ہر مسلمان عاقل بالغ مرد و عورت پر روزانہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے اس کی فرضیت (یعنی فرض ہونے) کا انکار کفر ہے۔ جو جان بوجھ کر ایک نماز ترک کرے وہ فاسق سخت گناہ گار و عذاب نار کا حقدار ہے۔

پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے تمہاری امت پر (دن رات میں) پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور میں نے یہ عہد کیا ہے کہ جو اِن نمازوں کے اُن کے وقت کے ساتھ پابندی کرے گا میں اس کو جنت میں داخل فرماؤں گا اور جو پابندی نہیں کرے گا تو اس کے لئے میرے پاس کوئی عہد نہیں۔ (ابو داؤد ،1 /188 ،حديث:430)

علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں پانچوں نمازوں میں سب سے افضل نماز عصر ہے پھر نمازِ فجر پھر عشا پھر مغرب پھر ظہر ۔(فیض القدیر ،2 /53)موضوع سے متعلق نماز عصر کے فضائل ملاحظہ کیجئے:

(1) حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا ۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی پچھلی اُمتوں پر بھی نمازِ عصر فرض تھی مگر وہ اِسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے ،تم ان سے عبرت پکڑنا۔ (مراٰۃالمناجیح ،2/166)

(2) صحابی ابن صحابی حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس کی نماز عصر نکل گئی (یعنی جان بوجھ کر نماز عصر چھوڑے) گویا اس کے اہل و عیال و مال وتر ہو( یعنی چھین لیے) گئے ۔(بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552)

(3) حضرت سیدنا عُمارَہ بن رُوَیبَہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نماز پڑھی) وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔(مسلم، ص250 ،حدیث: 1436)

(4) حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :تم میں رات اور دن کے فرشتے باری باری آتے ہیں اور فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہو جاتے ہیں پھر وہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہے اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں اللہ پاک باخبر ہونے کے باوجود ان سے پوچھتا ہے تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ عرض کرتے ہیں ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔(بخاری ،1 /203 ،حدیث: 555)

(5) تابعی بزرگ حضرت سیدنا اَبُو المَلِیْح رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں ایک ایسے روز کے بادل چھائے ہوئے تھے ہم صحابی رسول حضرت سیدنا بُرَیْدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں تھے آپ نے فرمایا نماز عصر میں جلدی کرو کیونکہ سرکار صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے نماز عصر چھوڑ دی اس کا عمل ظبط ہوگیا۔( بخاری ،1 /203 ،حدیث: 556)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں پانچوں نمازیں کماحقہٗ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


نمازوں کے اندر نمازِ عصر کو ایک خاص اہمیت حاصل ہےکہ اللہ ربُّ العزت نے قراٰنِ پاک میں ارشاد فرمایا: حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ-وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ(۲۳۸)ترجَمۂ کنزُ الایمان: نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی۔ (پ2، البقرۃ: 238) نمازِ عصر کا الگ سے ذکر فرما کر اس کی اہمیت کو واضح کیا۔ بخاری شریف میں ہے کہ اَلصَّلوٰۃُ الوُسطیٰ سے مراد نمازِ عصر ہے۔ (مسلم،ص248،حدیث:1422)

نمازِ عصر فرض ہونے کی وجہ: نمازِ عصر سب سے پہلے حضرت سلیمان علیہ السّلام نے ادا فرمائی اللہ پاک نے اپنے محبوب کی اس ادا کو اُمّتِ مسلمہ پر فرض کر دیا۔ (فیضانِ نماز،ص29)

نمازِ عصر کے فضائل: آئیے اب ہم نمازِ عصر کے چند فضائل سنتے ہیں:

نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں :جب مردہ قبر میں داخل ہوتا ہے، تو اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے، وہ آنکھیں ملتا ہوا اُٹھ بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: ذرا ٹھہرو! مجھے نماز تو پڑھنے دو۔ ( ابنِ ماجہ 4/503، حدیث: 4272)مراٰۃ المناجیح میں حدیثِ پاک کے اس حصے (ذرا ٹھہرو! مجھے نماز تو پڑھنے دو۔) کے تحت ہے:یعنی اے فرشتو! سوالات بعد میں کرنا ، عصر کا وقت جارہا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو۔ (مراٰۃ المناجیح ،1/142تا 143)

(2) حضورِ اکرمصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: یہ نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہٰذا جو پابندی سے اسے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا۔ (مسلم، ص322،حدیث:1927)

(3) حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِ عصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے) گویا اُس کے اَہل وعیال و مال ’’وَتر‘‘ ہو (یعنی چھین لئے) گئے۔ (بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552، شرح مسلم للنووی،5/126)

(4)ایک اور جگہ ارشادِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے کہ جس نے نمازِعصر چھوڑدی اُس کا عمل ضَبط ہوگیا۔(بخاری ،1/203،حدیث: 553)

(5)حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم ،ص250،حدیث: 1436)

اللہ پاک سے ہم دعا کرتے ہیں کہ ہمیں نماز عصر کے ساتھ ساتھ تمام نمازیں باجماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ صفِ اول میں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم