درمیانی راستہ (3) اور سائے میں پاخانہ کرنے سے ۔کتاب مراۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 335

اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


پیارے پیارے اسلامی بھائیو! نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بہت سی احادیث میں صحابہ کرام کے ذریعے ہماری تربیت فرمائی ہے. نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا انداز تربیت بہت ہی احسن اور مشفقانہ تھا.سیرت نگاروں نے اس باپ کی صراحت کی ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جس طرح صحابہ کرام کی تربیت فرمائی اس کی مثال نہیں ملتی. آئیے!آج ہم ان احادیث کو پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تین چیزوں سے تربیت فرمائی ہے:

(1) تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں(1)لالچ جس کی اطاعت کی جائے(2)خواہش جس کی پیروی کی جائے(3)بندے کا اپنے عمل کو پسند کرنا یعنی خود پسندی (مجمع الزوائد،کتاب الایمان،حدیث 313،جلد 1،صفحہ 269)

(2) تین لوگوں سے اللہ کلام نہ فرمائے گا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بروز قیامت تین قسم کے لوگوں سے اللہ عزوجل نہ کلام فرمائے گا نہ انہیں پاک کرے گا نہ ان کی طرف نظر فرمائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا.(1)بوڑھا زانی(2)جھوٹا بادشاہ (3)متکبر فقیر.(صحیح مسلم،کتاب الایمان،صفحہ 96،حدیث 296)

(3) تین چیزوں سے بَری جنت میں داخل ہوگا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ روح کے جسم سے جدا ہوتے وقت تین چیزوں سے بَری ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا. (1)تکبر (2)قرض اور (3)خیانت.(المستدرک، کتاب البیوع،حدیث 2264،صفحہ 324،جلد 2)

(4) تینوں قسم کے جنتی لوگ:نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایاجنتی لوگ تین قسم کے ہیں(1)عدل کرنے والا حاکم جسے توفیق دی گئی ہو(2)رحم دل انسان جو اپنے رشتہ داروں کے لیے نرم دل ہو اور (3)وہ پاک دامن مسلمان جو عیال دار ہونے کے باوجود سوال کرنے سے بچنے والا ہو.(ریاض الصالحین،جلد 3،صفحہ 629،630)

(5) تین لوگ اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے:حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی اللہ تعالی اس کو اپنے عرش کے نیچے اس دن سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا (1)تکلیفوں کے باوجود وضو کرنا (2)اندھیروں میں پیدل مسجد تک جانا اور(3)بھوکے کو کھانا کھلانا.(کنز العمال،جلد 20،صفحہ 368)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ہمارے معاشرے میں تعلیم تو بہت ہے مگر تربیت کی کمی ہے ہمیں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کو بھی فروغ دینا چاہیے اللہ عزوجل ہمیں ان احادیث پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم


8ستمبر2024کوکنسٹرکشن ڈیپارٹمنٹ دعوت اسلامی کے تحت آن لائن مدنی مشورہ ہوا جس میں کنسٹرکشن ڈپارٹمنٹ صوبہ پنجاب کے ڈویژن ذمہ داران اور ڈویژنوں پر پراپرٹی ڈپارٹمنٹ کے مقرر ذمہ داران سمیت کنسٹرکشن ڈپارٹمنٹ کے آفس ذمہ دار نے شرکت کی ۔

نگران مجلس مولانا وسیم عطاری مدنی اور صوبائی ذمہ دار حاجی غلام الیاس عطاری نے شعبےکے طے شدہ کاموں کا جائزہ، مسائل، دعوت اسلامی کے ایونٹس،جدول،کارکردگی جیسے کئی امور کے متعلق گفتگو کی۔(رپورٹ:محمد فاروق عطاری نیوسوسائٹیز ڈیپارٹمنٹ آفس ذمہ دار،کانٹینٹ:محمد شعیب احمد عطاری)


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام آج 16 ستمبر 2023ء بمطابق 12 ربیع الاول 1446ھ  کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں عظیم الشان ”اجتماع میلاد“ کا انعقاد کیا جائیگا۔

