دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا

تالوں کی ایجاد سے پہلے صرف بھروسہ ہوتا تھا

کسی نے کیا خوب لکھا ہے : وقت، اعتبار اور عزت ایسے پرندے ہیں جو اُڑ جائیں تو واپس نہیں آتے، ہمارے معاشرے کی کہانی میں بھی یہ پرندے اُڑتے دکھائی دیتے ہیں، ہر بازار ہر گھر اور ہر دفتر کا حال یہ ہو گیا کہ مسلمان ،مسلمان ہی کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے دھوکہ دے رہا ہے کہیں کوئی کسی کو ایس ایم ایس کرکے لاٹری میں انعام نکل آنے،یا کار وغیرہ ملنے کی اطلاع دے کر مختلف حیلے بہانوں سے اس سے رقم بٹورنا شروع کردیتا ہے تو کہیں کوئی کسی کی زمین کے جعلی کاغذات دِکھا کر زمین کی رقم وصول کرکے رفو چکر ہوجاتا ہے اورکہیں نوکری دلوانے یا بیرونِ ملک بھجوانے کا جھانسہ دے کر جمع پُونجی پر ہاتھ صاف کرلیا جاتا ہے ،الغرض طرح طرح سے مسلمانوں کو تکلیف میں مبتلا کیا جاتا ہے،اس طرح اعتبار کی زنجیر کو پاش پاش کر دیا جاتا ہے ۔

آج جن دوستوں، گھرانوں، تاجروں وغیرہ میں اعتبار کا رشتہ مضبوط ہے وہ سکھی اور جنہیں کسی نے دھوکا دیا ہو وہ دُکھی دکھائی دیتے ہیں۔ مذہب اسلام اس کی پرزور انداز میں تردید کرتا ہے۔ دھوکا دینے والے سے اللہ پاک کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا، لہٰذا دھوکے کے متعلق 5 حدیثیں ذیل میں ذکر کرتا ہوں :-

(1)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) نے فرمایا کہ مومن آدمی بھولا بھالا (دھوکہ کھانے والا) اور شریف ہوتا ہے اور فاسق انسان دھوکا باز اور کمینہ ہوتا ہے۔ (سنن ابوداؤد،جلد سوم،حدیث: 1387)

(2) اللہ کے رسول علیہ السلام نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا وہ ہم سے نہیں۔(مسلم، ص65، حدیث:101)

(3) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے منع فرمایا دھوکا کی بیع سے اور کنکر کی بیع سے۔(سنن ابوداؤد،جلد دوم،حدیث: 1600)

(4) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا تم خریدار کو دھوکا دینے کے واسطے کسی چیز کی قیمت نہ بڑھایا کرو ۔(سنن نسائی،جلد دوم،حدیث: 1152)

دھوکا دینے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ایک دن وہ بھی آئے گا، جب انہیں دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اپنی کرنی کا پھل بُھگتنا ہوگا ،چنانچہ حسابِ ِآخرت سے بچنے کے لئے یہیں دنیا میں سچی توبہ کرکے اپنا حساب کرلیں کہ جس جس سے رقم ہتھیائی ہے اس کو واپس کریں یا معاف کروالیں ،اگر وہ زندہ نہ ہوتو اس کے وارثوں کو ادائیگی کریں یا معاف کروا لیں۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مجھے سچّی توبہ کی توفیق دیدے،

پئے تاجدارِ حرم یاالٰہی


اللہ تعالی قراٰنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ(۶)ترجَمۂ کنزُالایمان: اے آدمی تجھے کس چیز نے فریب دیا اپنے کرم والے رب سے ۔(پ30،الانفطار:6)

اس آیت کریمہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ا نسان! تجھے کس چیز نے اپنے کرم والے رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا کہ تو نے اس کی نعمت اور کرم کے باوجود اس کا حق نہ پہچانا اور اس کی نافرمانی کی جو تجھے عدم سے وجود میں لے کر آیا،پھر اس نے تمہارے اعضاء کو ٹھیک بنایا اور تجھے پکڑنے کے لئے ہاتھ،چلنے کے لئے پاؤں ،بولنے کے لئے زبان،دیکھنے کے لئے آنکھ اور سننے کے لئے کان عطا کئے،اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اللہ پاک کی ان کرم نوازیوں کو دیکھ کر بھی ا س کی نافرمانی سے نہیں رکے بلکہ تم انصاف کے دن کو جھٹلانے لگے اور اعمال کی جزاملنے کے دن کاانکار کرنے لگ گئے۔( جلالین، الانفطار، تحت الآیۃ: 6، ص492، ملتقطاً)

دھوکے کی تعریف : نفس کا اس بات پر ٹھہر جانا جو خواہشِ نفس کے مطابق ہو اور شیطانی شبہ اور فریب کے باعث طبیعت اس کی طرف مائل ہو دھو کا کہلاتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو غلہ بیچ رہا تھا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے پوچھا کہ تم اسے کس طرح فروخت کرتے ہو۔ اس نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بتلا دیا۔ اس دوران آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر وحی نازل ہوئی کہ اپنا دستِ مبارک اس غلہ کے اندر داخل کریں۔ جب حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنا دستِ مبارک اس غلہ میں داخل کیا تو وہ اندر سے گیلا اور تر نکلا، اس پر رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے دھوکا دہی سے کام لیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(ابو داؤد، جلد 3، حدیث : 57)

عقل مندوں( یعنی علم والوں) کے کھانے پینے اور سونے کی بھی کیا بات ہے ،انہیں جاہلوں کی شب بیداری اور عبادت میں محنت ومشقت کیسے دھوکا دے سکتی ہے ؟صاحب تقوی اور یقین رکھنے والے کا ذرہ برابر عمل دھوکے میں مبتلا لوگوں کے زمین بھر کے عمل سے افضل ہے ۔(الزھد للامام احمد بن حنبل ، زہدابی الدرداء،ص162،حدیث : 738)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی وہ بے وقوف ہے جو کام کرے دوزخ کی اور امید کرے جنت کی ،کہا کرے اللہ غفور الرحیم ہے باجرہ بوئے اور امید کرے گیہوں کاٹنے کی،کہا کرے اللہ غفور الرحیم ہے کاٹتے وقت اسے گندم بنا دے گا اس کا نام امید نہیں۔ عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو فرمانبردار بنائے اور موت کے بعد کام آنے والے عمل کرے اور بیوقوف وہ ہے جو خواہشِ نفس کی پیروی کرے پھر بھی اللہ پاک سے امید رکھے۔ (مرأة المناجیح،7/103)

خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کو جھوٹی امید نے سیدھے راہ نیک اعمال سے ہٹا دیا ہے جیسے جھوٹی بات گناہ ہے ایسے ہی جھوٹی آس بھی گناہ ہے ۔(احیاء العلوم، 3/1125)

مذکورہ بالا احادیث کریمہ سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ دھوکا تمام برائیوں کی جڑ ہے اور اسی سے ہلاکت میں ڈالنے والے تمام معاملات کی ابتدا ہوتی ہے تو ان تمام چیزوں کا جاننا ضروری ہے جو دھوکے کی طرف لے جانے والے ہیں ۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ دھوکا دینے والے کی عزت سماج میں نہیں ہوتی ہے سید عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: "دھوکا دینے والا ہم میں سے نہیں ہے" تو اس کی عزت سماج میں کیسے ہو سکتی ہے اور ایسے لوگوں کو عوام الناس پسند نہیں کرتے ہیں

حضرت ابوہریرہ (رضى اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: نیکوکار مومن بڑا بھولا اور شریف ہوتا ہے جب کہ بدکار بڑا مکار و بخیل و کمینہ ہوتا ہے۔ (اس حدیث میں ایک لفظ غرّ ذكر ہوا جس کا معنی ہیں دھوکہ کھانے والا شخص) (، ترمذی، ابوداؤد)

وعن أبي هريرة قال قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم هلك كسرى فلا يكون كسرى بعده وقيصر ليهلكن ثم لا يكون قيصر بعده ولتقسمن كنوزهما في سبيل اللہ وسمى الحرب خدعة ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کسریٰ ہلاک ہوگیا، اس کسری کے بعد اور کوئی کسری نہیں ہوگا اور یقیناً قیصر یعنی روم کا بادشاہ بھی ہلاک ہوگا جس کے بعد کوئی اور قیصر نہیں ہوگا، نیز ان دونوں بادشاہوں کے خزانے اللہ کی راہ میں تقسیم کئے جائیں گے۔ اور حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جنگ کا نام دھوکہ اور فریب رکھا۔ (بخاری و مسلم)

دھوکے سے بچنے کا علاج :دھوکے سے بچنے کے دوعلاج ہیں:(1) ایک ایمان کی تصدیق کے ذریعے(2) دوسرا دلیل حجّت سے ۔

پہلا ایمان کی تصدیق اس طرح کرے کہ اللہ پاک کے ان تمام فرامین کو سچّا جانے جو دھوکے کی وعید کے متعلق نازل ہوئی ۔ دوسرا یہ ہے کہ انسان ان تمام خیالات کے پیچھے نہ پڑے جو شیطان کے طرف سے ہو اس لیے کہ شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے اور ہمیشہ شریعت کو پیشِ نظر رکھیں ،تو آپ دھوکا سے بچ سکتے ہیں اور دھوکا سے بچنے کے تین اسباب علمائے کرام بیان فرماتے ہیں (1)عقل (2) معرِفت (3)علم اس کی تفصیل جاننے کے لیے آپ احیاء العلوم جلد سوم کا مطالعہ فرمائیے (ص1223سے1226تک)

حاصل کلام ایک لفظوں میں یہ ہے کہ دھوکا سے وہی شخص بچ سکتا ہے جس کی عقل و ذہانت عمدہ ترین میں شمار ہوتا ہو اور شریعت کا علم رکھتا ہو۔

اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کے پاک پروردگار عالم ہم تمام مسلمانوں کو دھوکہ دہی اور مکرو فریب سے محفوظ ومامون فرمائے اور ہم تمام مسلمانوں کو اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین یارب العالمین 


ہمارے معاشرے میں دھوکا دینا عام ہوتا جا رہا ہے اور مختلف معاعملات میں لوگوں کو دھوکہ دینے میں کوئی گناہ و برائی سمجھتیں ہی نہیں ہیں لیکن مذہب اسلام میں مسلمانوں کے ساتھ مکر یعنی دھوکہ بازی اور دغابازی کرنے کو تو قطعاً حرام و گناہ قرار دیا گیا ہے ۔

آئیے دھوکہ دینے کے متعلق پانچ حدیث رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سنتے ہیں:

مکر و فریب کی تعریف: وہ فعل جس میں اس فعل کے کرنے والے کا باطنی ارادہ اس کے ظاہر کے خلاف ہو مکر کہلاتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 163)

(1) حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص ہمارے ساتھ دھوکہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے مکر اور فریب جہنم میں ہوں گے۔(الترغیب والترہیب، 2/428) جو لوگ تجارت کرتے ہیں اور مال میں ملاوٹ کرتے اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ان کو اس حدیث سے درس حاصل کرنا چاہیے ۔

(2) صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم غلہ کی ڈھیری کے پاس گزرے اس میں ہاتھ ڈال دیا ، حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو انگلیوں میں تری محسوس ہوئی ارشاد فرمایا: اے غلہ والے! یہ کیا ہے؟ اس پر اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! اس پر بارش کا پانی پڑگیا تھا ارشاد فرمایا کہ تونے بھیگے ہوئے کو اوپر کیوں نہیں کردیا کہ لوگ دیکھتے جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔ (صحیح مسلم, کتاب الایمان،باب قول النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم من غشنا فلیس منا، حدیث:164 )

(3) امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو کسی مؤمن کو ضرر پہنچائے یا اس کے ساتھ مکر اور دھوکہ بازی کرے وہ ملعون ہے۔(سنن الترمذی کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی الخیانۃ والغش،3/378، حدیث: 1948)

(4) حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مسلمان ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اگر چہ ان کے علاقے ایک دوسرے سے دور ہوں اور ان کے جسم ایک دوسرے سے الگ ہوں جبکہ فاجر لوگ ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ خیانت کرتے ہیں خواہ ان کے گھر ایک دوسرے کے قریب ہوں اور ان کے جسم ایک دوسرے کے قریب ہوں ۔( الترغیب والترہیب ،2/433)

(5) امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔(1)دھوکہ باز (2) احسان جتانے والا (3)بخیل۔(کنزالعمال،/3218،حدیث:7823)

ایک حدیث پاک میں سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں :مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی کو عیب والی چیز عیب بیان کئے بغیر بیچنا جائز نہیں۔( سنن ابن ماجہ ابواب التجارات،حديث : 2246 ، ص : 2611) ہمیں چاہیے کہ اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے ہم مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی کریں۔

اللہ پاک ہم سب کو نیک ہدایت عطا فرمائے اور ہمیں مسلمانوں کو دھوکا دینے اور ملاوٹ کرنے سے محفوظ رکھے۔ اٰمین


عاشقان  رسول کی دین تحریک دعوت اسلامی کے تحت 15 اکتوبر2022 ء کو مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن حاجی محمد امین عطاری نے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں جامعۃ المدینہ کے ناظمین کا مدنی مشورہ فرمایا۔

رکن شوریٰ نے دوران مشورہ سابقہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے شرکا کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کی ۔ بعدازاں جامعۃ المدینہ کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے حوالے سے نکات بتائے ۔ اس موقع پر مدنی مشورے میں مجلس جامعۃ المدینہ کے نگران واراکین بھی موجود تھے۔( کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری ) 


15 اکتوبر2022 ء کو دعوت اسلامی  کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں شعبہ فیضان مرشد سے وابستہ اسلامی بھائیوں کا تربیتی اجتماع ہوا جس میں رکن شوریٰ حاجی محمد امین عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیا۔

دوران بیان رکن شوریٰ نے اسلامی بھائیوں کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کرتے ہوئے انہیں 12 دینی کام کرنے کا ذہن دیا نیز ہر ماہ تین دن کے مدنی قافلے میں سفر کرنے اور اوروں کو سفر کروانے کی ترغیب دلائی ۔ مزید ہفتہ وار مدنی مذاکرہ میں آنے کی دعوت بھی دی جس پر شرکا نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔( کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری )


دعوت اسلامی  کے زیر اہتمام پچھلے دنوں صوبہ بلوچستان کوئٹہ ڈویژن میں اجتماع میلاد کا انعقاد کیا گیا جس میں ٹیچرز، اسٹوڈنٹس اور شعبہ تعلیم سے متعلق شخصیات نے شرکت کی۔

آغا ز تلاوت قراٰن پاک سے ہوا پھر ثناء خوانوں نے آقا ﷺ کی بارگاہ میں نظرانہ عقیدت پیش کئے۔ اس کے بعد مبلغ دعوت اسلامی طارق مدنی نے سنتوں بھرا بیان کیا اور حاضرین کو ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں آنے اور مدنی مذاکرہ دیکھنے کی دعوت دی جس پر انہوں نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ( کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری )


دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن  حاجی بغداد رضا عطاری نے مورخہ 16 اکتوبر 2022ء کو جہلم ڈسٹرکٹ کا ماہانہ مدنی مشورہ فیضان مدینہ جہلم میں فرمایا۔

دوران مدنی مشورہ رکنِ شوریٰ نے اسلامی بھائیوں کو 12 دینی کاموں کو مزید بڑھانے کے حوالے سے ذہن سازی کی۔ بعدازاں فیضان اسلامک اسکول سسٹم میں بچوں کے داخلےکروانے کی ترغیب دلائی نیز ٹیلی تھون، پیشگی کارکردگی شیڈول کے متعلق مدنی پھول دیئے۔ساتھ ساتھ ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں باقاعدگی سے آنے کی دعوت دی جس پر شرکا نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔( کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری )


دعوت اسلامی  کے شعبہ مدنی عطیات بکس کے تحت پچھلے دنوں حیدرآباد میں قائم جامعۃ المدینہ بوائز میں مدنی مشورہ ہوا جس میں سرکاری ڈویژن حیدرآباد اور ڈویژن بھنبھور مدنی عطیات بکس اور گھریلو صدقہ بکس ذمہ داران سمیت صوبائی ذمہ دارمدنی عطیات بکس محمد ارمان عطاری ، صوبائی ذمہ دار جامعۃ المدینہ رضوان مدنی اور جامعۃ المدینہ بوائز اندرون سندھ خود کفالت ذمہ دار اخلاق مدنی بھی موجود تھے۔

شعبہ جامعۃ المدینہ بوائز پاکستان سطح کے ذمہ دار علی عمران مدنی نے دعوت اسلامی کے دینی کاموں کو کرنے اور نیو مقام پر عطیات بکس لگانے کے حوالے سے نکات بتائے نیز اس سلسلے میں حاضرین کو اہداف دیئے۔

اس میٹنگ میں مرکزی مجلس شوریٰ کہ رکن حاجی محمد فاروق جیلانی عطاری نے بھی تربیت فرمائی جس میں رکن ِشوریٰ نے 12 دینی کام کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے ڈونیشن بکس کے سلسلے میں دکانداروں سے ملاقاتیں کرنے کا ذہن دیا۔(رپورٹ: بہاول عطاری ،کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری )


دعوت اسلامی کے شعبہ  عطیات بکس کے زیر اہتمام 11 اکتوبر 2022ء کو حیدرآباد میں مدنی مشورہ ہوا جس میں حیدرآباد لطیف آباد سٹی کے عطیات بکس ذمہ داراور سپر وائزر نے شرکت کی۔

اس موقع پر ڈویژن ذمہ دار عبدالعزیز عطاری نے اسلامی بھائیوں کو دینی کام کرنے اور عطیات بکس بڑھانے کی ترغیب دلائی ۔بعدازاں مشورے میں رکن شوریٰ حاجی محمد فاروق جیلانی عطاری نے دینی کاموں میں سے ایک دینی کام مدنی قافلہ میں سفر کرنے اورمتعلقین کو سفر کروانے کا ذہن دیا نیز عطیات بکس کے حوالے سے دکانداروں سے ملاقاتیں کرنے کا مشورہ دیا۔(رپورٹ: بہاول عطاری ،کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری )


آج دھوکہ دہی لوگوں کے درمیان ایک عام سی چیز بن گئی ہے، جب کہ اسلام میں یہ حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ اس میں دنیاوی اور اخروی دونوں طرح کے نقصان ہیں۔ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے: یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ(۹) ترجمۂ کنزالایمان: فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کواور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں۔(پ1،البقرۃ:9)یخادعون ’’خدع‘‘ سے مشتق ہے جس کا لغوی معنیٰ چھپانا اور اصطلاحی معنیٰ دھوکہ دینا ہے۔

( 1)پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ایک غلے کے پاس سے گزر ہوا ۔ آپ نے اپنا ہاتھ اس غلے میں داخل کیا تو ہاتھ میں تری پائی۔ آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: یارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! آسمان سے بارش ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا: اسے اوپر کیوں نہ کیا کہ لوگ اسے دیکھ لیتے، جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔( مسلم، ص64،حديث:284)

(2)امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو کسی مومن کوضرر پہنچا وے یا اس کے ساتھ مکر اور دھوکہ بازی کرے وہ ملعون ہے۔(ترمذی کتاب الرو الصلۃباب ماجاءفی اخیانۃالغش، 2/378،حدیث:1948)

(3) نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دھوکہ دینے والوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’من غشنا فلیس منا‘‘ ترجمہ : جو ہمیں دھوکہ دے، وہ ہم میں سے نہیں ۔ (الصحیح لمسلم، کتاب الایمان، 1/ 70، مطبوعہ کراچی)

(4) امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔(1)دھوکہ باز (2) احسان جتانے والا (3)بخیل۔(کنزالعمال،/3218،حدیث:7823)

( 5) حضرت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جو ہمارے ساتھ دھوکہ بازی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہیں اور مکرو دھوکہ بازی جہنم میں ہے۔ ( کنزالعمال کتاب الاخلاق من قسم الاقول المکرواخدیعۃ ،حدیث: 7821)

دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃالمدینہ کی مطبوعہ 207 صفحات پر مشتمل کتاب جہنم کے خطرات صفحہ نمبر171 ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ مکر یعنی دھوکہ بازی اور دغا بازی کرنا قطعاً حرام اور گناہ کبیرہ ہے جس کی سزا جہنم کا عذاب عظیم ہے۔

قراٰن و حدیث میں اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دھوکہ دینے کی سخت مذمت کی ہے ۔آج کے دور میں لوگ دوسروں کے خلاف سازش اور مخفی منصوبہ بندی میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ اس ترقی کے دور میں کسی کی مخالفت کرتے ہیں تو چھپے انداز میں۔ یہ دھوکہ بازی لوگوں کی طبیعتوں میں اتنی تیزی کے ساتھ عام ہوتی جارہی ہے کہ ان کا پورا کردار وعمل اسی سے عبارت ہوکر رہ گیا ہے۔اس بلا میں گرفتار ہونے کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ قراٰنی تعلیمات اور نبوی ارشادات پر عمل کے حوالے سے ہم کوسوں دور ہیں۔ دھوکہ دینا کئی طرح سے ہوتا ہے۔

(1) والدین اور عزیز واقارب کو دھوکہ دینا

(2) خود کو اور اپنے دوستوں کو دھوکہ دینا

(3) کارو بار اور منفعت کے لیے دھوکہ دہی کرنا۔

اسلام نے ان تمام صورتوں سے منع کیا ہے۔ ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم قرآن وحدیث کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تاکہ دونوں جہاں میں سرخرو اور تابناک ہوسکیں۔


کسی مومن کو دھوکا دینا یقیناً بارِ عذابِ نار سر اٹھانا ہے قراٰنِ پاک میں تو یہ خبیث صفت منافقین کے بارے میں بیان ہوئی ہے چنانچہ ربِّ ذوالجلال ارشاد فرماتا ہے: یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ(۹) ترجمۂ کنزالایمان: فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کواور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں۔(پ1،البقرۃ:9)

لہذا جو لوگ اپنے مسلمان بھائی کو دھوکا دینے سے عار تک محسوس نہیں کرتے ایسوں کے لئے پانچ فرامین مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیان کئے جا رہے ہیں جنہیں پڑھنے کے بعد عبرت حاصل کرنا چاہئے۔

(1) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنهما، عَنِ النَّبِيِّ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، أنَّهُ قالَ: «لَيْسَ مِنّا مَن غَشَّ فِي البَيْعِ والشِّراءِ» ترجمہ:ابن عمر رضی اللہ عنهما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے بیع و شراء (خرید و فروخت) میں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔(مسند ابي حنيفۃ للحصكفي، کتاب البیوع، تراث)

(2) عَنْ عُثْمانَ بْنِ عَفّانَ، قالَ: قالَ رَسُولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم : «مَن غَشَّ العَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفاعَتِي ولَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي»ترجمہ: جس نے عرب (اہل عرب) کو دھوکا دیا وہ میری شفاعت میں داخل نہ ہوگا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہوگی۔(سنن الترمذي، 6/ 209)

(3) عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ أنَّ رَسُولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مَرَّ عَلى صُبْرَةِ طَعامٍ فَأدْخَلَ يَدَهُ فِيها، فَنالَتْ أصابِعُهُ بَلَلًا فَقالَ: «ما هَذا يا صاحِبَ الطَّعامِ؟» قالَ أصابَتْهُ السَّماءُ يا رَسُولَ اللہ، قالَ: «أفَلا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعامِ كَيْ يَراهُ النّاسُ، مَن غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي»ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم غلّے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے اور آپ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا تو آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں۔ آپ نے فرمایا: اے غلے والے یہ کیا ہے؟ تو اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس میں بارش کا پانی پہنچ گیا ہے۔ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تو کیا تم نے اس (تر غلے) کو اوپر نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں، "جس نے دھوکا دیا وہ مجھ سے نہیں"۔(صحیح مسلم، 1/ 99)

(4) عَنْ قَيْسِ بْنِ أبِي غَرَزَةَ قالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بِصاحِبِ طَعامٍ يَبِيعُ طَعامَهُ، فَقالَ رَسُولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم : «يا صاحِبَ الطَّعامِ، أسْفَلُ الطَّعامِ مِثْلُ أعْلاهُ؟»، فَقالَ: نَعَمْ، فَقالَ رَسُولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم : «مَن غَشَّ المُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنهُمْ»ترجمہ: قیس بن ابی غرزہ سے ہے، کہتے ہیں کہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم غلّے والے کے پاس سے گزرے جو اپنا غلہ بیچ رہا تھا۔ تو رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے غلے والے! کیا غلہ (کے ڈھیر) کا نچلا اور بالائی حصہ ایک جیسا ہے؟ تو اس شخص نے کہا: ہاں، پھر رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کو دھوکا دیا تو وہ ان میں سے نہیں۔(مسند أبي يعلى الموصلي، 2/ 233)

(5) عَنْ أبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنِ النَّبِيِّ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم قالَ: لاَ يَدْخُلُ الجَنَّةَ خِبٌّ ولاَ مَنّانٌ ولاَ بَخِيلٌ.ترجمہ:ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: "دھوکا دہی کرنے والا، احسان جتانے والا اور کنجوس شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا"۔(ترمذي، 3/ 408)


اللہ رب العزت کا بہت بڑا احسان ہے کی اس نے ہمیں انسان بنایا۔ انسان کے اندر کئی طرح کی صفتیں موجود ہوتی ہیں اس میں سے ایک بہت بری صفت دھوکا دہی ہے جو کہ ہمارے معاشرے میں بہت عام ہو چکی ہیں۔

دھوکہ دہی کی تعریف :برائی کو دل میں چھپا کر اچھائی ظاہر کرنا دھوکا کہلاتا ہے۔

دھوکہ دہی کی کچھ مثالیں بھی ملاحظہ ہو:(1)کسی چیز کا عیب چھپا کر اس کو بیچنا (2)اصل بتا کر نقل دے دینا (3)غلط بیانی کرکے کسی سے مال بٹورنا جیسا کی پیشہ ور بھکاریوں کا طریقہ ہے۔

کفار کے مکرو فریب کے متعلق قراٰنِ پاک میں یوں ارشاد ہوتا ہے : اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ(۴۵) ترجمۂ کنزالایمان : تو کیا جو لوگ برے مکر کرتے ہیں اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسادے یا انہیں وہاں سے عذاب آئے جہاں سے انہیں خبر نہ ہو ۔(پ14 ،النحل: 45)

رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی دھوکہ دہی کی شدید مذمت فرمائی ہے۔

(1) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جو دوسرے کو نقصان پہنچائے اللہ اسے نقصان پہچائے گا اور جو دوسرے کو تکلیف دے اللہ پاک اسے تکلیف دے گا۔(جامع ترمذی، حدیث: 1940)

(2) ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : وہ شخص ملعون ( یعنی اللہ کی رحمت سے دور) ہے جس نے کسی مومن کو نقصان پہنچایا یا اس کو دھوکہ دیا۔(جامع ترمذی، ص 475 ،حدیث: 1941)

(3)امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔(1)دھوکہ باز (2) احسان جتانے والا (3)بخیل۔(کنزالعمال،/3218،حدیث:7823)

(4)حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جو ہمارے ساتھ دھوکہ بازی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور مکر و دھوکہ بازی جہنم میں ہے۔(کنز العمال، ص 218 ،حدیث: 2821)

(5) امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ جو کسی مسلمان کے ساتھ مکر کرے یا نقصان پہچائے یا دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔(کنزالعمال، ص 218 ،حدیث: 2822)

دھوکہ دینا بہت بری چیز ہے جو کہ دنیا و آخرت کے لیے نہایت ہی نقصان دہ ہے اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں میں دوسروں کو دھوکا دینے اور خود دھوکا کھانے سے بچائے۔