12 اکتوبر  کو دعوتِ اسلامی کی مجلس رابطہ کے وفد نے ایم ڈی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کراچی اسد اللہ شیخ اور انچارج ہائیڈرینٹ واٹر ٹینکر شہباز احمد اور دیگر افسران سے ملاقات کی۔

وفد نے عرس اعلیٰ حضرت اور بالخصوص ربیع الاول میں عالمی مدنی مرکز میں پانی کی فراہمی کے متعلق باہمی گفتگو کی۔ متعلقہ عہدیداران نے دعوتِ اسلامی کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

واضح رہے کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی طرف سے عالمی مدنی مرکز پر 25 صفرالمظفر سے 13 ربیع الاول تک 15 واٹر ٹینکر 5000 گیلن والے روزانہ بغیر کسی چارجز کے فراہم کئے جائیں گے۔(مجلس رابطہ کراچی ڈویژن)


13 اکتوبر کے روز دعوت اسلامی مجلس رابطہ کےوفد نے پنجاب کے شہر لودھراں  میں ڈی ایس پی ٹریفک نثار علی خان سے ملاقات کی اور انہیں دعوتِ اسلامی کی دینی و دنیاوی اور فلاحی خدمات سے متعلق تفصیلاً آگاہی فراہم کی۔

ڈی ایس پی ٹریفک نثار علی خان نے دعوتِ اسلامی کے وفد سے اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ 


25 صفر المظفرکی شب فیضانِ مدینہ گوجرانوالہ میں مجلس جامعۃالمدینہ کے زیرِ اہتمام 88 فارغ التحصیل مدنی علمائے کرام کو اسناد اور دستار بندی سے نوازنے کے لئے پُر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی جنید عطاری مدنی مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی نے خصوصی بیان فرمایا۔

پُروقار تقریب میں جامعۃ المصطفیٰ سے مفتی فہیم مصطفائی صاحب و دیگر اساتذہ،مدینۃ العلم سے مہتمم مولانا اکرام اللہ کیلانی صاحب اور ان کے اساتذہ، جامعہ نصرت الاسلام سےمفتی شعبان قادری صاحب اور ان کے اساتذہ،جامعہ شیخ الحدیث سےمفتی احسان اللہ صاحب و دورہ حدیث شریف کا مکمل درجہ و اساتذہ،جامعہ شاذلیہ نعیمیہ سے مہتمم جناب مولانا یاسین نعیمی صاحب ،مولانا طاہر رضوی صاحب،مولانا بوٹا قادری صاحب،مولانا فیاض الحسن صاحب، مولانا عباس چٹھہ صاحب، مولانا غلام مرتضیٰ ساقی صاحب، مولانا رضوان صاحب اور مولانا رفاقت نقشبندی صاحب نے شرکت کی اوررکن شوریٰ حاجی جنید مدنی صاحب سے ملاقات بھی کی۔


جو شخص جس چیز سے محبت رکھتا ہے وہ اس کا ذکر بھی باکثرت کرتا ہے، اور اپنے محبوب سے متعلق ہر ہر چز کا ادب اور احترام بجالاتا ہے، یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ جس ہستی سے سب سے زیادہ محبت کی جاتی ہے وہ نبی باصاحب لولاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے اور ہمارے اسلاف کا نبی علیہ الصلوة والسلام سے محبت کا انداز اپنی مثال آپ ہے، نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت کرنے کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ کثرت کے ساتھ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر جمیل کیا جائے، اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ذکر کے وقت غایت تعظیم و توقیر بجالائی جائے، اور آپ صلی علیہ علیہ وسلم کے نامِ نامی اسم گرامی کے وقت انتہائی عجز و انکسارکا اظہار کیا جائے۔

ابن اسحق نجیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر جمیل جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کرتے تھے تو انتہائی عاجزی سے کرتے تھے ان کے رونکھٹے کھڑے ہو جاتے اور رونے لگتے تھے یہی حال اکثر تابعین رحمہم اللہ کا تھا ان میں سے کچھ تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و شوق کی بنا پر روتے اور کچھ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہیبت و عظمت کی وجہ سے۔(شفا شریف)

مصعب بن عبداللہ فرماتے ہیں میں نے امام جعفر بن محمد رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا کہ وہ انتہائی خوش مزاج اور ظریف الطبع تھے لیکن جب بھی ا ن کے سامنے نبی کریم صلی اللہ تعالی کا ذکر جمیل کیا جاتا تو ان کا چہرہ زرد ہوجاتا تھا اور میں نے ان کو کبھی بے وضو حدیث بیان کرتے نہیں دیکھا۔(شفا شریف)

اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا یہ حال تھا کہ جب ان کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جاتا تو ان کا رنگ بدل جاتا اور بطورِ تعظیم خوب جھک جاتے۔(شفا شریف)

عبدالرحمن بن قاسم رحمۃ اللہ علیہ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر کرتے تھے تو ان کے چہرے کا رنگ دیکھا جاتا کہ وہ ایسا ہوگیا گویا اس سے خون نچوڑ لیا گیا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہیبت جلال سے ان کا منہ اور زبان خشک ہوجاتی اور زہری رحمۃ اللہ علیہ بڑے نرم دل اور ملنسار تھے، جب بھی ان کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جاتا تو وہ ایسے ہوجاتے گویا کہ نہ غم نہ ان کو دیکھا اور نہ انہوں نے غم کو دیکھا۔

(شفا شریف)

مطرف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب لوگ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آئے تو پہلے آپ کی لونڈی آتی اور لوگوں سے کہتی کہ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے دریافت کیا کہ کیا تم حدیث کی سماعت کرنے آئے ہو کہ مسئلہ دریافت کرنے؟ پس اگر وہ کہتے مسئلہ دریافت کرنے آئے ہیں تو آپ فوراً ہی باہر تشریف لے آتے اور اگر وہ کہتے کہ حدیث کی سماعت کرنے آئے ہیں تو آپ غسل کرتے، خوشبو لگاتے اور عمدہ لباس پہنتے، عمامہ باندھتے پھراپنے سرپر چادر لپٹتے، تخت بچھایا جاتا پھر آپ باہر تشریف لاتے اس تخت پر جلوہ افروز ہوتے، اس حال میں کہ آپ پرانتہائی عجزو انکساری طاری ہوتا، جب تک اس حدیث سے فارغ نہ ہوتے خوشبو سلگائی جاتی رہتی، بعض ر اویوں نے کہا اس تخت پر امام مالک اسی وقت تشریف فرما ہوتے جب کہ آپ کو حدیث رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بیان کرنی ہوتی۔(شفا شریف)

حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں امام مالک کے پاس تھااور آپ حدیث کا درس دے رہے تھے، دورانِ درس آپ کو سولہ مر تبہ بچھو نے ڈنک مارا، شدتِ الم سے آ پ کا رنگ متغیر ہوگیا اور چہرہ مبارک زرد پڑ گیا مگر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قطع نہ فرمایا جب آ پ مجلس سے فارغ ہوئے اور لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کیا اے ابو عبداللہ آج میں نے ایک عجیب بات دیکھی، آپ نے فرمایا ہاں۔ میں نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی عظمت و جلال کی بنا پر صبرکیا۔(شفا شریف)

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


سیّدی اعلیٰ حضرت  امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی کتاب

خطباتِ رضویہ سے مختصر کئے گئے مختلف خطبے بنام

فیضانِ خطباتِ رضویہ

اِس رسالے کی چندخصوصیات:

٭دیدہ زیب ودِلکش سرورق(Title)وڈیزائننگ(Designing) ٭عصرحاضرکے تقاضوں کے پیشِ نظر جدید کمپوزنگ وفارمیشن ٭اُردو،عربی اور فارسی عبارتوں کو مختلف رسم الخط (Fonts)میں لکھنے کا اہتمام ٭اَغلاط کم سے کم کرنے کیلئے پوری کتاب کی کئی بار لفظ بہ لفظ پروف ریڈنگ

24صفحات پر مشتمل یہ رسالہ2015سے لیکر اب تک 05 مختلف ایڈیشنز میں31 ہزار سے زائد شائع ہوچکا ہے ۔

مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے15روپے ہدیۃ پر حاصل کیجئے اوردوسرو ں کو بھی ترغیب دلائیے۔

اس رسالے کی PDF دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ بھی کی جاسکتی ہے۔

Download Now



مجلس رابطہ بالعلماء سیالکوٹ کابینہ کے رکن کابینہ قاری محمد یعقوب عطاری کی کاوشوں سے پیر طریقت رہبر شریعت استاذ العلماء شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ حافظ محمد عالم رحمۃ اللہ علیہ (بانی و مہتمم دارالعلوم حنفیہ دو دروازہ سیالکوٹ) کے عرس کے موقع پر قرآن و فاتحہ خوانی کا سلسلہ ہوا۔

اختتام پر اجتماعی دعا کا سلسلہ بھی ہوا۔


حضرت امام مالک کا انداز عشق:

حضرت سیدنا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا عشق رسول بہت مشہور ہے حضرت سیدنا مصعب بن عبداللہ فرماتے ہیں:کہ جب حضرت سیدنا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک کیا جاتا تو آپ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جاتا اور کمر مبارک جھک جاتی یعنی اتنا خشوع آپ پر طاری ہو جاتا تھا ۔

حاضرین نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا نام یا ذکر سن کر آپ پر کیفیت کیوں طاری ہو جاتی ہے :تو فرمانے لگے جو کچھ میں نے دیکھا اگر تم دیکھتے تو اس طرح کا سوال نہ کرتے میں نے حضرت سیدنا محمد بن منکدر رضی اللہ عنہ سے جب بھی کوئی حدیث پوچھی تو وہ عظمت حدیث یاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں رو دیتے یہاں تک کہ مجھے ان کے حال پر رحم آنے لگتا۔(امام مالک کا عشق رسول صفحہ 1 مطبوعہ العلمیہ)

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور تعظیمِ حدیث:

آپ نے جب حدیث پاک سنانی ہوتی تو پہلے غسل کرتے پھر مسند شریف بچھائی جاتی اور آپ عمدہ لباس پہن کر خوشبو لگا کر نہایت عاجزی سے اپنے کمرے مبارک سے باہر تشریف لا کر اس مسند پر بادب بیٹھ جاتے ۔درس حدیث کے دوران کبھی پہلو نہ بدلتے تھے جب تک اس تک اس مجلس میں حدیث مبارکہ پڑھیں جاتی تو انگیٹھی میں عُود اور لوبان سلگتا رہتا اور خوشبو آتی رہتی۔(۔امام مالک کا عشق رسول صفحہ 3۔ مطبوعہ العلمیہ ملخصا )

پیارے اسلامی بھائیو ! یہ انداز تھا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا کہ جس چیز کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوتی آپ اسے نہایت ادب واحترام سے بجا لاتے۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا انداز عشق:

ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ضیافت کی اور عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر اپنے دوستوں سمیت تشریف لائیں اور ما حضر تناول فرمائیں حضور نے یہ دعوت قبول فرما لی مع صحابہ کے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایک قدم مبارک جو ان کے گھر چلتے ہوئے پڑ رہا تھا گننے لگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اے عثمان یہ میرے قدم کیوں گن رہے ہو ؟حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں چاہتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک قدم کے عوض میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کی خاطر ایک ایک غلام آزاد کروں ۔چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر تک حضور کے جس قدر قدم پڑے اسی قدر غلام حضرت عثمان نے آزاد کیے ۔(صحابہ کرام کا عشق رسول 53مطبوعہ العلمیہ)

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کا انداز ادب:

تَرجَمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو ۔(پارہ 26 سورۃ حجرات )

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بہیت بلند آواز تھے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ انتہائی ادب و خوف کی وجہ سے گوشہ نشین ہو گئے ،بارگاہ نبی میں جب حاضر نہ ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی غیر حاضری کا سبب حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا (یہ حضرت ثابت کے پڑوسی تھے ) انہوں نے حضرت ثابت بن قیس سے پوچھا تو کہا میں تو دوزخی ہو گیا میری ہی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سب سے زیادہ بلند ہوتی تھی۔حضرت سعد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت ثابت بن قیس کا قول عرض کر دیا ، حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ان سے کہہ دو وہ جنتی ہیں۔( صحابہ کا عشق رسول صفحہ 35 مطبوعہ العلمیہ )

پیارے اسلامی بھائیو !سچا عشق وہی ہے جو دنیا کی محبت چھڑا کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں زندگی گزارتا ہے اور ضرورت سے زیادہ دنیا کے پیچھے نہیں جاتا۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ(۴) تَرجَمۂ کنز الایمان:اور بے شک پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے ۔(سورۃ الضُّحٰى،4 )

تفسیر مدارک اور تفسیر کبیر میں اس آیۃ کریمہ کے تحت بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے حبیب لبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم روز بروز آپ کے درجے بلند کیے جائیں گے، عزت پر عزت، منصب پر منصب زیادہ کیا جائے گا یعنی جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا آپ کا ذکر کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جائے گی چنانچہ صحابہ کرام و تابعین وغیرهم نے ذکر رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کرتے ہوے عشق مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں وہ گلشن مہکائے کہ آج تک ان کی خوشبو باقی ہے ۔

امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نظر جب حجر اسود پر پڑھی تو آپ نے فرمایا اے حجر اسود تو ایک ایسا پتھر ہے جو ذاتی طور پر نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ ضرر اگر رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے تجھے بھوسہ نہ دیا ہوتا تو ہر گز میں تجھ کو بوسہ نہ دیتا اس کے بعد آپ نے اسے بوسہ دیا۔(صحیح البخاری کتاب الحج 3/ 167)

اللہ تعالی کے آخری نبی حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ رونق افروز ہوئے تو ایک دن پہلے لوگ یہ جملہ کہہ رہے تھے۔

غدا نلق الاحبۃ محمدا و صحبه ،ہم کل پیاروں سے ملیں گے یعنی حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور آپ کے صحابہ سے۔(دلائل النبوہ للبیہقی 5/ 351)

بدکار رضا خوش ہو بد کام بھلے ہوں گے

وہ اچھے میاں پیارا اچھوں کا میاں آیا

حضرت سیدنا عثمان غنی ذوالنورین رضی اللہ تعالی عنہ ایک بار وضو کرتے ہوئے مسکرانے لگے لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا میں نے ایک مرتبہ سرکار نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ پر وضو فرمانے کے بعد مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔(مسند احمد،ح415،ملخصا)

وضو کر کے خنداں ہوئے شاہ عثماں

کہا کیوں تبسم بلا کر رہا ہوں

جواب سوال مخاطب دیا پھر

کسی کی ادا کو ادا کر رہا ہوں

عظیم شاعر اسلام صحابی رسول حضرت سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

فانہ ابی ووالدتی وعرضی

لعرض محمد منکم وقاء

میرے ماں باپ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عزت آبرو بچانے کے لیے ڈھال ہیں ۔(تاریخ الادب عربی ، حسان بن ثابت)

کروڑوں حنفیوں کے پیشوا حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے اشعار میں ذکر رسول کریم اس طرح کرتے ہیں:

یا سید السادات جئتک قاصدا

ارجو رضاک و احتمی بحماک

انت الذی لولاک ما خلق امرؤ

کلا ولا خلق الوری لولاک

اے سید السادات میں آپ کے پاس قصد کر کے آیا ہوں میں آپ کی خوشنودی کا امیدوار ہو اور آپ کی پناہ گاہ میں پناہ گزیں ہوں آپ کی وہ ذات ہے کہ اگر آپ نہ ہوتے تو کوئی آدمی پیدا نہ کیا جاتا اور نہ کوئی مخلوق عالم وجود میں آتی۔(قصیدۂ نعمانیہ)

عطائے اَرَب جلائے کَرب فُیوضِ عجب بغیر طلب

یہ رحمتِ ربّ ہے کس کے سبب بَربِّ جہاں تمہارے لئے

عالم مدینہ حضرت سیدنا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے جب احادیث مبارکہ سنانی ہوتی تو پہلے غسل کرتے عمدہ لباس پہنتے خوشبو لگاتے پھر انتہائی عاجزی کے ساتھ ایک مسند پر بیٹھ کر رسول اللہ کی احادیث بیان کرتے ۔(بستان المحدثین، ص 19)

اور حضرت سیدنا مصعب بن عبداللہ فرماتے ہیں: جب امام مالک کے سامنے نبی پاک علیہ السلام کا ذکر کیا جاتا تو آپ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جاتا کمر جھک جاتی ایک دن لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا جو میں دیکھتا ہوں تم دیکھتے تو کبھی اعتراض نہ کرتے (الشفاء، الباب الثالث2/ 42 ملخصا)

تیرے عشق میں کاش روتا رہوں میں

رہے تیری الفت میں معمور سینہ

میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو دیکھا آپ نے کہ ہمارے اسلاف کیسے ذکر رسول کریم کرتے تھے اور کس طرح ان کا سینہ محبت مصطفی کی بدولت روشن تھا حقیقت میں روح ایمان محبت رسول اور اتباع رسول کا نام ہے فرمان باری تعالیٰ ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ ترجمہ : جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(النساء، 80 )

محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے

اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو عشق مصطفٰی کی لازوال دولت عطا فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


ذکر مصطفی تو آنکھوں کا نور دل کا سرور ہے، عاشقِ مصطفی تو ہر پل ہی اپنے محبوب کی یاد میں محو رہتے ہیں، لیکن کچھ عشاق فنا فی الرسول کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوتے ہیں جیسے کہ ہمار ے بزرگان دین فائز ہوئے ہیں اور جب ان کے سامنے جانِ عالم صلی اللہ تعالیٰ وسلم کا ذکر مبارک ہوتا ہے تو ا ن کی کیفیت ہی بدل جاتی ہے اور بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں جو کہ ان حضرات کا محبت رسول کا منہ بولتا ثبوت ہے ہمار ے اسلاف کی ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں چند ملاحظہ فرمائیں۔

صحابہ کرام کی حضور سے والہانہ محبت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ جب وہ ذکر مصطفے سنتے تو ان کی آنکھوں سے سل اشک رواں ہوجاتاتھا چنانچہ ۔حضرت اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ذکر رسول کرتے تو عشقِ رسول میں بے تاب ہو کر رونے لگتے تھے اور فرماتے ، خاتم المرسلین رحمۃ اللعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تو لوگوں میں سب سے زیادہ رحم دل اور یتیم کے لیے والد کی طرح، بیوہ کے لیے شفیق گھر والے کی طرح اور لوگوں میں دلی طور پر زیادہ بہادر تھے وہ تو نکھر ے چہرے والے مہکتی خوشبو والے اور نسب کے اعتبار سے زیادہ مکرم تھے اولین و آخرین میں آپ کی مثل کوئی نہیں۔(فیضانِ فاروق اعظم جلد اول ص 342)

ذکر رسول اور عالمِ مدینہ کا انداز:

حضرت مصعب بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا امام مالک کے عشقِ رسول کا عالم یہ تھا کہ جب ان کے سامنے ذکر رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہوتا تھا توان کے چہرے کا رنگ بدل جاتا اور ذکر مصطفی کی تعظیم کے لیے خوب جھک جاتے(عاشَقانِ رسول کی 130 حکایت ص 42)

ذکر رسول اور اندازِ قطبِ مدینہ:

قطبِ مدینہ مولانا ضیا الدین احمد مدنی علیہ الر حمۃ فنا فی الرسول کے منصب پر فائز تھے، ذکررسول ہی آپ کا شبانہ روز کا مشغلہ تھا اکثر زیارت کے لیے آنے والے سے پوچھتے آپ نعت شریف پڑھتے ہیں اگر ہاں کہتا تو اس سے نعت شریف سنتے اور خوب محظوظ ہوتے۔بارہا جذبات تاثر سے آنکھوں سے سیل اشک رواں ہوجاتا۔

(سیدی قطبِ مدینہ، ص11)

امیر اہلسنت مولانا الیاس قادری بھی یادگار اسلاف شخصیت ہیں بزرگانِ دین کی طرح جب آپ بھی ذکر مصطفی سنتے ہیں تو بارہا دیکھا گیا ہے کہ آپ فرطِ محبت میں رونے لگتے ہیں اور بارگاہِ رسالت میں شفاعت کے لیے استغاثہ پیش کرنے لگتے ہیں۔

جان ہے عشقِ مصطفی روز فزو ں کرے خدا

جس کو ہو درد کا مزا ناز دوا اٹھائے کیوں

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
انسان میں والدین ، اولاد، بھائی ، بہن، زوجہ ، خاندان، مال تجارت اور مکان وغیرہ ان تمام چیزوں سے محبت فطری چیز ہے لیکن رب تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے اندر ان تمام چیزوں کی محبت میری اور میرے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت سے بڑھ جائے تو گویا تم خطرے کی حد میں داخل ہوچکے اور بہت جلد تمہیں میرا غضب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ایک مؤمن کے لیے حضورنبی پاک صاحبِ لولاک
صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہ صرف فرض ہے بلکہ سب سے قریبی رشتہ داروں اور سب سے قیمتی متاع پر مقدم ہے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔:

لایؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین۔یعنی تم میں کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والدین ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔

یہی وجہ تھی کہ ہمارے اسلاف رسول کریم روفِ رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک نام لیتے ہوئے، آپ کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کی حدیث بیان کرتے ہوئے اور آپ کے واقعات وغیرہ ذکر کرتے ہوئے نہایت ہی ادب والا، عشق والا، محبت والا، عاجز ی و انکساری والا انداز اختیار فرماتے تھے چنانچہ۔

رسول اللہ کا ذکر کرتے تو رونے لگ جاتے:

امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام حضرت سیدنا اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب دو عالم کے مالک و مختار ، مکی مدنی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر کرتے تو عشق رسول سے بے تاب ہو کر رونے لگتے اور فرماتے خاتم المرسلین رحمۃ اللعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تو لوگوں میں سب سے زیادہ رحم دل اور یتیم کے لیے والد کی طرح، بیوہ عورت کے لیے شفیق گھر والے کی طرح اور لوگوں میں دلی طور پر سب سے زیادہ بہادر تھے ، وہ تو نکھرے نکھرے ، چہرے والے، مہکتی خوشبو والے اور حسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ مکر م تھے، اولین و آخرین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل کوئی نہیں۔(فیضانِ فاروق اعظم ج،۱، ص ۳۴۲،جمع الجوامع ، ج ۱۰، ص ۱۶، حدیث ۳۳)

حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیث کا ادب :

مطرف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب لوگ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے پاس طلبِ علم کے لیے آتے تو پہلے آپ کی خادمہ آتی اور ان سے کہتی کہ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ دریافت فرماتے کہ کیا تم حدیث شریف کی سماعت کرنے آئے ہو، یا مسائل فقہ دریافت کرنے؟، اگر وہ کہتے کہ مسائل دریافت کرنے آئے ہیں تو آپ رحمۃ اللہ علیہ فوراہی باہر تشریف لے آ تے اور اگر وہ کہتے کہ ہم حدیث شریف سماعت کرنے آئے ہیں تو آپ پہلے غسل خانہ جاتے، غسل کرتے، خوشبو لگاتے اور عمدہ لباس پہنتے، عمامہ باندھتے پھر اپنے سر پر چادر لپیٹتے، آپ کے لیے ایک تخت بچھایا جاتا پھر آ پ تشریف لاتے اور اس تخت پر جلوہ افروز ہوتے ، اس طرح کہ آپ پر انتہائی عجز و انکساری طاری ہوتی، اثنائے روایت کرنے میں مجلس میں عود جلایا جاتا ، یہ تخت صرف روایت حدیث کے لیے رکھا ہوا تھا جب امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیث کی تعظیم کروں۔

(الشفاء القسم الثانی، الخ، الباب الثالث فی تعظیم امرہ ، فضل فی سیرہ السلف، الخ ، ج ۲، ص ۵ علمیہ)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک نام کا ادب:

حضرت سیدنا سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ ( بہت بڑے عاشقِ رسول بادشاہ تھے انہوں) نے ایک بار دوران گفتگو (اپنے وزیر) ایاز کے بیٹے کو ( اے ایاز کے لڑکے) کہہ کر مخاطب کیا وہ گھبرا گیا اور اپنے والد صاحب ( ایاز) کی خدمت میں عرض کی کہ معلوم ہوتا ہے کہ میری کسی خطا کے سبب بادشاہ سلامت مجھ سے ناراض ہوگئے ہیں جو مجھے آج ’’ایاز کا لڑکا‘ کہا، ورنہ ہمیشہ بڑے ادب سے میرا نام لیتے رہے ہیں، ایاز نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیٹے کے اس خدشہ کا اظہار کیا تو حضرت سیدنا سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: ایاز تمہارے بیٹے کا نام احمد ہے اور یہ نام بہت ہی عظمت والا ہے لہذا میں یہ نام کبھی بھی بے وضو نہیں لیتا اتفاقاً میں اس وقت بے وضو تھا اس لیے نام لینے کے بجائے مجبورا ’ایاز کا لڑکا‘ کہہ کر مخاطب کرکے مجھے بات کر نا پڑی۔

(روح البیان، پ ۲۲، الاحزاب ، تحت الایۃ ۴۰۔۷/۱۸۵)

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


رفعتِ شان مصطفی کا کوئی مسلمان انکار کر ہی نہیں سکتا، اور کر بھی کیسے سکتا ہے کہ قرآن ،”ورفعنا لک ذکرک“ اور حدیث قدسی” اذا ذکرت ذکرت معی “ یعنی اے پیارے جب میرا ذکر ہوگا ساتھ تیرا ذکر بھی ہوگ، ذکر مصطفی رفعت کا اعلان کر رہا ہے۔

وللاآخرة خیر لک من الاولی کے ذریعے قرآن نے مہر لگادی ہے کہ یہ ذکر تا قیامت بلند ہوتا ر ہے گا ۔ جملہ انبیا، صحابہ ، تابعین و تبع تابعین اور اللہ والے نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر خیر کرتے آئے ہیں۔

حضرت عیسی علیہ السَّلام نے کیسے ذکر مصطفی کیا ۔فرمایا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔(قرآن پارہ ۲۸، سورہ صف آیت ۶)

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بوقتِ وصال بھی مصطفی کریم کی یاد کو نہ چھوڑا، اپنی پاک و صدیقہ بیٹی سے پوچھا کہ نبی پاک کا یوم وصال کیا تھا ؟ آپ کے کفن میں کتنے کپڑے تھے؟، مقصود یہ تھا کہ جس طرح حیات میں اپنے محبوب کی پیرو ی کرتا رہا ہوں وفات میں بھی موافقت رہے۔

بلال حبشی کا وقتِ وصال آیا اہلیہ نے کہا(واُحزنا ہ) ہائے غم آپ نے فرمایا نہیں بلکہ ”فاطرنا “(وائے خوشی) کہ میں کل اپنے محبوب اور ان کے صحابہ سے ملنے والا ہوں(صحابہ کرام کا عشق رسول ۔ ۸۰)

حسان بن ثابت کیسے نبی پاک کا ذکر کرتے ہیں کہا کہ ۔

آپ سے زیادہ حسن والا میری آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں،

آپ سے زیادہ جمال والا کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔

آپ تو ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے ہیں۔

گویا آپ کی مرضی کے مطابق آپ کو پیدا کیا گیا ہے۔(سیرة النبو یۃابن ہشام )

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


اس بات کو خوب یاد رکھیں کہ حُضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذِکْر کے وقت اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حدیث و سنّت و اِسمِ گرامی اور سیرتِ مبارَکہ کے سنتے وقت اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آل و اہلِ بیت اور صحابۂ کرام رِضوان اللہ علیہم کا ذِکْر سنتے وقت تعظیم و توقیر اور انتہائی ادب کو ملحوظ رکھنا چاہئےجیسا کہ ابو ابراہیم تجیبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مسلمان پر واجب ہے کہ جب بھی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر کرے یا سنے تو خشوع و خضوع کے ساتھ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم و توقیر کرے۔

ہمارے سلف صالحین اور ائمہ متقدمین رحمہمُ اللہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذکر کے وقت کیسا محبت و تعظیم بھرا انداز اختیار فرماتے تھے درج ذیل روایات میں ملاحظہ کیجئے:

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ حدیث نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بغیر وضو کے نہ قرأت کرتے تھے اور نہ بیان کرتے تھے۔

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن منکدر رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا وہ قاریوں کے سردار تھے، جب کبھی ہم ان سے حدیث کے بارے میں سوال کرتے تو وہ اتنا روتے کہ ہمیں ان پر رحم آتا۔

عبدُالرّحمٰن بن قاسم رحمۃ اللہ علیہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر کرتے تو ان کے چہرے کا رنگ دیکھا جاتا کہ وہ ایسا ہوگیا گویا کہ اس سے خون نچوڑ لیا گیا ہے اور حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ہیبت و جلال سے ان کا منہ اور زبان خشک ہوجاتی۔

حضرت عامر بن عبدُاللہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے جب بھی نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذِکْرِ جمیل کیا جاتا تو اتنا روتے کہ ان کی آنکھوں میں آنسو تک نہ رہتا۔

امام زُہری رحمۃ اللہ علیہ بڑے نرم دل اور ملنسار تھے لیکن جب بھی ان کے سامنے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر کیا جاتا تو ایسے ہو جاتے گویا کہ نہ ہم ان کو جانتے اور نہ وہ ہمیں جانتے ہیں۔(ماخوذ از الشفا،2/40تا46)

اللہ رحمٰن ہمیں بھی ان مقدس ہستیوں کے صدقے ذکرِ رسول کرتے وقت محبت و تعظیم بھرا انداز اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں