پچھلے دنوں سائٹ ایریا میٹرو ویل علاقے کے چیئر مین اور جامع مسجد فیضانِ مصطفٰی کے کمیٹی ممبران کی عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں آمد ہوئی جہاں انہوں نے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد امین عطاری سے ملاقات کی۔

اس دوران رکنِ شوریٰ نے اُن سے گفتگو کرتے ہوئے چند اہم نکات پر مشاورت کی اور علاقے میں موجود دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ بوائز سمیت دیگر شعبہ جات کے ساتھ تعاون کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔ (کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوت اسلامی کا عزم ہے  کہ بچہ بچہ دین و دنیاوی تعلیم سے آراستہ ہواور اسی مقصد کے لئےشعبہ فیضان اسلامک اسکول سسٹم شروع کیا ہے جہاں انتہائی مناسب فیسوں میں پری نرسری سے لے کر تیسری کلاس تک بچے ، بچیوں کو دینی و دنیاوی تعلیم دی جارہی ہے۔

دعوت اسلامی پاکستان بھر میں اس کی برانچز قائم کرنے میں محنت و لگن کے ساتھ کوششیں کررہی ہے ۔ اب تک پورے پاکستان میں کم و بیش 5 برانچز قائم کی جاچکی ہیں۔ اپنے مقصد کو آگے بڑھاتے ہوئے بلوچستان کے شہر سبی میں دعوتِ اسلامی ایک کیمپس کا آغاز کرنے جارہی ہے۔

کیمپس کا افتتاح 28 فروری 2022ء بروز پیر دوپہر 3:00 بجے مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن حاجی فضیل عطاری کے ہاتھوں کیا جائیگا۔

رکن شوریٰ حاجی فضیل عطاری کیمپس کی افتتاحی تقریب میں سنتوں بھرا بیان بھی فرمائیں گے۔

ایڈریس:

فیضان اسلامک اسکول کیمپس، نزد حاجی حنبل، بابا کینٹ روڈ، سبی، بلوچستان


دعوتِ اسلامی کے شعبہ رابطہ برائے  شخصیات کے تحت 17 فروری 2022ء بروز جمعرات شاہ رکن عالم ملتان میں مدنی مشورے کاانعقاد ہوا جس میں مقامی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

پاکستان مجلس مشاورت نگران اسلامی بہن نے’’ کامیاب کون؟‘‘ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا اور فقہ میں وضو کا طریقہ سمجھایا۔ بعدازاں فیضان آن لائن اکیڈمی کے تحت آن لائن کورسز کرنے کا ذہن دیا۔ علاوہ ازیں دعوت اسلامی کا تعارف پیش کرتے ہوئے ڈونیشن کے حوالے سے ترغیب دلائی۔


دعوتِ اسلامی کے تحت 17 فروری2022ء  بروز جمعرات ملتان شہر میں سیکھنے سکھانے کے حلقے کا انعقاد ہواجس میں ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

پاکستان مجلس مشاورت نگران اسلامی بہن نے وہاں ڈونیشن کیسے جمع کریں اس حوالے سے ترغیبی بیان کیا اور دینی کاموں کے حوالے سے مدنی پھول دیئے جس پر اسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔


سید المبلغین، رحمۃ لِلّعٰلمِین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تمام صحابۂ کرام علیہم الرضوان اس امت میں افضل ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بھی قرآن کریم میں ان کی فضیلت و مدح بیان فرمائی ہے۔فرمان باری تعالیٰ: رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ- ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ (سورۃ التوبہ، آیت100)

صحابہ کرام میں ایک بڑا نام کاتب وحی، صحابی ابن صحابی ابو عبد الرحمن حضرت سیدنا امیر معاویہ بن سفیان رضی اللہُ عنہ کا بھی ہے۔آپ کا وصال 22رجب المرجب 60 ھ شام کے شہر دمشق میں ہوا۔ (الثقات لابن حبان،ج1،ص436)

اسی سلسلے میں 23 فروری 2022ء ، 22 رجب 1443ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں دعوت اسلامی کے زیر اہتمام محفل نعت بسلسلہ عرس سیدنا امیر معاویہ رضی اللہُ عنہکا انعقاد کیا جائیگا۔

محفل کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے کیا جائیگا جبکہ نعت خواں اسلامی بھائی بارگاہ مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ہدیۂ نعت پیش کرتے ہوئے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہُ عنہ کی شان میں منقبت بھی پڑھیں گے۔ دوران اجتماع مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران حاجی مولانا محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی سیرت امیر معاویہ رضی اللہُ عنہ پر سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔ بیان کے بعد مدنی مذاکرے کا سلسلہ بھی ہوگا جس میں شیخ طریقت امیر اہل سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ بذریعہ ویڈیو لنک شان امیر معاویہ رضی اللہُ عنہ پر گفتگو فرماتے ہوئے مدنی پھول ارشاد فرمائیں گے۔

اجتماع کے آغاز میں جلوس امیر معاویہ رضی اللہُ عنہ جبکہ اختتام پرلنگر معاویہ کا بھی اہتمام کیا جائیگا۔


دعوتِ اسلامی کے تحت 17 فروری 2022ءبروز جمعرات پاکستان مجلس  مشاورت نگران اسلامی بہن نے ملتان میں فیضان آن لائن اکیڈمی کی برانچ کا وزٹ کیا اور وہاں کےا سٹاف سے ملاقات کی۔ فیضان آن لائن اکیڈمی کی بہتری کے حوالے سے اسٹاف کو مدنی پھول و تجاویز پیش کیں اور دینی کام میں عملی طور پر حصہ لینے کا ذہن دیا۔

٭دوسری جانب دعوت اسلامی کے تحت 17 فروری2022ء بروز جمعرات ملتان شہر میں مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں ڈویژن نگران و مشاورت ،میٹرو پولیٹن نگران ،ضلع نگران اور کابینہ نگران ا سلامی بہنوں نے شرکت کی۔

پاکستان مشاورت نگران اسلامی بہن نے تربیتی بیان کیا اور اسلامی بہنوں کو مختلف دینی کاموں کو کرنے کے اہداف دیئے نیز کارکردگی شیڈول پر 100 ٪ عمل کی ترغیب دلائی۔ مزید ماتحت کے مشورے لینے کے نظام کو مضبوط بنانے کا ذہن دیا۔ اس کے علاوہ مسائل کے حل کے لئے تجاویز پیش کیں اور اچھی کارکردگی پر ذمہ داراسلامی بہنوں کی دلجوئی بھی کی ۔


الحمد للہ دین اسلام وہ نفیس دین ہے جس کے دامن سے وابستہ ہونے والا شخص سعادتوں کی معراج کو پالیتا ہے، کیونکہ دین اسلام  اپنے ماننے والوں کی ہر ہر شعبے اور زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرتا ہے ، اچھے اور برے کا فرق بتاتا ہے ، چھوٹے اور بڑے کے ساتھ سلوک کے آداب نیز ماں باپ استاد اور پیر و مرشد کے حقوق بھی بتاتا ہے، اسی طرح زندگی گزارنے کے تمام آداب بھی ہمیں سکھاتا ہے، بعض لوگوں میں کچھ نازیبا باتیں اور افعال دیکھنے میں آتے ہیں جو کسی طرح بھی مناسب نہیں ہوتے جن سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے تاکہ دوسرے لوگ ان افعال کی وجہ سے متنفر اور بد ظن نہ ہوں اور نہ ہی انہیں تکلیف پہنچے۔ اگرچہ ان میں بعض وہ باتیں ہیں جو پہلے بھی کئی بار آپ پڑھ یا سن چکے ہوں گے لیکن اذا تکرر قرر کے تحت ان کا ذکر فائدے سے خالی نہیں، اگر ایک شخص بھی ان پر عمل کرکے فوائد حاصل کرلے تو امید ہے اللہ پاک کو یہی عمل پسند آجائے اور راقم کی بخشش کا سامان ہوجائے ، وہ افعال درج ذیل ہیں:

1۔ایک مسلمان کو چاہیے کہ اپنا لباس جسم اور بدن صاف ستھرا اور پاکیزہ رکھے۔ تاکہ وہ خود بھی بیماروں سے محفوظ رہے اور دوسرے بھی اس سے مل کر خوش ہوں۔ مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے: صفائی نصف ایمان ہے۔

2۔دوران گفتگو بار بار ناک یا کان میں انگلی نہ ڈالے، بار بار نہ تھتکارے، ادھر ادھر نہ دیکھے جس سے سامنے والے کویہ لگے کہ یہ مجھے اہمیت نہیں دے رہا یوں وہ آپ سے دور ہوجائے گا اور نفرت بھی کرے گا۔

3۔بہت سے لوگوں کے نزدیک افراد سے زیادہ موبائل کی قدر ومنزلت ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ کوئی ان کے پاس دور سے سفر کرکے بھی آئے اور اس دوران کسی کا فون آجائے تو اس کو چھوڑ کر فون پر مصروف ہوجائیں گے اور یہ بے چارہ اس کا منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔کاش ہم انسانوں کو موبائل سے زیادہ اہمیت دیں۔

4۔وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتے رہیں نئی اسکلز جو آپ کے شعبے سے تعلق رکھتی ہوں ان کو ضرور سیکھ لیں اس سے آپ کو آگے چل کر پریشانی نہیں ہوگی۔ہوسکے تو عربی اور انگریزی میں بھی مہارت حاصل کریں اس سے آپ کی خود اعتمادی میں بہت اضافہ ہوگا نیز اس کے علاوہ بھی ان گنت فوائد آپ محسوس کریں گے۔

5۔کبھی بھی یہ نہ سمجھیں کہ میں نے بہت علم پڑھ لیا اب مجھے مزید پڑھنے کی حاجت نہیں اسی سوچ سے علمی ترقی رک جاتی ہے ، بڑے بڑے علما آخری وقت تک کتاب کے مطالعے میں مصروف رہے اور اپنے آپ کو طالب علم ہی سمجھا۔

6۔اپنے وقت کو فضول کاموں میں برباد کرنے سے گریز کریں سوشل میڈیا کا غیر ضروری اور بے دریغ استعمال نیز اپنے کاموں کو وقت پر ادا نہ کرنا ایسی عادت ہے جو بہت سی پریشانیوں ذہنی کوفت اور تکالیف کا باعث بنتی ہے۔اس کی جگہ روزانہ کی بنیاد پر تلاوت قرآن کریم درود پاک اور ضروری وظائف کا معمول بنائیں اس کی برکت سے ذہنی سکون ملنے کے ساتھ ساتھ روحانیت میں بھی اضافہ ہوگا۔

7۔آپ کے اخلاق جس قدر عمدہ ہوں گے اسی قدر لوگوں کی نظر میں آ پ کا وقار بلند ہوگا۔ بداخلاق شخص اکیلا رہ جاتا ہے اور اسے دنیا میں اس کا ایک نقصان یہ بھی پہنچتا ہے کہ اس سے اچھے لوگ دور ہوجاتے ہیں۔

8-بری سوچیں برے خیالات اور وسوسے روزانہ انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں ان سے گھبرانے کے بجائے ہر وقت مثبت سوچتے رہیں تو اسی طرح آپ کی زندگی پر اس کا اچھا اثر مرتب ہوگا اور اس عمل میں معاون چیزیں نیک اعمال درود و استغفار کی کثرت اور اور گناہوں سے بچنا ہے۔

9۔فضول خرچی اور قرض وہ موذی بیماریاں ہیں جو انسان کی خوشیوں اور سکون کو کھا جاتے ہیں۔ کوشش کریں جتنی آمدن ہے اسی کے مطابق اپنی ضروریات کو ترتیب دیں، افراط و تفریط ہر کام میں نقصان پہنچاتی ہے اس کے بر عکس میانہ روی کے ساتھ چلنے سے بہت سے مسائل حل ہوتے چلے جاتے ہیں۔نیز نفسانی خواہشات سے خود کو بچانے میں بھی کافی بچت کا سامان ہوجاتا ہے۔

10۔یقینا ً دنیا مکافات عمل ہے آپ لوگوں کے ساتھ جیسا کریں گے ویسا ہی آپ کے ساتھ ہوگا شریعت نے جس کے جو حقوق آپ کے ذمہ مقرر کئے ہیں ان پر ایمانداری سے عمل پیرا ہوجائیں کوئی آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔اِن شآءَ اللہ ۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ علاقائی دورہ اور محفل نعت کے تحت  18 فروری 2022ء کو یوکے ریجن کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہوا جس میں لندن ، مانچسٹڑ، بریڈفورڈ، برمنگھم اور اسکاٹ لینڈ کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مجلس بین لاقوامی اُمور کی اسلامی بہن نے ’’ اسلاف میں قربانی کا کیسا جذبہ تھا‘‘اس موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا اور ہمیں بھی قربانی دے کر دین کا کام کرنا ہے، نیکی کی دعوت کو عام کرنا ہے اس حوالے سے اسلامی بہنوں کی ذہن سازی کی جس پرانہوں نے اچھی اچھی نیتیں پیش کیں۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ دارالمدینہ  کے تحت گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں بذریعہ انٹر نیٹ مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں تمام ٹیچرز کی عالمی مجلس کی رکن اسلامی بہن نے تربیت کی۔

مدنی مشورے میں تربیت کے مدنی پھولوں میں دارالمدینہ کے اصل مقصد اور طالب علم کے معیار کو بہتر بنانے کے بارے میں اسٹاف کی ذہن سازی کی گئی۔ اس کے علاوہ اسٹاف کو خود بھی علم دین حاصل کرنے کی ترغیب دلائی اور ایک بہترین معلمہ بننے کے لئے کتاب سیرت مصطفیٰ ﷺ پڑھنے کی ترغیب دلائی۔ 


اللہ پاک نے انسان کی رہنمائی و ہدایت کے لیے قرآن پاک کو نازل فرمایا اور انسان کو اشرف المخلوقات کے اعلیٰ منصب پر فائز فرما کر انسانیت کو معراج بخشی اور مرد وعورت کو مختلف رشتوں کے ذریعے ایک دوسرے کا ہمدرد بنایا، مرد کو عورت پر قوت عطا فرمائی جیسا کہ اس کا فرمان ہے: ” اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ “ترجمۂ کنز الایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر۔ (پارہ5، نساء، آیت34)

صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی اس آیت کی تفسیر کے تحت فرماتے ہیں: عورتوں کو شوہر کی اطاعت لازم ہے۔ مردوں کو حق ہے کہ وہ عورتوں پر رعایا کی طرح حکمرانی کریں اور ان کے مصالح اور تدابیر اور تادیب و حفاظت کی سر انجام دہی کریں۔(تفسیر خزائن العرفان، پارہ5، نساء، آیت34، ص164)

مرد کو باہر جاکر کھانے اور باہر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بنایا گیا ہے جبکہ عورت کو گھر میں رہ کر اندرونی زندگی سنبھالنے کی ذمہ داری عنایت کی گئی ہے۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ عورتوں کا گھروں میں قید رکھنا ان پر ظلم ہے جب مرد باہر کی ہوا کھاتے ہیں تو ان کو اس نعمت سے کیوں محروم رکھا جاتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ گھر عورت کیلئے قید خانہ نہیں بلکہ اس کا چمن ہے۔ گھر کے کام کاج اور اپنے بال بچوں کی دیکھ بھال کر کے وہ ایسی خوش رہتی ہے جیسے چمن میں بلبل۔ گھر میں رکھنا اس پر ظلم نہیں، بلکہ عزت و عصمت کی حفاظت ہے۔ جیسے بکری اسی لیے ہے کہ رات کو گھر رکھی جائے اور شیر، چیتا اور محافظ کتا اس لیے ہے کہ ان کو آزاد پھرایا جائے، اگر بکری کو آزاد کیا تو اس کی جان خطرے میں ہے اس کو شکاری جانور پھاڑ ڈالیں گے۔ (اسلامی زندگی، ص۱۰۴)

قرآن پاک میں اللہ پاک نے مختلف احکامات بیان فرمائے ہیں، انہی احکامات میں سے ایک حکم پردے کا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پردہ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے تاکہ معاشرے سے بدنگاہی، بدکاری ختم کی جاسکے اور انسان کو اس بات کا پابند بنایا جاسکے کہ اللہ پاک کی حرام کردہ اشیا کو دیکھنا ممنوع ہے۔

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ (پارہ18، سورۃ نور،آیت30)

اسی طرح عورتوں کو پردہ کا حکم ارشاد فرماتا ہے: اے نبی اپنی بیبیوں اور صاجزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہوتو ستائی جائیں۔ (پارہ 22، احزاب،آیت59)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: پہلے نظر بہکتی ہے، پھر دل بہکتا ہے، پھر ستر بہکتا ہے۔ (انوار رضا، ص۳۹۱)

کن اعضا کا پردہ ضروری ہے:

پردہ کا معنی: ڈھانپنا، چھپانا ہے۔ مرد کو ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں سمیت چھپانا لازمی ہے، جس میں ناف شامل نہیں، عورت کو دونوں ہتھیلیوں، دونوں پاؤں کے تلوؤں،پاؤں اور ہاتھوں کی پشت اور منہ کی ٹکلی کے علاوہ سارا جسم چھپانا ضروری ہے۔ (الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، ج۱، ص۶۵)

حکم شرعی:

آج کل یہ بات سماعت کے دروازے پر بار بار دستک دیتی ہے کہ پردہ تو صرف دل کا ہوتا ہے، جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس جملے میں قرآن پاک کی اس واضح آیت کے انکار کا پہلو موجود ہے، جس میں ظاہری جسم کو چھپانے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے پارہ22، سورۃ احزاب، آیت33 میں ارشاد فرماتا ہے: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔

بے حیائی کے حیا سوز سمندر کی موجیں ٹھاٹیں مارتی ہوئی بے لگام ہو چکی ہیں اور لوگ اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو خوب سجا سنوار کر کار کی فرنٹ سیٹ پر اور بائیک پر پیچھے بٹھاکر سفر کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں جبکہ ہمارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرما تے ہیں: تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ کا نافرمان ،دیوث اور مردانی وضع کی عورت۔(المستدرک للحاکم، ج۱، ص۷۲)

حضرت علامہ علاؤالدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ در مختار میں دیوث کی تعریف یوں کرتے ہیں : دیُّوث وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی بیوی یا کسی محرم پر غیرت نہ کھائے۔ (رد المحتارعلی الدرالمختار،کتاب الحدود،ج۶،ص۱۱۳)

اگرشوہر واقعی دیکھتا اور اس پر راضی ہوتا ہے یا بقدرِ قدرت منع نہیں کرتا تو دیوث ہے اور دیوث پر جنت حرام ہے، نیز اقارب فریقین جو منع نہیں کرتے شریک گناہ و مستحق عذاب ہیں، جیسا کہ رب تعالی کا فرمان ہے: وہ ان بدکرداروں کو برائی سے منع نہ کرتے تھے البتہ جو وہ کرتے تھے بہت برا ہے۔(پارہ6، مائدہ، آیت79)۔ (فتاوٰی رضویہ)

دور حاضر میں بے پردگی کے اسباب:

دور حاضر میں بے پردگی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں فلمیں، ڈرامے بھی ہیں کیونکہ ان میں پردہ کا نام و نشان ہی نہیں ہوتا اور شرعی نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو فلمیں ڈرامے دیکھنا حرام ہے۔ بنت حوا کے سر سے چادر اتروانے میں بہت بڑا کردار موبائل اور انٹرنیٹ کا بھی ہے۔ رہی سہی کسر کیبل اور سستے کال اور ایس ایم ایس پیکجز نے پوری کردی۔ سیر و تفریح کے نام پر پارکس اور مخلوط تعلیمی نظام نے بھی پردے کی پاکیزگی کو سراسر روند کر رکھ دیا ہے۔ پہلے بھی عشق و محبت کیا جاتا تھا لیکن چھپ کر مگر اب تو بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا ناپاک رشتہ قائم کرکے پارکس اور یونیورسٹی میں کھلم کھلا حیا کا جنازہ نکالا جاتا ہے اور یہ بے تکلف دوستی اس خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے کہ نہ ہونے کا ہو جاتا ہے۔ پھر والدین کو شادی کے لئے مجبور کیا جاتا ہے، اگر والدین راضی نہ ہوں تو گھر سے بھاگ کر شادی کی جاتی ہے۔ ان تمام کاموں کو اگر ایک لفظ میں تحریر کیا جائے تو اسے بے پردگی کا نام دیا جائے گا۔

میرا جسم میری مرضی!

کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر یہ عنوان زیر بحث رہا مگر ایسا ہرگز نہیں ہمارا جسم ہماری مرضی نہیں کیونکہ ہمارا خالق و مالک اللہ پاک ہےاس نے ہمیں صرف اور صرف عبادت کے لئے پیدا فرمایا اور ہمیں دین اسلام کی نعمتِ عظمیٰ سے سرفراز فرمایا، اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس طرح ہر مذہب، ہر تنظیم اور ہر ادارے کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں، اسی طرح اسلام بھی اپنے ماننے والوں سے اللہ پاک اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل پیرا ہونے کا تقاضا کرتا ہے، اسلام نے عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے اس کی اتنی ہی حفاظت کی جاتی ہے، ہمارا جسم، ہماری روح، ہمارے اعضا کا ایک ایک ذرہ اُسی کی تابع ہے، لہذا ہمیں اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کرتے ہوئے پردہ کو اپنانا چاہئے کیونکہ جو کار کپڑے سے ڈھکی ہوئی ہو، مٹی سے محفوظ رہتی ہے، اپنی آنکھوں کو جھکا کر رکھیں، اس طرح ہم بدنگاہی سے بچنے میں کسی حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔
دنیا بہت آگے نکل چکی ہے!

بعض لوگوں کا کہنا ہے: دنیا بہت آگے نکل چکی ہے، پردے کے معا ملے میں اتنی زیادہ سختی نہیں کرنی چاہئے تو ان کی خدمتوں میں عرض ہے کہ اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کوئی بھی حکم ایسا نہیں جو مسلمان پر اس کی طاقت سے زائد ہو۔ جیسا کہ پارہ3، سورۃ البقرہ، آیت286 میں ارشادِ خُداوَندی ہے: اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔

موجودہ دور کی بے پردگی کو دیکھیں تو اکبر الہ آبادی کی روح تڑپ کر کہتی ہے:

”بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں اکبر زمیں میں غیرت ِقومی سے گڑگیا

پوچھا جو اُن سے آپ کا پردہ! وہ کیا ہوا؟ کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑگیا“

گھر کے سربراہ کو چاہئے کہ اپنے گھر کی خواتین کو پردہ کروائے اور اپنے گھر والوں کی کی اِصلاح کی ہر ممکن کوشش کرے۔ پارہ28، سورۃ التحریم کی چھٹی آیت کریمہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔

ایک حدیث مبارکہ میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: تم سب اپنے متعلقین کے سردار و حاکم ہو اور ہر ایک سے اس کے ماتحت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (مجمع الزوائد، ص۳۷۴)

یاد رکھئے! شوہر اپنی بیوی کا، باپ اپنے بچوں کا اور ہر شخص اپنے ماتحتوں کا ایک طرح سے حاکم ہے اور ہر حاکم سے قیامت کے دن اُس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پردہ کرنے اور دیگر شرعی احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مزید معلومات کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ’’پردے کے بارے میں سوال جواب‘‘ کا مطالعہ فرمایئے۔


دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام17 فروری  2022ء کو ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکھنے سکھانے کے ماہانہ دینی حلقے کا انعقاد ہوا جس میں ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

نگران عالمی مجلس مشاورت ذمہ دار اسلامی بہن نے اسلامی بہنوں کو ’’چندہ کیسے جمع کریں ‘‘اس حوالے سے شرعی اور تنظیمی تربیت نکات بتائے۔ مزیدانہیں ہفتہ وارسنتوں بھرے اجتماع کی پابندی کرنے کاذہن دیا۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ دارالمدینہ کےتحت  17 فروری 2022ءبروز جمعرات لاہور ریجن میں بذریعہ انٹر نیٹ تربیتی سیشن کا انعقاد ہوا جس میں V ، Class,VII & VI کی طالبات نے شرکت کی۔

عالمی مجلس مشاورت کی رکن اسلامی بہن نے ’’ اللہ کی دی ہوئی نعمتیں اور ان کا شکر ادا کرنا ‘‘کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا ۔ مزیداس سیشن میں طالبات کو اللہ کی دی ہوئی بے شمار نعمتیں یاد دلانے کے ساتھ ساتھ ان کا بہترین استعمال بھی بتایا گیا ۔ علاوہ ازیں طالبات کو آخر میں دعوت اسلامی کے تحت ہونے والےآن لائن شارٹ کورسز کرنے کا ذہن دیا۔