مجلس شارٹ
کورسز اور مجلس اصلاح اعمال کے زیر
اہتمام پچھلے دنوں تین دن کا جنت کا راستہ
کورس
اسلامی
بہنوں کی مجلس شارٹ کورسز اور مجلس اصلاح
اعمال کے زیر اہتمام پچھلے دنوں حیدر آباد میں تین دن کا جنت کا راستہ کورس 176
مقامات پر منعقد ہوا جس میں 2048 اسلامی
بہنوں نے شرکت کی۔
اس کورس میں
نیک اعمال کارڈ پر عمل کرنا اور زوزانہ اس کے مطابق شیڈول بنانے کا آسان طریقہ
سمجھایا گیا ۔ 1455 اسلامی بہنوں نے روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی نیت کی ۔1441
اسلامی بہنوں نے ہر ماہ اپنا نیک اعمال کا کارڈ جمع کروانے کی نیت کی جبکہ121
اسلامی بہنوں نے دارالسنہ میں ہونے والے رہائشی کورس کرنے کی نیت اظہار کیا۔
الحمدلله عزوجل گزشتہ مدنی مذاکرے میں امیر اہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ نے یومِ قفلِ مدینہ اور ایامِ قفلِ مدینہ منانے کی ترغیب دلائی اور ایام
ِقفلِ مدینہ منانے والوں اور والیوں کے لیے دعا بھی ارشاد فرمائی۔ اسی ترغیب کے تحت حیدرآباد ریجن میں 1 اکتوبر تا
3 اکتوبر اسلامی بہنوں نے یوم قفل مدینہ اور ایام قفل مدینہ منائے جس میں1076
اسلامی بہنوں نے یومِ قفل مدینہ منایا۔129ااسلامی بہنوں نے ایامِ قفل مدینہ منائے۔622
اسلامی بہنوں نے رسالہ خاموش شہزادہ پڑھا۔
اسلامی
بہنوں کی مجلس شعبہ مدرستہ المدینہ بالغات کے زیر اہتمام ماہ ستمبر 2020 میں لاہور ریجن کے زون گلگت میں
44 نئے گھر مدرستہ المدینہ بالغات کا آغاز ہوا ۔
گوجرانوالہ
زون میں 16 نئے مدرستہ المدینہ بالغات کا اضافہ ہوا۔
پشاور زون
میں 1 نئے مدسے کا اضافہ ہوا۔
عالمی
مجلس شعبہ مدرسۃ المدینہ بالغات کی ذمہ دار اسلامی بہن کا مدنی مشورہ
دعوت اسلامی
کے زیر اہتمام 8 اکتوبر 2020 ء کو عالمی مجلس شعبہ مدرسۃ المدینہ بالغات کی ذمہ
دار اسلامی بہن کا یورپین یونین کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کے ساتھ بذریعۂ اسکائپ
مدنی مشورہ ہوا۔
جس میں
مقامی زبان کی مدرسات کے حوالے سے بات کی گئی اور 26 دن کے مدنی قاعدہ کورس کو
مختلف زبانوں میں کروانے کے حوالے سے بات ہوئی نیز نیو اہداف دیئے گئے۔
لاہور ریجن
نگران جنوبی کا لاہور زون جوہر ٹاؤن کے
ماہانہ مشورے میں شرکت
دعوت اسلامی
کے زیر اہتما م بروز جمعرات لاہور ریجن
نگران نے جنوبی لاہور زون کے ماہانہ اجلاس میں جوہر ٹاؤن میں شرکت فرمائی اور زون
نگران کے اجلاس کو چیک کیا اور اہم اہم نکات بھی عطا فرمائے مزید مدنی کاموں کی
ترغیب دلائی۔
لاہور ریجن
نگران اسلامی بہن کی داتا صاحب کابینہ میں ہفتہ وار سنتوں بھرے
اجتماع میں شرکت
پرسكون شبنمی رات کا ایک پہر گزر چکا ہے ہر سو اندھیرے کا راج
ہے آسمان پر چھائے بادل رات کی تاریکی میں مزید اضافہ کیے دیتے ہیں، ماحول پر ایک
سکوت طاری ہے ہاں دور سے کسی پرندے کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ ضرور کچھ دیر کے لیے فضا
میں ہلکا سا ار تعاش پیدا کردیتی ہے، میرے مکین سوئے ہوئے ہیں۔
اس سردرات میں صحن میں
بیٹھی ایمن مدینہ پاک کی سر زمین کھجوروں کے لہلاتے درخت خوشبوؤں سے معطر فضاؤں
نیلیے آسمان پر روشن ستاروں خوبصو رت چاند کے خیالوں ، بزرگانِ دین کے عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات میں گم بیٹھی تھی، نجانے
کب گرم آنسوؤں کی لڑی رخساروں پر بہہ گئی ، چونک کر آنسو صاف کیے ذہن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب اطاعت ذکر اور حضور علیہ السلام کی نافرمانی کرنے والوں کے متعلق جو آیاتِ مبارکہ تھیں بار
بار تکرار کررہی تھیں۔
کہیں تو میرے رب نے حضور
کی اطاعت کو اپنی اطاعت فرمایا کہیں حضور کی بارگاہ کے آدب سکھائے حضور کے ذکر کو
اپناذکر فرمایا کہیں حضور کی آواز سےاپنی آواز کو بلند کرنے سے منع فرمایا، کہیں
حضور کی نافرمانی کرنے والوں کے لیے اعمال اکارت ہونے کی وعیدیں سنائیں ،میرا رب
فرماتا ہے:
رسول کے پکارنے کو آپس
میں ایسا نہیں ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے(پارہ 18 سور ہ النور)
جس سے محبت ہوتی ہے اس کا
زکر بندہ بکثرت سے کرتا ہے اس کی تعظیم و توقیر اور عظمت کا خوب چرچا کرتا ہے،
صحابہ کرام اولیا عظام تابعین تبع تاعین رحمۃ اللہ علیہم نے حضور علیہ ا لصلوة والسلام سے محبت کی زندہ مثالیں
قائم کی ہیں۔
جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ
الصلوة والسلام کے وصالِ ظاہری کے بعد
حسنین کریمین کے حکم پر اذان دی تو جب حضور علیہ الصلوة والسلا م کا ذکر اذان میں آیا تو فرحت عشق سے
بے ہوش ہو کر زمین پر تشریف لے آئے۔
امام بخاری علیہ الرحمۃ جب حدیث مبارکہ کی کتاب میں ذکر فرماتے تو ٹہر ٹہر کر حدیث
س پہلے غسل فرماتے اور دورکعت نفل ادا فرماتے پھر استخارہ کرکے اس کو کتا ب میں
نقل فرماتے۔
اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق
رضی اللہ عنہ جب حضور علیہ السلام کا نام مبارک لینے کو اپنی دونوں انگلیوں خو چوم کر آنکھوں سے
لگالیتے،
بعض بزرگانِ دین کا طریقہ
کہ حضور علیہ السلام نام مبارک بے وضو نہ لیتے۔امام مالک علیہ الرحمۃ نے کبھی مدینہ پاک میں سواری نہ کی۔یہی تھا ہمارے اسلاف کا
حضور علیہ السلام سے عشق
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:جو ہمارے چھوٹے پر شفقت
نہ کرے اور ہمارے بڑ ے کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔
اللہ پاک ہمیں حضور علیہ
الصلوة والسلام کا ادب اور سچا عشق عطا
فرمائے۔
رات کی تنہائی میں یہ
واقعات پڑھتے ہوئے ایمن کو پتا بھی نہ چلا فجر کی اذانیں شروع ہوگئیں، اپنی آنکھیں
صاف کرتے ہوئے حضور کی یادوں میں گم وضوکرنے چلی گئی۔
نوٹ:
یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی
ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں
درود پاک کی فضیلت:
فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جس نے مجھ پر ایک بار درود پاک پڑھا اللہ عزوجل اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے۔
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
محمد محبت ہے سند آزاد ہونے کی
خدا کے دامن توحید میں آباد ہونے کی
تعظیم رسول اکرم اور صحابہ کرام:
جس بڑے سے محبت ہوتی ہے اس کی عظمت دل و دماغ پر چھا جاتی
ہے پھر یہ چاہنے والا اپنے محبوب کی تعظیم اور اس کی عظمت کا کلمہ پڑھنے لگتا ہے، اسلام
نے تو ہر بڑے کی تعظیم کا درس دیا ہے۔
جو ہمارے چھوٹے پر شِقت نہ کرنے اور ہمارے بڑے کی تعظیم نہ
کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
اور نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ
وسلم تو سارے بڑوں میں سب سے بڑے ہیں اور اتنے بڑے ہیں کہ آج تک
اتنا بڑا پیدا نہیں ہوا ، اور نہ ہی پیدا ہوگا، اس لیے آپ کی تعظیم ہی سب سے بڑھ
کر ہونی چاہیے۔
ایک مقام پرقرآن مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کی تعظم کرنے والوں کی کامر انی کا اس طرح اعلان کررہا ہے ۔
جو اس
پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو
اس کے ساتھ اُترا وہی بامراد ہوئے۔(اعراف ۱۵۷)
یہ ارشادات ِ ربانی صحابہ کرام کے پیش نظر تھے اس لیے انہوں
نے اپنےآقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ایسی
تعظیم و توقیر کی کہ دنیا کے کسی شہنشاہ
کی بھی اس طرح تعظیم نہ کیاجاسکی۔
صحابہ ٔکرام کی تعظیم و توقیر کا حال دیکھ کر صلح حدیبیہ کے
موقع پر قریش کے نمائندہ عروہ بن مسعود نے جو ابھی ایمان نہ لائے تھے یہ تاثر پیش
کیا تھا گویا یہ اپنے نہیں غیر کا تاثر ہے، آپ نے کہا: اے لوگو خدا کی قسم میں
بادشاہوں کے دربار میں بھی پہنچتا ہوں، قیصر و کسریٰ اور نجاشی کی دربار میں بھی
حاضر ہو چکا ہوں، خدا کی قسم کسی بادشاہ کی اتنی تعظیم میں نے نہیں دیکھی، جنتی
تعظیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے
اصحاب کرتے ہیں خدا کی قسم جب کبھی بھی کھنکار پھنکا ہے تو وہ اصحاب میں سے کسی نہ
کسی کے ہاتھ میں گرا ہے، جسے انہوں نے اپنے منہ اور جسم پر مل لیا ہے جب وہ اپنے
اصحا ب کو حكم
دیتے تو وہ اس کی تعمیل کے لیے دوڑتے ہیں، اور جب وہ وضو کرتے ہیں تو ان کے وضو کے
پانی کے لیے باہم جھگڑنے کی نوبت پہنچنے لگتی ہے اور جب کلام کرتے ہیں تو اصحاب ان
کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کردیتے ہیں، اور از روئے تعظیم ان کی طرف تیز نگاہ
نہیں کرتے۔(سیرت رسول عربی، 481)
یہ تھا صحابہ کرام کا اندازِ تعظیم و توفیق کا اجمالی خاکہ
جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک بیگانے نے پیش کیا تھا ذیل میں چند ایسی مثالیں پیش کرنے کی سعادت
حاصل کروں گی جس سے اندازہ لگ سکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ
عنہ کس کس طرح اپنے آقائے نامدار صلی اللہ
علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر بجالائے اور آپ کا ادب ملحوظ رکھتے تھے۔
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بارگاہِ رسالت میں اس حال میں حاضر ہوا کہ صحابہ کرام آپ
کے گرد اس طرح بیٹھے ہوئے تھے گویا ان کے سروں پر پر ندے بیٹھے ہوئے ہیں یعنی وہ
اپنے سروں کو حرکت نہیں دے رہے تھے، کیونکہ پرندہ اس جگہ بیٹھتا ہے جوساکن
ہے۔(صحابہ کر ام کا عشقِ رسول ، ۳۰)
۲۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
صحابہ کرام (ادب کی وجہ سے ) رسول اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کے دروازوں کو ناخون سے کھٹکھٹایا کر تے تھے۔(سیرت رسول
عربی، 482)
۳۔ حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ جب ہمرسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک طعام ہوتے تو ہم
طعام میں ہاتھ نہ ڈالتے یہاں تک کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم پہلے شروع فرماتے اور اپنا دست مبارک اس میں ڈالتے۔(سیرتِ
رسول عربی، 490)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تعظیم و توقیر جس طرح آپ کی حیات دنیوی میں واجب تھی اسی
طرح ظاہری حیات شریف کے بعد بھی واجب
ہے، سلف و خلف کا یہی طریقہ رہا ہے ، ذیل میں چند واقعات بغرض تو ضیح درج کی جاتی
ہیں۔
۱۔ حضرت اسحق نجیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وصال مبارک کے بعد
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر آتا
تو صحابہ کرام خشوع و انکسار ظاہر کرتے ان کے بدن کے رونکٹھے کھڑے ہوجاتے اور وہ حضور کے فراق
اوراشتیاق میں رویا کرتے یہی حال بہت تابعین کا تھا۔(سیرتِ رسول عربی، 490)
۳۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ میں ایوب سختیانی ، محمد بن
منکر ، امام جعفر صادق، عبدالر حمن بن قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق ، عامر بن عبداللہ بن زبیر صفوان بن سلیمان اور امام محمد بن مسلم زہری سے
ملا ک کر تا تھا ، میں نے ان کا یہ حال دیکھا کہ جب رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر آتا تو ان کا
رنگ زرد ہوجاتا۔(سیرت رسول عربی، 492)
شوق زیارت میں رویا کرتے بلکہ بعض تو بے خود ہوجایا کرتے۔
امام مالک نے اپنی تمام عمر مدینہ منورہ میں بسر کی ، پاس
ادب کبھی مدینہ شر یف کے حرم کی حد میں بول و براز نہیں کیا۔(سیرتِ رسول عربی،
492)
حضرت احمد بن فضلو یہ بڑے غازی اور تیر انداز تھے انہوں نے
جب سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کمان کو
اپنے دستِ مبارک میں لیا ہے تو اس رو ز سےاد ب کی وجہ سے کبھی کمان کو بے وضو نہیں
چھوا۔(سیرت ِ رسول عربی، 493)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں سے ایک امر یہ ہے اور آپ کی حدیث شریف کی
تعظیم کی جائے۔
اب یہاں چند واقعات پیش کیے جائیں گے جن سے پتہ چلے گا کہہ
ہمارے اسلاف کا انداز کیا ہوتا تھا جب لوگ امام مالک کے پاس طالب ِ علم کے لیے آتے
تو خادمہ دولت خانہ سے نکل کر ان سے دریافت کیا کرتی کہ حدیث مبارکہ کے لیے آئے ہو
یا مسائل فقہ کے لیے اگر وہ کہتے کہ مسائل فقہ کے لیے تو امام موصوف فوراً نکل آتے
اور اگر وہ کہتے ہم حدیث کے لیے آئے ہیں تو حضرت غسل کرکے خوشبو لگاتے پھر لباس
میں تبدیلی کرکے نکلتے، آپ کے لیے ایک تخت بچھایا جاتا جس پر بیٹھ کر آپ روایت
حدیث کرتے، اثنائے روایت میں مجلس میں عود جلایا جاتا ، یہ تخت صرف روایت حدیث کے
لیے رکھا ہوا تھا، جب اما م موصوف سے اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا میں چاہتا ہوں
کہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی تعظیم کروں۔(سیرتِ رسول عربی، 494)
حضرت ابن سیرین تابعی بعض وقت ہنس پڑتے، مگر جب ان کے پُاس رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا ذکر آتا تو ان پر خشوع
طاری ہوجاتا۔(سیرتِ رسول عربی، 495)
حضرت قتادہ کی نسبت مروی ہے کہ جب وہ حدیث سنتے تو ان کو
گرایا واضطراب لاحق ہوجاتا۔( سیرتِ رسول عربی،495)
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کا لوح و قلم تیرے ہیں
نوٹ:
یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی
ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں
اصلاحِ
اعمال ملک سطح شعبہ نگران اسلامی بہن کا عرب
شریف کی مدنی کابینہ کے ساتھ مدنی مشورہ
دعوت اسلامی
کے زیر اہتمام پچھلے دنوں عرب شریف کی مدنی
کابینہ کے ساتھ اصلاحِ اعمال ملک سطح شعبہ
نگران اسلامی بہن نے اپنے شعبہ کے حوالے سے مدنی کابینہ کی شعبہ نگران اسلامی بہن و دیگر کے ساتھ مدنی مشورہ لیا ۔
کارکردگی
کا جائزہ لیتے ہوئے حوصلہ افزائی فرمائی اور نئے نکات کے بارے میں آگاہ کیا۔ اصلاحِ اعمال شعبے کی کارکردگی کے حوالے سے اپڈیٹ
کیا اور ایام قفل مدینہ پر بھی بات کی گئی نیز اسلامی بہنوں کو مزید بہتر طریقے سے مدنی کام کرنے پر ذہن
سازی فرمائی جس پر اسلامی بہنوں نے نیتیں کیں۔
دعوتِ
اسلامی کی مجلس مدرسۃ المدینہ بالغات کے زیر ِ اہتمام 7 اکتوبر 2020ء کو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ بنگلادیش
کے شہر سیدپور زون میں مدرسۃالمدینہ بالغات کا آغاز ہوا جس میں 12 اسلامی بہنوں نے ایڈمیشن لیا ۔
امیر اہل سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے محمد
ایاز خانانی عطاری کے انتقال پر ان کے چھوٹے بھائی مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران حاجی
مولانا محمد عمران عطاری اور صاحبزادگان
خرم عطاری اور حسان عطاری سمیت دیگر لواحقین سے تعزیت کی اور صبر کی تلقین فرمائی۔
امیر اہل سنت دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مرحوم کو ایصالِ ثواب کرتے ہوئے دعائے مغفرت فرمائی۔
امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مدنی پھول ارشاد فرماتے ہوئےلواحقین کو اپنے
مرحوم کے لئے ایصالِ ثواب کرنے کی ترغیب دلائی۔
Dawateislami