اجتماع کا آغاز بعد نماز عشاء اللہ کے پاک کلام قرآن مجید سے کیا جائے گا، اس کے بعد بارگاہ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ہدیۂ نعت پیش کی جائے گی۔ نعت شریف کے بعد شیخ طریقت امیراہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ سنتوں بھرا بیان اور مدنی مذاکرہ فرمائیں گے۔مدنی مذاکرے میں سوال جواب کا سلسلہ ہوگا۔

مدنی مذاکرے کا اختتام سحری کے وقت ہوگا جس کے بعد عاشقانِ رسول کو لنگر میلاد پیش کیا جائے گا۔

سحری کے بعد پُر رونق محفل ”صبح بہاراں“کا آغاز ہوگا جس میں عاشقانِ رسول اُس گھڑی کا استقبال کریں گے جس میں ”وجہ تخلیق کائنات، آقائے نامدار، خاتم النبین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم“کی دنیا میں جلوہ گری ہوئی۔ صلوۃ و سلام اور خصوصی دعا پر اجتماع میلاد کا اختتام کیا ہوگا۔

12 ربیع الاوّل کے دن بعد نماز فجرپُر ذوق محفل ”پرنور ہے زمانہ صبح شب ولادت“ منعقد ہوگی۔ نماز ظہرکےبعد تقریباً 3:00 بجے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی سے ”جلوس میلاد“روانہ ہوگا جس کا اختتام نماز عصر کی ادائیگی کے ساتھ فیضانِ مدینہ کراچی میں ہی ہوگا۔


پیارے پیارے اسلامی بھائیو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی بہت جگہوں پر تربیت فرمائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز تربیت بہت ہی احسن تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی احادیث ایسی ہے جن میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کے متعلق تربیت فرمائی ہے ان میں سے چند احادیث پڑھتے ہیں!

(1) ابن آدم کا عمل روک دیا جاتا ہے:حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب ابن آدم مرتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین کے۔ (1) صدقہ جاریہ (2) وہ علم جس سے نفع دیا جاتا رہے (3) نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے (اتحاف المسلم باب کتاب العلم حدیث نمبر 5 مکتبہ المدینہ)

(2) ابن آدم کے لیے تین چیزیں سنت ہیں:حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں مجھ پر فرض اور تمہارے لیے سنت ہے ۔(1)وتر(2)مسواک (3) قیام شب۔( فتاوی رضویہ جلد 7 صفحہ 403)

(3) اللہ عزوجل اللہ کلام نہ فرمائے گا:حضرت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل کلام نہ کرے گا نہ ان کی طرف نظر کرم فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک فرمائے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے یہ تین باتیں جب ارشاد فرمائی تو میں نے عرض کی وہ تو خائب و خاسر ہوں گے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون لوگ ہیں ارشاد فرمایا (1) تکبر سے اپنا تہبند باندھنے والے(2) احسان جتلانے والے اور(3) جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنے والے۔ (جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد دوم صفحہ 673)

(4) عمل کا باقی رہ جانا:حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں دو تو لوٹ آتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ رہ جاتی ہے اس کے ساتھ اس کے گھر والے، اس کا مال، اس کے اعمال جاتے ہیں تو اس کے گھر والے اور مال لوٹ آتے ہیں اور اس کے عمل ساتھ رہ جاتے ہیں( مراۃالمناجیح شرح مشکوۃ المسابیح جلد 7 صفحہ 28)

(5) ابن آدم کا مال:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بندہ کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال حالانکہ اس کا مال صرف تین ہے جو کھا کر ختم کر دے یا پہن کر گلا دےیا تو جمع کر دے جو ان کے علاوہ ہیں وہ جانے والا ہے اور وہ اسے لوگوں کیلیے چھورنے والا ہے (مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7 صفحہ 27)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں ان احادیث پر عمل کرنے اور ان کو آگے بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ خاتم النبیین و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم


قارئین کرام! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین والحدیث ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔حدیث پاک رشدُہدایت کا ذریعہ اور قرآن کی تفسیر ہے.اس کے ذریعے ہم دنیا وَما فیھا میں کامیابی حاصل کر سکتے ہے.ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں معلم بنا کر بھیجے گئے ہے . محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی پیاری امت کی ہر وقت تربیت فرماتے رہتے تھے.تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ تربیت فرمانا مختلف انداز سے ہوا کرتا تھا کبھی دو،تین،چار یا زیادہ چیزوں کے ذریعے تربیت فرمایا کرتے تھے. اب ہم اُن تین چیزوں کے بارے میں پڑھتے ہیں جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت فرمائی۔

1:عرش کے سائے میں کون:مسلمانوں کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے روز اللہ پاک کے عرش کے سِوا کوئی سایہ نہیں ہو گا۔تین شخص اللہ پاک کے عرش کے سائے میں گے۔ عرض کی گئ: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کون لوگ ہوں گے؟ارشاد فرمایا:(1)وہ شخص جو میرے امتی کی پریشانی دُور کرے۔(2)میری سنت کو زندہ کرنے والا(3)مجھ پر کثرت سے درود شریف پڑھنے ولا۔(البدور السافرۃ،ص131،حدیث،366)

2:ہم مسلمانوں کو جہنم سے بچانے والے اور جنت دلوانے والے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تین شخص کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگے۔(1)دیّوث(2)مردانی عورتیں(3) شراب کا عادی۔ صحابہ کرام علیہم رضوان نے عرض کی :شراب کو تو ہم نے جان لیا ،دیوث کون ہے؟ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کے گھر والوں کے پاس کون کون آتا ہے، ہم نے عرض کی۔مردانی عورتیں کون ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں(مجمع الزوائد ،کتاب النکاح ،باب فیمن یرضی لاھلوبا رخبث، الحدیث،8822،ج4,ص1599)

3:عرش سے لٹکی ہوئی چیزیں: فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے تین چیزیں عرش سے معلق ہیں۔ (1)رشتہ داری کہتی ہے :اللہ پاک میں تیری وجہ ہی سے ہوں لہذا مجھے نہ توڑا جائے (2)امانت کہتی ہے :یا اللہ پاک میں تیری وجہ ہی سے ہوں لہذا مجھ میں خیانت نہ کی جائے (3)نعمت کہتی ہے :یا اللہ میں تیری طرف سے ہوں لہذا میری ناشکری نہ کی جائے (البحر الزخار بمسند البزار،مسند ثوبان،الحدیت4181،ج10،ص118)

4: تین کی مدد اللہ کے ذمہ کرم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین آدمیوں کی مدد اللہ تعالی کے ذمہ کرم پر ہے نکاح کرنے والا جو پاک دامنی کا ارادہ رکھتا ہو، مکاتب غلام جو مال دینے کا ارادہ رکھتا ہو اور اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے والا .(ترمذی،کتاب فضائلالجہاد،باب ماجاءفی المجاھد الخ-----،247/3،الحدیث،1661)

5:وہ ہم میں سے نہیں جس میں تین خصلتیں نہیں: سرکار ابدقرارشافع روز شمار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ثَلاَثٌ مَنٍ لَمْ يَكُنْ فِيْهِ فَلَيٍسَ مِنِّيْ وَلاَ مِنَ اللهِجس آدمی میں تین خصلتیں نہ ہوں وہ مجھ سے نہیں اور اللہ کا ایسےآدمی سے کوئی تعلق نہیںقِيْلَ وَمَا هُنَّ قَالَ عرض کی گئی وہ کیا خصلتیں ہیں؟ ارشاد فرمایا: (1)حِلْمٌ يُرَدُّ بِهٖ جَهْلُ الجَاهِلِ "ایسا حلم جس کے ذریعے جاہل کی جہالت کو دور کیا جائے 2)أَوْ حُسْنُ خُلُقٍ يَعِيْشَ بِهِ فِي النَّاسِ. حسن اخلاق جس کے ذریعے لوگوں میں اچھے طریقے سے زندگی بسر کی جائے (3)أَوْ وَرعٌ يَحْجِزُوْهٌ عَنْ مَعَاصِ .ایسا تقوی جو آدمی کو گناہوں سے بچائے.(المعجم الاوسط ،362/3،حدیث4848)

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں معلوم ہوا حلم یعنی (بردباری)، تقوی اور حسن اخلاق اللہ تبارک و تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ عادتیں ہیں، ہمیں ان کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں وہ ہمیں اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے پیارے فرامین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین