پچھلے دنوں  دعوت اسلامی کے شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے ذمہ داران نے کوئٹہ بروری روڈ ایس ایچ او عتیق سے ملاقات کی۔ذمہ دار اسلامی بھائی نے دوران ملاقات انہیں دعوت اسلامی کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ کریم نے چاہا تو کوئٹہ اور بلوچستان بھر میں فیضان اسلامک اسکول سسٹم کے کیمپسس اوپن ھونگے اور ان کے بارے میں معلومات دی ۔

اس موقع پر ایس ایچ او صاحب کو اسکول وزٹ کرنے کی دعوت دی اور اسکول سیکیورٹی کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی نیز انہیں ہفتہ وار رسالہ پڑھنے /سننے کی دعوت بھی دی۔(رپورٹ: ایڈمنسٹیٹر فیضان اسکول کوئٹہ فارماسسٹ سجاد احمد مدنی عفیہ عنہ، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


دعوت  اسلامی کے تحت شعبہ رابطہ بالعلماء سرکاری ڈویژن گوجرانوالہ کے ذمہ دار محمد ظہیر عباس مدنی اور تحصیل ذمہ دار فاروق مدنی کی مولانا محمد عثمان قادری امام خطیب جامع مسجد چیمہ اسپتال ڈسکہ سے ملاقات ہوئی۔

اس موقع پر اسلامی بھائیوں نے انہیں دعوت اسلامی کے دینی، اصلاحی اور سماجی خدمات کے حوالے سے اپ ڈیٹ کیا بالخصوص شعبہ ایف جی آر ایف کی موجودہ سیلابی صورت حال میں کی جانے والی کاوشو پر بریفنگ دی جس پر انہوں نے اچھے جذبات کا اظہار کیا۔ آخر میں انہیں ماہنامہ فیضان مدینہ پیش کیا۔(رپورٹ: رابطہ بالعلماء، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


شعبہ رابطہ بالعلماء سرکاری ڈویژن گوجرانوالہ کے ذمہ دار محمد ظہیر  عباس مدنی اور تحصیل ذمہ دار رفاقت علی عطاری نے مولانا محمد عارف مصطفائی مہتمم المصطفی اسلامک سینٹر پسرور سے ملاقات کی۔

ذمہ داران نے انہیں دعوت اسلامی کے بیرون ممالک اور پاکستان میں ہونے والے دینی، اصلاحی اور فلاحی کاموں کے حوالے سے اپ ڈیٹ کیا۔ ساتھ ساتھ سنی جامعات میں کورسز ہونے کے حوالے سے بات کی اس پر حضرت نے خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ایک ماہ بعد ہمارے جامعہ میں بھی کورس کروائیں جس پر ایک ماہ بعد ان کے جامعہ میں 7 دن کا فیضان نماز کورس کا طے ہوا۔ آخر میں حضرت کو تحفے میں ماہنامہ فیضان مدینہ پیش کیا۔

٭دوسری جانب شعبہ رابطہ بالعلماء سرکاری ڈویژن گوجرانوالہ کے ذمہ دار محمد ظہیر عباس مدنی اور شعبہ کے تحصیل ذمہ دار رفاقت علی عطاری کی شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا سعید احمد صاحب اور مولانا محمد کاشف رضوی صاحب مدرس جامعہ نعیمیہ رضویہ الحبیب پسرور سے ملاقات ہوئی۔

دوران ملاقات ذمہ داران نے سعید احمد صاحب اور مولانا کاشف رضوی صاحب کو خدمات دعوت اسلامی کے بارے میں معلومات فراہم کی اور مدنی مرکز فیضان مدینہ وزٹ کی دعوت دی جس پر انہوں نے اظہار مسرت کیا۔(رپورٹ: رابطہ بالعلماء، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


پچھلے دنوں دعوت اسلامی ایف جی آر ایف کے ساتھ ملکرفیصل آباد ڈویثرن کے ویٹنری ڈاکٹرز نے سیلاب زدگان کی امداد کے لئے فری عارضی ویٹر نری کلینک لگائے جن  میں سیلاب زدگان سے متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں جانوروں کا فری چیک اپ کرنے کے ساتھ ساتھ فری دوائیاں بھی فراہم کی گئیں۔

یہ کیمپ ڈیرہ اسماعیل خان کے متاثرہ علاقوں میں دو دن کےلئےلگایا گیا نیز جن لوگوں کے لئے کلینک آنا مشکل تھا ان کے لئے ڈاکٹرز نے گاؤں گاؤں وزٹ کیا اور لوگوں کے پاس جا جا کر یہ سروس فراہم کی ۔(رپورٹ: رابطہ برائے ایگری کلچر اینڈ لائیو سٹاک فیصل آباد ڈویثرن ، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری) 


تعریف:  جہاں شرعاً یا عرف و عادت کے اعتبار سے خرچ کرنا واجب ہو، وہاں خرچ نہ کرنا بخل ہے، یعنی زکوۃ، صدقہ، فطرہ وغیرہ میں خرچ کرنا شرعاً خرچ کرنا کہلاتا ہے اور دوست احباب ، رشتہ داروں پر خرچ کرنا عرف و عادت کے اعتبار سے خرچ کرنا کہلاتا ہے۔

مذمت: بہت سی آیات، حدیث، روایات میں بخل کی مذمت کا ذکر آیا ہے اور شدید مذمت بیان کی گئی ہے، چنانچہ احادیث ملاحظہ کیجئے:

1۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:آدمی کی دو عادتیں بری ہیں،1بخیلی، جو رلانے والی ہے،2بزدلی، جو ذلیل کرنے والی ہے۔( ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی الجراة والجبن، 3/ 18 ،حدیث: 2511)

2۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:بخل سے بچو، کیونکہ اسی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، ان کو ایک دوسرے کا خون بہانے اور حرام چیزوں کو حلال ٹھہرانے پر براَنگیختہ کیا۔(احیاء العلوم کا خلاصہ، باب بخل اور حبِ مال کی مذمت، صفحہ 266)

3۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مالدار بخل کرنے کی وجہ سے بلاحساب جہنم میں داخل ہوں گے۔(فردوس الاخبار، باب السین 1/444، ح3309)

4۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بخل جہنم میں ایک درخت ہے، جو بخیل ہے اس نے اس کی ٹانگیں پکڑ لی ہیں، وہ ٹہنی اسے جہنم میں داخل کئے بغیر نہ چھوڑے گی۔(صراط الجنان، جلد دوم، پارہ 4، آیت 180، ص105، سورہ آل عمران)

5۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بخل کرنے والے اور خیرات کرنے والے کی مثال ان دو شخصوں کی طرح ہے، جن کے بدن پر لوہے کی زِرہیں ہوں اور ان کے دونوں ہاتھ سینے کے ساتھ گلے سے بندھے ہوئے ہوں، جب خیرات کرنے والا کوئی خیرات کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زِرہ ڈھیلی ہو جاتی ہے اور بخیل جب خیرات کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زِرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ پر سخت ہو جاتا ہے۔(صراط الجنان، جلد 8، پارہ 23، سورہ یاسین، صفحہ 262، حدیث 2)

اس مثال کا حاصل یہ ہے کہ سخی آدمی جب خیرات کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سینہ کشادہ ہو جاتا ہے اور خرچ کرنے کے لئے اس کا ہاتھ کھل جاتا ہے، جبکہ بخیل شخص جب خیرات کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سینہ تنگ ہو جاتا ہے اور اس کے ہاتھ بندھ جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو راہِ خدا میں خرچ کرنے اور بخل سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


    دعوت اسلامی کے شعبہ مزارات اولیاء کے تحت 8 ستمبر 2022ء سیالکوٹ میں پیر سید مراد علی شاہ المعروف پیر مرادیہ علیہ رحمہ کے سالانہ عرس کے موقع پر مزار شریف پر قرآن خوانی کا انعقاد ہوا۔

اس موقع پر شعبہ مزارات اولیاء کے ڈویژن ذمہ دار نے مدرسۃ المدینہ کے بچوں کے ہمراہ مزار شریف پر حاضری دی ۔ وہاں بچوں نے قرآن پاک کی تلاوت کی بعدازاں فاتحہ خوانی کا سلسلہ ہواپھر مبلغ دعوت اسلامی نے صاحب مزار کو ایصال ثواب پیش کرتے ہوئے ان کے لئے ترقی درجات کی دعا کی۔ (رپورٹ: دانیال عطاری پاکستان آفس، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


تمہیدی گفتگو:بخل ایک نہایت قبیح اور مذموم فعل ہے، نیز بخل بسا کا دیگر کئی گناہ کا بھی سبب بن جاتا ہے، اس لئے ہر مسلمان کو اس سے بچنا لازم ہے۔

بخل کی تعریف: بخل کے لغوی معنیٰ کنجوسی کے ہیں اور جہاں خرچ کرنا شرعاً، عادتاً اور مروتاً لازم ہو، وہاں خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے یا جس جگہ مال و اسباب خرچ کرنا ضروری ہو، وہاں خرچ نہ کرنا یہ بھی بخل ہے۔

بخل کی مذمت کے متعلق 5 احادیث:

1۔اللہ پاک نے بخل کو اپنے غضب سے پیدا کیا اور اس کی جڑ کو زقوم(جہنم کے ایک درخت) کی جڑ میں راسخ کیا، اس کی بعض شاخیں زمین کی طرف جھکادیں تو جو شخص کی بخل کی کسی ٹہنی کو پکڑ لیتا ہے، اللہ پاک اسے جہنم میں داخل فرما دیتا ہے، سن لو! بے شک بخل ناشکری ہے اور نا شکری جہنم میں ہے۔(کتاب البخلاء، وصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والسخا والبخل، ص48، حدیث17)

شرح: اس حدیث مبارکہ میں بخل کی مذمت کرتے ہوئے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم بخل کی حقیقت بیان کرتے ہیں اور آخر میں بخل کرنے والے کا انجام بیان فرمایا کہ بخل نا شکری ہے اور نا شکری جہنم میں ہے۔

2۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کی شکل میں ہوگا اور کنجوسی سے بچو، کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاکت کا شکار کیا اور اس نے انہیں (ایک دوسرے کا) خون بہانے پر ابھارا اور انہوں نے حرام چیزوں کو حلال قرار دیا۔(ریاض الصالحین، باب 361 بخل اور کنجوسی کی ممانعت، صفحہ 357، حدیث 566)

شرح:اس حدیث مبارکہ میں بخل سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ یہ پہلے لوگوں کی ہلاکت کا سبب ہے۔

3۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:آدمی کی دو عادتیں بُری ہیں،بخیلی جو رلانے والی ہے، بزدلی جو ذلیل کرنے والی ہے۔(ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب ففی الجراۃ والجبن،18/3 ،ح 2511)

شرح:مندرجہ بالا حدیث مبارکہ میں انسان کی دو بڑی خصلتوں کا بیان ہے، جن میں سے ایک بخل ہے، جو انسان کو رلا نے والا ہے۔

4۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مالدار بخل کرنے کی وجہ سے بلا حساب جہنم میں داخل ہوں گے۔(فردوس الاخبار، باب السین،1/444، حدیث 3309)

شرح: ذکر کردہ حدیث مبارکہ میں بخل کی تباہ کاری بیان کی گئی ہے کہ بخل کرنے والا مالدار اپنے بخل کرنے کی وجہ سے حساب کتاب کے بغیر جہنم میں داخل کیا جائے گا۔

5۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بخیل اللہ عزوجل سے دور ہے، جنت سے اور آدمیوں سے دور ہے، جبکہ جہنم سے قریب ہے۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی السخا،387/3 ،ح 1968)

شرح:اس حدیث مبارکہ میں بخل کرنے والے کے لئے اس کے بخل کے سبب دنیوی اور اخروی نقصانات بیان ہیں، سب سے بڑھ کر یہ کہ بخیل اللہ عزوجل سے دور ہوتا ہے، اخروی اعتبار سے جنت اور دنیوی اعتبار سے انسانوں سے دور ہو جاتا ہے۔

بخل سے بچنے کا درس: بخل کے اسباب پر غور کریں اور اس کے علاج کے لئے کمر بستہ ہو جائیں، بخل کا علاج یوں بھی ممکن ہے کہ بخل کے اسباب پر غور کرکے دور کرنے کی کوشش کریں، جیسے بخل کا بہت بڑا سبب مال کی محبت ہے، مال کی محبت نفسانی خواہش اور لمبی عمر تک زندہ رہنے کی امید کی وجہ سے ہوتی ہے، لہذا اسے قناعت اور بکثرت موت کی یاد سے دور کیا جاسکتا ہے، یونہی بخل کی مذمت اور سخاوت کی فضیلت پر مبنی احادیث، روایات اور حکایات کا مطالعہ کریں کہ یہ بھی اس جان لیوا مرض سے نجات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

اختتام: سب بحث کا حاصل یہ ہے کہ بخل ایک مہلک مرض ہے، لہذا اس سے بچنے ہی میں عافیت ہے، اللہ پاک ہم سب کو اس بری خصلت سے بچائے۔آمین


میری پیاری اسلامی بہنو! بخل کا علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے، بخل ہلاکت ہے، بخل اتنا آگیا ہے بندے دین کے لیے خرچ نہیں کرتے۔مال میں بخل کرنا۔پیاری بہنو ہمارے دلوں میں اتنا بخل آگیا ہے کہ ہم ضروت مندوں کی مددنہیں کرتے کہی ختم نہ ہوجائے۔ بخل ایک بہت بری بیماری ہے اس سے ہمیں خود بھی بچنا ہے اور اپنوں کوبھی اس بیماری سے بچاناہے۔ ان شاء اللہ۔

بخل کی مذمت: اللہ تعالیٰ بخل کی مذمت فرماتا ہے:ترجمہ کنزالایمان۔بےشک اللہ کو خوش نہیں آتاکوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل لے لیے کہیں اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائیں۔ (النسا: ٣٦۔٣٧)

بخل یہ ہے کہ خود کھائے دوسرے کو نہ شان نزول۔یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو سید عالمﷺ کی صفت بیان کرنے میں بخل کرتے اور چھپاتے اس سے معلوم ہوا کہ علم کو چھپانا مذموم ہے ۔

بخل کی مذمت کے متعلق 5 احادیث:

1۔ ایسا کوئی دن نہیں جس میں بندے سویرا کریں اور دو فرشتے نہ اتریں جن میں سے ایک تو کہتا ہے: الٰہی !سخی کو زیادہ اچھا عوض دے اود دوسرا کہتا ہے الٰہی !بخیل کو بربادی دے۔۔۔اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: سخی کے کیے دعا اور کنجوس کے لیے بددعا روزانہ فرشتوں کے منہ سے نکلتی ہے جو یقینا قبول ہے۔

2- سخی اللہ کے قریب ہے۔جنت کے قریب ہے۔کوگوں کے قریب ہے۔آگ سے دور ہے۔۔اور کنجوس اللہ سے دور ہے۔۔جنت سے دور ہے۔لوگوں سے دور ہے۔آگ کے قریب ہے اور یقیناجاہل سخی کنجوس عابد سے افضل ہے۔ ۔۔حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: یہاں مرقات نے فرمایا کہ حقیقی سخی وہ ہے جو غنی پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دے۔

3۔ ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوگا ۔کنجوسی سے بچو کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے والوں کو ہلاک کردیا کنجوسی نے انہیں رغبت دی کہ انہوں نے خون ریزی کی اور حرام حلال جانا ۔حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: بخل اپنا مال کسی کو نہ دیناہے۔ بخل ۔حرص اور ظلم کامجموعہ ہے ۔

4۔ مومن میں دو خصلتیں کبھی جمع نہیں ہوتیں کنجوسی اور بدخلقی۔ حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں۔یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی کامل مومن بھی ہو اور ہمیشہ کا بخیل بھی اتفاقا کبھی اس سے بخل یا بد خلقی صادر ہو جائے تو فورا وہ پشیمان بھی ہو جاتا ہے۔

5۔ جنت میں نہ تو فریبی آدمی جائے گا نہ کنجوس نہ احسان جتانےوالا ۔۔۔اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جو ان عیبوں پر مر جائے وہ جنتی نہیں کیونکہ وہ منافق ہے۔

درس: میری میٹھی اور پیاری اسلامی بہنو! ان سب احادیث سے یہ درس ملتا ہے کہ بخل ایک وہ بیماری ہے کہ جو ہمیں جنت سے دور کر دیتی ہے۔ اس بیماری کا علاج کرنا چاہے کہ جو احادیث بخل کی مذمت اور سخاوت کی مدحت میں وارد ہیں ان میں غور کرے اور کنجوسی کرنے پر جس عذاب سے ڈرایاگیا ہے اسے بھی یاد رکھے۔تاکہ ہم بخل سے بچ کر سخاوت کرنے والی بن جائے۔ یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس مال تو ہےراہ خدا میں خرچ نہیں کرتی ہے۔لیکن ہم زکوة میں بھی بخل کر تی ہے زکوة میں بھی کنجوسی نہیں کرنی چاہیے زکوة ہم پر فرض ہے۔

پیاری اسلامی بہنو! بخیل شخص دراصل اپنا ہی نقصان کرتا یے۔ کیونکہ راہ خداﷻ میں خرچ کیا ہوا مال بلاشبہ دنیا میں برکت اور آخرت میں اجرو ثواب کی صورت میں نفع بخش ہوتا ہے جبکہ بخیل ان دونوں برکت و ثواب سے محروم رہتا ہے۔ میری اسلامی بہنو حقوق واجبہ ادا کرنے میں بخل کرتے ہوئے مال جمع کرتے رہنے کادرد ناک عذاب ہے۔ 


اللہ کی راہ میں جو مال خرچ کریں اس کی برکتیں دنیا وآخرت میں ظاہر ہوتی ہیں بخیل شخص ان سے محروم رہتا ہے۔ شیطان مردود وسوسے ڈالتا ہے کہ خرچ کرو گے تو ختم ہو جائے گا،لوگوں کو کِھلاؤ گے تو خود کیا کھاؤ گے؟ اس طرح وَسوسوں سے انسان کو بُخل پر اُکساتا ہے۔ بُخل یہ ہے کہ خود کھائے دوسرے کو نہ دے۔  (ضیائے صدقات* ص99)

حق یہ ہے کہ جہاں خرچ کرنا واجب ہو وہاں خرچ نہ کرنا بُخل ہے اور جہاں خرچ نہ کرنا واجب ہو وہاں خرچ کرنا فضول خرچی اور اِسراف ہے۔ (جہنم میں لے جانے والے اعمال* ج1,ص561)

بخل بہت مَذموم فعل ہے۔آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مذمت فرمائی ہے؛فرمایا: ایسا کوئی دن نہیں جس میں بندے سویرا کریں اور دو فرشتے نہ اتریں جن میں سے ایک تو کہتا ہے:الہی سَخی کو اور زیادہ اچھا عِوض دے اور دوسرا کہتا ہے:الہی بخیل کو بربادی دے۔ یعنی سخی کے لیے دعا کنجوس کے لیے بد دعا روزانہ فرشتوں کے منہ سے نکلتی ہےجو یقیناً قبول ہے، خیال رہے کہ خَلَف مطلقاً عوض کو کہتے ہیں دنیوی ہو یا اخروی، حِسی ہو یا مَعنوی مگر تَلَف دنیوی اور حسی بربادی کو کہا جاتا ہے،اللہ فرماتا ہے: ترجمہ كنزالایمان:اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا۔ (السبا : 39) (مرآۃ المناجیع شرح مشکاۃ المصابیح ج3، ص69, 70) (ضیائے صدقات ص106,107)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنّت میں نہ تو فریبی آدمی جائے گا نہ کنجوس نہ احسان جتانے والا۔ (سنن الترمذی،کتاب البر الصلة،باب ماجاءفی البخیل،الحدیث:1964,ج3,ص94)(مشکاة المصابیح،کتاب الزکاة،باب الانفاق و کراھیةالامساک،الحدیث:1873،ج1,ص335) (ضیائے صدقات ص128) یعنی جو ان عیبوں پر مر جائے وہ جنتی نہیں کیوں کہ وہ منافق ہے مومن میں اولاً تو یہ عیب ہوتے نہیں اور اگر ہوں تو اللہ مرنے سے پہلے توبہ نصیب کر دیتا ہے یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا آدمی جنّت میں پہلے نہ جائے گا،اِحسان جتانے سے طَعنہ دینا مراد ہے ورنہ بعض صورتوں میں احسان جتانا عِبادت ہے جبکہ اس سے سامنے والے کی اِصلاح مَقصود ہو۔ (مرآۃ المناجیع شرح مشکاۃ المصابیح ج 3،ص76,77)(ضیائے صدقات ص129)

آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سخِی اللہ سے قریب ہے جنّت سے قریب ہے، لوگوں سے قریب ہے،آگ سے دور ہے اور کنجوس اللہ سے دور ہے،جنّت سے دور ہے،لوگوں سے دور ہے،آگ کے قریب ہے اور یقیناً جاہل سخی کنجوس عابِد سے افضل ہے۔ ۔جو شخص عابِد ہو مگر ہو کنجوس کہ نہ زکٰوۃ دے نہ صدقات واجبہ ادا کرے وہ یقیناً سخی جاہِل سے بدتر ہو گا ۔ بُخل بہت سے فِسق پیدا کردیتا ہے۔اور سَخاوت بہت خوبیوں کا تُخَم ہے بلکہ وہ عابِد بھی کامل نہیں کیوں کہ عبادت مالی یعنی زکٰوة وغیرہ ادا نہیں کرتا،صرف جسمانی عبادت ذکروفکر پرقناعت کرتا ہےجس میں کچھ خرچ نہ ہو۔ (مرآۃ المناجیع* ج 3،ص77,78،الحدیث1869)

ایک جگہ فرمایا:ظلم سے بچو کیوں کہ ظلم قِیامت کے دن اندھیریاں ہو گا اور کنجوس سے بچو کیوں کہ کنجوسی نے تم سے پہلے والوں کو ہلاک کردیا کنجوسی نے انہیں رغبت دی کہ انہوں نے خون ریزی کی حرام کو حلال جانا۔ عربی میں شُح بُخل سے بدتر ہے،بخل اپنا مال کسی کو نہ دینا اور شُح اپنا مال نہ دینا اور دوسرے کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا ہے۔غرض کہ شح بُخل،حِرص اور ظُلم کا مجموعہ ہے اس لیے یہ فتنوں فساد ،خون ریزی وقطع رحمی کی جڑ ہے۔ جب کوئی دوسروں کا حق ادا نہ کرے بلکہ ان کے حق اور چھننا چاہے تو خواہ مخواہ فساد ہوگا۔ (مرآۃ المناجیع ج 3،ص75,الحدیث1865)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مومن میں دو خصلتیں کبھی جمع نہیں ہوتیں کنجوسی اور بد خلقی۔ یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی کامل مومن بھی ہو اور ہمیشہ کا بخیل اور بد خُلق بھی،اگر اتفاقاً کبھی اس سے بخل یا بد خُلقی صادِر ہو جائے تو فورًا وہ پَشِیمان بھی ہوجاتا ہے اس کے ایک معنیٰ یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مومن نہ بخیل ہوتا ہے نہ بد خلق،جس دل میں ایمان کامل جاگزِیں ہو تو اس دل سے یہ دونوں عیب نکل جاتے ہیں(لمعات) (مرآۃ المناجیع ج 3،ص78,الحدیث1872)

محترم پیاری بہنو! ہمیں چاہیے کہ سخاوت اور راہِ خدا میں خرچ کرنے کے فضائل پڑھیں،خرچ کرنےمیں اعتدال کریں؛نہ تو بخل کریں کہ عذاب کا باعث بنے اور نہ اتنا زیادہ خرچ کریں کہ خود فقیر ہو جائیں۔اللہ ہمیں بخل سے بچائے اور اپنی راہ میں اچھی نیتوں کے ساتھ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہِ خَاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔ ۔


سب چیزوں کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو ہر چیز سے نوازا ہے لیکن استعمال کرنے کی بھی اسی ذات نے تحدید فرمائی ہے، جس میں اس کی پابندی اور تابعداری ضروری ہے۔ اس لیے اس کے دیئے ہوئے مال میں نہ کنجوسی کی کوئی گنجائش ہے اور نہ اسراف کی۔ کنجوسی صرف مال پہ ہی نہیں ہوتی بلکہ محبت اور شفقت کے اظہار میں، مسکراہٹ بکھیرنے میں، تسلی و تشفی دینے میں، گویا بخیل دینے کے ہر عمل سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ انسان کے بہت سے عیوب چھٹ جاتے ہیں لیکن بخل پہلے سے بڑھ کر جوان ہوتا ہے۔ بخیل کی مثال اس پیاسے اونٹ کی ہے جس کی پیٹھ پر پانی لدا ہو۔

بُخْل کے لغوی معنیٰ کنجوسی کے ہیں اور جہاں خرچ کرنا شرعاً،عادتاً یا مروّتاً لازم ہو وہاں خرچ نہ کرنا بُخْل کہلاتا ہے، یا جس جگہ مال و اسباب خرچ کرناضروری ہو وہاں خرچ نہ کرنا یہ بھی بُخْل ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۲۸)

بخل فقر کے راستہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ فقر عشق ہے اور عشق قربانی مانگتا ہے اس لیے بخیل اپنے بخل کی وجہ سے اس راستے پر نہیں چل سکتا یہ ایک مزاجی کیفیت کا نام ہے ۔ جس شخص کو یہ بیماری لگ جاتی ہے، وہ خود دنیا کی ساری چیزوں کا مالک بن کر رہنا چاہتا ہے۔ اس کے دل و دماغ میں خودغرضی اور خودنمائی سمائی ہوئی ہوتی ہے۔ اسے صرف اپنی ذات سے محبت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے اس کے ہر رویے سے تنگی جھلکتی ہے۔ مزاج و طبیعت میں بخل نظر آتا ہے۔ اس مزاجی کیفیت کی جھلک کبھی مال و دولت میں دکھائی دیتی ہے، کبھی علم و فن میں اس کا رنگ ظاہر ہوتا ہے اور کبھی اخلاق و عادات اور رویے میں اس کی آہنگ سنی جاتی ہے۔

ایک مقولہ ہے کہ سخی شخص کے دشمن بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں جبکہ بخیل کی اولاد بھی اس سے بغض رکھتی ہے۔ بخل نہایت بری عادت ہے۔ یہ کم عقلی کی علامت ہے۔ بخیل انسان اللہ کے ہاں ناپسندیدہ شخص ہے۔ یہ ایک ایسی بد خصلت ہے جو انسان کی زندگی کے کسی ایک پہلو ہی پر اثر نہیں ڈالتی بلکہ اس کی سوچ اور عمل دونوں پر حاوی ہو جاتی ہے۔ بخل انسان کو اس طرح جکڑ لیتا ہے کہ وہ تمام عمر اس کے اثر سے نہیں نکل پاتا۔ بخل انسانی صفات میں کمی اور حیوانی صفات کے غالب آجانے کی دلیل ہے۔ جب وہ مال کا بندہ بن جاتا ہے تو نہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی رہتا ہے اور نہ مخلوق۔

بخل کے بارے میں تنبیہ:بخل ایک نہایت ہی قبیح اور مذموم فعل ہے، نیز بخل بسا اوقات دیگر کئی گناہوں کا بھی سبب بن جاتا ہے اس لیے ہر مسلمان کو اس سے بچنا لازم ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۳۰)

بخیل شخص کے اخلاق، معاملات اور رویے میں بھی تنگی کا ہی مظاہرہ ہوتا ہے۔ وہ شفقت، ہمدردی، احسان، رواداری،حُسنِ سلوک جیسے اوصاف سے عاری دکھائی دیتا ہے۔ دوسروں کو پھلتا پھولتا، خوش حال اور مسکراتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس کی ذات سے دوسروں کو زحمت ہی ملتی ہے۔ اسے پھول سے الجھن ہوتی ہے، وہ راستوں میں کانٹے ڈالنے کا ہی کام کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رویے پر ہلاکت کی وعید سنائی ہے۔ارشادِ ربانی ہے: ’’ پھر تباہی ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نمازوں میں غافل رہتے ہیں اور جو دکھاوا کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی معمولی چیزوں کو مانگنے پر نہیں دیتے۔ (الماعون: ۴ - ۷)

بخل کی مذمت پر 5 احادیثِ مبارکہ:

(1) رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک نے اس بات پر قسم یادفرمائی ہے کہ جنت ميں کوئی بخیل داخل نہ ہو گا۔ (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال،جزء ۳،۲/۱۸۱،حدیث:۷۳۸۲)

(2) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’جس کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی، روز قیامت وہ مال سانپ بن کر اس کو طوق کی طرح لپٹے گااور یہ کہہ کر ڈستا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں ، میں تیرا خزانہ ہوں۔ ( بخاری، کتاب الزکاۃ، باب اثم مانع الزکاۃ، ۱ / ۴۷۴ ، الحدیث : ۱۴۰۳)

(3)خاتم النبیین رحمتہ اللعالمین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ دو بھوکے بھیڑیے بکریوں کے ریوڑ میں گھس کر اتنا نقصان نہیں کرتے جتنی مال و جاہ کی چاہت انسان کا دین برباد کر دیتی ہے۔ (ترمذی)

(4) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’بخل جہنم میں ایک درخت ہے، جو بخیل ہے اُس نے اس کی ٹہنی پکڑ لی ہے، وہ ٹہنی اُسے جہنم میں داخل کیے بغیر نہ چھوڑے گی۔ ( شعب الایمان، الرابع و السبعون من شعب الایمان، ۷ / ۴۳۵ ، الحدیث : ۱۰۸۷۷)

(5) حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ بندوں پر کوئی صبح نہیں آتی مگر اس میں دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ! بخل کرنے والے کو تباہی عطا کر۔ (صحیح بخاری1356)

بخل کا علاج یوں ممکن ہے کہ بخل کے اسباب پر غور کر کے انہیں دور کرنے کی کوشش کرے ،جیسے بخل کا بہت بڑا سبب مال کی محبت ہے ، مال سے محبت نفسانی خواہش اور لمبی عمر تک زندہ رہنے کی امید کی وجہ سے ہوتی ہے، اسے قناعت اور صبر کے ذریعے اور بکثر ت موت کی یادا ور دنیا سے جانے والوں کے حالات پر غور کر کے دور کرے ۔ یونہی بخل کی مذمت اور سخاوت کی فضیلت، حُبّ مال کی آفات پر مشتمل اَحادیث و روایات اور حکایات کا مطالعہ کر کے غورو فکر کرنا بھی اس مُہلِک مرض سے نجات حاصل کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو گا ۔

سخاوت اور بخل دو دریا ہیں جو ایک دوسرے کے متوازی بہتے ہیں۔ سخاوت کا دریا اگرچہ ٹھنڈے اور شریں پانی کا ہے لیکن اس کے اندر اور کناروں پر بہت ہی کم لوگ نظر آتے ہیں۔ یہ خوش بخت لوگ ہیں۔ اس کے برعکس بخل کے دریا کا پانی کھارا اور بدذائقہ ہے لیکن اس کے اندر اور کناروں پر لوگوں کا جمِ غفیر ہے۔ یہ مادہ پرست بدبخت لوگ ہیں۔ حاصل بحث یہ کہ بخل (کنجوسی) کی راہ اختیار نہ کی جائے اور دل کھول کر اللہ پاک کی بارگاہ میں مال خرچ کیا جائے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو دعائیں مانگی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ’’ اے اللہ مجھے بخیل ہونے سے بچا۔‘‘ (صحیح بخاری)

اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے شر اور نفس کی چالبازیوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین


بخل کے لغوی معنیٰ  کنجوسی کے ہیں اور جہاں خرچ کرنا شرعاً ، عادتاً یا مروتاً لازم ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے، یا جس جگہ مال و اسباب خرچ کرناضروری ہو وہاں خرچ نہ کرنا یہ بھی بخل ہے۔ ( باطنی بیماریوں کی معلومات ، ص۱۲۸ )

بخل کی مذمت پر 5 احادیثِ مبارکہ:

1۔اس امت کے پہلے لوگ یقین اور زہد کے ذريعے نجات پائيں گے جب کہ آخری لوگ بخل اور خواہشات کے سبب ہلاکت میں مبتلا ہوں گے ۔ (فردوس الاخبار ،۲/۳۷۴ ، حدیث:۷۱۰۶ )

اللہ پاک نے اس بات پر قسم یاد فرمائی ہے کہ جنت ميں کوئی بخیل داخل نہ ہو گا ( کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال ، جزء ۳ ، ۲/۱۸۱ ، حدیث :۷۳۸۲ )

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک بار میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا ، حضور ﷺ ، بیت اللہ شریف کی دیوار کے سایہ میں تشریف فرما تھے ، مجھے دیکھ کر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : رب کعبہ کی قسم وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں ، میں نے عرض کی ، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ، کون لوگ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جن کے پاس مال زیادہ ہو ، مگر وہ لوگ ( خسارے میں نہیں ہیں )جو اس طرح ( خرچ )کریں اپنے دائیں سے ، اپنے بائیں سے ، آگے سے ، پیچھے سے ، لیکن ایسے افراد ہیں بہت کم ۔ ( صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، مشکوٰۃ )

4۔خلیفہ ء رسول ﷺ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں نہ تو دھوکہ باز داخل ہو گا ، نہ بخیل اورنہ صدقہ کر کے احسان جتانے والا ۔ ترمذی

5۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے سخی انسان اللہ تعالیٰ سے قریب ہے ، جنت سے قریب ہے ، انسانوں سے قریب ہے ، ( جب کہ )جہنم سے دور ہے اور بخیل انسان اللہ کریم سے دور ہے ، جنت سے دور ہے ، انسانوں سے دور ہے اور جہنم سے قریب ہے ، بے شک جاہل سخی اللہ کے نزدیک عابد بخیل سے زیادہ محبوب ہے ۔ سنن ترمذی


بخل کے لغوی معنیٰ  کنجوسی، تنگدلی، جائز ضروریات پر خرچ کرنے سے گریز کرنا، لالچ، طمع و حرص بھی اسی معنیٰ میں آتا ہے۔

بخل کی تعریف: جہاں خرچ کرنا شرعاً، عادتاً اور مروتاً لازم ہو، وہاں خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے یا جس جگہ مال و اسباب خرچ کرنا ضروری ہو، وہاں خرچ نہ کرنا یہ بھی بخل کہلاتا ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ 128، مکتبہ العلمیہ)

بخل کی مذمت میں اللہ کریم نے قران کریم میں ارشاد فرمایا ہے:

آیات قرآنیہ: اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ يَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ ترجمہ کنزالایمان:شیطان تمہیں محتاجی کا اندیشہ دلاتا ہے اور وہ تمہیں برائی کا حکم دیتا ہے۔(پ3، البقرہ:286)

آئیے بخل کی مذمت پر پانچ فرامینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرمائیے اور بخل جیسی عادت سے بچنے کی کوشش کی جائے۔

1۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:بخل سے بچو، کیونکہ اسی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، ان کو ایک دوسرے کا خون بہانے اور حرام چیزوں کو حلال ٹھہرانے پر ابھارا ہے۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب التحریم الظلم، ح2576)

2۔حضرت محمد مصطفی، امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک نے بخل کو اپنے غضب سے پیدا کیا اور اس کی جڑ کو زقوم(یعنی جہنم کے ایک درخت) کی جڑ میں راسخ کیا اور اس کی بعض شاخیں زمین کی طرف جھکا دیں، تو جو شخص بخل کی کسی ٹہنی کو پکڑ لیتا ہے تو اللہ کریم اسے جہنم میں داخل فرما دیتا ہے، سن لو! بے شک بخل ناشکری ہے اور ناشکری جہنم میں ہے۔( کتاب البخلاء وصف الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سخا وبخل،صفحہ 48، حدیث نمبر 17)

3۔حضرت سیدنا عیسی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:بخیل، مکار، خیانت کرنے والا اور بد اخلاق جنت میں نہیں جائیں گے۔(لباب الاحیاء، بخل اور حب مال کی مذمت،صفحہ 266، باب27) 4۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اولاد بخل، بزدلی اور جہالت میں مبتلا کرنے والی ہے۔(سنن ابی ماجہ، ابواب الادب، باب برالوالد والاحسان، ح3666)

5۔نبی مکرم، شاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:زیادہ مال والے ہلاک ہوگئے، سوائے اس کے جو اللہ کے بندوں میں کثرت سے اپنا مال خرچ کرے اور وہ تھوڑے ہیں۔(المسندامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرہ، جلد 3، ح8091)

خلاصہ کلام: بخل مال کی محبت سے پیدا ہوتا ہے، لہٰذا بخل سے بچنے کے لئے سخاوت کرے، اپنے مال کو آخرت کے لئے لگا دے کہ جہاں مال ہوتا ہے، وہی انسان کا دل ہوتا ہے، جو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرے گا، تو آخرت کی طرف فکر لگ جائے گی اور دنیا ومال کی محبت دل سے نکل جائے گی اور اسی طرح بخل کی بری عادت سے نجات مل جائے گی۔